کشمیر کی آصفہ اور خدا۔۔۔آصف وڑائچ

کوئل کی طرح سریلی، بلبل کی طرح چہچہاتی، ہنستی کھیلتی اپنے پیارے پیارے جانوروں کے ساتھ گھل مل جانے والی 8 سالہ ننھی آصفہ کو جب اس کے غریب ماں باپ نظر بھر کے دیکھتے تو ان کے چہرے خوشی سے کھل اٹھتے۔ لاڈلی پری کے اندر تو جیسے ان کی جان تھی۔ زندگی کی تمام بہاریں لاڈلی بیٹی کے دم سے تھیں۔ لیکن ایک دن جموں کے  منحوس جنگل نے ان کی ساری خوشیاں چھین لیں۔ اپنی چاند سی بیٹی کی نیم برہنہ نعش دیکھ کر ان کے پاؤں تلے سے زمین کھسک گئی ۔ سروں پر آسمان گر پڑا ۔ جو ان کی زندگی کا محور تھی وہ زمین پر ساکت پڑی تھی. اس کے بے جان وجود کو دیکھ کر وہ بھی بے جان ہوگئے. زبانیں گنگ ہوگئیں. آنکھیں پتھرا گئیں. کائنات ان کے لیے تھم گئی تھی. وہ چشم تصور میں اپنی ہرنی کو نرم گھاس پر قوسِ قزح کی چمکیلی پھواروں میں قلانچیں بھرتا دیکھ رہے تھے. آصفہ کی معصوم شرارتیں ایک ایک کرکے ان کی غمگین نگاہوں میں آتی جارہی تھیں۔ وہ اٹکھیلیاں کر رہی تھی، ہنس رہی تھیں، جھوم رہی تھی۔۔۔

تب کسی نے ان کے جامد جسموں کو زور سے ہلایا تو انہیں اپنی پیاری آصفہ کی مسخ شدہ نعش زمین پر پڑی نظر آئى ۔ اس کے پھول جیسے بدن پر تشدد کے نشانات تھے ۔ اسکے بھولے بھالے چہرے پر ایک سوالیہ خوف تھا ۔  بے بسی کا  شکوہ تھا ۔ ننھا منا سا سر کچلا پڑا تھا، خوبصورت پیروں کی چھوٹی چھوٹی انگلیاں ٹوٹ کر لٹک گئی تھیں ۔  ۔اچانک کسی نے انہیں جھنجھوڑ کر کہا کہ آپ کی پری کو بھگوان کے بچاریوں نے اپنی ہوس کا نشانہ بنا کر مار ڈالا ہے. تب انہیں احساس ہوا کہ نیلے پانیوں کی جھیلوں اور حسین وادیوں کی وسیع و عریض سرزمین پر ان کی چھوٹی سی دنیا لٹ چکی ہے، وہ برباد ہو چکے ہیں۔

ذرا سوچیے  اس منحوس گھڑی کو، جب بھگوان کے بنائے بھیڑیوں نے بھگوان کے ہی مندر میں زندگی کی رعنائیوں سے بھرپور ایک جیتی جاگتی پوتر دیوی کو گوشت کے ایک بے جان لوتھڑے کی مانند بھنبوڑا ہو گا تو کیا انسانیت کی روح چھلنی نہیں ہوئی ہو گی؟ جب سات روز تک چھوٹی سی آصفہ کی پتلی کلائیوں کو باندھ کر اندھی قید میں رکھا گیا. جب لاچار بچی کی نرم رگوں میں نشے کا غلیظ زہر قطرہ قطرہ انڈیل کر درندگی کی ساری حدیں پار کر دی گئیں. جب دھرتی کی جنت نظیر میں شیطان ننگا ناچتا رہا تو آسمان پر حشر بپا کیوں نہ ہوا ؟ جب ننھی روح کی دلخراش چیخیں عرش کی بنیادوں سے ٹکراتی رہیں؟تو  عرش کیوں نہ کانپا ؟    جب انسانیت کی عصمت دری کی   گئی۔    تب سارے   مذاہب کے خدا بت کیوں بنے رہے ؟ جب معصوم جان کی نازک پیشانی کو سخت پتھروں سے مار مار کر کچل دیا گیا تو کوئی فرشتہ ان درندوں کا ہاتھ روکنے کے لئے آسمان سے کیوں نہ اترا؟ میں پوچھتا ہوں انسانیت کے قاتلوں پر قہر نازل کیوں نہ ہوا ۔ کائنات کیوں نہ الٹ دی گئی؟ مظلوم کی آہ و بکا    پر رحمت کے سمندر   نے ٹھاٹھیں کیوں نہ ماریں؟ کوئی معجزہ کیوں نہ ہوا؟ قدرت کیوں خاموش تماشائی بنی رہی؟

اے اس جہان کے مالک اگر تو دیکھ رہا تھا تو نیچے کیوں نہ اترا؟ اب بھی نہیں اترے گا تو پھر کب اترے گا؟ اس فانی دنیا کو تو ایک دن مٹ ہی جانا ہے تو پھر ابھی کیوں نہیں؟

تم ہی کچھ بولو کہ ہم کس خدا کو پکاریں ؟ بولو ! جواب دو ! میں کہتا ہوں ہم سب کو ڈوب مرنا چاہیے۔۔۔

اے اللہ اس زمین کو پھاڑ ڈال جہاں آصفہ جیسی معصوم کلیاں کھلنے سے پہلے ہی مسل دی جاتی ہیں. نیست و نابود کر دے ایسی دنیا کو جسے نہ انسانیت کی ضرورت ہے اور نہ ہی تیری۔

آصف وڑائچ
آصف وڑائچ
Asif Warraich is an Engineer by profession but he writes and pours his heart out. He tries to portray the truth. Fiction is his favorite but he also expresses about politics, religion and social issues

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *