دکھوں کا ابراہیم۔۔رفعت علوی /قسط 3

1970 میں لکھا جانے والا ایک پاگل افسانہ،خود پرستی انا اور نادانیوں کی بھول بھلیوں میں الجھے  ایک پاگل لڑکے کی خود فریبیوں کی پاگل کہانی!

تم نے بہت شکایتی اور اداس نظروں سے میری طرف دیکھا اور اپنے چہرے پر ڈوبتے چاند کی زردیاں لئے چپ چاپ کمرے سے نکلی چلی گئیں۔۔

ان دنوں کبھی کبھی   دکھوں کی شدت  سے گھبرا کر میری تمنا ہوتی کہ خداکرے۔۔۔۔۔میں کسی چٹان سےاس طرح ٹکراؤں کہ میری خودی کا وہ سنگین بت جس پر میں نے تمھارے لئے “انا” اور ذات کا رنگین خول چڑھا رکھا ہے ریزہ ریزہ ہوکر بکھر جائے تاکہ میں تمھارے سامنے گھٹنوں کے بل جھک کر وہ اعتراف کر سکوں جو اس بت کی موجودگی  میں نہیں کرسکتا، اپنے اس جذبے کو زبان دے سکوں جو اگرچہ جانا پہچانا ہے  مگر پھر بھی اظہار چاہتا ہے ۔مگر تارا مجھے اپنے اس بت کو توڑنے کے لئے کوئی ابراہیم نہ مل سکا۔

تارا۔۔۔خدا گواہ ہے  کہ میں تم سی نازک اور کومل لڑکی کو دکھ دے کر کبھی خوش نہیں ہوا مگر میں کیا کرتا۔۔۔میرا احساس کمتری جو تمھاری غیر معمولی قابلیت، ذہانت اور ترقی پسند اصولوں کا مرہون منت تھا،مجھے اس سلوک پر اکساتا تھا۔پھر میری زندگی میں کشمکش اور بیچارگی سے بھرا تمھاری سالگرہ کا وہ دن بھی آیا جب انویٹیشن کارڈ پر تمھارے ہاتھ کا وہ لمس جو میں آج بھی محسوس کرتا ہوں، مجھے کسی طور بھی گھر پہ نہ روک سکا۔۔شاہد کے  ذرا معمولی سے اصرار پر میں تمھارے گھر کی طرف یوں لپکا جیسے تارا ٹوٹ کر زمین کی طرف آتا ہے۔۔

مجھے دیکھ کر تم اس طرح کھل اٹھیں گویا چاند تمھارے آنگن میں اتر آیا ہو۔۔
تسلیم۔۔۔تم نے بےساختہ اپنے دونوں ہاتھ ماتھے تک لے جا کر چھوڑ دیے۔۔
آداب !میں نے تمھارے دمکتے چہرے کو دیکھ کر سر جھکا لیا کہ بھلا کہیں کوئی سورج کو بھی آنکھ بھر کر دیکھ سکتا ہے۔
آنا تیرا مبارک۔۔۔تمھارے جذباتی کشمکش سے لال گوں چہرے کو دیکھ کر کہیں قریب سے صبحیہ شرارت سے گنگنائی اور میرا دل دھڑک اٹھا
ارے جناب میرا شکریہ ادا کریں۔۔یہ حضرت آئے نہیں لائے گئے ہیں، منت سماجت کر کے، قریب کھڑے شاہد نے گویا میری مدد کی اور بہار کا پہلا پھول مرجھا گیا!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عجیب کیفیت تھی میری ان دنوں۔۔۔جانے کس عالم میں رہتا،جانے کیوں اتنا زود رنج ہو رہا تھا، میں تم سے قریب بھی رہنا چاہتا  تھا اور دور بھی، تمھاری توجہ بھی چاہتا اور تم سے بےتوجہی بھی برتتا، بات کرنے کے بہانے بھی تلاش کرتا اور بے رخی کی اداکاری بھی کرتا، تم کسی دوسرے لڑکے کے ساتھ کسی سنجیدہ موضوع پر محو گفتگو ہوتیں تو میں بے چین ہوجاتا، کوئی شریر لڑکا تم سے ہنسی مذاق کرتا تو مجھے آگ لگ جاتی۔میں جل رہا تھا،تپش مجھے گھیر رہی تھی۔

پھرایک دن میں نے تمہیں کیفے ٹیریا میں سانولی سی رنگت والے ایک نئے لڑکے کے ساتھ دیکھا، یہ ہمارا کلاس فیلو نہ تھا بلکہ اس کو پہلے کبھی یونیورسٹی میں بھی نہیں دیکھا گیا تھا، تم نہایت بردباری اور سلیقے سے سینے پر دوپٹہ پھیلائے، سر جھکائے اس کی باتیں سن رہیں تھیں ،کبھی کبھی تم اپنی لمبی لمبی پلکیں اٹھا کر  اس کی طرف دیکھ بھی لیتیں۔
کسی دوست سے معلوم ہوا کہ یہ تمھارا کوئی دور کا کزن ہے، فہیم نام ہے، مرچنٹ نیوی میں کام کرتا ہے، آج کل شپ کا کوئی امتحان دے  رہا ہے اور تمھارا امیدوار بھی ہے۔۔۔مجھے کچھ عجیب سی بےچینی ہونےلگی جیسے کوئی میرا دل مسل رہا  تھا، جانے کیوں احساس ہو رہا تھا جیسے میری زندگی سے زندگی روٹھ کر جانے والی ہے ، اس دوران تم نے ایک بار بھی میری طرف نہیں دیکھا مگر جب اپنے کزن کے ساتھ اٹھ کر جانے کے لئے میری میز کے پاس سے گزریں تو میں نے صاف دیکھا کہ تمھارے گلاب کی پنکھڑیوں جیسے گلابی ہونٹ لرز رہے  تھے اور ایک موتی سا شفاف آنسو  تمھاری اداس آنکھ میں چمک رہا  تھا، تم نے ملامت بھری نظروں سے مجھے دیکھا اور اپنے کزن کے ساتھ چلی گئیں، مجھے لگا تم میری زندگی سے ہمیشہ کے لئے چلی گئی ہو،  میرا کچھ کھونے جا رہا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور پھر اچانک ستارا بیگم بھری بہار میں پت جھڑ کا موسم آگیا۔۔۔دل کے ایوانوں میں جلتی لو دیتی ساری شمعیں گل ہوگئیں۔یونیورسٹی کی شوخ و شنگ فضاؤں میں خزاں نے رین بسیرا لے لیا۔شام کے رنگین لمحے سسکنے لگے۔تم بھی ایک روایتی مشرقی لڑکی کی طرح سرخ گھونگھٹ کاڑھے چپ چاپ خاموشی سے اپنی سلگتی چھلکتی آنکھوں کو پیمانہ بنائے اپنے دل میں کچھ کہنے کی تمنا اور اور مجھ سے کچھ سننے کی آرزو لئے پیا ملن کو چل دیں۔

تم نے تو ستارا ایک ہی بار میں میری بیگانگی، بے توجہی اور نادانیوں کے سارے قرض چکا دیے تھے۔۔۔اس دن کے بعد آنے والی ساری رتیں میرے لئے دکھوں کی بارات لے کر  آئیں۔۔۔جیسے میرا کچھ کھو گیا تھا، جیسے میں لٹ گیا تھا، تب ہی میرا دل چاہا کہ ماں کی گود میں سر رکھ اس ستم رسیدہ بچے کی طرح جی بھرکے رو لوں جس کے سارے کھلونے ٹوٹ چکے ہوں، جس سے سب دوست بچھڑ گئے ہوں، اچھے موسموں نے جس کا ساتھ چھوڑ دیا ہو۔دن تاریک ہوئے اور راتیں دھیرے دھرے بہنے لگیں، مشرق سے آنے والی نم  ہوائیں دریچوں سے سر ٹکرا ٹکرا کر روتی رہیں یہاں تک وہ دن بھی آیا جب راتوں کا سارا اندھیرا میرے سینے میں اتر آیا۔

ڈھیر سارے دن میرے پاس سے دبے پاؤں یوں گزرے جیسے وہ کبھی میری زندگی میں آئے ہی نہ ہوں، پھر ایک دن دوستوں کے اصرار پر مجھے ان کے ساتھ تمھارے گھر جانا پڑا، میں ڈرتے ڈرتے اپنے دل کا چور سینے میں سنبھالے، محرومی کا درد چھپائے تم کو تمھاری نئی زندگی پر مبارک باد دینے چل پڑا، کوئی میرا دل مسوس رہا تھا، چاروں طرف ویرانی اور اداسی چھائی ہوئی تھی، خشک اور گرم موسم میں ذرد پتے ہوا میں اڑتے پھر رہے تھے،
کیپٹن فہیم گھر پہ نہیں تھے۔۔۔

جاری ہے۔۔۔

رفعت علوی
رفعت علوی
لکھاری،افسانہ نگار

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”دکھوں کا ابراہیم۔۔رفعت علوی /قسط 3

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *