بجلی کا بحران اور اسکا تدارک

لوڈشیڈنگ اور حکومتی دعوے
حسام دُرانی
ایک صاحب کے گھر ان کے پیر صاحب تشریف لاۓ اس وقت صاحب خانہ کے ایک رشتہ دار بھی ان سے ملنے آئےہوئے تھے جو کے پیری مریدی کے سخت مخالف تھے۔ اُن کے اور پیر صاحب کے درمیان کچھ سخت الفاظ کا تبادلہ ہوا اور اچانک ہی سارا گھر اندھیرے میں ڈوب گیا، ہر طرف ہا ہا کار مچ گئی اور صاحب خانہ سمجھے کے پیر صاحب جلال میں آ گئے ہیں اور تمام گھر والوں کو اندھا کر دیا ہے، گرتے پڑتے پیر صاحب کے قدموں میں لیٹے اور گڑگڑانے لگے۔
“موتیاں والیو معاف کردیو ساڈی نظر واپس کر دیو ”
پیر صاحب نے ٹھوکر لگائی اور غصہ سے بولے ” انہی دیو میں کجھ نہیں کیتا، بجلی چلی گئی اے تے تہاڈا یو پی ایس کم نہیں کردا ”
یہ اور اس طرح کے بےشمار لطیفے آج کل پاکستان کی عوام کے زبان زد عام ہیں اسکی وجہ یہ ہے کے پاکستان میں اول تو بجلی اتنی ہے ہی نہیں ،کے پورے پاکستان کے عوام کو مل سکے اور جن کو سہولت میسر ہے وہ گرمیوں کے شروع ہوتے ہی اسکا انتظار شروع کر دیتے ہیں کے کب آئی اور کب گئی۔ ایک تازہ سروے کے مطابق بجلی کا شارٹ فال 6000 MW سے بڑھ چکا ہے جس کے باعث پورے پاکستان میں 12 سے 16 گھنٹے تک کی اعلانیہ اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ ہوتی ہے اور اس موسم میں لوگ ایک دوسرے کا حال چال نہیں بلکہ ان کے علاقے اور شہر میں بجلی کا شیڈول پوچھنا شروع کر دیتے ہیں۔
پاکستان میں جو بھی جماعت برسر اقتدار آتی ہے اپنے طور پر اس مسئلہ کو حل کرنے کی کوشش کرتی ہے اور اپوزیشن اسی مسئلہ پر اپنی سیاست کھیلتی اور حکمران جماعت کو آڑے ہاتھوں لیتی ہے۔ اس دفعہ جو جماعت برسر اقتدار ہے اس نے عوام سے ووٹ ہی اسی مسئلے کو حل کرنے کے وعدہ پر لئے تھے ۔آئیے دیکھتے ہیں کے حکمران جماعت اپنے اس وعدے پر کتنا پورا اتری اور ملک میں شارٹ فال ہونے کے کون کون سے عوامل ہیں۔
پاکستان دنیا بھر کے بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھنے والے ممالک میں 35 ویں نمبر پر ہے۔ انسٹالڈ کیپسٹی کے مطابق، اور پاکستان میں بجلی پیدا کرنے کے طریقے
پانی سے،ڈیزل انجن کے ذریعے ،ایٹمی توانائی کے ذریعہ، شوگر ملوں میں فضلہ جلانے سے،سورج / شمسی توانائی سے اورکوئلہ سے۔
سب سے زیادہ بجلی ڈیزل انجن اور اس کے بعد پانی / ہایڈرو پروجیکٹ کے ذریعے حاصل کی جاتی ہے۔ فل وقت پاکستان میں سب سے سستا طریقہ پانی اور سب سے مہنگا ڈیزل سے بجلی بنانے کا ہے۔
پاکستان میں بجلی کی کمی اسکے ضیاع کے ساتھ ساتھ عوام اسکی مہنگائی کا بھی رونا روتی ہے کیونکہ بجلی دن بدن مہنگی ہوتی جا رہی ہے۔ اس تحریر میں ان تمام عوامل پر بات کرنے کی کوشش کی جاۓ گی۔
سب سے پہلے شارٹ فال کی بات کی جاے تو اسکا مطلب ہے کے بجلی کی سپلائی اور ڈیمانڈ میں فرق،
ڈیمانڈ دن بدن بڑھتی جا رہی ہے لیکن سپلائی اس حساب سے نہیں بڑھ رہی، اس شارٹ فال کی جہاں وجہ بجلی کی پیداوار کم ہے وہاں پر اسکی چوری اور دوران ترسیل اسکا ضائع ہونا بھی ہے، اگر ہم تھوڑی سی تحقیق کریں تو معلوم ہوتا ہے کے پاکستان کے کونے کونے میں لٹکی بجلی کی تاریں اور ٹرانسفارمرز بجلی ضائع کرنے میں پیش پیش ہیں اور باقی رہی سہی کسر بجلی کی چوری پوری کر دیتی ہے، پاکستان میں دوران ترسیل کم از کم 23 سے 26 فیصد بجلی ضائع ہو جاتی ہے اور اگر نیپرا کے بناۓ ہوے قوانین کے مطابق اگر ہم ضائع شدہ بجلی کی مقدار 16 فیصد ہی سمجھ لیں تو اس کے مطابق ہر سال 140 بلین روپے کی بجلی چوری ہوتی ہے۔
مطلب ہر سال ہم عوام چاہے وہ چاۓ کا کھوکھا چلانے والا ہو یا ایک مل چلانے والا جسکا جہاں داؤ لگتا ہے کم از کم خزانے کو 140 بلین سالانہ کا ٹیکا لگاتا ہے۔
اب آتے ہیں بجلی کی پیداوار کی جانب جسکا کے اس حکومت نے وعدہ کیا اور اسی وعدے پر ووٹ لیے،
پاکستانInstitute of Hydro carbon development of Pakistan کے سروے کے مطابق پاکستان کی کل پیداواری صلاحیت جولائی 2008 میں 19,575 میگا واٹ تھی جسمیں پانی سے 6,481 میگا واٹ، ڈیزل سے 12,632 میگا واٹ اور ایٹمی ذرائع سے 462 میگا واٹ تھی۔ ہہاں ایک غور طلب بات یہ ہے کے زیادہ تر بجلی ڈیزل کے استعمال سے بنائی جاتی ہے جس سے فی یونٹ پیداواری قیمت میں لامحالہ اضافہ ہوتا ہے، جسکے باعث عوام جو کے پہلے ہی لوڈشیڈنگ کے ہاتھوں تنگ ہوتی ہے بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں انکا جینا اور حرام کر دیتی ہیں۔ لیکن پچھلے دو سالوں سے عالمی منڈی میں تیل کی مسلسل گرتی ہوئی قیمتوں نے اس گرانی کو کسی حد تک کنٹرول کیا اور اسکے ثمرات عام صارف تک بھی پہنچے۔
بجلی کے یونٹ کی قیمت جو کے ایک صارف ادا کرتا ہے اس میں پیداواری قیمت کے علاوہ تقسیم کار کمپنیوں کا منافع اور لائین لاسسز کے ساتھ ساتھ دوسرے خرچے بھی شامل ہوتے ہیں پچھلے سال میرے گھر میں استعمال ہونے والے بجلی کے یونٹ کی اوسط قیمت تقریبا 18 روپے تھی جو کے اس سال کم ہو کے تقریبا 12.5 روپے فی یونٹ پر آ گئی ہے اور اگر اسی طرح رہا اور حکومت ڈیزل سے بجلی کی پیداوار پر انحصار کم کرنا شروع کردے تو یقینا پیداواری قیمت میں کمی ہو گی۔
موجودہ حکومت اور نیپرا نے بجلی کے بلوں کی ریکوری کے حوالے ایک پروگرام شروع کیا جسکے مطابق جن علاقوں میں بلوں کی ریکوری کم از کم 85 فیصد تک ہے ان علاقوں / فیڈرز میں لوڈشیڈنگ کافی حد تک کم ہے۔ اب ہماری سوسائٹی کو ہی دیکھ لیجئے جسکے پانچ میں سے دو بلاکس ایسے فیڈر میں ہیں جن میں بجلی کا ضیاع زیادہ اور ریکوری کم جسکے باعث گرمیاں تو گرمیاں سردیوں میں بھی کم از کم 12 گھنٹے بجلی جاتی ہے اور باقی تین بلاکس ایسے فیڈر میں موجود ہیں جن میں ریکوری زیادہ اور ضائع کم جسکے باعث لوڈشیڈنگ بھی کم ہے۔
موجودہ حکومت ڈیزل/تیل سے چلنے والے پلانٹس پر انحصار کم کرنے کے لئے پانی اور دوسرے سستے ذرائع سے بجلی پیدا کرنے کے لئے 2015-16 میں 317.18 بلین روپے انرجی سیکٹر میں انوسٹ کیے جن کے اثرات جلد نظر آنا شروع ہو جائیں گے جس کے باعث نا صرف بجلی کی پیداوار میں اضافہ ہو گا بلکہ فی یونٹ پیداواری قیمت بھی کم ہوگی جسکا اثر صارف پر پڑے گا۔
اگر ہم 2013-14 کا جائزہ لیں تو ڈیزل تیل سے چلنے والے بجلی گھر 15،440 میگا واٹ کی صلاحیت پر چل رہے تھے اور کل پیداواری صلاحیت 23،048 تھی،
جبکہ 16-2015 پاکستان کی کل پیداواری صلاحیت 23،101 میگا واٹ اور ڈیزل سے بجلی کی پیداوار 15،324، پانی سے 7،027، اور نیوکلیئر سے 750 میگا واٹ رہی۔
ان سب کے علاوہ پاکستان میں ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے بھی چند پلانٹس لگاۓ گئے ہیں
فوجی فرٹیلائزر کمپنی ( سندھ ) 50 میگا واٹ
زورلو انرجی ( سندھ ) 56
تھری گورسسز ونڈ پلانٹ( سندھ) 50
فاؤنڈیشن ونڈ 1۔ 50
فاؤنڈیشن ونڈ 2 50

Advertisements
merkit.pk

قائد اعظم سولر انرجی پارک 100
گنے کے فضلے اور دوسرے ذرائع سے
جے ڈی ڈبلیو اا 26 میگا واٹ
جے ڈی ڈبلیو ااا۔ 26
رحیم یار خان ملز 30
جو کے کل 438 میگا واٹ بنتی ہے۔
اس طرح اگر ہم Private Power Infrastructure Board کے حالیہ سروے کو دیکھتے ہیں تو ایک امید سی بندھ جاتی ہے کے آنے والے چند سالوں میں پاکستان میں نا صرف بجلی کی پیداوار میں اضافہ ہو گا بلکہ اسکی پیداواری قیمت میں بھی خاطر خواہ کمی ہوگی مثلا:
اس وقت پاکستان میں 27 ایسے پراجیکٹس چل رہے ہیں جو کے تیل گیس پانی اور کوئلہ پر چلیں گے جن کی کیپسٹی 15852 میگا واٹ ہے، اسکے علاوہ 16 پراجیکٹس جو کے 6393 میگا واٹ بجلی پیدا کر سکیں گے پانی کے ذریعے، اور 10 ایسے پراجیکٹس بھی پائپ لائین میں ہیں جو کےLNG ذریعے 4600 میگا واٹ بجلی پیدا کریں گے
تربیلا منگلا کی اپ گریڈیشن اور نیلم جہلم اس کے علاوہ ہیں اس کے علاوہ گدو پراجیکٹ پر پائپ لائین میں ہے۔
ان تمام تفصیلات کو آپ تک پہنچانے کو صرف اور صرف ایک مقصد یہ ہے کے پاکستان میں پوٹینشل بہت ہے لیکن کمی صرف اور صرف عمل کی ہے اگر ہم صرف کالا باغ ڈیم کی ہی بات کرلیں تو اپ مجھ سے زیادہ اچھے طریقے سے جانتے ہیں کے اسکا اثر پاکستان پر کتنا اچھا پڑے۔

tripako tours pakistan
  • merkit.pk
  • merkit.pk

حسام دُرانی
A Frozen Flame

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply