عرب دنیا میں حافظ الاسد کا کردار

حال ہی میں اوریا مقبول جان صاحب نے شام کے حوالے سے ارشادات کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔شام کے بحران کے حوالے سے اپنے تعصبات کے زیر اثر آ کر جو جھوٹ اور نفرت پاکستان میں پھیلائی جا رہی ہے اس کا شام کی خانہ جنگی پر تو کوئی قابل ذکر اثر نہیں پڑے گا لیکن یہاں کے معصوم بچوں کے ذہن ضرور گمراہ ہوں گے۔وہ اپنے ملک میں رہنے والے دوسرے مسالک کے لوگوں کے بارے میں تعصب کا شکار ہو جائیں گے۔ کراچی یونیورسٹی کے سعد عزیز اور لیاقت میڈیکل یونیورسٹی کی طالبہ نورین لغاری کے ذہن میں آنے والے خودکش خیالات کی وجہ اوریا مقبول جان صاحب جیسے جنونی افراد کی طرف سے پھیلایا گیا جھوٹ اور نفرت ہے۔
یہ لوگ عالم اسلام میں لمبے عرصے سے جاری تنازعات کے بارے میں سیاسی اور تاریخی وجوہات کو سامنے لانے کے بجاۓ تنگ نظری کا الاؤ جلا لیتے ہیں، جس وقت داعش عراق میں فرقہ وارانہ قتل و غارت کر رہی تھی اس وقت یہ لوگ کالے جھنڈوں والی احادیث سنا کر ان کو داعش پر لاگو کر رہے تھے۔یہ سلسلہ تب رکا جب داعش نے مغربی ممالک میں بھی اپنی بربریت کو منتقل کرنا شروع کیا۔اس سے پہلے یہی لوگ خراسان کے بارے میں ملنے والی احادیث کو طالبان پر منطبق کرتے رہے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہر تیسرے طالبان امیر نے اپنے نام کے ساتھ خراسانی لگا رکھا ہے۔طالبان کے بارے میں ان کی پیش گوئیوں کا سلسلہ اس وقت رکا جب ان لوگوں نے آرمی پبلک اسکول میں معصوم بچوں کے خون سے ہولی کھیلی اور عوام کا ضمیر لرز کر رہ گیا۔ہماری ذمہ داری ہے کہ افواہوں کے اس طوفان کے مقابلے میں صحیح معلومات اور منطقی تجزیہ لوگوں تک پہنچائیں۔متشابہ احادیث کے بجاۓ محکم حقائق کی روشنی میں واقعات کو سمجھنے کی روش کو اپنائیں۔
دنیا میں کوئی بھی واقعہ یکدم رونما نہیں ہوتا بلکہ اس کا تعلق ماضی کے واقعات یعنی تاریخ سے ہوتا ہے۔
شام کے حالات کو سمجھنے کیلئے اسکی حالیہ تاریخ کو جاننا بہت ضروری ہے۔ جس وقت عالمی طاقتوں نے جنگ عظیم دوم کی وجہ سے کمزور ہو جانے اور غلام بنائی گئی اقوام میں بڑھتی ہوئی آزادی کی تحریکوں کی وجہ سے مشرق وسطیٰ سے نکلنا چاہا تو ان کے سامنے سب سے بڑا سوال یہ تھا کہ ایشیا اور افریقہ کے معدنی وسائل کی مغربی دنیا کے صنعتی ممالک میں ترسیل کو کیسے محفوظ بنایا جاۓ؟ جدید صنعت اور معیشت کیلئے درکار توانائی مشرق وسطیٰ کے تیل اور خام مال کی ضروریات افریقہ اور برصغیر کی معدنیات اور زراعت سے پوری ہوتی تھیں اور یہ چیزیں مصر کی نہر سویز اور فلسطین کے ساحل سمندر کے ذریعے پوری ہوتی تھیں۔ دوسری طرف پچھلے ستر سال سے یورپ میں بسنے والے یہودی اپنے خلاف ہونے والے امتیازی سلوک کی وجہ سے فلسطین کی طرف ہجرت کر رہے تھے۔ یورپ میں بسنے والے یہودیوں میں سے کچھ تو وہ تھے جن کے آبا و اجداد بنی اسرائیل کی نسل سے تعلق رکھتے تھے، لیکن اکثر یہودیوں کا تعلق روسی نسل سے تھا جو اشکنازی کہلاتے تھے۔ اشکنازی یہودیوں کا تعلق بنی اسرائیل سے نہیں ہے، بلکہ یہ نیلی آنکھوں اور گوری رنگت والے لوگ دو ہزار سال پہلے یہودی مذہب اختیار کرنے والے ایک روسی قبیلے کی نسل سے ہیں جو موجودہ یوکرین اور روس کے کچھ علاقوں میں آباد تھا۔ماضی بعید میں بنی اسرائیل کی اکثریت نے فلسطین میں رہتے ہوۓ اسلام قبول کر لیا تھا۔ اسکی بڑی وجہ یہ تھی کہ نہ صرف اسلام کا نظریہ توحید ،ان کے عقائد کے قریب تھا، بلکہ نو مسلم ہونے کے ناطے انہیں ٹیکس میں چھوٹ بھی ملی تھی۔یورپ میں یہودیوں کو نہ صرف حضرت عیسٰی کے انکار کی وجہ سے نفرت کا نشانہ بنایا جاتا تھا بلکہ نسل پرستی کی وجہ سے بھی انہیں امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ اس نفرت کی وجہ سے بعض یہودیوں نے اپنے مذہب کی تعلیمات کے برعکس یہودی ریاست کے قیام کا خیال اپنایا۔ یہ لوگ صیہونی کہلاتے تھے۔یہ مذہب پر یقین نہیں رکھتے تھے لیکن یہودی قوم سے تعلق رکھنے کی وجہ سے قوم پرست تھے۔ انہوں نے پہلے یوگنڈا کو اپنی ریاست کیلئے موزوں جگہ قرار دیا، لیکن چونکہ یہودی عوام میں اس جگہ کی کوئی کشش نہیں تھی، لہٰذا انہوں نے فیصلہ کیا کہ انہیں فلسطین میں جا کر اس ریاست کی بنیاد رکھنی چاہئیے تاکہ شہریوں کی مطلوبہ تعداد پوری کرنے میں مذہب کو استعمال کیا جا سکے۔ ان کے اس منصوبے کو جرمنی میں نسل پرست نازی حکومت کی وجہ سے بہت پذیرائی ملی۔ ہٹلر یہودیوں کو باقی غیر جرمن اقوام کی طرح پست سمجھتا تھا اور اس نے جرمنی میں یہودی اور ہندوستانی نسل کے “جپسی”باشندوں کا قتل عام شروع کر رکھا تھا۔ اس قتل عام کے خوف سے یہودی یا تو امریکا بھاگ رہے تھے یا صیہونی تحریک کی پیروی کرتے ہوۓ فلسطین جا رہے تھے۔
آج اسرائیل کے بعد سب سے زیادہ یہودی امریکا میں رہتے ہیں۔ اس ہجرت نے مغربی طاقتوں کو ان کے سوال کا جواب فراہم کر دیا تھا۔ جنگ عظیم دوم کے بعد مشرق وسطیٰ کو ترک کرتے ہوۓ یورپ کی ایشیا اور افریقہ کے خام مال اور منڈیوں تک رسائی کی نگرانی ایک ایسی ریاست کے ذریعے کی جا سکتی تھی جو مقامی باشندوں سے ہمیشہ حالت جنگ میں رہے۔ ایسی صورت میں یہ ریاست ہر وقت مغربی طاقتوں کی محتاج رہے گی اور ان سے تعلقات اسکی مجبوری ہو گی۔ اس پس منظر میں اسرائیل کا قیام عمل میں لایا گیا۔مقامی باشندوں کو بھی فلسطین کے آباد علاقوں میں ایک ریاست بنانے کا وعدہ کیا گیا، یہ علاقے آج کل بین الاقوامی قانون میں غزہ اور مغربی کنارے تک محدود ہیں لیکن یہاں کے باشندوں کو مکمل شہری حقوق ابھی تک حاصل نہیں ہو سکے ہیں۔
اقوام متحدہ میں مغربی طاقتوں نے جو اسرائیل بنایا تھا وہ نہایت کمزور ملک تھا۔اس کو دو مسائل درپیش تھے۔ پہلا مسئلہ یہ کہ جس علاقے پر یہ ریاست قائم ہونی تھی، وہاں اکثریت فلسطینی مسلمانوں کی تھی۔ دوسرا مسئلہ یہ تھا کہ اس ریاست کے شمالی اور جنوبی حصے کا رابطہ دس کلومیٹر چوڑی پٹی پر مشتمل تھا۔ اس ریاست کے تل ابیب جیسے اہم رہائشی اور معاشی علاقے بھی اسی تنگ پٹی میں موجود تھے۔ کسی بھی جنگ کی صورت میں اس ریاست کو مغربی امداد پہنچنے سے پہلے نابود کیا جا سکتا تھا۔صیہونی قیادت نے پہلے مسئلے کا حل یہ نکالا کہ 1948 میں نکبہ کے نام سے جانا جانے والا قتل عام کیا جس کے نتیجے میں اس علاقے کے اکثر فلسطینی اپنے گھر بار کو چھوڑ کر پڑوسی عرب ممالک میں مہاجر بن گئے۔
اقوام متحدہ نے ایک قرارداد میں اس بے دخلی کی مذمت کی اور فلسطینی مہاجرین کی اسرائیل کے زیر انتظام علاقوں میں واپسی کی سفارش کی، اور یہ بھی کہا کہ اگر یہ لوگ واپس نہ آ سکے تو ان کی اولادیں واپسی کا حق رکھتی ہیں۔حال ہی میں سامنے آنے والی تاریخی دستاویزات سے یہ معلوم ہوا ہے کہ اس قتل عام سے پہلے صیہونی قیادت نے اردن کے بادشاہ سے معاہدہ کیا تھا کہ وہ ان فلسطینیوں کے انخلا کو پناہ دینے کے نام پر یقینی بناۓ گا۔ یہاں سے اردن کے شاہی خاندان کے صیہونی ریاست سے پرانے تعلقات کا پتا چلتا ہے نیز یہ بات سمجھنے میں کوئی ابہام نہیں رہتا کہ کیوں اردن نے اسرائیل کو تسلیم کر رکھا ہے اور کیوں اردن میں کسی عرب بہار یا انقلاب کا نام و نشان نہیں ملتا؟
اس قتل عام کے رد عمل میں عرب عوام میں بڑھتی ہوئی بے چینی کے سد باب کیلئے مصر، اردن اور شام کی حکومتوں نے اسرائیل پر حملہ کیا، جو اسرائیل کی بھرپور تیاری اور جدید ہتھیاروں کے سامنے پسپا ہو گیا اور اسرائیل نے فلسطینی اکثریت کے بعض دیگر علاقوں پر بھی قبضہ کر لیا جو آج اسرائیل کے عرب شہری کہلاتے ہیں۔ اب اسرائیل شام اور لبنان کا پڑوسی بن گیا تھا۔ اپنی حفاظت کو بہتر بنانے کا دوسرا موقع اس وقت ملا جب مصر میں جمال عبدالناصر نے فرانس اور برطانیہ کے نہر سویز پر قبضے کے خلاف حکم جاری کرتے ہوۓ نہر سویز کو قومی تحویل میں لے لیا۔نہر سویزکو 1869 میں فرانس کی ایک کمپنی نے تعمیر کیا تھا اور اس وقت کے مصری بادشاہ سے معاہدہ کیا تھا کہ یہ نہر اگلے سو سال تک اس کمپنی کی ملکیت رہے گی۔ معاہدے کے مطابق مصر کو 1969 میں اس نہر کا قبضہ ملنا تھا مگر جمال عبدالناصر نے 1956 میں اس کو قومی تحویل میں لینے کا اعلان کر دیا۔ اسرائیل نے اس موقعے کو غنیمت جانا اور فرانس اور برطانیہ کے ساتھ مل کر مصر پر حملہ کر دیا اور اسی دوران فرانس سے ایٹم بم بنانے کیلئے نیوکلیئر لیبارٹری بھی خرید لی۔ امریکا نے اس جنگ سے پہلے اجازت طلب نہ کئے جانے کی مذمت کی اور جنگ بندی کرا دی۔ اس جنگ میں جارح اسرائیل تھا اور اس کے سوا کسی فریق کو کوئی فائدہ حاصل نہ ہوا۔ مصر اور شام نے اسرائیل کے بڑھتے ہوئے عزائم کو دیکھ کر اپنی فوجی طاقت میں اضافہ شروع کر دیا۔
اب اسرائیل کیلئے اگلا ہدف شام کی سرحد کے ساتھ موجود پہاڑیاں تھیں۔یہ پہاڑی سلسلہ جولان کہلاتا ہے۔ یہ جنگی اعتبار سے نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ اس سلسلے کی اہم بات شام کی طرف موجود قدرتی خندق ہے جو شامی فوج کی شام سے اسرائیل کی جانب نقل و حرکت کے لیے بہت بڑی رکاوٹ بن جاتی ہیں۔دوسری بات یہ کہ یہاں پانی کے ذخائر موجود ہیں جن پر قبضے کے بعد “مشرق وسطیٰ کے صحرا میں ہرے بھرے اسرائیل” کا خواب پورا ہو سکتا تھا۔ عربوں کے پانی کو اسرائیلی صحراؤں میں بہا کر صحرا کو قابل کاشت بنایا جا سکتا تھا۔1967 میں جمال عبدالناصر نے حسب معمول ڈینگیں مارتے ہوئے صحراۓ سینا میں موجود اقوام متحدہ کے امن لشکر کو مصر سے نکال دیا۔ اس فضا نے اسرائیل کو ایک اور موقع فراہم کیا۔ مصر جنگ کے آغاز کیلئے تیار نہیں تھا۔ اسرائیل نے اچانک مصر اور شام کے ہوائی اڈوں پر حملہ کر کے دونوں ممالک کی فضائیہ کو تباہ کر دیا۔ یہ جنگ چند روز جاری رہی اور اسرائیل نے جولان کی پہاڑیوں اور مصر کے صحرائے سینا پر قبضہ کر لیا۔ شام کی حکمران بعث پارٹی کے مرکزی قائدین میں حافظ الاسد نے ان تمام واقعات اور عرب قیادت کی حماقت کو قریب سے دیکھا تھا۔عرب نہ صرف اسلحے کے اعتبار سے پسماندہ تھے بلکہ ان کی انٹیلی جنس ایجنسیاں اسرائیل کے منصوبوں کے بارے میں درست اطلاعات حاصل کرنے میں ناکام رہی تھیں۔ شام کی کمیونسٹ بعث پارٹی کی حکومت کی طرف سے ”عوامی فوج“ جیسے غیر پیشہ وارانہ منصوبے ناکام رہے تھے۔ اسی طرح ملک میں آمرانہ معاشی قوانین کی وجہ سے گھٹن میں اضافہ ہوا تھا۔حکومت اور عوام میں دوریاں تھیں۔ شام کی حکومت خارجی تعلقات میں بھی تنہائی کا شکار ہو گئی تھی۔ 1970 میں اردن کے شاہ نے پاکستانی بریگیڈیئر ضیاء الحق کی قیادت میں فلسطینی مہاجرین کا قتل عام کرایا۔شام کی حکومت نے اس وقت اردن پر حملے کے سوال پر غور و فکر کیا۔اس وقت وزیر دفاع حافظ الاسد نے فلسطینیوں کے جانی نقصان کو کم سے کم رکھنے کیلئے زمینی فوج کا ایک برگیڈ فلسطینی قیادت کے زیر اثر قرار دیا۔ شام اردن سے مکمل جنگ کا اعلان نہیں کر سکتا تھا کیونکہ مکمل جنگ کی صورت میں اسرائیل اور امریکا کی طرف سے اردن کی حمایت کے نام پر شام پر ایسا حملہ متوقع تھا جس کیلئے شامی فوج تیار نہیں تھی۔ حافظ الاسد اور اس کے دوست کئی سالوں سے داخلی انتشار اور کمزوریوں کی اصلاح کی کوشش کر رہے تھے۔ اردن میں ہونے والے سانحے کے بعد حافظ الاسد نے حکمران جماعت اور حکومت کی باگ ڈور سنبھال لی۔شام اسرائیل کے ساتھ مسلسل حالت جنگ میں چلا آ رہا ہے۔
ایسے حالات میں حافظ الاسد نے جہاں شام اور اس سے باہر انٹیلی جنس ایجنسیوں کا جال بچھایا اور شام میں جدید علوم اور صنعت کو فروغ دیا، وہاں داخلی اعتبار سے کچھ سخت اقدامات بھی اٹھاۓ تاکہ اس جنگ کے دوران اندرونی دشمنوں کے وار سے محفوظ رہا جا سکے۔ ان اقدامات میں کچھ لوگوں سے زیادتیاں بھی ہوئی ہیں جو اس قسم کی حکومت کا خاصہ ہوتی ہیں۔ اگر اس حکومت پر خیر غالب رہا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ شر بالکل غائب رہا ہے۔
چھ اکتوبر 1973 میں، جب اسرائیل میں چھٹی کا دن تھا، حافظ الاسد اور مصر کے انور سادات نے اسرائیل پر حملہ کر دیا۔ یہ پہلی عرب اسرائیل جنگ تھی جو عرب قیادت نے شروع کی تھی۔ اس کیلئے بھرپور تیاری کی گئی تھی اور اسرائیلی جاسوسی اداروں کو اس حملے کی بھنک نہیں پڑی تھی۔ اسرائیل کے ایٹمی حملے کے جواب کیلئے حافظ الاسد نے کیمیائی ہتھیار جمع کر لیے تھے۔ یہ حملہ نہایت کامیاب رہا اور شام نے جولان کی پہاڑیوں میں پیش قدمی شروع کر دی۔لیکن اسی وقت انور سادات نے صحراۓ سینا میں اپنی فوج کی پیش قدمی روک لی۔ دوسری طرف اسلحے سے بھرے امریکی جہاز اسرائیل کی بندرگاہوں پر آنے لگے۔ شام کی فوج چونکہ اسرائیل کیلئے سب سے قریبی خطرہ تھی، اسرائیل اور امریکا نے اپنا تمام زور شام پر حملے میں صرف کر دیا۔ انور سادات یہ سمجھتا تھا کہ اسکی وقتی پیش قدمی اسرائیل کو مذاکرات کی میز پر لے آئے گی۔ وہ امریکا سے اچھے تعلقات کا خواہاں ہونے کی وجہ سے اسرائیل پر کوئی کاری وار لگانے کا قائل نہیں تھا۔ ادھر شام کے کچھ قصبوں کو آزاد کرانے کے بعد جولان کی پہاڑیوں میں شامی فوج کو سخت مشکلات کا سامنا ہوا اور وہ پہاڑیاں آزاد نہ کرائی جا سکیں۔ البتہ اس جنگ کا یہ فائدہ ضرور ہوا کہ شام نے قنیطرہ کا علاقہ واپس لے لیا۔یہ وہی زمانہ تھا جب پاکستان کے وزیر اعظم ذولفقار علی بھٹو نے شامی فضائیہ کی مدد کیلئے پاکستانی پائلٹوں کا دستہ بھیجا۔
اسرائیل نے شام کا حملہ پسپا کرنے کے بعد انور سادات کو بھی اسکی حماقت کا سبق سکھایا اور مصر پر حملہ کر کے اسکی فوج کو دار الحکومت سے اسی کلومیٹر دور تک دھکیل دیا۔ اب مذاکرات میں اسرائیل کا پلڑا بھاری ہو گیا تھا۔ چھ سال تک چلنے والے مذاکرات کے سلسلے میں حافظ الاسد نے یہ موقف اپنایا کہ اسرائیل کے ساتھ عربوں کے تمام مسائل کو ایک ساتھ حل کرنا چاہئیے۔ وہ اس بات کا قائل تھا کہ بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کو قبضے میں لیے گئے علاقے ترک کرنے اور گھروں سے نکالے گئے فلسطینی واپس اپنے علاقوں میں پہنچانے چاہیئیں۔ البتہ امریکا اور اسرائیل، مصر اور شام کو عرب اسرائیلی تنازعے کی مساوات سے خارج کرنا چاہتے تھے۔ امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر نے تعریفیں کر کے انور سادات کو شیشے میں اتار لیا تھا۔ انور سادات نے آہستہ آہستہ سب اصولی باتوں سے منہ پھیر لیا۔ مصر نے صحرائے سینا کا علاقہ واپس ملنے کی شرط پر اسرائیل کو تسلیم کر لیا مگر شام نے فلسطین کا مسئلہ حل کئے بغیر اسرائیل کو بطور ریاست تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ البتہ اسرائیل نے مصر کے مزاحمت سے نکل جانے اور اسرائیل کو تسلیم کرنے جیسے اقدامات پر اکتفا نہ کیا۔ انہوں نے انور سادات سے یہ بھی منوایا کہ صحراۓ سینا میں کم فوج رکھو گے، ہماری کشتیوں کو نہر سویز سے مفت گزر گاہ فراہم کرو گے۔حافظ الاسد نے اس خیانت کے بعد مصر سے تعلقات ختم کر دئیے۔ حافظ الاسد کی ایک خوبی عالمی طاقتوں کے اعلیٰ تربیت یافتہ مذاکرات کاروں کے ساتھ کسی معاملے کی جزئیات اور تفصیلات پر گھنٹوں مذاکرات کرنے کی صلاحیت تھی۔ یہ ان معاملات کے بارے میں اس کے گہرے مطالعے کے ساتھ ساتھ اسکی ذہانت اور اس کی حاضر دماغی کی دلیل تھی۔یہ مذاکرات بعض اوقات دس دس گھنٹوں تک چلتے رہتے تھے۔ اسی صلاحیت کی وجہ سے اس نے کبھی کوئی کمزور معاہدہ یا اعلامیہ جاری نہیں کیا۔ ہنری کسنجر کو اس چیز کا احساس ہو گیا کہ اسرائیل کیلئے اصلی رکاوٹ اسد ہے اور اسد کو ہٹانے کے سوا امریکا کے پاس کوئی راستہ نہیں ہے۔
امریکا ویتنام کی جنگ میں براہ راست مداخلت سے سبق سیکھ چکا تھا۔ اب اس نے اپنی جنگ فرقہ پرست تنظیموں کے کندھوں پر رکھنے کا گر سیکھ لیا تھا۔اس فارمولے کا ،کامیاب تجربہ افغانستان میں جاری تھا جہاں فرقہ پرست تنظیموں کے ہزاروں مسلح افراد پرائی جنگ لڑ رہے تھے۔ شام کی سنی فرقہ پرست تنظیم ”اخوان المسلمون“ میں شروع سے ہی فرقہ وارانہ رنگ غالب رہا ہے۔ حافظ الاسد کا تعلق علوی شیعہ فرقے سے تھا اور اس بات نے اخوان المسلمون کے تنگ نظر کارکنان کو غیض و غضب سے بھر رکھا تھا۔ جس وقت مذاکرات کی میز پر حافظ الاسد عربوں کے مفادات کی جنگ لڑ رہا تھا، شامی اخوان المسلمون نے شام میں علویوں کی ٹارگٹ کلنگ اور بم دھماکوں کا سلسلہ شروع کیا جس میں سینکڑوں بے گناہ افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ یہاں تک کہ ایک مرتبہ حافظ الاسد کی طرف دو گرنیڈ پھینکے گئے جن میں سے ایک کو اس نے اپنے پاؤں کی ٹھوکر سے دور کیا اور دوسرے پر ایک شامی فوجی نے لیٹ کر اس عظیم سیاسی سرماۓ کو بچا لیا۔یہ سلسلہ یہاں تک پہنچا کہ 1982 میں حماہ شہر پر سوات کے طالبان کی طرح قبضہ کر کے طالبانی قانون نافذ کر دیا گیا۔
سرکاری اداروں کے بے گناہ اہلکاروں کو ذبح کر دیا گیا۔ یہ عالم اسلام کی جدید تاریخ میں دہشتگردوں کی پہلی بڑی فتح تھی۔ حافظ الاسد نے اس شہر کو فوج کے حوالے کر دیا۔ ایک مہینے کی لڑائی کے بعد اخوان المسلمون کو شکست ہو گئی۔ شام ایک ایسا ملک ہے جہاں متعدد اقوام اور مذاہب کے لوگ بستے ہیں، ایسے میں ایک فرقہ پرست جماعت کا اسلحہ اٹھا کر کسی شہر پر قبضہ کرنا بیوقوفی ہے۔ لیکن ان فرقہ پرست تنظیموں کا مسئلہ یہ ہے کہ مسلمان عوام اپنی سیاسی قیادت ان کے ہاتھوں میں دینے کو آمادہ نہیں ہوتے۔ وہ کسی کے زیر اثر رہنے کو پسند نہیں کرتے۔ اگر عوام کسی حکومت کو بدلنا چاہیں تو اس کا آسان راستہ سول نافرمانی اور لاکھوں کی تعداد میں اہم شہروں کی سڑکوں پر نکل کر حکومت کو مفلوج کرنا ہوتا ہے۔ کوئی حکومت شہریوں کی شمولیت کے بغیر نہ ٹیکس اکٹھا کر سکتی ہے، نہ فوج، پولیس، انتظامیہ، مواصلات، صحت اور تعلیم جیسے اہم محکمے چلا سکتی ہے۔اگر اخوان المسلمون کو سیاسی تحریک کی کامیابی کی ذرا سی بھی امید ہوتی تو وہ کبھی اسلحہ نہ اٹھاتی۔ اکثر مذہبی تنظیمیں مذہبی فرقوں سے بھی زیادہ تنگ نظر ثابت ہوتی ہیں اور یہی صورت حال اخوان المسلمون کو درپیش رہی ہے جو اپنی تنظیم کے کارکنان کو بڑی بڑی شخصیات پر ترجیح دیتی ہے۔حال ہی میں خفیہ دستاویزات کے سامنے آنے پر معلوم ہوا ہے کہ امریکا نے 1983میں صدام حسین کو شام پر حملے کا مشورہ دیا تھا۔ یہ وہی زمانہ تھا جب شام میں اخوان المسلمون کی شورش بڑھ چکی تھی۔ لیکن صدام اس وقت ایران عراق جنگ میں پھنسا ہوا تھا اور شام کی فوج عراق کی فوج سے کہیں زیادہ تربیت یافتہ اور مضبوط تھی۔
اس دوران لبنان میں اسرائیلی دخل اندازیاں بہت بڑھ چکی تھیں اور وہاں مسلم مسیحی فسادات عروج پر پہنچا دئیے گئے تھے۔عرب لیگ نے شام سے لبنان کی خانہ جنگی کو ختم کرنے کیلئے فوج بھیجنے کی اپیل کی جس کا حافظ الاسد نے مثبت جواب دیا اور کافی حد تک فسادات کو کنٹرول کیا۔ مصر سے جان چھڑا لینے اور شام میں اخوان المسلمون کی مدد سے شورش برپا کرنے کے بعد اسرائیل نے لبنان پر حملہ کر دیا۔ یہ 1982 کا سال تھا۔ لبنان میں اسرائیل نے مسیحی تنظیموں کو استعمال کرتے ہوۓ صابرہ اور شتیلا کے علاقوں میں فلسطینیوں کا قتل عام کرایا۔ لبنان کے فلسطینی مہاجروں کو شامی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے مدد فراہم کرنا شروع کی۔ اسرائیل نے لبنان کے جس علاقے پر قبضہ کیا تھا وہ شیعہ اکثریت کا علاقہ تھا۔ حافظ الاسد نے شیعہ علماء اور عوام سے رابطے کر کے حزب الله کی بنیاد رکھی اور اس کو تمام تربیت اور انٹیلی جنس سپورٹ فراہم کی۔ ایران میں انقلاب کے بعد شام تنہا نہیں رہا تھا بلکہ اسے ایران کی شکل میں ایک مضبوط اتحادی میسر آ گیا تھا۔ ایران کے ساتھ مل کر حافظ الاسد نے فلسطینی مزاحمت کی تنظیم حماس کی بھی بنیاد رکھی۔ حزب الله اور حماس کی قیادت نے ہمیشہ اس سلسلے میں شام کے اسد خاندان کی امداد کا شکریہ ادا کیا ہے۔ اسرائیلی قبضے سے جنوبی لبنان کی آزادی اور غزہ سے اسرائیلی بستیوں کا ختم ہونا صرف اسد خاندان کی وجہ سے ممکن ہوا ہے۔ اب بھی اگر اسرائیلی حملوں کے سامنے حماس مزاحمت کرتی ہے تو اس کا سبب شام کی بے دریغ مدد ہے۔کوئی بھی مزاحمتی گروہ کسی ملک کی پشت پناہی کے بغیر اپنا وجود قائم نہیں رکھ سکتا۔
حافظ الاسد کا عربوں پر یہ احسان ہے کہ اس نے تیس سال تک اسرائیل کے سامنے صبر اور بصیرت کے ساتھ دفاع کیا ہے۔ وہ عرب جو آج شیعہ سنی کی بنیاد پر اسد خاندان سے چالیس سالہ مزاحمت کا انتقام لے رہے ہیں، غیرت سے عاری ہیں۔ یہ لوگ وہ ہیں کہ مرسی کے صدر بنتے ہی اسرائیل کو تسلیم کر لیا، ایک دن بھی مزاحمت نہ کر سکے۔ البتہ ان کے غصہ اور دلیری کی تان اپنے محسنوں پر آ کر ٹوٹتی ہے۔ حافظ الاسد کی قیمت کا صحیح اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب انسان مصر جیسے مضبوط اور بڑے ملک کے انور سادات سے لے کر خلیفہ اردوگان اور صدر مرسی تک کو امریکی اور اسرائیلی ڈپلومیسی کے سامنے بے بس ہوتے دیکھتا ہے۔ جب فلسطینی اور لبنانی عوام کو ترکی، مصر، سعودی عرب اور اردن نے اسرائیل کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا تو حافظ الاسد نے حزب الله اور حماس بنا کر پہلی صف میں مزاحمت کا چراغ روشن رکھا۔
حافظ الاسد علوی شیعہ تھا لیکن اس نے سنی فلسطینیوں کیلئے بڑی طاقتوں کو اپنا دشمن بنا لیا، جبکہ فلسطینی سب کے سب سنی ہیں۔حافظ الاسد نے شام میں اکثریتی مسلک اہلسنت کو ہی سرکاری مسلک قرار دیا۔ جس دن اخوان المسلمون میں اتنی وسعت قلبی آ گئی اس دن وہ اسد پر تنقید کرتے اچھے بھی لگیں گے، ابھی تو انکی تنقید صرف کسی بزدل کی طرف سے اپنے محافظ کی کمر میں چاقو گھوپنے سے زیادہ کچھ نہیں۔اسد خاندان نے لبنان اور غزہ آزاد کرا لیے، فلسطین کا مسئلہ زندہ رکھا۔ اگر یہ نہ ہوتے تو مقامی امریکیوں اور آسٹریلیا کے مقامی باشندوں کی طرح فلسطینی بھی بھلا دئیے جاتے۔ مرسی صاحب چالیس گھنٹے بھی اسرائیل کے سامنے مزاحمت نہ کر سکے اور جلدی جلدی اسرائیلی سفارت خانہ کھول لیا۔ ترکی میں پندرہ سال سے جماعت اسلامی کے ممدوح طیب اردگان کی حکومت ہے۔ جہاں اس خود ساختہ خلیفۃ المسلمین نے اپنے ملک میں شراب اور جوے کے اڈوں کو بند نہیں کیا ہے، وہیں یہ اسرائیل سے سفارتی اور تجارتی تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ اس کے باوجود ان خلیفہ صاحب کو امریکا کے مفادات کیلئے شام میں القاعدہ کی تکفیری شریعت کے نفاذ کی کوشش کرتے شرم نہیں آتی۔

حمزہ ابراہیم
حمزہ ابراہیم
باقی مضامین پڑھنے کیلئے حمزہ ابراہیم کے نام پر کلک کریں-

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *