اردو کے ابتدائی افسانہ نگار۔۔۔قمر صدیقی

اردو افسانے کے آغاز اور اولیت کو لے کر خاصے اختلافات رہے ہیں۔  حالانکہ اردو افسانے کا سفر کچھ ایسا طویل بھی نہیں ہے کہ یہ تحقیق کے لیے کوئی بہت بڑا چیلنج ہو۔  لیکن اردو افسانے کے ساتھ معاملہ یہ ہوا کہ ہمارے زیادہ تر محققین کولسانی کھکھیڑیں سلجھانے اور قدیم ترین متون کی تدوین و ترتیب نے اتنی فرصت ہی نہیں دی کہ وہ اس سمت بھی توجہ کرتے یا شاید افسانہ (یا تخلیقی ادب) ان کی ترجیحات میں شامل ہی نہیں تھا۔  خیر اس صورتِ حال کے مد نظر اردو افسانے کی روداد لکھنے کی ذمہ داری محققین کے بجائے ناقدین نے اپنے سرلی اور اس ضمن میں پہلا قدم ہی غلط پڑا۔

1955کے ’’نقوش‘‘ کے افسانہ نمبر میں شائع ایک بحث میں پروفیسر وقار عظیم نے پریم چند کو اردو کا پہلا افسانہ نگار قرار دیا۔  پروفیسر احتشام حسین نے بھی اسی طرح ’’کتاب‘‘ (لکھنؤ) میں شائع ایک بحث میں سجاد حیدر یلدرم اور پریم چند دونوں کو اردو کا اولین افسانہ نگار تسلیم کرتے ہوئے فرمایا:  ’’ہم کو جو ابتدائی افسانہ نگار ملتے ہیں، ان میں دو نام نمایاں طور پر نظر آتے ہیں۔  ایک سجاد حیدر یلدرم کا اور دوسرا پریم چند کا۔ ‘‘ سجاد حیدر یلدرم کو اردو کا پہلا افسانہ نگار تسلیم کرنے والوں میں پروفیسر احتشام حسین اکیلے نہیں ہیں۔  پطرس بخاری اور ڈاکٹر معین الرحمن بھی ان کے ہمنوا ہیں۔  ابو الفضل صدیقی نے ( ’’سیپ‘‘، کراچی 1980) سلطان حیدر جوش کو اردو کا پہلا افسانہ نگار قرار دیا ہے تو ڈاکٹر ابو اللیث صدیقی نے خواجہ حسن نظامی کو۔

اردو افسانے کے محض گیارہ دہائیوں کے قلیل مدت کے سفر کی تاریخ کے تعلق سے اس طرح کا تضاد افسوس ناک بھی ہے اور عبرت آموز بھی۔  در اصل یہ پورا معاملہ غیر سائنسی طریقۂ تحقیق اور ذاتی ترجیحات اور تعصبات کا غماز ہے۔  وگرنہ اردو کے وہ ابتدائی ادبی مجلے جنھوں نے اول اول افسانے شائع کیے ان کی تعداد انگلیوں پر گنی جا سکتی ہے اور آج بھی وہ ہندوستان کی چیدہ چیدہ لائبریریوں میں دستیاب ہیں۔  مثلاً ’زمانہ ‘ (کانپور)، ’معارف‘ (علی گڑھ)، ’ مخزن‘ (لاہور اور دہلی)، ’اردوئے معلی‘ (علی گڑھ) وغیرہ۔

ڈاکٹر مسعود رضا خاکی وہ پہلے شخص ہیں جنھوں نے 1965میں ’’اردو افسانے کا ارتقا‘‘ کے موضوع پر اپنے پی ایچ ڈی کے مقالے میں راشد الخیری کے افسانے ’’نصیر اور خدیجہ‘‘ (مطبوعہ مخزن 1903) کو اردو کا پہلا افسانہ قرار دیا۔  پھر پروفیسر مرزا حامد بیگ نے ’مخزن‘ (لاہور، شمارہ 3، جلد 6، بابت دسمبر 1903 صفحہ نمبر 27تا 31) سے راشد الخیری کا یہ افسانہ حاصل کر کے 1991میں ’’فنون‘‘ (لاہور) میں شائع کروا دیا اور اس کے بعد سے راشد الخیری کے افسانے ’’نصیر اور خدیجہ‘‘ کو اردو کا پہلا افسانہ تسلیم کر لیا گیا۔  1997میں مظہر امام نے معروف پاکستانی رسالہ ’’آئندہ‘‘ (کراچی) میں بہار کے دو افسانہ نگاروں کا ذکر کرتے ہوئے ثابت کیا کہ علی محمود ( پہلا طبع زاد افسانہ ’’چھاؤں‘‘، ’مخزن‘۔  لاہور۔  بابت اپریل 1904) اور وزارت حسین اورینی( پہلا طبع زاد افسانہ ’’افسانۂ حرماں یعنی مرگِ محبوب‘‘، ’ اردوئے معلی‘۔  علی گڑھ۔  بابت جون 1905)بھی اردو کے ابتدائی افسانہ نگاروں میں شامل ہیں۔

اردو کے قدیم ادبی مجلّوں مثلاً مخزن، اردوئے معلی، زمانہ اور عصمت وغیرہ کی فائلیں دیکھنے کے بعد اردو کے اولین افسانہ نگاروں کی فہرست اس طرح مرتب ہوتی ہے۔

۱۔  راشد الخیری، افسانہ ’’نصیر اور خدیجہ‘‘، مطبوعہ ’’مخزن‘‘ (لاہور ) دسمبر 1903

۲۔  علی محمود، افسانہ ’’چھاؤں‘‘، مطبوعہ ’’مخزن‘‘ (لاہور ) جنوری 1904

۳۔  علی محمود، افسانہ ’’ایک پرانی دیوار‘‘، مطبوعہ ’’مخزن‘‘ (لاہور) اپریل 1904

۴۔  وزارت حسین اورینی، افسانہ ’’افسانۂ حرماں یعنی مرگِ محبوب‘‘، مطبوعہ ’’اردوئے معلی‘‘ (علی گڑھ) جون 1905

۵۔  راشد الخیری، افسانہ ’’بدنصیب کا لال‘‘، مطبوعہ ’’مخزن‘‘ (لاہور) اگست 1905

۶۔  سجاد حیدر یلدرم، افسانہ ’’دوست کا خط‘‘، مطبوعہ ’’مخزن‘‘ (لاہور ) اکتوبر 1906

۷۔  سجاد حیدر یلدرم، افسانہ ’’غربت و وطن‘‘، مطبوعہ ’’اردوئے معلی‘‘ (علی گڑھ) اکتوبر 1906

۸۔  راشد الخیری، افسانہ ’’عصمت و حسن‘‘، مطبوعہ ’’مخزن‘‘ (دہلی) اپریل تا مئی1907(دو قسطوں میں )

۹۔  راشد الخیری، افسانہ ’’رویائے مقصود‘‘، مطبوعہ ’’مخزن‘‘ (دہلی) اکتوبر 1907

۱۰۔  سلطان حیدر جوش، افسانہ ’’نابینا کی بیوی‘‘، مطبوعہ ’’مخزن‘‘ (دہلی) دسمبر 1907

۱۱۔  پریم چند، افسانہ ’’عشق دنیا اور حب وطن‘‘، مطبوعہ ’’زمانہ‘‘ (کانپور) اپریل 1908

۱۲۔  راشد الخیری، افسانہ ’’نند کا خط بھاوج کے نام‘‘، مطبوعہ ’’عصمت‘‘ (دہلی) جون 1908

۱۳۔  راشد الخیری، افسانہ ’’شاہین و درّاج‘‘، مطبوعہ ’’مخزن‘‘ (دہلی) جون 1908

۱۴۔  پریم چند، افسانہ ’’دنیا کا سب سے انمول رتن‘‘ مشمولہ ’’سوزِ وطن‘‘ جون 1908(طبع اول۔  دہلی)

اس طرح اردو کے پہلے افسانہ نگار راشد الخیری قرار پاتے ہیں۔  دوسرے علی محمود، تیسرے وزارت حسین اورینی، چوتھے سجاد حیدر یلدرم، پانچویں سلطان حیدر جوش اور چھٹے پریم چند۔  مندرجہ بالا شواہد کی روشنی میں پریم چند کا افسانہ ’’دنیا کا سب سے انمول رتن‘‘ جسے اردو کا پہلا افسانہ تسلیم کیا جاتا رہا ہے، تاریخی اعتبار سے اردو کے طبع زاد افسانوں میں اس کا نمبر چودھواں ہے۔

دیگر حضرات جن کے سر اولیت کا تاج رکھا جاتا رہا ہے ان میں سدرشن کا اولین افسانہ ’’سدا بہار پھول‘‘ 1912کی تخلیق ہے۔  جبکہ خواجہ حسن نظامی کا اولین افسانہ ’’بہرا شہزادہ‘‘، ’’ہمایوں‘‘ کے جنوری 1913کے شمارے میں شائع ہوا۔  نیاز فتح پوری کا افسانہ ’’ایک پارسی دوشیزہ کو دیکھ کر‘‘، ’’تمدن‘‘ ( دہلی) اور ’’نقاد‘‘ (آگرہ) دونوں رسالوں میں جنوری 1913میں شائع ہوا۔  اس طرح سدرشن، خواجہ حسن نظامی اور نیاز فتح پوری اردو کے افسانوی منظر نامے پر اس وقت نمودار ہوئے جب اردو افسانے کا سورج طلوع ہو کر کسی قدر روشنی بکھیرنے لگا تھا۔  البتہ چودھری محمد علی ردولوی کا معاملہ ذرا الگ ہے۔  معلوم حقائق کی بنا  پر  کہا جا سکتا ہے کہ انھوں نے افسانہ نگاری کا آغاز یلدرم اور پریم چند کے ساتھ کیا لیکن چونکہ وہ اعلیٰ سرکاری منصب پر فائز تھے لہٰذا کچھ اپنی سماجی حیثیت اور کچھ اپنے مزاج کی بنا پر انھوں نے رسائل کے مدیران کو افسانہ اشاعت کے لیے بھجوانے میں تامل برتا لیکن ان کی   اس تساہلی کے باوجود انھیں اردو افسانے کے اولین معماروں میں شمار نہ کرنا بہت بڑی نا انصافی ہو گی۔

(بشکریہ  اردو چینل ڈاٹ ان)

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *