چلے تھے دیو سائی۔۔۔محمد جاوید خان/قسط20

رَامہ نگرمیں بانسر ی کے اُداس سُر:
رَامہ میدان کے آغاز میں سیاحوں کے لیے خیمے لگے تھے۔ایک خیمے سے خُود کار جدید ٹیپ ریکارڈ سے بانسری کی ریکارڈ شُدہ لَے نکل کر پورے جنگل میں پھیل رہی تھی۔یہ لَے خالصتاً کِسی بانسریا سے قید کروائی گئی تھی۔لیکن ہوا یا کسی دوسرے خلل کے باعث اِس کی سُریلی لَے آلودہ ہوگئی تھی۔باوجود کہ یہ مصنوعی رنگ میں اصل رنگ شامل کرنے کی کوشش تھی۔مگر پھر بھی  یہ کِسی فنکار کے ہاتھوں کا  پتہ دے رہی تھی۔درد و کیف جو بانسری کاجُزو لازم ہے،اس لَے میں موجود تھا۔

بانسری،چراگاہ اَور چرواہے کا چولی دَامن کا ساتھ رہاہے۔سبزہ زاروں پہ تنہا فطرت کی جھولی میں اَپنے چرتے ریوڑوں کے دَرمیان کسی چرواہے کی سانس اور باسری کے سُوراخوں پہ ہاتھوں کی جنبش وہ سُر پیدا کرتی ہے کہ کائنات کا سارا سرُاَور درد اُس میں سمٹ آتا ہے۔میرا بچپن    میں یہ شُغل عام تھا شام ڈھلتے ہی کسی پہاڑکی چوٹی پہ بیٹھ کر کوئی جوان، بانسری کی تان پہ کوئی نغمہ چھیڑتا تو ہواؤں کے دوش پہ اُس کے سُر دُور دُور تک کوہ و بیاباں میں اُتر جاتے۔گرما کی شاموں میں صحنوں میں بیٹھ کر اِن مَست سُروں کو کیف سے سُنا جاتا۔بانسری کا سُر،میٹھااَور اُداس سُر ہے۔

چلے تھے دیوسائی۔۔ جاویدخان/قسط19
مولانا روم رحمتہ اللہ علیہ نے اَپنی مثنوی کا آغاز جن اِشعار سے کیا ہے۔اُن میں بانسری کی مثال دے کر اِنسانی روح کا درد اور حقیقت بیان کی گئی ہے۔رومی کی زبان اور اَنداز علامتی اور تمثیلی ہے۔مثنوی کے پہلے اشعار ہیں۔
ؔبشنواز نے چوں حکایت می کند۔وزجُدائیہا شکایت می کند
کزنیستاں تامرا ببریدہ اند۔ از نفیرم مرد و زن نالیدہ اند
سینہ خواہم شرحہ شرحہ از فراق۔تابگویم شرح ِ دردِ اشتیاق
ہرکسے کو دُور مانداز اصل ِخویش۔باز جوید روزگار وصل ِ خویش
من بہر جمعیتے نالاں شدم۔ جُفت ِ خوشحالاں و بَد حالاں شدم
ہرکسے از ظن ِ خود شدیار ِ من۔وزدرون ِ من نہ جُست اسرارِمن
سرًِ من از من دُور نیست۔لیک چشم و گوش راآں نورنیست

”بانسری سے کسی نے پوچھا تو اتنا کیوں روتی ہے۔اور تیرے اندر یہ درد کہاں سے آیا۔بانسری نے کہا میں اپنے درخت (اصل) کا حصہ تھی۔مُجھے وہاں سے کاٹا گیا۔ایک ایسے معمار کے حوالے کیا گیا جس نے میرے جسم کے اندر کو خالی کر دیا۔اُس میں چھید کیے جب اُس نے مجھے اپنے منہ  سے لگا کر پھُو نک ماری تو میرے اَندر سے پُردرد نالے اُٹھے جِسے سب مرد و عورتیں سُن کر رونے لگے۔میں اپنے اصل (درخت) کی جُدائی میں روتی ہوں۔ہر شخص اپنے احوال کے مطابق میرا یار بنا لیکن کسی نے میرے رازوں کی جُستجو نہ کی۔“

اِنسانی روح اپنے اصل یعنی مالک سے جُدا ہے۔جب اِس کی کثافتیں دُھل جاتی ہیں۔اِس کے اَندر کا غرور،حسد،تکبر مِٹ جاتا ہے تو پھر یہَ اپنے مالک حقیقی سے ملنے کے لیے بے تاب ہو جاتی ہے۔جیسے بانسری اَپنی کثافت دُور ہونے پر اَپنے درخت کے لیے بے تاب ہوجاتی ہے۔اَیسے ہی انسانی روح اُجلی ہو کر مالک حقیقی کے راز سنانے لگتی ہے۔اِس سے اُٹھنے والے نالے دلوں کو مُتاثر کرتے ہیں۔کائنات اِس کی خُوشبو سے مہکنے لگتی ہے۔ہر جاندار اَور بے جان اُس سے نفع پاتا ہے۔ بانسری آج بھی اَپنے اَصلی وطن میں مِلن کے دِنوں کو یاد کر کر کے روتی ہے اَور رُولاتی ہے۔اگرچہ کوئی اِس کے نالوں کو سمجھنے والا ہو۔
دُنیا میں سُر سنگیت کے جتنے بھی آلے ہیں، بانسری اُن میں سب سے قدیم ہے۔اَورآج بھی اتنی ہی اَفادیت رکھتی ہے۔اِس ویرانے میں بانسری کے اُداس سُروں کو ڈِبے میں قید چھوڑ کر ہم آگے بڑھے۔

جاری ہے!

محمد جاوید خان
میراتعلق خانیوال سے ہے روزنامہ نیا دور سنگ میل سمیت کچھ akhbara

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *