پانامہ فیصلہ کا قانونی جائزہ

پانامہ کیس پاکستان کی تاریخ کے اہم قانونی مقدموں میں گنا جائے گا، یقینا ایک ایسا فیصلہ جو شاید کافی کچھ بدلے۔ گو اس کیس میں دیا گیا فیصلہ قطعا ایک ایسا قانونی فیصلہ نہیں ہے جو برسوں یاد رکھا جائے اور نا ہی یہ فیصلہ قانون کی کتب میں بطور ایک نظیر شامل کیا جا سکتا ہے، اسکے باوجود اسکے سیاسی پہلو انتہائی اہم ہیں۔ فیصلے کی زبان و بیان اور دو ججوں کے اختلاف نے ایسی صورتحال پیدا کی ہے کہ ہر فریق کو بیک وقت یہ فیصلہ اپنے ہی خلاف اور اپنے ہی حق میں نظر آتا ہے۔ ایسے میں فیصلے کو کچھ باریکی سے دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

ہمیں یہ ماننا ہو گا کہ گو اس فیصلے میں کچھ سقم ہیں اور یہ بہت سے فریقین کی امیدوں پر پورا نا اتر سکا، اسکے باوجود مجموعی طور پر یہ ایک اچھا فیصلہ ہے۔ اس میں کچھ سقم ہیں جن پر بات کی جا سکتی ہے۔ پی ٹی آئی کی طرف سے پیش کئیے گئے ثبوت قطعا اتنے مضبوط نہیں تھے کہ کوئی انتہائی قدم اٹھایا جاتا اور موجود ثبوتوں کے ساتھ شاید مزید تحقیقات ہی کمزور ایویڈنس کے باوجود ایک بہترین حل تھا۔ سپریم کورٹ نے ملک کے وزیراعظم کو ایک انویسٹیگیشن ٹیم کے سامنے جوابدہ بنا کر ایک اہم فیصلہ کیا ہے۔ جے آئی ٹی کے سامنے ملک کے وزیر اعظم کا پیش ہونا اداروں کی مضبوطی کا باعث بنے گا اور نئی جمہوری روایات کے فروغ کا باعث ہو گا۔ اس جے آئی ٹی کی تشکیل بتاتی ہے کہ اس کے سامنے جھوٹ بولنا یا بچنا اتنا بھی آسان نا ہو گا، جبکہ ہر دو ہفتے بعد سپریم کورٹ اسکا جائزہ لے گی۔ یہاں یہ یہ سوال اٹھتا ہے کہ جو منی ٹریل عدالت میں نا دی جا سکی وہ جے آئی ٹی میں کیسے آئے گی؟ اور یہی وہ پوائنٹ ہے جہاں جے آئی ٹی کی رپورٹ حکومت کے خلاف ہو سکتی ہے۔ وزیراعظم اور انکے صاحبزدگان اگر شافی ثبوت نا دے سکے اور تحقیقات نے وزیراعظم کی صفائی کو ناکافی قرار دے دیا تو باقی کے تین جج بھی اپنا فیصلہ بدل سکتے ہیں۔ ان حالات میں وزیراعظم ڈس کوالئفائی ہو جائیں گے۔ اس لئیے وہ دوست جو اس فیصلے کو مسلم لیگ نون کی مکمل فتح سمجھ رہے ہیں، فیصلے کو مکمل سمجھ نہیں پائے۔

اس فیصلے کی وجہ سے عمران خان اور پی ٹی آئی کو ایک زبردست موقع ملا ہے کہ وہ حکومت پر مزید پریشر ڈال کر اپنی پاپولیرٹی میں اضافہ کر سکیں۔ لیکن عمران خان اس موقع سے فائدہ اٹھانے میں ناکام نظر آ رہے ہیں۔ انکے مشیر انکو نجانے کس قسم کے مشورے دے رہے ہیں کہ وہ فیصلے سے مایوس ہونا شروع ہو گئے وگرنہ یہ انکیلیے ایک سنہری موقع ہے۔ اگر عمران چاہیں تو موقع کا پورا فائدہ اٹھا کر حکومت کو ٹف ٹائم دے سکتے ہیں۔ ن لیگ اس جے آئی ٹی کی وجہ سے شاید مزید مسائل کا شکار ہو اور عمران اور انکی پارٹی انکی کمزوری کا فائدہ اٹھا سکتی ہے، گو اب تک وہ ایسے کسی ارادے میں نظر نہیں آتے۔ عمران کو اس وقت زیادہ توجہ وزیراعظم کی ڈس کوالیفیکیشن پر دینے کی ہے۔ اس موقع پر احتجاجی تحریک یا دھرنے فقط پولیٹیکل امیچورٹی ہو گی جس کا نقصان عمران اور انکی پارٹی اگلے الیکشن میں اٹھائیں گے۔ اس تمام صورتحال میں زیادہ فائدہ پیپلز پارٹی لیتی ہوئی نظر آتی ہے۔ عمران اعتزاز احسن کے پھینکے پھندے میں آسانی سے پھنس گئے ہیں۔ جبکہ پیپلز پارٹی نے خود کو بطور اپوزیشن مضبوط کرنا شروع کر دیا ہے۔

اس فیصلے میں کچھ سقم بھی ہیں۔ اوّل تو فیصلے میں جسٹس کھوسہ کا انداز ایک سپریم کورٹ جج کے مقام سے نیچے ہے۔ ججز کے فیصلوں میں ناولز اور فلمز نہیں، بلکہ قانونی نظائر کے حوالے ہوتے ہیں۔ مجھے ڈر ہے کہ اور کسی فیصلے کوئی محترم جج “بڈھا گجر” یا “ففٹی شیڈز آف گرے” کے ڈائلاگ لکھنے نا شروع کر دیں۔ بطور ایک وکیل مجھے جسٹس کھوسہ کے فیصلہ پر تحفظات ہیں۔

مزید ازاں، فیصلے میں مریم نواز کو بغیر کوئی ٹھوس وجہ دئیے، جے آئی ٹی کے سامنے حاضری یا شہادت میں شامل نہیں کیا گیا۔ جبکہ وہ اس پورے سیناریو میں اہم تھیں اور انکا بیان اس “منی ٹریل” کا سراغ لگانے کیلیے اہم ہے جسکی تحقیق جے آئی ٹی کو کرنا ہے۔ اسکے علاوہ وزیر خزانہ محترم اسحاق ڈار جو کہ اس سارے قضئے میں ایک اہم کردار ہیں، انکو تفتیش میں شامل نہیں کیا گیا۔ محترم اسحاق ڈار مشرف دور میں مجسٹریٹ کے سامنے ایک بیان ریکارڈ کروا چکے ہیں جو وزیراعظم اور انکے خاندان پر لگے الزامات کی تفتیش میں انتہائی اہم ہے۔ اس لئیے انکے شامل نا کیے جانے سے فیصلے میں ایک اہم سقم پیدا ہوتا ہے۔ یہ وہ اہم نکات ہیں جن پر عمران خان کے وکلا کو شاید سپریم کورٹ سے دوبارہ رابطہ کرنا چاہیے۔

فیصلے کا ایک اہم حصہ جے آئی ٹی کی تشکیل میں شامل ممبرز ہیں۔ اگر ایک طرف عدالت نے ملک کے وزیراعظم کو ایک تفتیشی ادارے کے سامنے جوابدہ بنایا ہے اور جمہوری عمل کو مضبوط بنانے کی کوشش کی ہے۔ تو دوسری طرف آئی ایس آئی اور ملٹری انٹیلیجنس کے نمائندے شامل کر کے اسی عمل پر سوالیہ نشان بھی کھڑا کیا ہے۔ وزیراعظم پر قطعا غداری، سرکاری راز افشا کرنے یا ایسے کسی عمل کا کوئی الزام نہیں تھا جس کا تعلق کسی بھی طرح فوج سے ہو۔ وزیراعظم ایک فنانشل مقدمے میں ملوث تھے اور ان الزامات کی تفتیش کیلیے باقی کے حکم کردہ ادارے کافی تھے۔ پاکستان کافی عرصے کی جدوجہد اور تمام سیاسی پارٹیوں کی سیاسی میچورٹی کے باعث اس مقام تک آیا ہے کہ فوج کا سیاست میں عمل کم ہو گیا ہے۔ ایسے میں فوج کے نمائندوں کو غیر ضروری طور پر تفتیشی ٹیم میں شامل کر کے نا صرف غلط پیغام دیا گیا ہے بلکہ عدالت کے جمہوریت کے متعلق تصورات پر بھی سوال کھڑے کرنے کا موقع دیا گیا ہے۔ فوج کو ہر عمل میں شریک کرنے سے سیاسی جماعتوں میں عدم تحفظ کا احساس پیدا ہوتا ہے اور فوج بھی ایسے غیر ضروری کاموں میں الجھتی ہے جو اسکے بغیر بھی سرانجام پا سکتے ہیں۔

اگلے دو ماہ اہم ہیں کیونکہ ان میں ہوئی تفتیش اور اسکے نتائج، اور ان نتائج پر دیا گیا کوئی نیا فیصلہ ملک کی تاریخ میں شاید گیم چینجر ثابت ہو۔ اس مقدمے کے تمام فریقین اور پاکستان کے عوام کے حق میں ہے کہ اس جے آئی ٹی کی کاروائی پبلک ہو تاکہ شفاف تحقیقات سامنے آئیں اور کسی فریق کو اعتراض کا موقع نا مل سکے۔

Avatar
انعام رانا
انعام رانا کو خواب دیکھنے کی عادت اور مکالمہ انعام کے خواب کی تعبیر ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *