قَحط اور قَحط الرِّجال۔۔۔اکرام چوہدری

قحط:عربی کا لفظ ہے۔کال ۔ مہنگائی ، کم یابی۔جاندار کوخوردنی اشیاءدستیاب نہ ہوں۔ یا خوردنی اشیاء کی شدید قلت
پڑ جائے جو عموما ً زمینی خرابی، خشک سالی اور وبائی امراض کی بدولت ہوسکتی ہے۔ ایسی صورت حال میں بڑے پیمانے
پراموات کا بھی خدشہ ہوتا ہے۔
تاریخِ انسانی میں کبھی بھی وسائل کم یاب نہیں ہوئے ہیں۔ کبھی نہیں سنا ہوگا کہ لوگوں کے پاس سکہ رائج الوقت کا قحط ہے۔جب بھی قحط پڑا ہے غلے اور اناج کا ہی پڑا ہےلوگوں کے پاس قوت خرید ہونے کے باوجود مارکیٹ سے غلہ اور اناج نہیں ملتا۔قحط ہمیشہ اناج کا ہی پڑتا ہے،کبھی نہیں سنا ہے کہ،کہیں تن یا سر ڈھانپنے کا قحط پڑا ہے۔قحط آزمائش بھی ہو سکتا ہے اور عذاب بھی؟۔
قَحط الرِجال
قحط اور قحط الرجال میں ایک گہرا تعلق ہے۔قرآن مجید میں سورۃ یوسف کے مطالعہ سے احسن الققص،قصہ یوسف علیہ السلام میں ایک یہ پہلو بھی نمایا ہوتا ہے کہ مصر میں قحط سالی سے پہلے قحط الرجال پڑ چکا تھا۔
یوسف علیہ السلام نے قحط سالی کے اثرات سے بچنے کے لئے،کوئی مصنوعی بارش،ڈیمز یا ٹیوب ویل کا انتظام نہیں کیا۔اپنے حسنِ تدبیر سے قحط سالی سے قحط نہ پڑنے دیا۔
اس کا ایک پہلو یہ ہے کہ قحط میں اگر قحط الرجال نہ ہو تو،قحط کے اثرات سے نکلا جاسکتا ہے۔
تاریخ اسلام میں جب سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں مدینہ منورہ میں قحط پڑتا ہے تو سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے حسن تدبیر سے سالوں نہیں بلکہ مہینوں میں قوم کو قحط اثرات نجات دلا دی۔مگر ہمارے ہاں قحط الرجال کا یہ حال ہے کہ  سندھ اور پنجاب کے حکومتی اور نجی گوداموں میں گندم اور چاول کے ذخائر گل سڑ رہے ہیں اور تھر میں بچے غذائی قلت سے بھوکے مر رہے ہیں۔
قوموں اور ملکوں کا اتنا نقصان قحط سے نہیں ہوتا جتنا قحط الرجال سے ہوتا ہے۔
دیکھیے ! مختار مسعود مرحوم قحط اور قحط الرجال پر کیا کہتے ہیں۔
“قحط میں موت ارزاں ہوتی ہے اور قحط الرجال میں زندگی۔مرگ انبوہ کا جشن ہو تو قحط،حیاتِ بے مصرف کا ماتم ہو تو قحط الرجال۔ایک عالَمِ موت کی نا حق زحمت کا،دوسرا زندگی کی نا حق تہمت کا۔ایک سماں حشر کا،دوسرا محض حشرات الارض کا۔ زندگی کے تعاقب میں رہنے والے قحط سے زیادہ قحط الرجال کا غم کھاتے ہیں،نتیجہ ایک ہی ہے کہ اگر قحطوں سے بچنا ہے تو رجالِ کار پیدا کیجئے۔

Avatar
اکرام چوہدری
معلم،کالم نگار،اسلامی تحقیق کا طالب علم

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *