تعلیم و مقصدِ تعلیم

ہم معاشرتی تنزلی کی وجہ تعلیم کی کمی کو گردانتے ہیں مگر جب معاشرتی اداروں کی باگ دوڑ جن ہاتھوں میں ہے، ان کو دیکھتے ہیں تو انگشت بدنداں رہ جاتے ہیں، کہ وہ تمام لوگ اعلیٰ سے اعلیٰ تعلیم یافتہ نظر آتے ہیں، تو پھر وہ کیا وجوہات ہیں جن کی وجہ سے ہم معاشرتی کسمپرسی کا شکار ہیں۔ اکثر اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ غیر تعلیم یافتہ لوگ یعنی جن کے پاس تعلیمی اسناد نہیں ہوتیں، نام نہاد تعلیم یافتہ لوگوں کے مقابلے میں زیادہ بہتر انسان معلوم ہوتے ہیں، تو پتہ چلا کہ تعلیم کا مطلب و مقصد پڑھنا لکھنا آنا نہیں، بلکہ یہ ایک پہلو ہے جس طرح اور بہت سے پہلو ہو سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی سوال ذہن میں آتا ہے کہ جب تعلیم صرف لکھنا پڑھنا نہیں، تو، تعلیم ہے کیا ؟مقصد تعلیم کیا ہے تعلیم حاصل کرنا کیوں ضروری ہے ؟۔۔۔۔
تعلیم عربی زبان کے لفظ”علم” سے ماخوذ ہے جس کا مطلب ہے کسی چیز کا جاننا، پہچاننا، یقین کی حد تک حقیقت کا ادراک جو مبنی بر دلیل ہو علم کہلاتا ہے، اور “تعلیم” ثلاثی مزید فیہ کے باب تفعیل سے مصدر ہے جس کا لغوی مطلب ہے سکھانا، پڑھانا، تربیت دینا۔ اصطلاحی معنوں میں تعلیم کا مطلب ہم نے بہت محدود کر دیا ہے، آج کل تعلیم یافتہ ہونے کا مطلب ہم یہ سمجھتے ہیں جو تربیت سے عاری صرف پڑھنا لکھنا جانتا ہو اور سونے پہ سہاگہ اعلی تعلیم یافتہ اس شخص کو گردانتے ہیں جس کی پیٹھ پر بہت سی اسناد کا بوجھ ہو اور یہ مشاہدے کی بات ہے کہ جس کی پیٹھ پر اسناد کا زیادہ بوجھ ہو وہ اتنا ہی مسخ شخصیت کا مالک نظر آتا ہے، سوائے ان کے جو تعلیم کے وسیع النظر مطلب و مفہوم سے واقف ہیں ،اصطلاح میں لفظ”تعلیم” کا مطلب بہت وسیع ہے، مادی و روحانی ضروریات کے پیشِ نظر زمانے کے نشیب و فراز کو سمجھنا، اپنی سوچ و سمجھ سے فکری صلاحیتوں کو بہتر بنانا، ماضی و حال کے مختلف واقعات کے تناظر میں معاشرتی، اقتصادی، جغرافیائی ضروریات کا شعور اور ان تمام پہلوؤں کے انسانی سماجی زندگی پہ مرتب ہونے والے اثرات کی حقیقت کو سمجھنا اور اپنی تمام تر کوششوں کو بروئے کار لاتے ہوئے موجود معلوم حقائق کی روشنی میں خوبیوں و خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کارآمد شہری بنانے کی تربیت کرنے کو تعلیم کہتے ہیں۔
انسان کی زندگی سے جڑے ہر پہلو کا تعلق تعلیم سے ہے، انسانی سماج میں موجود ہر انسان معلم و طالبعلم بیک وقت دونوں خصلتوں کا حامل ہے۔ سرمایہ دارانہ سوچ نے ہمارے سماجی نظام کو بری طرح سے جکڑا ہوا ہے اس قسم کے مصنوعی حالات پیدا کئے جاتے ہیں کہ تمام معاشرتی اکائیاں چار و ناچار اس نظام کے آگے بےبس نظر آتی ہیں، رہن سہن کا طریقہ، معاشرتی و معاشی نظام سب کا سرمایہ دارانہ نظام نے احاطہ کیا ہوا ہے ،سماج میں موجود ہر انسان شخصی حوالے سے اس قسم کی سوچ و فکر کا حامل ہے ،ہر چیز کی قدر پیسہ بن چکی ہے حتی کہ آج کے دور میں جذبات و احساسات بھی روپے کی نظر ہو چکے ہیں جب سب کچھ ہی پیسہ ہے تو یہ روش ہمارے معاشرتی رویوں کی تبدیلی کا باعث بنی ہے، ہمارا انداز فکر مشینی طرز کا ہو گیا ہے ہم کسی بھی چیز کے بارے میں سوچنے لگتے ہیں تو سب سے پہلے جو قدر ہمارے سامنے آتی ہے وہ روپیہ ہے کہ مجھے اس سے کتنا مالی فائدہ ہو گا۔۔۔ ہمارا المیہ ہے کہ ہم چیزوں کی قدر سے زیادہ قیمت کو اہمیت دیتے ہیں اور یہ سوچ اور رویہ لاشعوری طور پہ ہماری شخصیت کا حصہ بن چکا ہے اسی سوچ اور رویہ کی وجہ سے انسانوں کی اہمیت بھی قیمت کے تناظر میں طے کی جاتی ہے جو جتنا مالدار ہو گا اتنا ہی معزز متصور ہو گا حقیقت میں وہ چاہے رہزن بدمعاش ہی کیوں نہ ہو اور ایک سفید پوش انسان چاہے کتنا ہی بہترین انسان کیوں نہ ہو سرمایہ کی قلت کی وجہ سے معاشرے میں وہ مقام حاصل نہیں کر سکتا۔
جہاں سرمایہ دارانہ نظام نے ہمارے تمام شعبہ حیات کی اقدار کو تہس نہس کیا ہے ،وہیں ہمارا تعلیمی نظام بھی اس سے بری طرح متاثر ہے۔ ہمارے تعلیمی نظام کی وجہ سے معاشرے میں اعلی اخلاقی اقدار پنپنے کی بجائے طبقاتی خلیج میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ ہمارا تعلیم کے حصول کا مقصد فلاحِ انسانیت سے سرشار تسخیرِ حیات کی تربیت اور زمانی تقاضوں سے ہم آہنگی پیدا کرنا نہیں بلکہ کسی اعلی عہدے کی خواہش ہمیں مجبور کرتی ہے، اچھی نوکری کا حصول ہمارے پیشِ نظر رہتا ہے جہاں ہر قسم کی آسائشوں کی ریل پیل ہو، اچھی نوکری و اعلی عہدے کی خواہش ضروریاتِ زندگی کی تکمیل کے لئے نہیں بلکہ معاشرتی سٹیٹس کے حصول کے لئے ہے، تاکہ انسانوں پہ حکومت کر سکیں۔ اپنے مفادات کی ترجیح نے ہمیں معاشرتی طور پہ تعلیم سے کوسوں دور کر دیا ہے ہمارا مقصدِ حیات ضروریات زندگی پہ زیادہ سے زیادہ قبضہ اور نمود و نمائش ہے، اس ظاہری چکا چوند سے معاشرے میں اپنا مقام پیدا کرنے کی کوشش نے معاشرتی توازن کو درہم برہم کر دیا ہے، سماج میں نظر دوڑائیں تو بظاہر اعلی تعلیم یافتہ، ڈگریوں سے آراستہ، فکری بانجھ پن کا شکار، اندر سے کھوکھلے لوگ بکثرت نظر آئیں گے جن کو معاشرے میں لوگوں پہ صرف اس لئے مسلط کیا گیا ہے کہ وہ سرمایہ دارانہ نظام کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔ ہمارے نظام تعلیم کا مقصد مادہ پرستانہ افکار کی ترویج، غلامانہ ذہنیت کا فروغ، شخصیت پرستی، اور احساس کمتری کی خصوصیات سے مزین ایسی نسل کو تیار کرنا ہے جو شعبہ ہائے حیات میں ایسی تفریق پیدا کریں جس سے طبقاتی خلیج میں اضافہ ہو، ہوس پرستی کی دوڑ میں آگے آنا جن کا مقصدِ حیات ہو ،اعلی انسانی اخلاقی اقدار کی بجائے ذاتی مفاد پہ سب کچھ قربان کر دیں۔ ضروریاتِ زندگی کو جب مقصدِ حیات بنا لیا جائے تو نتیجہ اسی طرح ذہنی بانجھ پن کی صورت میں سامنے آتا ہے۔
مقصد تعلیم ذاتی مفادات کے حصول کی جنگ نہیں اور نہ ہی لاتعداد اسناد کا بوجھ لادے معاشرے میں لوگوں کو مرعوب کرنا مقصدِ تعلیم ہے بلکہ مشاہدہ و تسخیرِ کائنات کے ساتھ ساتھ معاشرتی اکائیوں کی ذہنی و جسمانی نشوونما، تخیلی و تخلیقی قوتوں کی ترتیب و تہذیب، سماجی عوامل و محرکات کے اثرات، نظم و نسق، نقطہءنظر کی اہمیت، مقصدِ حيات کا تعین، تہذیب و تمدن، معاشرت، اعلی اخلاقی اقدار، فنِ بیان، فلاحِ انسانیت سے سرشار تسخیرِ حیات کی تربیت اور زمانی تقاضوں سے ہم آہنگی پیدا کرنا مقصدِ تعلیم ہے۔ جہاں تعلیمی اداروں کی ذمہ داری ہے وہاں انفرادی طور پہ معاشرتی اکائیوں کی اولین ذمہ داری ہے کہ اپنی سوچ کو تبدیل کریں آنے والی نسلوں کی ذہن سازی اس انداز میں کریں کہ سرمایہ دارانہ نظام کا آلہ کار بننے کی بجائے واقعتاً تعلیم یافتہ کہلائیں اور معاشرے میں اعلی اخلاقی و سماجی اقدار کی تربیت و ترویج کر سکیں، ضروریات زندگی کو مقصدِ حيات نہ بنائیں چیزوں کو قیمت کی بجائے ان کی قدر کو معیار بنائیں، فلاح انسانیت اولین ترجیحات کا حصہ ہونا چاہیے اور یہ سب کچھ تبھی ممکن ہے جب ہم خود ایسی اقدار کو اپنائیں گے اور ان اقدار کا اپنانا ہی تعلیم و مقصدِ تعلیم کہلاتا ہے۔

سانول عباسی
سانول عباسی
تعارف بس اتنا ہی کہ اک عام انسان

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *