نغمہ گل و بلبل اور ان کے شکاری ۔۔۔مطربہ شیخ

چند روز پہلے رات گئے نیوز بلیٹن میں خبر چلی کہ اندرون سندھ تقریب میں فائرنگ سے گلوکارہ جاں بحق ہو گئی  ، خبر کی نوعیت   پرانی ہی  ہے ، بس کردار اور نام بدل گئے ہیں بلکہ  یوں کہیے کہ قاتل و مقتول بدل گئے ہیں لیکن نہیں مقتول تو ایک ہی ہے ،کبھی کوئی  گلوکارہ پشاور میں فائرنگ کر کے مار دی جاتی ہے ،کبھی پنجاب میں کسی اداکارہ کو گولیو ں سے بھون دیا جاتا ہے ،کسی کواغواء  کرلیا جاتا ہے ،کبھی تیزاب ڈال دیا جاتا ہے کبھی اجتماعی زیادتی، کبھی  دھمکیاں، کبھی جبری طور پر فن  کا مظاہرہ کروانا، آپ لوگ ملک کی ساری خواتین کو ایک ساتھ کیوں نہیں مار دیتے تا کہ آپ سب کو ان کا گانا نہ سننا پڑے ، ان کو ناچتے ہوئے نہ دیکھنا پڑے ، ان کے ساتھ سونا نہ پڑے ، ایک جگہ کمنٹ پڑھا کہ  گھر سے کیوں نکلی گانا گانے ، یہ تو ویسے ہی گناہ کاکام ہے۔۔۔

واہ صاحب !وہ گانا گائے تو گناہ، آپ گانا سنیں تو کیا ثواب ہوتا ہے ؟؟ آپ رقص دیکھنا چاہیں تو اچھا ہوتا ہے ؟؟رقص نہ کرنے پر گولی مار دینا ثواب کا کام ہے شاید ؟؟

ہر معاشرے میں رزق کمانے کے لئے مختلف پیشے اپنائے جاتے ہیں، فنون لطیفہ اور لوک ورثے کی ایک شاخ رقص و موسیقی بھی ہے ، فنکار کو بھی  اپنے فن سے رزق کمانے کا انسانی حق ہے ، لیکن ہمارےیہاں متضاد رویے  دیکھنے میں آتے ہیں ،ایک گلوکارہ نے اپنے انٹرویو میں بتایا کہ لوگ گانا تو شوق سے سنتے ہیں لیکن ہماری عزت نہیں کرتے ، نہ ہی ہم سے نکاح کرنا چاہتے ہیں . ایک اداکارہ نے کہا لوگ ہمارے ساتھ صرف سیلفی بنوانا چاہتے ہیں ، لیکن ہم سے دوستی رکھنا پسند نہیں کرتے ،ہاں صرف وقت گزارنا چاہتے ہیں یا دوسرے الفاظ میں کہا جائے تو ہمارے ساتھ سونا چاہتے ہیں . جب بھی  ملک کے کسی حصے سے ایسی کوئی خبر آتی ہے ،دل دکھ سے بھر جاتا ہے ، لو گ اپنے گھر آئے ہوئے  مہمان کو گولی کیسے مار دیتے ہیں . اگر کوئی خاتون گانے یا رقص کو پیشے کے طور پر اپناتی ہے تو معاشرے کے چلن کو مد نظر رکھتے ہوئے ایسا کرتی ہے ، لوگ رقص و موسیقی کے دلدادہ ہیں ، کسی نے اپنا لیا تو اس پر اعتراض چہ معنی دارد .

اگر یہ بے حیائی ہے تو پھر اس بے حیائی کو پہلے خود میں سے ختم کریں ، نہ سنیں گانے ، نہ دیکھیں رقص ، نہ جائیں تھیٹر ،توڑ دیں اپنے ٹی وی اور وہ موبائلز جن پر دن رات گانے سنے جاتے ہیں اور بے ہودہ ویڈیو کلپ شئیر کئے جاتے ہیں.
اگر اتنا ہی عورتوں، ان کی حیا اور ان کے اسلام کا خیال ہے تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی  عنہ کے دور والا زکوٰۃ کا نظام قائم کر دیں ، مجبوری میں گھر  سے نکلنے والی اپنا رزق خود کمانے والی عورت کو گھر بیٹھے راشن مہیا کرنے کے اسباب بنائیں ، مغرب میں تو کئی ملکوں میں ایسا کیا جاتا ہے وہ تو مشرکین ہیں پھر بھی  ایسا کرتے ہیں، لیکن ہمارے ملک میں اسلام کیوں اتنا محدود ہو گیا کہ عورت کو گانا گا کر روٹی کھانی پڑے ،پھر کوئی   اس کو رقص کےلئے کہے اور انکار کرنےپر گولی مار دے .

سُر  اور  سرگم تو اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ایک نعمت ہے ، خوش الحانی اولیاء کا وصف ہے ، کتابوں میں طائرِ ان جنت کی ایک خوبی ان کی خوبصورت آوازیں بیان کی گئی  ہیں ،نغمہ  و بلبل اس کی ایک زمینی مثال ہے ، آج کل بہار کے موسم میں بلبل کی سریلی آواز ہمارے کانوں میں رس گھول رہی ہے ، سندھ کے آموں کے باغات میں بلبل چہک رہی ہے لیکن سندھ کی ایک نغمہ گو بیٹی کو حمل  کی حالت میں مار دیا گیا ہے. کیا سندھ دھرتی کے بیٹے انصاف کر سکیں گے ؟کیا دوہرے قتل کا مجرم پکڑا جائے گا ؟

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *