تعصب ۔۔۔محمود چوہدری

کانفرنس کا موضوع تھا  stereotype and prejudice ” تعصب اور دقیا نوسی تصورات“ تھا ۔تعصب کیسے ہمارے خیالات پر اثر انداز ہوتا ہے ۔ اور یہ کیسے ہماری اجتماعی سوچ کا حصہ بن جاتا ہے۔  یہ کیسا وائرس ہے جو ہمارے تخیلات میں گھس بیٹھتا ہے کہ ہم  کسی ثقافت کوسمجھے اور جانے بغیر خود ہی ایک رائے قائم کر لیتے ہیں ۔

مجھ سے پہلے تقریر کرنے والی ایک خاتون فیمینسٹ پاکستان اور اسلام کے بارے میں کافی زہر اگل چکی تھی اور اس معاشرے میں عورت کی مظلومی کا رونا رو چکی تھی ۔  کانفرنس ایک بہت بڑے ہال میں ہو رہی تھی ۔اس میں تقریبا ً ہرعمر کا شہری موجود تھا ۔ یورپ میں کسی بھی قسم کی کانفرنس میں ون مین شو نہیں ہوتا یعنی ایسا نہیں ہوتا کہ ایک شخص آئے اور تقریر کرکے چلتا بنے ۔ بلکہ ہر کانفرنس ہی ایک اوپن ڈائیلا گ بن جاتی ہے۔ہر ہال میں ایک مائیک فالتو ہوتا ہے جو پبلک میں سے سوال یا تبصرہ لیتا ہے ۔ ہال میں موجود کوئی بھی شخص ہاتھ اٹھا کر مائیک طلب کر سکتا ہے اوراس دن کے موضوع پر گفتگو میں حصہ لے سکتا ہے ۔

میری تقریر کے بعد ایک نوجوان کا سوال تھا کہ” اٹلی آنے والے پاکستانیو ں کی اکثریت نوجوانوں کی ہے ۔کیا پاکستان بہت ہی غریب ملک ہے جوانہیں اپنا ملک چھوڑنا پڑتا ہے “

میں نے کہا” نہیں پاکستان غربت کی تعریف پر پورا نہیں اترتا کیونکہ یہ کبھی بھی کسی قحط یا غذائی قلت کا شکار نہیں ہوا ۔ پاکستان نے چار ملین افغانیوں کو پناہ دےکر یہ ثابت کیا تھا کہ وہ یورپی ممالک سے بھی بڑا مہمان نوازملک ہے ۔خیرات دینے والوں میں پاکستانیوں کا شمار دنیا کے پہلے پانچ ممالک میں ہوتاہے ۔۔ پاکستانیوں کے بارے آپ کہہ سکتے ہیں کہ پاکستانی یا تو کھاتے کھاتے مرتے ہیں یا کھلاتے ہوئے مرتے ہیں کوئی بھی بھوک سے نہیں مرتا ۔۔۔آپ اپنے کسی بھی پاکستانی دوست سے پوچھ لیں وہ کئی لاکھ روپے لگا کر آپ کے ملک میں پہنچتے ہیں ۔جانتے ہیں کیوں ؟ عورت کی تکریم کے لئے ۔

عورت کی تکریم وہ کیسے ؟ مجھ سے پہلے تقریر کرنے والی معزز خاتون نے پاکستانی معاشر ے میں عورت کے مقام کا جو نقشہ کھینچا ہے وہ Prejudice  کا عملی نمونہ ہے ۔ کیونکہ ہم پاکستانی عورت کو کتنا مقام دیتے ہیں  آپ اس کا اندازہ اس  بات سے لگا لیں کہ یورپ ہجرت کرکے آنے والے نوجوانوں میں سے کچھ بھائی ہیں جواپنی جوانی ضائع کرکے زیادہ پیسہ کمانے آئے ہیں تاکہ وہ اپنی بہنوں کے لئے جہیز تیار کرسکیں اور کچھ کنوارے ہیں تاکہ وہ اپنی ہونے والی بیوی کے لئے اچھی زندگی کا سامان کرسکیں ۔

پھر میں نے سوا ل کیاکہ ہال میں بیٹھا کوئی ایسااطالوی نوجوان جوصرف ان دو مقاصد کے لئے سات سمندر پار کام کی تلا ش میں جانا چاہے ؟ہال میں خاموشی چھا گئی ۔

ایک ٹیچرنے مائیک منگوایا ۔۔۔وہ کہنے لگی۔ پاکستانی مائیں اپنے بچوں کی سکول میٹنگ میں نہیں آتیں ۔ کچھ ٹھٹھرتی صبحوں میں اپنے بچوں کو سکول چھوڑنے آتی ہیں تو ان بے چاریوں کے پاس اچھے جوتے تک نہیں ہوتے وہ چپل پہن کر سکول آجاتی ہیں۔ وہ گھروں میں مقید ہیں کسی سوشل سرگرمی میں حصہ تک نہیں لے سکتیں ؟ میں نے کہا محترمہ آپ ان کے بارے میں کتنا جانتی ہیں ؟ ابھی تواٹلی میں ہماری پہلی نسل آئی ہے ، انہیں اطالوی زبان نہیں آتی وہ کیسے آپ سے رابطہ کر سکتی ہیں ۔آپ حکومت سے کہیں یا اپنی ہیڈ ٹیچر سے کہیں وہ ان کے لیے اطالوی زبان کے کورس کا اہتمام کریں ۔ ایسا ہی ہوتا ہے جب ہم کسی کو جانتے نہیں تو بہت سے غلط تصورات  Stereotype خود ہی بنا لیتے ہیں ۔۔۔

میں آپ کو ایک واقعہ سناتا ہوں ۔ ہمارے ملک کے ایک دور افتادہ گاؤں  میں ایک انگریزوں کا گروہ سیر کے لئے آیا انہوں نے گاؤں  کے باہر ایک خیمہ لگایا اوراس کے باہر ایک ٹیبل کرسی پر بیٹھ کر کھانا کھا نا شروع کر دیا ۔ وہ چھری کانٹے سے کھانا کھا رہے تھے ۔ گاؤں  والوں نے جب انہیں کھانا کھاتے دیکھا تو جانتے ہو انہوں نے کیا رائے بنا لی ۔۔۔۔؟ ۔ سارے میری طرف متوجہ ہوئے تو میں نے کہا پورے گاؤں  میں مشہور ہوگیا کہ بے چارے گورے اتنے معذور ہیں کہ ہاتھ سے کھانا بھی توڑ کر نہیں کھا سکتے۔ انہیں کھانا بھی چھری سے کاٹنا پڑتا ہے ۔۔۔اس بات پر ہال میں اتنے قہقہے اور تالیاں بجیں کہ پورا ہال گونج اٹھا ۔

میں نے کہا رکیے، میں آپ کو ایک اور بات سناتا ہوں اس سال میں پاکستان گیا تو گاؤں  کے کچھ بابوں نے مجھے پوچھا کہ اطالوی شہریوں کی کھانے کی کوئی خاص ڈش بتاؤ میں نے کہا کہ وہ پیزا کھاتے ہیں ۔ بابے پوچھنے لگے کہ پیزا کیا ہوتا ہے ۔ میں نے سمجھایا کہ ایک روٹی کے اوپر ہی پیاز ، ٹماٹر وغیرہ لگا ہوتا ہے اور اسے  ہاتھ میں پکڑ کر کھالیتے ہیں ۔ ایک باباجی کہنے لگے ”پتر اس کا مطلب ہے کہ ان لوگوں نے بڑی غربت دیکھی ہے بے چاروں کے پاس پلیٹیں تک نہیں ہوتی ہوں گی ۔ ۔۔۔۔ “

اس کے بعد جب قہقہے لگے تو کچھ نوجوانوں نے” نو نو“ کا شور مچا دیا ۔ تالیوں کے درمیان ایک بوڑھا اطالوی اٹھا اور مائیک مانگنے لگا ،مجھے ڈر تھا کہ وہ ناراض ہو گیا ہوگا لیکن وہ کہنے لگا ”آپ کے باباجی کی ذہانت کو میرا سلام ۔  دوسری جنگ عظیم کے بعد واقعی ہم نے بہت غربت دیکھی ہے ۔ پلیٹیں تو کیا ہمیں تو باورچی خانے تک کا نہیں پتہ تھا ۔۔

شہر کی میئر ایک خاتون تھی ۔ کہنے لگی تمہاری کچھ تقریبا ت میں مجھے جانے کا اتفاق ہوا ہے ۔وہاں شہر کے امام صاحب بھی مدعو تھے ۔ تم جانتے ہو کہ انہوں نے مجھ سے ہاتھ تک ملانا گوارہ نہیں کیا ۔ مانا کہ تم لوگ عورت کو بالکل عزت نہیں دیتے لیکن میں ایک ادارے کی نمائندگی کرتی ہوں مجھ سے تو ہاتھ ملانا چاہیے تھا ۔ میں نے مائیک لیا میں نے کہا ہم عورت سے ہاتھ اس لئے نہیں ملاتے کیونکہ ہم اسے اپنے برابر نہیں سمجھتے ۔ ۔ پچھلے بنچوں سے پھر” نو“کی آواز آئی ۔ میں نے کہا میری پوری بات تو سن لیں ۔ ہم عورت کو اپنے سے زیادہ عزت والا سمجھتے ہیں ۔ جیسے کوئی ملکہ ہوتی ہے ۔ اب کیا کوئی عام مرد جا کر ملکہ سے ہاتھ ملا سکتا ہے؟ نہیں نا ۔ہم بھی نہیں ملاتے ۔۔۔۔

میں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اچھا آپ کو پتہ ہے پچھلے مہینے کیا ہوا ہے ۔ میں ٹی وی چینل فائیو پر خبریں سن رہا تھا ۔ ایک خبر پورے دس منٹ چلی جس میں ایک فلم ریلیز ہونے کا تذکرہ تھا وہ فلم تھی ”slumdog millionaire“۔ نیوز کاسٹر نے دس منٹ لگائے لوگوں کو سمجھانے میں کہ فلم کی کہانی میں ایک ہندو بچے کی پوری بستی کو مسلمان دہشت گردوں کا ایک گروہ آکر قتل کر دیتا ہے ۔ میں نے دوسرے دن ہی ٹکٹ خریدی اور فلم دیکھنے چلا گیا ۔ آپ جانتے ہیں فلم کی اصل کہانی کیا تھی ؟ کسی نے دیکھی ہے ۔ بہت سے لوگوں نے کہا ہاں دیکھی ہے فلم کی اصل کہانی یہ تھی کہ ایک ہندو دہشت گرد گروہ ایک مسلمان بچے کی ماں او ر مسلمانوں کی ساری بستی قتل کر دیتا ہے ۔ جانتے ہیں ایسی نیوز کیوں تیار ہوئی ؟ اس لئے کہ یورپ میں ہر جرنلسٹ نے پہلے سے یہ رائے بنا لی ہو ئی ہے کہ مسلمان دہشت گرد ہو تے ہیں اس لئے ان کے لئے یہ ماننا نا ممکن تھا کہ ہندو بھی دہشت گرد ہو سکتا ہے ۔ ہال کے  ایک کونے سے آواز آئی کہ تمہیں چینل کو لکھنا چاہیے تھا کہ انہوں نے غلط بیانی کی ہے میں نے کہا ہاں میں نے لکھا تھا ۔انہیں ای میل کی تھی جانتے ہیں ٹی وی نے اگلے دن کی نیوز میں کیا کیا؟ صرف دس سیکنڈ کی معذرت کی خبر چلائی کہ ان سے فلم کی کہانی سنانے میں غلطی ہوئی ۔مجھے بتائیں کہ آپ کے ذہنوں میں دس منٹ کا اثر رہا ہوگا یا دس سیکنڈ کا ؟ stereotype and prejudice  ایسے ہی جنم لیتے ہیں۔۔۔

ایک اور دلچسپ واقعہ سناتا ہوں پچھلے سال اٹلی کے ایک شہر میں زلزلہ آیاتھا تو اس علاقے کے گردوارہ نے چندہ اکٹھا کیا اور پورے پندرہ ہزار یورو جمع کیے  ۔ سکھوں کا ایک راہنما آپ کے ضلع کونسلر کو ملا اور اسے پندرہ ہزار یورو کا چیک دیا ۔ یہ خبراخبار میں بھی آئی تھی اور اس سکھ سردار اور کونسلر کی فوٹو بھی چھپی تھی ۔ سب کہنے لگے ہم نے دیکھی تھی و ہ فوٹو ۔ میں نے کہا آپ جانتے ہیں وہ کونسلر میرا دوست ہے اس نے خود مجھے یہ بات سنائی ہے ۔ کہ ایک اطالوی شہری نے فوٹو دیکھتے ہی کونسلر کو فون کیا اور کہنے لگا ”اب بس بھی کردو ان غیرملکیوں کی مدد کرنا“پورے ہال میں خاموشی چھا گئی جانتے ہیں ایسا کیوں ہوا؟ اس اطالوی شہری نے صرف فوٹو دیکھی اور خبر پڑھنے کی زحمت تک گوارہ نہیں کہ کیونکہ اس کے ذہن میں یہ تعصب کا وائرس بیٹھ گیا ہوا تھا کہ مدد صرف غیر ملکی ہی لیتے ہیں وہ یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ وہ مدد دے بھی سکتے ہیں

ایک عمر رسیدہ اطالوی اٹھا کہنے لگا تم اتنی اچھی باتیں کرتے ہو ۔ تم نئے آنے والے جاہلوں کو سمجھاتے کیوں نہیں کہ وہ بھی ہماری یورپی تہذیب سے کچھ سیکھیں ۔جاہلوں کے لفظ نے مجھے تپا دیا ۔ میں نے پوچھا مجھے یورپی کلچر کا کون سا اصول ا نہیں سکھانا چاہیے ؟کہ سکول ٹیچر کا نام لیکر اسے بلانا چاہیے کہ ماں کو اس کے منہ پر کہنا چاہیے کہ تم نری بے وقوف ہو ،کہ بہن اور بھائی جب آپس میں لڑائی کریں تو اپنے جسم کے چند مخصوص حصوں کے نام بھی لیا کریں اور کیا مجھے انہیں یہ سکھانا چاہیے کہ باپ کو سیدھا ہی کہہ لیں کہ تم پاگل ہو ۔۔۔ اس با ر ہال کی خاموشی میں صرف ایک شخص کی تالی گونجی اور وہ تھا میرا دوست چرچ کا پادری فابیو ۔۔کہنے لگا میں اپنے ذاتی مطالعے کی بنا پر کہہ سکتا ہوں کہ جو احترام انسانیت اور رشتوں کا تقدس مسلمانوں کے پاس ہے وہ مثالی ہے ۔ میرے خیال میں ہمیں آنے والوں کو سکھانے کی بجائے ان سے بہت کچھ سیکھنا بھی چاہیے۔

Save

محمود چوہدری
محمود چوہدری
فری لانس صحافی ، کالم نگار ، ایک کتاب فوارہ کےنام سے مارکیٹ میں آچکی ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”تعصب ۔۔۔محمود چوہدری

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *