پنجابی طالبان اور مغالطہ۔۔۔ابو بکر

پنجابی طالبان کے بارے میں چند ضروری گزارشات :

1۔ یہ کہنا درست نہیں کہ پنجابی طالبان کی تخریب کاری سے صرف قبائلی علاقے ہی متاثر ہوئے۔ پنجابی طالبان کا ڈھیلا ڈھالا نام ان متعدد گروپس کو دیا گیا تھا جو مختلف تنظیموں سے ٹوٹ جانے کے بعد قبائلی علاقوں کی طرف نقل مکانی پر مجبور ہو گئے تھے۔ ان میں لشکر جھنگوی ، سپاہ صحابہ ، جیش محمد وغیرہ کے جنگجو شامل تھے۔اس سے پہلے تقریباً دو دہائیوں سے یہ تنظیمیں پنجاب کو بیس کیمپ بنا کر اپنی کارروائیاں انجام دیتی تھیں۔ بیرون ملک کشمیر اور افغان جہاد کے علاوہ اندرون ملک یہ تنظیمیں شیعہ اور دیگر اقلیتوں کے خلاف تشدد کی کارروائیوں میں ملوث رہتی تھیں۔ شیعہ اور احمدی فسادات کے حوالے سے پنجاب سرفہرست رہا ہے جس کی وجہ یہی تنظیمیں ہیں جن سے ٹوٹے ہوئے لوگ بعد میں پنجابی طالبان بنے۔ افغان جنگ اور بعد ازاں تحریک طالبان پاکستان کے سامنے آنے کے بعد ان پنجابی گروہوں کے جنگجو عناصر کے لیے پنجاب میں رہنا ناممکن ہوگیا۔لشکر جھنگوی سمیت کئی تنظیمیں نوے کی دہائی سے ہی افغانستان اور قبائلی علاقوں میں تعلقات رکھتی تھیں۔ 2005 کے بعد ان پنجابی طالبان نے قبائلی علاقوں کا رخ کیا اور باقاعدہ کارروائیاں شروع کیں۔ پہلے سے موجود تحریک طالبان پاکستان کی مقامی قیادت نے ناصرف ان پنجابی طالبان کی میزبانی کی بلکہ پنجاب میں کئی بڑی کارروائیوں میں ان پنجابی طالبان سےضروری لاجسٹک سپورٹ بھی حاصل کی۔ لاہور، اسلام آباد سمیت پنجاب میں ہوئی دہشت گردی کی اکثر بڑی وارداتوں کی منصوبہ بندی قبائلی علاقوں کے پنجابی طالبان کرتے تھے جبکہ تحریک طالبان کی مقامی قیادت جنگجو مہیا کرتی تھی۔ پنجابی طالبان کی مدد کے بغیر قبائلی علاقوں کے بیس کیمپ سے مسلسل اتنی بڑی کاروائیاں ممکن نہ تھیں۔

2۔ پنجابی طالبان کے گروپس پنجاب کے شہروں کا ناصرف بہتر علم رکھتے تھے بلکہ اکثر شہروں میں ان کے سہولت کاربھی موجود ہوتے تھے۔ ان کے مددگار مدارس بھی بڑی تعداد میں تھے۔( دیوبندیت پنجابی طالبان اور قبائلی طالبان کا مشترک رشتہ تھا۔) پنجابی طالبان چندہ کا بہتر اور وسیع نیٹ ورک رکھتے تھے جو نہایت اہم تھا۔اس کے علاوہ پنجابی طالبان القاعدہ اور قبائلی طالبان کی مقامی قیادت کےدرمیان رابطہ کاری کا بھی اہم ذریعہ تھے۔ یہ خصوصیات ان کے پنجابی پس منظر کی وجہ سے بھی تھیں جہاں جدید ذرائع نسبتاً آسان رسائی میں تھے۔ قبائلی مجاہدین نے پنجابی طالبان کی اس تکنیکی مہارت سے مکمل فائدہ اٹھایا۔

3۔ پنجابی طالبان کوئی منظم تنظیم نہ تھے۔ پنجاب میں اپنی مدرآرگنائزیشنز سے ٹوٹنے کے بعد یہ صرف منتشر ہارڈ کور جنگجو تھے جو قبائلی علاقوں میں بھی مختلف جگہوں اور دھڑوں سے مل کر آپریٹ کرتے تھے ۔ کچھ پنجابی طالبان جو قبائلی علاقوں میں رہ کر بھی انفرادی کارائیان کرتے تھے انہوں نے بھی اپنی تنظیم سازی ازسر نو کی تھی اور وہ بھی صرف تب جب انہیں قبائلی علاقوں میں محفوظ پناہ گاہیں مل گئیں۔ پنجاب میں اپنی سابقہ قیادت اور ہمدردوں کے ایک بڑے ٹولے سے انہیں محروم بھی ہونا پڑا۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو شاید یہ لوگ تحریک طالبان سے بھی زیادہ خوفناک صورت میں ظاہر ہوتے۔

4۔قبائلی علاقوں میں ہوئے فوجی آپریشنز کی شفافیت ایک سنجیدہ سوال ہے۔ انسانی بحران کسی صورت قابل برداشت نہیں۔ تاہم یہ تو سامنے کی بات ہے کہ اگر پنجابی طالبان کی پناہ گاہیں قبائلی علاقوں میں بن چکی ہیں تو انہیں صاف بھی وہیں سے کیا جانا ہوگا۔ پنجابی طالبان کےجو ہمدرد پنجاب میں رہ گئے ان کو بھی بالکل کھلا نہیں چھوڑا گیا۔ اخبارات اٹھا کر دیکھے جائیں تو شاید ہر دوسرے ہفتے شیخوپورہ، مظفر گڑھ، گوجرانوالہ وغیرہ میں باقاعدہ تواتر سے ان پولیس مقابلوں کی خبریں ملتی ہیں جن میں شدت پسند تنظیموں کے مقامی جنگجوؤں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔ ملک اسحاق کےقتل جیسے پولیس مقابلے اس کے علاوہ ہیں۔سول آبادی کی گمشدگی کے بھی متعدد واقعات ریکارڈ پر ہیں۔ پنجاب میں ہوئے ان آپریشنز کا قبائلی علاقوں میں ہوئے آپریشنز سے کوئی موازنہ ہی نہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ محفوظ پناہ گاہیں بھی سب سے زیادہ قبائلی علاقوں ہی میں تھیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ملکی سلامتی کے نام پر جہاں کہیں بھی کاروائی ہو وہ شفاف اور قانونی انداز میں ہو۔

5۔ ریاستی اداروں کی کسی قومیت کی پروفائلنگ کرنے کی قطعاً اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ آئین اور قانون کی نظر میں تمام شہری برابر ہیں اور مساوی حقوق رکھتے ہیں۔ یہ بات یاد رکھنی چاہیے  کہ پاکستان میں سلامتی کے تمام مسائل اور ان پر پالیسی سازی کا حتمی اختیار منتخب اداروں کے پاس نہیں ہے۔یہ سارے فیصلے کہیں اور ہی ہوتے ہیں۔ افغان جنگ میں شمولیت پر پنجاب میں کوئی ریفرنڈم نہیں ہوا تھا البتہ یہ بات بھی حقیقت ہے کہ اس جنگ کے بعد افغان پناہ گزینوں کی ایک بڑی تعداد پنجاب میں آ بسی جس کا اثر مقامی سطح تک محسوس کیا گیا ۔ یہ دونوں طرف کی حکومتوں کی جنگ تھی جس میں دونوں طرف کے عوام خوار ہوئے۔ افغان مہاجرین کو ریگولیٹ رکھنے کا کوئی معقول طریقہ کار نہ اپنایا گیا۔

6۔ پنجابی طالبان جب تک پنجاب کی حد میں رہے سول لا اینڈ آرڈر کا مسئلہ رہے اور ریاست کی دشمنی میں کوئی تنظیمی کام یہاں رہ کر نہ کر سکے۔ قبائلی علاقوں میں چونکہ سول حکومت کا کوئی وجود ہی نہیں تھا لہذا یہ جہادی بھی وہیں جا کر استعمال ہوئے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ قبائلی علاقوں سمیت تمام ملک میں یکساں آئینی نظام قائم کیا جائے اور سول حکومت اور قانون کی عملدداری لاگو ہو

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *