سبزگنبد،سبزپرندے اورمدنی منّے۔۔۔راشد شاذ

عصر کی نماز اسمعٰیل آغا میں پڑھی۔ ابھی نماز سے فارغ ہی ہوا تھا کہ دیکھا کہ ہاشم دو نقشبندی درویشوں کے جلو میں میری طرف آرہے ہیں۔ ان دونوں حضرات نے سفید جبوں پر سبز پگڑیاں باندھ رکھی تھیں جس کے اندر سے نقشبندی انداز کی ٹوپیاں جھانک رہی تھیں۔ اب ذرا غور سے دیکھا تو پتہ چلا کہ ان میں ایک تو وہی آدم خیل کے اللہ یار صاحب ہیں جن سے ہفت مجالس کے دوران گاہےبگاہے ملاقات ہوتی رہی تھی، اور جو ہماری اور ہاشم کی گفتگو میں وقتاً فوقتاً بیٹھ جایا کرتے تھے۔ آج جو انہوں نے نقشبندی صوفیاء کا باقاعدہ یونیفارم زیب تن کیا اور پھر سبز رنگ کی پگڑی خاص پاکستانی اہل سنت کے انداز سے باندھی تو انہیں بیک نظر پہچاننے میں دشواری ہوئی۔ فرمایا شیخ حمود کے کمرے میں چائے کا اہتمام ہے۔
شیخ حمود تو کمرے میں موجود نہ تھے البتہ چائے کا دور چل رہا تھا۔ پھر چائے اور ڈونٹ نما روٹی پر گفتگو کا سلسلہ چل نکلا۔ اللہ یار خان کو میں نے ابھی کچھ دیر پہلے تک ایک طالب علم اور سالک کی حیثیت سے دیکھا تھا۔ اب جو پورے جاہ و جلال کے ساتھ مکمل نقشبندی یونیفارم میں دیکھا تو ذہن کے گوشے میں پڑا ساجد کا وہ سوال پھر سے سر اٹھانے لگا کہ لوگ سلطان الاولیاء، محبوب سبحانی اور ذبتہ السالکین کس طرح بن جاتے ہیں؟ خیال آیا شاید اسی طرح جس طرح اللہ یار خان نے اپنے آپ کو اہل صفا کے روایتی لباس میں پوری شان اور آن بان کے ساتھ جلوہ گر کیا ہے۔
آج سے ربع صدی پہلے کراچی کے ایک سفر کے دوران ایک ایسے مذہبی گروہ کی بابت سننے میں آیا تھا جو سبز پگڑی کے ذریعے سنت کے احیاء کا داعی تھا۔ اللہ یار خان اسی تحریک کے پروردہ ایک نوجوان ہیں۔ کہنے لگے کہ دیوبندی علماء کے مقابلے کے لئے ہمارے اکابرین نے سبز پگڑی کا احیاء کیا۔ اہل سنت والجماعت دیوبندیوں کے نرغے میں اب اللہ کا شکر ہے کہ ہماری اپنی ایک الگ جماعت ہے۔سبز پگڑیوں والے پاکستان میں دور ہی سے پہچانے جاتے ہیں۔ ہمارا ایک ٹی وی چینل ہے جو دعوت اور ارشاد کے علاوہ مدنی منّوں کے لئے باقاعدگی سے پروگرام پیش کرتا ہے۔
مدنی منّے؟ جی کیا فر مایا آپ نے؟
میرے اظہار حیرت پر انہوں نے بتایا کہ دراصل یہ اہل سنت کے بچوں کے لئے بولی جانے والی اصطلاح ہے جو خاص مدنی چینل نے وضع کی ہے۔ ہم اہل سنت اپنے بچوں کو مدنی منّا کہتے ہیں، انہوں نے مزید وضاحت کی۔
لیکن دیوبندی بھی تو اپنے آپ کو اہل سنت کہتے ہیں۔ میں نے انہیں کریدنے کی کوشش کی، جس پر وہ قدرے جذبات میں آگئے۔
فر مایا: دیوبندی؟ ارے وہ اہل سنت کیسے ہو سکتے ہیں، وہ سب کے سب منافق ہیں۔اہل حدیثوں میں اہل حدیث بن جاتے ہیں اور عام مسلمانوں میں اہل سنت بنے رہتے ہیں۔ آپ کو کیا بتائیں، ان دیوبندی منافقوں کے دو چہرے ہیں ایک عوام کے لئے اور ایک خواص کے لئے۔ عوام کے نزدیک یہ عرس کے مخالف ہیں، چادر چڑھانے اور یا رسول اللہ کہنے میں بھی انہیں شرم آتی ہے لیکن اپنے خواص کی مجلسوں میں یہ اپنے بزرگوں کی کرامت اور ان کی روحوں سے استعانت کے قائل ہیں۔ یہ بھی ہماری طرح نقشبندی یا قادری ہیں لیکن اسے قاسمیت کے پردے میں چھپائے پھرتے ہیں۔ اب انہوں نے ایک نیا فرنٹ قائم کیا، تبلیغی جماعت بنائی تو بیعت کی شرط اٹھا لی۔ اب عام لوگوں کو کیا معلوم نقشبندی صوفیاء اس تحریک کے پیچھے ہیں۔ لوگ لاکھوں کی تعداد میں اس جماعت میں شامل ہو گئے ہیں۔
تو کیا آپ کی نظر میں تبلیغی جماعت دراصل نقشبندی سلسلے کا دوسرا نام ہے؟ میں نے وضاحت چاہی۔
جی ہاں! بالکل۔پھر اگر نقشبندی سلسلے کا کام آگے بڑھتا ہے تو آپ قادری لوگوں کو تو اس پر اعتراض نہ ہونا چاہیے۔
بالکل نہ ہوتا۔ ہم لوگوں کو نقشبندی اور قادری دونوں سلسلوں سے نسبت ہے۔ ہم یہی تو کہتے ہیں کہ ہم اصلاً ایک ہیں۔ ہمارا سلسلہ ایک، ہماری فقہ ایک۔ لیکن جھگڑا تو ان کی منافقت کے سبب ہے۔ جب یہ اعلیٰ حضرت کی شان میں گستاخی کرتے ہیں، ہمیں قبوری ہونے کی گالی دیتے ہیں۔ حالانکہ ہمارے اور ان کے عقیدے میں اتنا بھی فرق نہیں۔ یہ کہتے ہوئے انہوں نے اپنی دو انگلیوں سے اس فرق کو سمجھانے کی کوشش کی۔
پھر آپ دیوبندی خطرے کا مقابلہ کس طرح کرتے ہیں؟ میں نے پوچھا۔
کر رہے ہیں جی! کرارا جواب دیا ہے ہم نے۔ ہم نے بھی دعوتِ اسلامی بنائی۔ ہری پگڑی کو رواج دیا۔ اب عام لوگوں کی نظر میں اہل سنت کے حقیقی نمائندے ہم لوگ ہیں۔ دیوبندی تو اہل حدیثوں کے چمچے سمجھے جاتے ہیں۔ ہماری سبز پگڑیوں کو دیکھ کر ہی لوگ سمجھ جاتے ہیں کہ محمد (صلی)کا کوئی غلام، اس کا کوئی دیوانہ جا رہا ہے۔
تو کیا پگڑی کا یہ رنگ کسی خاص سبب سے ہے؟ میں نے جاننے کی کوشش کی۔
فر مایا: جی ہاں! جس طرح نور کا نور سے رابطہ ہوتا ہے، ایک طرح کے لوگ ایک ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہیں اسی طرح سبز رنگ اہل اسلام کا رنگ ہے۔
مگر گنبدِ خضراء کے مکیں کو تو آپ لوگ کالی کملی والا کہتے ہیں؟ میرے اس اعتراض پر وہ کچھ جزبز ہوئے۔ کہنے لگے سبز رنگ سے ہم اہل ایمان کو خاص تعلق ہے۔ آپ کو شاید معلوم نہیں کہ مومنین، صالحین کی روحیں مرنے کے بعد سبز پرندے کی شکل اختیار کر لیتی ہیں۔ انبیاء اور اولیاء اللہ تو اپنی قبروں میں زندہ رہتے ہیں البتہ صالحین کی روحیں سبز پرندوں کی شکل میں مومنین کی دستگیری کے لئے اطراف عالم میں منڈلاتی رہتی ہیں۔
اللہ یار خان کی یہ بات سن کر اچانک مجھے ایسا لگا جیسے کڑی سے کڑی مل رہی ہو۔ میں نے پوچھا: دریا کے کنارے صبح صادق سے پہلے عامل حضرات جو سبز پرندے کی تلاش میں جاتے ہیں تو کیا یہ وہی صالحین کی روحیں ہوتی ہیں؟
فر مایا: یہ تو مجھے نہیں معلوم۔ ہو سکتا ہے کہ آپ کا اندازہ صحیح ہو۔ اس لئے کہ رنگ سے رنگ کا رابطہ ہوتا ہے۔ یقیناً صالحین کی روحیں ہم سبز پگڑی والوں سے ایک خاص تعلق رکھتی ہیں۔ اس پر سبز گنبد کے مکیں کو بھی قیاس کر لیجئے اور سبز تو اسلامی رنگ ہے۔ اللہ یار خان نے اپنا موقف مزید مدلل کیا۔
لیکن کیا آپ کو معلوم ہے کہ ایک زمانے میں قبہء رسول کا رنگ سفید تھا اور اس سے بھی پہلے لکڑی کا قبہ کسی رنگ سے خالی تھا۔
اچھا! تو یہ پہلے سے ایسا نہیں ہے؟ اللہ یار خان نے کچھ سنبھالا لینے کی کوشش کی۔
جی نہیں! کوئی ابتدائی سات سو سالوں تک رسول اللہ کی قبر مبارک کسی قبہ سے خالی رہی۔ ساتویں صدی ہجری میں پہلی بار لکڑی کا قبہ تعمیر ہوا۔ پھر سفید قبہ کی باقاعدہ شکل قائم ہوئی۔ سبز رنگ کا قبہ ترک خلافت کی یاد گار ہے۔ رہی یہ بات کہ سبز رنگ اسلامی رنگ ہے تو اس کی بھی کوئی سند نہیں کہ ابتدا اسلامی لشکر کے علم کا رنگ سفید تھا۔ عباسیوں نے سیاہ جھنڈے کو اختیار کیا۔ اور اس کے بالمقابل فاطمی خلفاء نے اپنے لئے سبز جھنڈوں کو منتخب کیا۔ عہد فاطمی میں ملتان کی اسمعٰیلی ولایت میں قاہرہ سے سبز جھنڈوں کے ارسال کئے جانے کی بات تاریخی مصادر میں موجود ہے اور یہ بھی ایک عجیب اتفاق ہے کہ صدیوں بعد برصغیر میں پاکستان کے نام سے جو نئی ریاست وجود میں آئی اس کے قومی جھنڈے کا رنگ بھی سبز قرار پایا۔
میری یہ باتیں سن کر اللہ یار خان چند لمحوں کے لئے ایسا لگا کہ جیسے مبہوت ہو گئے ہوں۔ کہنے لگے معاف کیجیے گا مجھے سبز رنگ کی اس تاریخ کا اندازہ نہ تھا۔ ہماری یہ سبز پگڑی تو بس سبز گنبد سے فیض حاصل کرنے کے لئے ہے۔ آقا کی کچہری میں بھی میری حاضری لگ جائے، اپنا تو بس یہی خواب ہے۔
لیکن حاضری تو تب لگے گی جب وہاں کچہری بھی قائم ہو۔
ارے تو اس میں کوئی شبہ کی بات ہے۔ یہ تو بزرگوں کا مشاہدہ ہے۔ مختلف اولیاء کی زبانی آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی کچہری کی تفصیلات ہم تک پہنچی ہیں۔ ہر جمعہ کو نماز کے بعد اولیاء و صالحین آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں حاضری دیتے ہیں۔ امت کے حال و احوال کا تذکرہ ہوتا ہے۔ کیا آپ کو ان باتوں کا پتہ نہیں؟
پتہ تو تب ہوگا کہ جب میری بھی حاضری لگ جائے۔ آپ تو جانتے ہی نہیں ہیں کہ میں نے اہل صفا کی صحبت میں یہی سیکھا ہے کہ شنید پر نہیں دید پر یقین رکھو۔
مگر اس بات پر تو تمام امت کا اتفاق ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قبر مبارک میں اپنے جسمانی وجود کے ساتھ زندہ ہیں۔ کبار اولیاء اللہ اور مشائخ ان سے ملاقاتیں کرتے رہے ہیں۔ بعض لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے باقاعدہ حدیثیں سنی ہیں۔ بعض اہل دل جب چاہتے ہیں رسول اللہ کی زیارت کر لیتے ہیں اور بعض مجلسوں میں تو خود رسول اللہ کی تشریف آوری بھی ہوتی ہے، بالکل اسی طرح گوشت پوست کے انسان کی حیثیت سے جیسے آپ اور ہم گفتگو کر رہے ہیں۔
خیر یہ تو صوفیاء کی گپ شپ ہوئی۔ اہل دل کے دعوے ہوئے۔ عقل اور وحی کی روشنی میں اگر حیات رسول بعد از وصال پر کوئی دلیل قائم ہوتی ہو تو بتائے۔
میری یہ بات سن کر اللہ یار خان کے نقشبندی دوست، جو اب تک بڑے تحمل کے ساتھ ہماری گفتگو انگیز کئے جا رہے تھے، اپنی خانصاحبیت کو نہ روک سکے۔ فرمایا! اجی عقل کا یہاں کیا کام؟ یہ سب عشق کی باتیں ہیں۔ع قل والوں کو یہ دولت نہیں ملتی۔ ویسے قرآن میں،حدیث میں ہر جگہ آپ کو اس بات کے دلائل مل جائیں گے کہ رسول اللہ اپنی قبر میں زندہ ہیں۔ ہماری صلاۃ و سلام کے توشے ہر جمعرات کو ان کی خدمت میں پیش کئے جاتے ہیں۔
اچھا تو قرآن میں بھی اس بارے میں کوئی آیت موجود ہے میں نے ان کے نقشبندی دوست سے پوچھا۔
فر مایا جی ہاں! کیا قرآن میں نہیں کہ شہیدوں کو مردہ نہ کہو؟
لیکن یہ تو شہیدوں کی بابت ہے۔ میں نے اپنا اعتراض باقی رکھا۔
بولے: جب شہیدوں کا یہ مقام ہے کہ وہ مرتے نہیں اور انہیں خدا کی طرف سے رزق عطا ہوتا ہے تو انبیاء کا درجہ تو اس سے بھی اونچا ہے۔ بخاری میں ایک حدیث ہے کہ رسول اللہ جب معراج کو جا رہے تھے اور حضرت موسیٰ کی قبر سے گزرے تو دیکھا کہ موسیٰ قبر میں کھڑے نماز پڑھ رہے ہیں۔ اور یہ حدیث تو معروف ہے کہ الانبیاء احیا فی قبورھم یصلون۔ ایک اور حدیث میں آیا ہے کہ ان اللہ حرّم علی الارض ان تاکل اجساد الانبیاء۔ ابو دردا کی ایک روایت میں تو اس بات کی تخصیص بھی ہے کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم زندہ ہیں اور انہیں رزق بھی دیا جاتا ہے۔ اور بہیقی کی ایک روایت میں حضرت ابن عمر سے مروی ہے کہ من زار قبری بعد موتی کانا کمن زارنی فی حیاتی۔ سعید بن مسیّب کے حوالے سے سنن الدارمی میں ایک روایت منقول ہے کہ ایام حرہ میں جب مسجد نبوی تین دن تک اذانوں سے محروم رہی، سعید بن مسیّب جو اس دوران مسجد کے اندر تھے، انہیں نمازوں کے اوقات کا پتہ اس طرح چلتا کہ خاص نماز کے وقت رسول اللہ کی قبر سے ھمھمہ یعنی کھسکھساہٹ کی آواز آنے لگتی۔ اسی حدیث کی بنیاد پر ابن تیمیہ جیسے وہابی نے بھی حیات نبی کے عقیدے کو تسلیم کیا ہے۔ ابن حجر عسقلانی نے بھی اس عقیدے کا اظہار کیا ہے کہ رسول اللہ کی زندگی موت کے سبب ختم نہ ہو گئ بلکہ ان کی زندگی جاری ہے اور انبیاء اپنی قبروں میں زندہ ہیں۔ ابن القیم، ابن الجوزی، جلال الدین سیوطی، امام سبکی اور امام شوقانی، یہ سب کے سب حیات نبی کے قائل ہیں۔ اب اس کے بعد نا کی گنجائش کہاں ہے حضور؟ یہ کہتے ہوئے انہوں نے میری طرف فاتحانہ مسکراہٹ کے ساتھ دیکھا۔
میں نے پوچھا: اچھا یہ بتائیے کہ قرآن مجید کی یہ آیت وما محمد الا رسول قد خلت من قبلہ الرسول افان ماتا او قتل فانقلبتم علی اعقابکم کہ محمد تو نرے رسول ہیں اگر وہ مر گئے تو کیا تم دین سے پھر جاؤگے یا خدا کا یہ کہنا کہ کل نفس ذائقتہ الموت، یا یہ آیت کہ افان مت فھم خالدون کہ اے محمد اگر تمہیں بھی مرنا ہے تو کیا یہ ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ ان آیات کو آپ حیات النبی کے مروجہ عقیدے سے کس طرح ہم آہنگ سمجھتے ہیں۔ پھر یہ بات بھی سمجھنے کی ہے کہ بعد کے لوگوں نے عالم بیداری میں رسول اللہ سے ملاقات کے سیکڑوں دعوے کر رکھے ہیں۔ کسی کی بزرگی کا یہ عالم ہے کہ وہ جب چاہتا ہے رسول اللہ کی مجلس میں جا بیٹھتا ہے۔بعضوں نے خود کو اس کچہری کا عہد دار بھی باور کرا رکھا ہے، لیکن اس کے برعکس عہد صحابہ میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی جب کبار صحابہ رسول اللہ سے مشاورت کے لئے کبھی آپ کی کچہری میں حاضر ہوئے ہوں۔ حالانکہ عین نبی کی وفات کے بعد خلافت کے مسئلہ پر امت میں وقتی طور پر نزاع پیدا ہوا۔ پھر آگے چل کر صفین اور جمل کی جنگوں میں مسلمانوں کی تلواریں آپس میں الجھ گئیں لیکن ایسے سخت حالات میں بھی کسی کو اس بات کا خیال نہ آیا کہ وہ ان نازک ایام میں رسول اللہ کی قبر مبارک کی طرف رخ کرتا اور ان سے مداخلت کا طالب ہوتا۔ اگر رسول قبر کے اندر واقعی زندہ ہوتے اور انہی امور دنیا پر کچہری لگ رہی ہوتی تو پھر یہ کیسے ممکن ہوتا کہ صدیوں بعد احمد الرفاعی سے ملاقات کے لئے تو آپ کا ہاتھ قبر سے باہر آجائے لیکن آپ کے اصحاب اپنے باہمی تنازعات کو سلجھانے کے لئے آپ کی کچہری میں آنے سے احتراز کریں۔
میرے اس اعتراض پر اللہ یار خان اور ان کے نقشبندی دوست کچھ بجھ سے گئے۔بولے: یہ بھی تو دیکھئے کہ جن لوگوں نے رسول اللہ سے عالم بیداری میں ملاقات کی باتیں کی ہیں یہ بڑے بڑے نام ہیں۔ انہیں چھوٹا بھی تو نہیں کہہ سکتے۔
ہاشم جو میری بات اب تک بہت غور سے سن رہے تھے، کہنے لگے ہاں! یہ بات تو غور کرنے کی ہے، ادھر میرا ذہن بالکل نہیں گیا تھا، کہ جو رسول، عین عالم بیداری میں، بعد کے اولیاء کی میں اس قدر کثرت سے آتا ہو، اس کی آمد کا چرچہ صحابہ کرام کے عہد میں کیوں نہیں سنائی دیتا؟
یہ تو رہا رسول اللہ کی حیات بعد موت کا مسئلہ جس پر تمام شواہد بعد والوں نے قائم کئے۔ تمام روایتیں بعد کے عہد میں ایجاد ہوئیں۔ حالانکہ ابتدائی عہد کے مسلمان اس بات کے کہیں زیادہ سزا وار تھے کہ خلافت کے مسئلہ پر باہمی نزاع کو سلجھانے کے لئے رسول اللہ اپنے جسمانی وجود کے ساتھ صحابہ کرام کی مجلس میں آ وارد ہوں یا کم ازکم قبر مبارک کے اندر منعقد ہونے والی ہفت روزہ کچہری میں ان حضرات کو طلب فرمالیں۔ بات یہ ہے کہ اگر حیات نبی کا عقیدہ وضع نہ کیا جائے تو پھر ان تمام روحانیوں کا اپنے قبور میں زندہ ہونے اور فیض پہنچانے کی باتیں اپنا وجود کھو دیں گی۔ میری اس بات پر اللہ یار خان نے خاموشی میں عافیت جانی۔ان کے دوست کچھ بجھے بجھے سے دلوں کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے۔
فر مایا: یقین کی باتیں ہیں جی! یقین کی۔ دلائل اور رسرچ سے یہ باتیں سمجھ میں نہیں آتیں۔
ہاشم کچھ گم صم تھے۔ ان کے چہرے پر ایک رنگ آتا اور ایک رنگ جاتا تھا۔ ان کا اصرار تو یہ تھا کہ ابھی یہ گفتگو چلے لیکن میں نے کبھی اور کے وعدے کے ساتھ ان سے اجازت لے لی۔

”راشد شاز، لستم پوخ، ص183”

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *