دیوانے کا خواب۔۔شاہد محمود

تصویر کا ایک رخ:-
صلاحیتیں اور دولت خداداد ہوں یا اکتسابی دونوں صورتوں میں آزمائش ہیں۔ ان کا درست استعمال دنیا و آخرت کی “کامیابی” کا باعث بنتا ہے۔ حقیقی عزت مال سے نہیں اوصاف سے بنتی ہے۔

تصویر کا دوسرا رخ:-
اپنی صلاحیتوں اور مال و دولت کو بہت سے لوگ مختلف کاموں میں خرچ کرتے ہیں۔ اولیت بیشک اپنی ذات اور خاندان کو دیتے ہیں۔ گھومتے پھرتے ہیں۔ آسائشیں حاصل کرتے ہیں،اور بعض لوگ دوسرے لوگوں کی فلاح و بہبود و ترقی  کے لئے بھی اپنی صلاحیتوں اور مال و دولت کو استعمال کرتے ہیں ،جیسے کہ اسلام کی تاریخ میں ام المومنین سیدہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا و حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے نام سخاوت کے لحاظ سے سر فہرست ہیں۔ اہل بیت کی سخاوت کی مثالیں دی جاتی ہیں۔ زمانہ حال میں عبدالستار ایدھی ایک روشن مثال ہیں۔ غیر مسلموں میں بھی اس قسم کی نمایاں شخصیات موجود رہی ہیں جیسے گنگا رام ہسپتال بنانے والے گنگا رام یا نوبل پرائز کا اجراء کرنے والے مسٹر نوبل وغیرہ۔ تحریر کے اختصار کے لئے بہت کم مثالیں دی ہیں باقی آپ ذی شعور ہیں بات سمجھ جائیں گے۔

تصویر کا تیسرا رخ:-
ایسے لوگوں سے بھی دنیا بھری پڑی ہے جو اپنی صلاحیتوں اور مال و دولت کو شیطانی کاموں اور مخلوق خدا کے استحصال کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ زمانہ قدیم میں انسان نے انسان کو غلام بنایا یہاں تک ہوا کہ گوری چمڑی والوں نے کالی چمڑی والے انسانوں کے چڑیا گھر بنا رکھے تھے جہاں انہیں جانوروں کی طرح قید رکھا جاتا اور ٹکٹ خرید کر لوگ انہیں دیکھتے۔ ایسے ہی شیطان کے پیروکار لوگوں نے اپنی دولت کے بل بوتے پر جنس کو کاروبار بنایا اور مال و دولت کی ہوس میں انسانوں کی عزّتوں کا بیوپار شروع کر دیا۔ پہلے پہل مردوں کو غلام اور عورتوں کو جنسی غلام بنایا اور پھر رفتہ رفتہ طوائف کے کام کو بہت سے ملکوں نے باقاعدہ پیشے profession کا درجہ دے دیا ہے ایسا پیشہ جس پر حکومتیں باقاعدہ ٹیکس بھی وصول کرتی ہیں۔ نام نہاد ویلفیئر اسٹیٹس میں بھی یہ حال ہے۔

تصویر کا چوتھا رخ:-
طوائف کے طور پر لڑکیوں، خواتین کو آج بھی اغواء اور اسمگل کیا جاتا ہے اور ان کی خرید و فروخت ہوتی ہے جیسے اونٹ ریس اور گداگری کے لئے بچے اغواء اسمگل کئے جاتے ہیں۔ اس سارے مکروہ دھندے میں مرد بھی ملوث ہیں (کچھ عورتوں کو ہرکارے کے طور پر استعمال کرنا الگ بات ہے)۔ ہمارے معاشرے میں اس بابت بہت پہلے سے بہت کچھ لکھا جا چکا اور ایک ناول تو اس قدر معروف ہے کہ اس پر فلم یا فلمیں بھی بن چکی ہیں اور وہ ہے مرزا ہادی رسوا کا “امراو جان ادا ” ۔۔۔۔ اس ناول میں بھی منظر کشی کی ء ہے کہ کس طرح ایک لڑکی کو اغواء کر کے کوٹھے پر فروخت کر دیا جاتا ہے ۔۔۔۔۔ تو مختصر یہ کہ یہ مرد ذات جو چند ٹکوں کے زعم میں کسی کی بہن، بیٹی حتی کہ ماں کو بھی اپنی چند لمحوں کی ہوس پوری کرنے کے لئے بستر کی زینت بناتے ہیں اور جانوروں سے بھی بدتر سلوک کرتے ہیں اپنے مال کے گھمنڈ میں کیا “طوائف” کا ٹائٹل ان مردوں کو نہیں ملنا چاہیئے؟؟؟ اپنا جسم مرد کے چند ٹکوں کے عوض سپرد کر دینے والی عورت سے کبھی کسی مرد نے یہ نہیں پوچھا کہ کون سی مجبوری اسے جسم فروشی تک لے آئی؟۔

اک مجبوری ہے جو نچاتی ہے محفل محفل
لوگ فن سمجھ لیتے ہیں کسی لاچار کا رقص

چلیں مجبوری پوچھنا تو دور کی بات کبھی کسی کو اتنی توفیق نہیں ہوئی کہ کسی ایسی عورت کی عزت پامال کئے بغیر مدد بھی کی ہو ۔۔۔۔۔۔ عورت کو طوائف، رنڈی یا کنجری کہنے والے خود ہی عورتوں کو اس مقام تک پہنچانے والے ہوتے ہیں۔ یہ بیچاری عورتیں کسی ٹھرک کی وجہ سے دھندہ نہیں کرتیں بلکہ یہ جو بیشمار مردوں کو اپنے ساتھ منہ کالا کرنے کا موقع دیتی ہیں وہ صرف اس وجہ سے ہے کہ یا تو ان کو دھندے پر لگایا گیا ہے یا اتنا مجبور کر دیا گیا ہے کہ ان کے گھر کا چولھا جلتا ہے آپ کی ہوس پوری کرنے کے پیسوں سے ۔۔۔۔۔۔۔ چند سو روپے کے عوض کئی مردوں کے سامنے اپنا جسم روندے جانے کے لئے پیش کرنا نہ کوئی شوق ہوتا ہے نہ ٹھرک ۔۔۔۔۔۔۔۔ یاد رہے یہاں کروڑ پتی اداکاروں کی بات نہیں ہو رہی اور یہ بھی الگ بات ہے کہ ایسی کروڑ پتی بھی بعض اوقات transporter یا carrier ہونے کی وجہ سے دولت کی مالک تو ہوتی ہیں پر اپنی “مرضی” کی نہیں۔

اور اس کرونا لاک ڈاون میں کوئی فرشتہ ہی ہو گا جس نے ان مظلوم عورتوں میں راشن تقسیم کیا ہو یا ان کے گھروں کے اخراجات میں مدد کی ہو ۔۔۔۔۔ لیکن اگر مدد نہیں کر سکتے، کسی کو “مرد کے گناہ” کی دلدل سے نہیں نکال سکتے تو کم از کم انہیں طوائف، کنجری، رنڈی مت کہو، انہیں گالیاں مت دو ۔۔۔۔۔۔ اور ان کی اس حالت کے پیچھے جو مافیا ہیں ان سے ٹکر لے کر ان کے چنگل سے ان مظلوم عورتوں کو جو مرد، تنظیمیں اور حکومتیں آزاد نہیں کرا سکتیں “طوائف ” کا ٹائٹل ایسے مردوں، تنظیموں اور حکومتوں کو زیادہ زیب دیتا ہے۔

شاہد محمود
شاہد محمود
میرج اینڈ لیگل کنسلٹنٹ ایڈووکیٹ ہائی کورٹ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *