فاحشہ۔۔۔مریم مجید ڈار

(ایڈز کی مریضہ طوائف )
گاہک کی مٹھیوں میں اس کے بال کسے ہوئے تھے۔۔
اور مسہری کی سلوٹوں میں اس کا صدیوں پرانا بدن درزوں اور ریخوں کے بیچ سے جھانکتا تھا۔ ۔۔۔۔
گاہک نے جو نوٹ نائیکہ کو دئیے تھے وہ میلے اور شکن زدہ تھے۔۔
اور بدلے میں وہ چاہتا تھا نئی نویلی پتنگ سا بدن۔۔
جس کی ترواٹ میں وہ اپنی انگلیوں اور ناخنوں سے بھدے بدنما راستے کھود سکے۔۔۔
“طوائف کے کوٹھے پر ایسا بدن”؟؟(نایئکہ نے تمسخر سے سوچا)
اور پھر پرانے نوٹوں کی بو نے اسے اپنے ہی گھر کی راہ دکھا دی تھی۔۔
پرانی مسہری کی ہر سلوٹ سے جھڑ چکے جسموں کے ذرے حیران آنکھوں سے دیکھ رہے تھے۔۔
نائیکہ نے جو ماس دھوکے سے کھرا کیا تھا۔۔
اس کا وقت پورا ہو چکا تھا۔۔۔
دفعتا!!
ریشمی بال اکھڑ کر گاہک کی مٹھیوں میں رہ گئے اور بوسیدہ کھوپڑی لڑھک کر سرخ اینٹوں کے فرش پہ جا پڑی۔
وہ بوکھلا کر کھڑا ہوا تو۔۔۔
اس نے دیکھا !!
اس کے تمام بدن پر گلی سڑی کھال اور سلگتی راکھ لپٹی تھی۔۔۔
وہ مخبوط الحواس ہو کر چلانے لگا۔۔
اور بنا لباس کے باہر بھاگنے لگا ۔۔۔تو اس نے دیکھا!!
وہ نامرد ہو چکا ہے۔۔
وہ اندھوں کی طرح ٹھوکریں کھاتا اور بدن کریدتا نیم مردہ کینچوے کی طرح غلاظت میں رینگنے لگا۔۔
(کچھ دیر بعد)

نائیکہ نے کوٹھڑی میں جھانکا۔۔۔
اس کے ہاتھ میں چمکیلے لباس، شوخ رنگ اور مسحور کن خوشبوئیں تھیں۔۔۔!!
اس نے بہت پیار سے کھوپڑی کو اٹھایا۔۔
اس پر شوخ رنگوں کا لیپ کیا۔۔۔
سیاہ رنگ سے آنکھیں ابرو اور پلکیں بنائیں۔۔
گلابی رنگ سے گال ابھارے۔۔۔
سرخ رنگ سے لبوں کی تخلیق کی۔۔
پھر اس نے بدبو دار ہڈیوں کو سمیٹ کر سبز اور عنابی قیمتی ساڑھی میں لپیٹا۔
خوشبووں سے اسے غسل دیا اور مسہری کی شکنیں درست کر کے اسے وہاں لٹا دیا۔۔۔
تبھی دوسرے گاہک نے دروازے پر لٹکتا موتیوں کی جھالروں سے بنا پردہ اٹھایا۔
وہ بے تاب نظر آتا تھا۔
نائیکہ مسکرا دی۔۔۔۔۔
اس نے گاہک سے سلوٹ زدہ، نئے پرانے نوٹ لے کر وسیع گریبان میں اڑسے!!
اور پیر کی ٹھوکر سے کوٹھڑی کا دروازہ بھیڑ کر باہر نکل آئی۔۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *