بول سکھی کیا ناؤں رے

نام کس طرح سے آپ کی ذات اور شخصیت پر اپنا اثر رکھتے اور چھوڑتے ہیں، اس کا تجربہ ہمیں ذاتی زندگی میں بھی ہے اور دوسروں کے بےشمار مشاہدات بھی اس کی تصدیق کرتے ہیں۔ پچھلے چند دنوں سے نام رکھنے کی وجوہ میں اسلامی یا ثقافتی نام رکھنے یا نہ رکھنے کی بحث نے ہمیں بھی مہمیز کیا کہ اس موضوع پر اپنےتجربات و واقعات آپ سب کے ساتھ شئیر کرکے ثواب دارین حاصل کریں ۔

شیکسپئر تو کہہ گئے نام میں کیا رکھا ہے، گلاب کو جس نام سے بھی پکارو، گلاب ہی رہتا ہے۔ مگر اقوالِ احمقانہ والے انتہائی “فطین و متین چیمہ صاحب” نے کیا خوب کہا کہ فرض کریں اگر آپ کا نام شریف ہے اور آپ کا ایک کام بھی شریفوں والا نہیں …پھر بھی لوگ آپ کو بدمعاش نہیں کہہ سکتے … اس لیے نام ہمیشہ سوچ سمجھ کر اچھا رکھیں… اب “شریف بدمعاش” نام کی فلم تو بن سکتی ہے مگر آپ شریف اور بدمعاش کو ملا کر کسی کی برائی بھی کھل کر نہیں کر سکتے کہ کیسا بدمعاش ہے جو شریف ہے۔

ایک اور کرم فرما دوست نے اپنی پوسٹ میں مروج عربی، اردو اور انگلش ناموں کی کاک ٹیل بنا کر اسے مزید دلچسپ بنا دیا، جس نے ہمیں اپنے نئے نئے کینیڈا آمد پر ہوئے تجربے کی یاد دلادی۔ امیگرشن کے فوراً بعد ہی ہمیں اے بی سی ڈی دوبارہ سے پڑھائی گئی کہ جیسا دیس ویسا بھیس، تو ہم بھی مشرف بہ انگلش ہوئے۔ پتہ چلا اے فار ائرپورٹ، بی فار بیسمنٹ، سی فار کار، ڈی فار ڈرایئو اور ای فار earn۔ یعنی جیسے ہی آپ کو ائرپورٹ سے باہر دھکا دیا جائے تو سدھا لیموزین ٹیکسی میں بیٹھ کر کسی کی بیسمنٹ میں گھس جائیے اور کام کاج کرنے کے لئے کار کا لائسنس بنوانے کی دوڑ میں لگ جائیے کہ اس ملک میں بسوں اور ٹرینوں میں دھکے کھانا آپ کے کھانے کی میز پر کوئی قابل ذکر فرق نہیں ڈالتا۔ یورپ وایشیا کے برعکس شمالی امریکہ کے زیادہ تر شہر اس انداز میں بسائے گئے ہیں کہ ذاتی سواری کے بنا نِری خجل خواری آپ کے حصے آتی ہے، اسی لئے آٹو انڈسٹری دھڑادھڑ گاڑیاں جنم دیتی ہے اور کبھی کبھی لگتا ہے بقول شاعر کہ “یاں لوگ تھوڑے ہیں اور گاڑیاں بہت”۔

خیر اسی ترتیب میں ہم کوئی چار ماہ اور تین بار ڈرائیونگ ٹیسٹ میں فیل ہونے کے بعد اپنے ۱۵ سالہ پاکستانی ڈرائیونگ کے تجربے کو مقامی تجربے سے بدلوانے میں کامیاب ہوگئے تو اگلا مرحلہ ایک ایسی کار کو خریدنے کا آپہنچا جو داشتہ آید بکار کی مانند نہ ہو ( کرم فرما اس کا مطلب داشتہ کار میں آتی ہے ہرگز نہ لیں بلکہ اس کے اصل مفہوم تک پہنچنے کی سعی فرماویں) یعنی کار چالو ہو مگر ٹیکسی، دونوں طرح کی، سے کوئی مشابہت بمعنی کام ،رفتار و استعداد کار نہ ہو اور نہ ہی یوسفی صاحب والے بشارت کی کار کی طرح دھکا سٹارٹ اور از کارِ رفتہ و بے کار ہو۔ ایسی کار ڈھونڈنا بھی کارے دارد سے کم نہ تھا۔

کام آئے بھی تو ایک ٹیکسی ڈرائیور دوست عبدالقدوس بھائی کہ ان کے لئے یہ دائیں ہاتھ کا کھیل تھا۔ بایاں ہاتھ ہر وقت یا تودورانِ ڈرائیونگ گاڑی کے سٹئیرنگ وہیل پر رہتا یا سواری کے انتظار میں بیٹھ بیٹھ کرگرم ہوئے اپنے “سپئیر پارٹس” کے گئیر بدلتا رہتا۔ پان اور زبان ہر وقت حرکت میں رہتے، منہ میں، اور وقفہ صرف اسی وقت آتا جب منہ پیک اور گالی سے بھر جاتا اور اس انداز سے پچکاری چھوڑ تے کہ ہولی کھیلتی کنیائیں بھی کیا بھیگتی ہوں گی لال گلال سے۔ خیر اسی موخر الذکر پیک و اول الذکر بائیں ہاتھ والے کام کو سرانجام دیتے ہوئے ہمیں ایک کار ڈیلر شپ پر جانے کا نادر شاہی حکم جاری کیا کہ جا کر سینڈی سے مل لو، گاڑی پسند کرو اورباقی مجھ پر چھوڑ دو۔

ہم خوشی خوشی دل میں سینڈی کا ایک نازک اندام سا سراپا تراشتے ہوئے ایک گھنٹہ اور دو بسیں بدلنے کے بعد جب وہاں پہنچے اور ریسپشن پر موجود قتالہ کو سینڈی سمجھتے ہوئے اسے اپنا مدعا سمجھانے کی کوشش کی تو اس نے ایک کھوپچے کی طرف اشارہ کیا ادھر جاؤ وہاں ہے سینڈی۔ چندیا میں انگلیوں سے کنگھی کرتے، ہونٹوں پر مسکان سجائے، کیبن کا در وازہ کھٹکھا کے ہینڈل گھمایا تو آگے کرسی پر مچھندر سینڈو کو براجمان دیکھ کر تراہ نکل گیا، “معاف فرمائیے شائد غلط کیبن میں بھیج دیا، آئی واز لکنگ فار سینڈی”۔
“آجاؤ بھا جی، میں ہی آں سندیپ ملک المشہور سینڈی”۔
یوں محسوس ہوا گویا کسی خوبصورت حسیناؤں سے آباد ساحل پر ڈائیونگ بورڈ بغل میں اور نگاہیں الٹے لیٹے سن باتھ لیتے جسموں پر ڈالتے آپ لہروں کی آغوش میں جانے کو تڑپ رہے ہوں اور ایک دم زور سے ٹھوکر لگے اور آپ کا چہرہ سیدھا ریت پر جالگے اور منہ ناک اور آنکھوں میں ریت ہی ریت بھر جائے اور اس کی کِرک آپ کو حلق تک محسوس ہو۔ گاڑی کا تو خیر سودا کیا پٹتا، آئندہ کے لئے کان پکڑ لئے کبھی نام سے دھوکہ نہیں کھائیں گے۔ اسی طرح جب ہم نےٹیری کے پیچھے چھپے طاری اور ڈیو کے اندر سے دیو برآمد ہوتا دیکھا تو کلیہ بنا لیا کہ جتنے بھی نام ہیں، سب اسی طرح رکھے گئے ہیں۔

اپنے وطن مالوف کی بھی ایک چھوٹی سی بات سنتے جائیے، نئے نئے بنائے گھر میں منتقل ہوئے ابھی دوسرا ہی دن تھا۔ گرمیوں کی چھٹیاں تھیں اور گلی میں کھڑا اطراف کا جائزہ لے رہا تھا کہ سامنے والے گھر سے ایک آنٹی نے باہر دروازے پر زور سےآواز لگائی “وے ٹونی کتھے مر گیاں ؟ جلدی آکے کھا مرلے” (تمام ٹونی نام کے احباب سے پیشگی معذرت)۔ میں خوش ہوا، لگتا ہے کوئی ہم عمر ساتھ کھیلنے والا ساتھی مل گیا مگر وہی ہوا جو خیال آپ کے ذہن پر ٹھونگیں مار رہا ہے، دوسری گلی سے بڑی تیزی سے ایک سگِ لیلٰی اپنی دم ہلاتے، رال ٹپکاتےاور ہانپتی زبان کے ساتھ بھاگا آیا اور اپنے لئے لایا گیا راتب کھانے لگا اور مارے ڈر کے ہم نے گھر واپس گھسنے میں ہی عافیت جانی۔

چین میں شنید ہے کٹلری کو اوپر اچھال کر گرائے جانے سے جس طرح کی صوت پیدا ہو، اس سے ملتا جلتا نام رکھ دیا جاتا ہے۔ گمان غالب ہے لڑکوں کی باری کانٹے اور چمچ اچھالے جاتے ہیں اور لڑکیوں کی دفعہ چھریاں تاکہ جملہ خوبیوں سے متصف ہو ۔

چند دن قبل مربی حافظ صفوان مدظلہ، نام رکھنے میں جو شرعی احتیاط کی جا سکتی ہے، اس کے بارے بتا چکے ہیں، وہی میرے نزدیک سب سے اچھی اور قابل عمل توجیح ہے۔ اچھے نام رکھنے چاہئیں جو اللہ تبارک و تعالیٰ اور نبی اکرم ﷺکی نسبت سے آپ کا بہترین تعارف بن سکیں۔ دیار غیر میں یہ تو گوارا ہے کہ آپ عمر کی بجائے اومار اور خالد کی جگہ کھلید پکارے جائیں، مگر مکمل طور پراپنا نام ترک کردینا اپنی شناخت کھو دینے کے نشیب اور ناہموار اترائی کے سفر کی طرف پہلا قدم اٹھانا ہے۔ پہلے نام ، پھر کلام اور پھر طعام سب کو سلام ہو جاتا ہے اور آپ ایک چوں چوں کا مربہ بن جاتے ہیں۔

احمد رضوان
احمد رضوان
تیشے بغیر مر نہ سکا کوہکن اسد سرگشتہ خمار رسوم قیود تھا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *