ناکام حسرتیں

بعض حسرتیں زندگی بھر انسان کے ساتھ چلتی ہیں اور اکثر ساتھ چلنے والی ناکام حسرتیں انسان کو نفسیاتی مریض بنا دیتی ہیں۔ کچھ ایسی ہی کیفیت گذشتہ پانچ سالہ جمہوری دور اور موجودہ جمہوری دور میں مارشل لاء کے منتظر اور شوقین دانشوروں کا ہے۔ جنرل راحیل شریف کو وزیرِاعظم نے الوداعی عشائیہ دیا تو جنرل راحیل نے رخصت ہوتے وقت وزیرِاعظم کو سیلوٹ کیا تو تب میں نے لکھا تھا کہ”حسرت اُن غنچوں پہ ہے جو بِن کھلے مرجھا گئے”۔خبر ہے کہ وزیرِعظم نے آرمی چیف کو پرتپاک طریقے سے رخصت کیا۔ آرمی چیف نے وزیرِاعظم کو الوداعی سیلوٹ کیا تو جواباً وزیرِاعظم نے بھی آرمی چیف کو سیلوٹ کیا۔ سنا ہے کہ یہ مناظر دیکھ کر اے آر وائی کے دفاتر ماتم کدے میں تبدیل ہو گئے اور ڈاکٹر شاہد مسعود اور سمیع ابراہیم باقاعدہ ایک دوسرے کے گلے لگ کر بین ڈالتے رہے، ارشد شریف اور ڈاکٹر دانش بھی سینہ کوبی کرتے رہے، مبشر لقمان سر پہ خاک ڈال کے روتے رہے۔۔ یہ تمام دانشور وہ تھے جو مسلسل تین سال جنرل راحیل کو مارشل لاء لگانے کے مشورے دیتے رہے ہیں ۔
آجکل بھی پانامہ کا فیصلہ آنے کے بعد اِن دانشوروں کو ایک بار پھر نفسیاتی دورہ پڑا ہے۔ ڈاکٹر شاہد مسعود اِن میں سرِفہرست ہیں۔ موصوف کی گذشتہ تین چار روز کی گفتگو نکال کر دیکھیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ کس ہذیانی کیفیت کا وہ شکار ہیں۔ موصوف کا فرمانا ہے کہ پانامہ کا فیصلہ محفوظ ہونے سے لے کر سنائے جانے کے درمیان کے عرصے میں اِس فیصلے پر سانحہ گزر گیا تھا۔ فیصلہ نہ ہوا، خوبرو نوجوان دوشیزہ ہو گئی جسے کونے میں اکیلا پڑا دیکھ کر غنڈوں نے اُس کی عزت لُوٹ لی۔ موصوف کے مطابق فیصلہ لیک ہوا، وزیرِاعظم تک پہنچا، وہاں فیصلہ تبدیل ہوا اور اب تبدیل شدہ فیصلہ عوام کے منہ پہ مار دیا گیا ہے۔ اپنے تئیں جناب اُس ہسپتال کا دورہ بھی کر آئے جہاں کیس کی سماعت کے دوران ایک معزز جج صاحب زیرِعلاج رہے اور سی آئی ڈی کے اے سی پی پریادمون کی طرح کافی شواہد بھی انہیں موقعے سے مل گئے جو موصوف کے مؤقف کو مضبوط کرتے ہیں۔ تین دن سے موصوف اپنے ٹی وی پروگرام میں گفتگو کم فرما رہے ہیں اور اوووں ں ں آآآآآںںںں کرتے ہوئے آرمی چیف جناب جنرل باجوہ اور چیف جسٹس میاں ثاقب نثار سے گردان کی صورت میں اپیلیں زیادہ کر رہے ہیں۔ ایسی ہی اپیلیں گذشتہ تین سال وہ جنرل راحیل شریف سے بھی کرتے رہے لیکن جنرل راحیل ایک پروفیشنل آرمی آفیسر کی طرح کانوں پر پردے ڈالے اپنی خدمات سرانجام دے کر عزت سے رخصت ہو گئے اور مارشل لاء کے منتظر اپنا سا منہ لے کر رہ گئے۔ پانامہ کی افراتفری مچی تو ہم نے جوڈیشل مارشل لاء کی اصطلاح بھی سنی۔ مارشل لاء کے شیدائیوں کو جب نظر آنے لگا کہ فوج تو مارشل لاء نہیں لگا رہی تو انہوں نے سوچا کہ جوڈیشل مارشل لاء کی تجویز متعارف کروائی جائے کہ مارشل لاء ہومیو پیتھک سا ہی سہی، کم ازکم لفظ مارشل لاء سے دل کو تسکین تو ملتی رہے گی لیکن یہ کیا کہ” ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے”۔
موصوف بار بار سپریم کورٹ اور جج صاحبان پر سنجیدہ الزام لگا رہے ہیں۔ فیصلے کا سپریم کورٹ سے نکل کر وزیرِاعظم ہاؤس تک پہنچنا اور وہاں سے تبدیل ہو کر واپس سپریم کورٹ آنا ایک سنگین نوعیت کا الزام ہے اور حیرت ہے کہ معزز جج صاحبان اتنے ننھے منے کاکے ہیں کہ انہیں معلوم بھی نہیں پڑا کہ وہ اپنا لکھا نہیں بلکہ تبدیل شدہ فیصلہ سنا رہے ہیں اور پھر اس پر آرمی چیف اور جج صاحبان سے تحقیقات کا مطالبہ بھی عجیب منطق ہے۔ ایک ہی سانس میں ججز پر الزام تراشی بھی اور اُسی سانس میں اُنہی سے تحقیقات کا مطالبہ بھی موصوف کی ذہنی حالت کا اندازہ لگانے کیلیے کافی ہے۔ موصوف بار بار یہ بھی فرماتے جاتے ہیں کہ ہم عدالت پر بات نہیں کر سکتے لیکن فیصلہ چونکہ پبلک پراپرٹی ہے لہٰذا اِس پر رائے دینا ہمارا حق ہے لیکن فیصلے کی آڑ میں مسلسل ججز کے کنڈکٹ پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ ججز کا تبدیل شدہ فیصلہ سنانا اور ایک معزز جج صاحب کے ہسپتال میں زیرِعلاج ہونے پر شکوک وشبہات ظاہر کرنا فیصلے پر رائے دینا نہیں بلکہ ججز کے کنڈکٹ پر سوال اٹھانا ہے۔ حضرت دانشور کو عرصے سے جمہوری دور ہضم نہیں ہو رہا اور اِس تکلیف میں مبتلا مسلسل جہالت پر مبنی تجزیات پیش کرتے چلے آ رہے ہیں۔ جنرل راحیل شریف کی ریٹائرمنٹ سے چند روز قبل آرمی چیف اور وزیرِاعظم آرمی کی مشقیں دیکھنے ایک تقریب میں اکٹھے تھے۔ وزیرِاعظم نے آرمی چیف سے بات کرنے کی غرض سے انہیں اپنی طرف متوجہ کرنے کیلئے اُن کے بازو پر ہاتھ رکھا اور جنرل صاحب کے کان قریب کرنے پر اُن سے کوئی بات کی۔ جب بات کر چکے تو وزیرِاعظم اور جنرل صاحب سنجیدگی سے اپنی اپنی نشست پر سیدھے ہو کر بیٹھ گئے۔ پچھلی نشست پر بیٹھے آرمی آفیسر کسی بات پر اُسی وقت مسکرا دیے تو موصوف کی سی آئی ڈی والی جاسوسی رگ پھڑکی اور پریادمون کی طرح حکم دیا! پتہ لگاؤ ضرور کوئی گڑبڑ ہے کی طرح اپنے پروگرام کی میزبان کے ساتھ مل کر اُس کی گتھیاں سلجھانے کی ناکام اور مضحکہ خیز کوششیں کرتے رہے۔ مارشل لاء کے خواہشمندوں اور بوٹ پالشیوں کو مصر چلے جانا چاہئے اور وہاں فوجی اقتدار کی شان میں قصیدے پڑھنے چاہییں۔ پاکستان میں مارشل لاؤں کا دور گزر چکا لیکن اُن کا کیا کیا جائے جو اپنی ناکام حسرتوں پر آنسو بہا کر سونے کی بجائے ڈھٹائی سے جس نفسیاتی اور ہذیانی کیفیت کا خود شکار ہیں اسی میں قوم کو بھی مبتلا کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔ جسٹس شیخ عظمت سعید صاحب نے فیصلے میں اپنے اضافی نوٹ میں میڈیا پر جاری بحثوں کو گمراہ کن اور غلط قرار دیا ہے۔ سپریم کورٹ کو چاہیے کہ وہ ایسے پروگراموں کی روک تھام کیلیے متعلقہ اداروں کو احکامات جاری کرے اور ایسے دانشوروں کو بھی توہینِ عدالت کے نوٹِس جاری کر کے قوم کو گمراہ کرنے والے عناصر سے قوم کی جان چھڑوانے کے مناسب اقدامات کرے۔

ہارون الرشید
ہارون الرشید
میں جو محسوس کرتا ہوں، وہی تحریر کرتا ہوں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *