سفر نامہ:سارہ طلال۔۔۔ شام امن سے جنگ تک/سلمیٰ اعوان۔قسط28

امید کا دامن نہیں چھوڑا ہم نے
گو رات ہے اور اندھیرا بھی بہت ہے

شامی تاریخ میں اِس تباہ کن خانہ جنگی کی ابتدا جس شہر سے ہوئی وہ درعا ہے۔میرا اور میرے خاندان کا تعلق اسی شہر سے ہے جودراصل جنوبی شام کے علاقے کا ایک اہم صوبہ ہے۔تاہم ہم اپنی ملازمت کے لئیے دمشق کے قریب رہتے تھے۔میں اچھی تنخواہ کے ساتھ ایک پرائیوٹ کمپنی میں بطور سیکرٹری کام کرتی تھی۔
کوئی نہیں جان سکتا اسد حکومت کے خلاف میں نے اور میرے خاندان نے کتنی بھاری قیمت چکائی۔
مارچ 2011میں عام لوگوں میں ایک اضطراب،ایک بے چینی اور غصے کا بڑھتا ہوا احساس ضرور محسوس ہوتا تھا۔ میرے لیے بہرحال یہ بات حیران کن تھی کہ جب میں نے دیکھا لوگ دمشق کے عین دل میں اسد فیملی مخالف بینر اُٹھائے ہوئے نعرے لگاتے اور بشار کو لعن طعن کرتے نظر آتے تھے۔ سچی بات ہے جو آمرانہ اور جابرانہ طرز حکومت اسد خاندان نے اپنا رکھا تھا اس کے پیش نظر یہ بڑے دلیرانہ اقدام تھے۔
ایک باشعور اور تعلیم یافتہ شہری ہونے کے ناطے میں سمجھتی تھی۔اُن کے مطالبات ہر گز ایسے نہ تھے کہ جن کے لیے کہا جائے کہ وہ شرپسندی کو ہوا دینے کے لیے تھے۔سچی بات ہے ہم سفید پوش لوگوں پر جس طرح زندگی مشکل ہوگئی تھی وہ ایسی ہی تبدیلی کی متقاضی تھی۔ کرپشن نے زندگی کو عذاب بنا رکھا تھا۔ آپ کا کوئی چھوٹے سے چھوٹا کام بھی اِس کے بغیرنہیں ہوسکتاتھا۔ایک چھوٹی سی مثال سے واضح کرتی ہوں کہ ملازم پیشہ آدمی کی زندگی کتنی عذاب بنی ہوئی تھی۔

شاید یہی وجہ تھی کہ میں سیاسی اصلاحات کی طلب میں کئے گئے کچھ احتجاجی مظاہروں میں حصّہ لینے سے خود کو روک نہ سکی۔حکومتی ردعمل خوفناک حد تک صدمے سے دوچار کردینے والا تھا۔ہمارے مظاہروں کا جواب گولیوں کی بوچھاڑ سے دیا گیا جو کہ سیکورٹی فورسز کی طرف سے چلائی گئیں۔
میرے خاندان والوں نے میرے اُن احتجاجی مظاہروں میں حصّہ لینے پر کوئی اعتراض نہ کیا۔ میرے شوہر ہی نہیں میری والدہ اور بھائی بھی بڑے جی دار تھے۔اُن کا کہنا تھا کہ لوگ تو محض اصلاحات کا تقاضا کررہے ہیں۔اُن کا ساتھ دینا فرض بنتا ہے۔ لیکن سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو سختی سے مارنا شروع کردیا اور تحریک کے لیے کام کرنے والوں کو تلاش کرنے کے لیے گھروں پر دھاوا بول دیا۔
سارہ طلال کا کہنا ہے کہ اس نے ایسے قیدی دیکھے جنہیں بجلی کے جھٹکوں سے ایذا پہنچائی گئی تھی۔
بطور ایک خاتون کے میں نے اندازہ لگالیا تھا کہ شہیدوں کے خاندانوں اور بے گھر افراد کو جو ہمارے ضلع میں جوق در جوق آرہے تھے کی مدد کرنابے حد ضروری تھا۔ مظاہرین اور حکومت مخالف لوگوں کی بڑی تعداد اپنی آمدنی کا ایک حصّہ سوگوار خاندانوں کے،بستروں، خوراک اور ادویات خریدنے کے لیے استعمال کررہی تھی۔
مجھے یہ تب پتہ چلا جب سکیورٹی فورسز نے مجھے نشانہ بنایا۔ پانچ جوانوں نے آدھی رات کو ہمارے گھر نقب لگائی۔میری آنکھوں پر پٹی باندھی۔ ہتھکڑیاں پہنائیں اورکسی کاٹھ کباڑ کی طرح گاڑی میں پھینکا۔ مجھے ائیر فورس کی سکیورٹی برانچ میں لے جایا گیا۔
یہاں صبح 6بجے سے شام 7بجے تک پوچھ گچھ کی جاتی تھی۔مجھ سے تمام قسم کے سوالات براہ ِراست پوچھے گئے۔تم کس گروہ کے لیے کام کرتی ہو؟تمہیں کون اُکسا رہا ہے؟کون تمہیں فنڈ دے رہا ہے؟تمہارے ساتھی لوگ کون ہیں؟میرا جوا ب تھا کہ میرا کِسی بھی تنظیم سے کوئی تعلق نہیں۔ایک متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والی محنت کش عورت اپنے اردگرد کے لوگوں کو پریشانی اور مصیبت میں دیکھ کر ان کی مدد کیے بغیر کیسے رہ سکتی ہے؟کیا کِسی کی مدد کرنا جرم کے کھاتے میں آتا ہے۔
تفتیشی افسر نے کہا:
”نہیں تم (جہادیوں) کے خاندانوں کی مدد کررہی ہو جو تمہارے ضلع میں چھپے ہوئے ہیں۔“
میں نے کہا:”اگر آپ ایک عورت کو ایک بھوکے بچے کے ساتھ دیکھتے ہو تو آپ اس کی مدد کریں گے یا نہیں کریں گے؟ “
تمام خاندان تو احتجاج نہیں کررہے تھے۔ان میں سے کچھ اپنی حفاظت کے لیے اپنے شہر چھوڑ چکے تھے۔ایک دوسرے افسر نے اعتراض کیا۔
تب ایک سکیورٹی آفیسر نے انٹرنیٹ پر دیکھا اور اسے یہ پتا چلا کہ میں نے چند ایک احتجاجی مظاہروں میں حصّہ لیا تھا۔
اب تفتیش کے طریق کار نے نئی شکل اختیار کرلی تھی اور یہ تشدد تھا۔ ہر سوال کے جواب پر میرے منہ اور سر پر گھونسے اور بوٹ مارے گئے۔وہ مجھ سے یہ کہلوانا چاہتے تھے کہ میں اعتراف کرلوں کہ میں ان جہادیوں کے ساتھ تھی۔
میں نے انہیں کہہ دیا:”میں اس جرم کو تسلیم نہیں کروں گی جو میں نے کیا ہی نہیں۔“
عجیب سی بات تھی کہ ایک عورت جو کبھی تھانے کچہریوں کے چکروں میں نہیں پڑی اب کیسے ایک ڈراؤنے ماحول میں بڑی جی داری اور متامت سے کھڑی ان کے ہر سوال کا مارپیٹ کے باوجود ترکی بہ ترکی جواب دیتی تھی۔۔اس کمرے میں چار سکیورٹی افسر تھے جو مجھے برا بھلا کہہ رہے تھے اور منہ سے گالیاں بک رہے تھے۔
مجھے عورتوں کے لیے مخصوص ایک چھوٹے کمرے میں پھینک دیا گیا۔صبح کے وقت ناشتے میں ڈبل روٹی کے سلائس ایک اُبلا ہوا انڈا یا گلا سٹرا آلو۔کھانے میں شوربہ،ٹماٹر اور کھیرا دیا جاتا۔کمرے میں ایک نلکا تھا لیکن ڈیڑھ ماہ ہورہا تھا۔ہم نے غسل نہیں کیا تھا۔
کوئی اندازہ بھی نہیں کرسکتا ہے اُن کربناک دنوں کا جن میں میرے شب و روز گزررہے تھے۔سورج کب طلوع ہوتا ہے،کب رات ہوتی ہے۔میرا ملک ابتلا و آزمائش کی اِن گھڑیوں سے کیسے گزر رہا ہے؟میری والدہ بہن بھائی کیسے ہیں؟میں کچھ نہیں جانتی تھی۔ دوماہ سے میں نے اپنے گھر والوں کو نہیں دیکھا تھا۔
کچھ قیدی خواتین ان کی تفتیشوں کے نتیجے میں لائی گئی تھیں جنہوں نے بتایا کہ انہیں تعاؤن نہ کرنے کی صورت میں عصمت دری کی دھمکی دی گئی تھی۔کچھ قیدی عورتوں کو علیحدہ کمروں میں رکھا گیا جو کہ سکیورٹی برانچ کے تہہ خانے میں واقع تھے۔میں نے دو یا تین ایسی قیدی عورتیں بھی دیکھیں جنہیں بجلی کے جھٹکوں سے اذیت پہنچائی گئی اور پانچ،چھ ایسی تھیں جو دوبارہ نظر ہی نہیں آئیں۔
چالیس دن بعد جیلر نے میرے ہاتھ اور پاؤں جکڑ دئیے۔تاہم میری آنکھیں کھلی چھوڑ دی گئیں۔مجھے نو قیدی مردوں کے ساتھ جن کی آنکھوں پر پٹیاں باندھی گئی تھیں اورانہیں شدید جسمانی اذیت دی گئی تھی۔ انہوں نے صرف انڈروئیر پہنے ہوئے تھے۔دمشق کے شمال مشرق میں واقع آدراجیل لے جایا گیا۔اس قید خانے کے چھ شعبے تھے جن میں بڑے کمرے تھے۔مجھے 30دوسری خواتین کے ساتھ ایک کمرے میں قید کیا گیا جہاں ایک غسل خانہ تھا۔ ہم ننگے فرش پر سوتے اور کیمروں سے ہماری نگرانی کی جاتی۔
شاید یہ بڑا بھاگوان دن تھا۔ قید کے اِس سارے دورانیے میں پہلا موقع جب میرا اپنے گھر والوں سے رابطہ کروایا گیا۔ایک ماہ بعد مجھے ایک جج کے سامنے پیش کیا گیا اور کچھ کاغذات پر میرے دستخط کرائے گئے۔ اگرچہ میں نہیں جانتی کہ ان میں کیا لکھا تھا۔ جج نے مجھے ضمانت پر رہا کردیا۔
میں دوسری آٹھ عورتوں کے ساتھ رہا ہوئی تھی۔میری ماں اور میری بہن قید خانے سے باہر میرا انتظار کررہی تھیں۔لیکن وہاں میرا بھائی عدیل نہیں تھا۔ جو کہ ایک ہائی سکول میں استاد تھا۔ آنسوؤں سے لبالب بھری آنکھوں سے ہم نے ایک دوسرے کو دیکھا اور گلے لگیں۔عدیل کہاں ہے؟بیتابانہ میرے سوال پر میری بہن نے مجھے بتایا کہ سیکورٹی فورسز نے اسے سوتے ہوئے اس کے بستر سے اٹھا لیا تھا۔ اس پر مجاہد ہونے کا الزام تھا۔ اگلے دن ہمارے دروازے کے سامنے عدیل کی لاش پڑی تھی۔میرا سب سے بڑا بھائی یاسر دو سال پہلے اٹھا لیا گیا تھا۔لیکن گھر والوں کو آج تک اس کے بارے میں کوئی اشارہ نہ ملا تھاکہ وہ زندہ ہے یا اُسے مار دیا گیا ہے۔
اس خوف کے ساتھ کہ کہیں میں دوبارہ گرفتار نہ کرلی جاؤں میں کچھ عرصہ گھر پر ہی قیام پذیر رہی۔ہم کسی ایک جگہ پر زیادہ دیر تک قیام نہ کرتے۔ کبھی کِسی کے ہاں اور کبھی کسی کے ہاں آنا جانا لگائے رکھا۔ اپنے عزیز و اقارب کے ہاں کچھ عرصہ بعد میں یو این میں رجسٹر ہونے کے لیے لبنان غیر قانونی طور پر چلی گئی۔لیکن میں خود کو لبنان میں بھی محفوظ محسوس نہیں کرتی تھی۔کیونکہ میرے پاس وہاں رہائش کا قانونی اجازت نامہ نہیں تھا۔میں اپنے شوہر کے ساتھ گھر پر ہی رہتی تھی۔اس کا پاسپورٹ اور رہائش کا اجازت نامہ بھی زائدالمعیاد ہوچکے ہیں۔
دو ہفتے پہلے ہمیں ایک ٹیلی فون کال سے پتہ چلا کہ نیدرلینڈ نے ہمیں قبول کرلیا ہے کیوں کہ میری ہمشیرہ وہاں کئی سالوں سے رہ رہی ہے۔میری ماں اور میری بہن میری بھابیوں کے ساتھ اور ان کے بچوں کے ساتھ دمشق میں ہی قیام پذیر رہیں۔میری ماں ابھی بھی امید کرتی ہے کہ اسے میرے گرفتار کیے ہوئے بھائی کے بارے میں کچھ پتہ چلے گا۔
میرا ایمان ہے کہ ہمارا انقلاب ابھی مکمل نہیں ہوا ہے۔جب ہم گلیوں میں احتجاج کرتے تھے تو ہم یہ توقع نہیں کرتے تھے کہ حکومت شامی لوگوں کے خلاف اتنی شدید قوت استعمال کرئے گی۔
ہم نے احتجاج شام میں ذاتی مقاصد یا انتشار پھیلانے یا دہشت پیدا کرنے کے لئیے نہیں کیا تھا۔ ہم عدل چاہتے تھے۔ہمیں انصاف کی تمنا تھی۔ ہم اُن بنیادی سہولتوں کے متمنی ہیں جو انسان کا پیدائشی حق ہیں۔یہ حق ہمیں کب ملتا ہے؟دیکھیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *