جناب ستیہ پال آنند صاحب کے جنم دن پر۔۔۔۔۔۔۔طیبہ ژویک

شہنشاہ اسوهء حسنہ۔۔
آپ بندہ ستیہ پال آنند۔۔
غیر مسلم ضرور ہے لیکن۔۔
یہ اجازت تو دیں مجهے سرکار۔۔
دهیان میں گم زمیں کو بوسہ دوں۔۔
اور باقی کی عمر اے آقا۔۔
یوں ہی ٹھہرا رہوں جهکائے ہوئے۔۔
در ِشاہِ  امم پہ سر اپنا۔۔۔
دهیان میں گم رہوں تو میں شاید۔۔
دیکھ پاؤں حضور کا جلوہ۔۔
چہرہ ء پاک کی ضیا پاشی۔۔
کالی کملی سے نور چهنتا ہوا۔۔
دهیان میں گم رہوں تو سن پاؤں ۔۔
آپ سے میں پیام حق کےراز۔۔
جادواں زندگی کی تعبیریں۔۔
لفظ و حدت کے معانی و تفسیر۔۔

تهوڑی سی عرض رہ گئی ہے حضور۔۔
ارض طیبہ میں تن تنہا۔۔
منتظر آپ کی شفاعت کا۔۔
کلمہ خواں اپنا سر جهکاے ہوئے۔۔
اور دست طلب بڑهائے ہوئے۔۔
دهیان میں گم کهڑا ہوا ہوں حضور۔۔

ہندوام، کافرم، گنہ گارم!!
ر ﷺ، شہ مرسلین، خاتم الانبیا ﷺ

یہ نظم طویل عرصہ تک میری فیس بک کور کی زینت بنی رہی ۔ایک غیر مسلم کی طرف سے پیش کیا گیا خراجِ عقیدت مجھے بہت عزیز تھا۔۔
ان سطور کو پڑھتے ہوئے بےساختہ دل میں خوشی، محبت اور نرماہٹ کے عجیب سے جذبات سر اٹھاتے تھے ۔۔اس نفسانفسی کے دور میں کوئی تو ہے جو ہمارے مذہب میں نہ ہوتے ہوئے بھی اس ہستی کی عظمت کی سچائی کو پہچانتا ہے بلکہ سرعام تسلیم بھی کر رہا ہے۔۔۔

یہ محترم ستیہ پال آنند سے میرا پہلا تعارف تھا۔۔ اس نظم کو پڑھتے ہی میں نے حسبِ عادت انٹرنیٹ چھان مارا۔۔کیا یہ سطور لکھنے والی ہستی اس دُنیا میں موجود ہیں یا نہیں  اور میری خوشگوار حیرت کی انتہاہ نہ رہی ۔۔ جب میں نے اس گوہر نایاب کو فیس بک پر ڈھونڈ لیا اور ان کی ٹائم لائن کھنگال ڈالی۔ زیادہ تر ٹائم لائن پر “کتھا چار جنموں کی” اور ظفر صاحب کے “اقوال زریں” اپ ڈیٹ کیے گئے تھے۔ ظفر صاحب کی آراء جناب آنند صاحب کے متعلق کچھ زیادہ ہی کڑوی تھیں۔ تقریبا ً ان کے متعلق لکھے ہر کالم میں آنند صاحب کی شاعری کو نشانہ بنایا گیا ہوتا تھا۔ یہ پڑھ پڑھ کر میرے ذہن میں تجسس نے سر اُٹھایا آخر پال آنند صاحب ایسا کیا لکھتے ہیں، جس کے پیچھے ظفر اقبال صاحب ہاتھ دھو کر پڑے رہتے ہیں۔ فرصت کے ایک دن ستیہ پال صاحب کی کچھ شاعری بھی پڑھی ، سچی بات ہے مجھ شاعری سے نابلد بندی کو سمجھ کچھ بھی نہیں آیا۔
یوں یہ بات آئی گئی ہو گئی۔۔ اسی عرصہ میں فیس بک سے  تعلق ٹوٹ گیا اور میرے ذہن سے یہ کتاب محو ہو گئی ۔۔
ایک ڈیڑھ سال بعد جب دوبارہ فیس بک ایکٹو کی تو اتفاق سے پہلے سٹیٹس ہی ستیہ پال صاحب کی ٹائم لائن پر ظفر اقبال کے کالم سے متعلق تھا۔۔ اسے پڑھ کر پرانے تجسس نے پھر سے سر اٹھایا۔ میں نے ستیہ آنند صاحب سے اس حوالے سے ان باکس میں پوچھا۔۔ مگر انہوں نے بتایا گوجرانوالہ میں کتاب ملنا مشکل ہے اور چونکہ وہ بیرون ملک رہائش پذیر ہیں، اس لیے بھجوانا بھی مشکل ہے ۔

پچھلے دنوں بُک سٹال پر جانے کا اتفاق ہوا۔۔ یہ سٹال ریلوے پھاٹک سے کچھ دور گھنے درختوں کے سائے تلے لگتا ہے۔ سٹال بھی کیا ہے زمین پر شیٹ بچھا کر کتابوں کا ڈھیر لگا دیا جاتا ہے۔ کچھ کتابیں سامنے ترتیب سے دھری جاتی ہیں ۔۔ اسی ڈھیر میں کتابیں کھنگالتے ایک دم نگاہ سیاہ کور والی ضخیم کتاب پر پڑی۔۔جس پر چمکتے حروف میں “کتھا چار جنموں کی” لکھا تھا۔۔ دل کی مسرت کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا اوراسی وقت کتاب کی قیمت ادا کر کے گھر لے آئی۔۔ گھر آکر اس کتاب کا پہلا صفحہ کھولا۔۔ یہ جناب پال کی جانب سے کسی دوست کو تحفہ کے طور پر دی گئی تھی (دوست کا نام لکھنا مناسب نہیں) خُدا بہتر جانتا ہے دوست نے بے توجہی میں یا کسی مجبوری میں اس کتاب کو اونے پونے داموں فروخت کر دیا اور وہ آنند صاحب کے اپنے ہاتھوں کی تحریر لیے مجھ تک آن پہنچی ۔۔ ۔

اگرچہ اس کے سفید کاغذات اور موٹی جلد دیکھ کر تھوڑی سی مایوسی ہوئی (مجھے پرانی کتابیں پڑھنے کی عادت ہے)۔۔۔ خیر ڈرتے ڈرتے شیلف میں سجا لی ۔۔ اور آٹو بائیو گرافیز میں اس کا پانچواں نمبر رکھا۔۔۔ پر جسامت دیکھ کر ہمت پھر بھی نہ ہوئی ۔ کیونکہ مجھے ڈر تھا ان کی کتاب عام شعراء کی طرح اتنی مشکل زبان میں نہ ہو کہ ان اقتباسات کا سحر بھی ٹوٹ جائے جو میں نے پڑھ رکھے ہیں۔اس لیے کافی عرصہ یہ کتاب یونہی سجی رہی  اور اس کے بعد میں آنے والی کتب پڑھی ہوئی کتابوں والے شلیف پر منتقل ہوتی رہیں۔۔ ایک دن بےخیالی میں کتابوں سے گرد جھاڑتے ہوئے اُٹھا کر ورق گردانی شروع کر لی ۔۔۔۔۔

“میں اپنی گھر کی دیوڑھی سے باہر نکلتا ہوں۔۔”
“میرے ہاتھوں میں بڑھئی کا بنایا ہوا ایک نیا ڈنڈا ہے”
“صحن میں کھیلتے ہوئے میری گُلی دالان میں چرخہ کاتتی ہوئی دادی ماں “بےبے” کو لگتے لگتے بچ گئی تھی”

دودھ جیسی سفید یہ کتاب اندر سے قرنوں پرانی ہونے کا احساس دلا رہی تھی۔۔

“کتھے ونجاں ڈاڈھیا ربا
اندر کالو، باہر ڈبہ” ۔

سب کچھ بھول کر بےساختہ پڑھتی ہی چلی گئی

، سلیٹ، تختی ، سکول، چاچا بیلی رام کی شادی، پھوپھی بخت کا گھر ۔۔ ۔ہر ہر بات اور منظر گویا کیمرے کے بغیر ہی ذہن پر نقش ہوتے جا رہے تھے۔۔
پہلی نظم “مولے والی بنھ پر ایک معجزہ”
گرائمر کے اصول و ضوابط نہ سمجھ آنے کے باجود دل میں گھر سی کرنے لگی۔۔وہ سرسراتی جھاڑیاں، وہ پھدکتی چڑیا تتلیاں، رنگین کالے ڈنک والی مکھیاں ،پیلے مکوڑے۔۔۔۔ایک ایک چیز میرے اردگرد سے گزرتی جا رہی تھی ۔یہ غبی الذہن بچہ ۔۔۔کہنے کو یہ نظم ان کے اس زمانے کا حال تھا ۔پر ہر بچہ ایسا غبی ذہن ہونا پسند کرتا ہے ۔۔ جس میں وہ دنیا کے اصولوں کے ساتھ نہ چل رہا ہو۔۔ بلکہ دُنیا کو اپنی اُن شفاف آنکھوں سے دیکھے جو وہ خود لے کر آیا۔۔ اور وہ ذہن جسے وہ خود استعمال کرنا چاہتا ہے۔۔ پر بڑے لوگ بنے بنائے چھاپے ان ذہنوں پر لگا دیتے ہیں۔۔ جو ذہن ان چھاپوں کا اثر قبول نہیں کرتے وہ یونہی معاشرے میں “غبی الذہن” کہلاتے ہیں۔۔ اور دنیا میں ایک شاندار نمونہ ہوتے ہوئے بھی رُل رُل کر مرتے ہیں
——–
اور پھر پانچویں جماعت کے بعد ہجرت کا منظر
“کہاں جا رہے ہو”
سُنا اس نے دیکھا کہ دیوار و در بولتے ہیں
سُنا اس نے، دیکھا کہ کمرے کی چھت بولتی ہے
سُنا اس نے، دیکھا ہوا سنسناتی ہوئی بولتی ہے
سُنا اُس نے، دیکھا کہ زینہ اُترتی ہوئی دھوپ بھی بولتی ہے
سُنا اس نے، دیکھا کہ پنجرے کی مینا پھدکتی ہوئی چیختی ہے، کہاں جا رہے ہو؟
سُنا اس نے ، دیکھا کہ آنگن کی بیری کی شاخوں میں بیٹھے پرندے
چہکتے نہیں بس خاموشی سے اس کی طرف دیکھتے ہیں!۔

آنسوؤں کی لڑی خاموشی سے رخساروں پر رواں تھی، ہجرت کا دُکھ اس برصغیر یا اس دھرتی پر سب کا سانجھا دُکھ ہے۔ ۔
کوئی ہجرت کر کے گھر بار چھوڑ رہا ہے، کوئی دنیا ۔۔ کسی کے بچے اپنے پیارے کو بچھڑتے دیکھ رہے ہیں ، کوئی اپنے پیارے بچے کو بچھڑتے دیکھ رہا ہے  اور کوئی نہیں جانتا ۔ کون کہاں جا رہا ہے۔۔۔۔
ان جملوں میں فقط ایک لڑکے کی ہجرت ہی تو نہیں تھی ۔۔ خُدا جانے مجھے خود سمیت کس کس کی ہجرتیں یاد آئیں اور کتنے ہی کمرے، در و دیوار اور پرندے یاد آئے ۔۔

مجھے پتہ نہیں کس وقت میں آغاز کر لیا اور کتنے صفحے ادھر کھڑے کھڑے ہی پڑھ لیے۔۔ گھڑی نے وقت گزرنے کی صدا دی اور چار و ناچار کتاب بند کر کے گھر رکھ  کر آفس چلی گئی ۔۔ سارا دن دھیان کتاب میں ہی اٹکا رہا اور واپس آتے ہی پڑھنا شروع کیا ۔۔
بے حد سادہ اور حساس انداز میں لکھی گئی یہ کتاب میرے لیے شاہکار سے کم نہیں ۔۔ اور اس کتاب کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں ستیہ پال آنند اور اردو کی داستان پہلو بہ پہلو چلتی ہے۔۔ آپ ان کو ایک دوسرے سے جُدا نہیں کر سکتے ۔۔۔اردو کا عروج و زوال بنتی بگڑتی صورتیں۔۔۔ جس زبان کے ساتھ اس کے اپنوں نے غیروں کا سا سلوک کیا اس کے لیے غیر زبان کی اس کے  لیے محبت بہت ہی خوشگوار احساس ہے۔۔یہاں میں غیر کہہ کر آنند صاحب سے زیادتی کی مرتکب ہوں) ۔۔میں اس مختصر سے کالم میں پوری کتاب پر تبصرہ نہیں کر سکتی اس لیے بس چند واقعات کا ذکر کروں گی جنہوں نے مجھے متاثر کیا۔ ۔ ۔۔
یہاں اپنی کم علمی کا اعتراف کرتے ہوئے وضاحت کردوں کہ مجھے بحیثیت مضمون اردو میں کچھ خاص دلچسپی نہیں رہی۔ ۔ اس معاملے میں بہت کندذہن رہی ہوں۔پر اس کے باوجود انٹرمیڈیٹ میں اردو شاعری پڑھتے ہوئے،دو چیزیں بڑی شدت سے محسوس کی تھیں  ایک یہ کہ ہماری اردو نظمیں ساری ایک ہی طرز میں ہوتی ہے یعنی گنگنانے والی۔ ۔اس کے برعکس انگلش نظمیں چھوٹی بڑی بےترتیب لائنوں میں ہوتے ہوئے بھی زیادہ دلکش لگتی ہیں۔ ۔ ایسا کیوں ہے؟

چونکہ اس وقت اردو مشکل لگتی تھی اس لئے اس سے متعلقہ کتابیں پڑھنے کی زحمت نہ کی اس بات کا جواب مجھے ایک عرصے بعد ستیہ صاحب کی کتاب میں ملا جس میں آزاد ار نثری نظم اور غزل کے فرپر سیر  حاصل بحث کی گئی ہے۔۔۔ اس کو باقاعدہ اردو ادب میں متعارف کروانے والے اور اس میں جدت لانے پر زور دیا گیا ہے غور وفکر کیا گیا ہے کتاب پڑھتے ہوئے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے  یہ صاحب کتاب کی داستان کم اور اردو کی داستان زیادہ ہے مجھے اس بات کی زیادہ خوشی ہے کہ ستیہ صاحب نے اس میں خود کو اول درجہ کا شاعر نہیں مانا اور میرے نزدیک یہ اہم نہیں ہے علم کا خزانہ آپ کے پاس ہونا اور اسے سلیقے سے بانٹنا زیادہ معنی رکھتا ہے۔ ۔کبھی ہم نے غور کیا ہے نامور لوگوں کے استاد کیوں بےنام سے ہوتے ہیں ۔ ۔اور وہ فن پر دسترس رکھنے کے باوجود خود نام کیوں نہیں کما پائے۔ ۔ اس لیے کہ انہوں نے اپنے نام کی بجائے اپنے فن کو عروج پر پہنچایا۔ ۔ ۔ ان معنوں میں آپ ستیہ صاحب کو استاد مان سکتے ہیں۔ ۔انہوں نے خود نام کمانے کی بجائے اردو میں نت نئی جہتیں متعارف کروانے اور اردو کو بڑی زبانوں کے ہم پلہ لانے میں بساط بھر کوشش ضرور کی ہے ۔ ۔

دوسری بات جس نے مجھے لکھنے پر مجبور کیا وہ ان پر اور اردو پر بیتی جانے والی وارداتیں ہیں جو دونوں ہی دکھ بھری ہیں چار جنموں کی کتھا درحقیقت ان چار جنوں کی کہانی نہیں بلکہ پورے ہندوستان اور پاکستان کے بدلتے ادوار اور زمانوں کی کہانی بھی ہے اس کا پہلا حصہ ہجرت اور دوسرا حصہ ہجرت کے بعد پڑنے والی افتاد کے بارے میں ہے۔ ۔ اس میں ستیہ صاحب خود کم کم ہی نظر آتے ہیں اور اوردوسروں کے حالات زیادہ تفصیل سے ہیں ۔

تیسرا جنم مکمل طور پر اردو کے نام ہے اس میں جہاں میرے لیے کچھ واقعات  باعث مسرت ہیں  وہاں بہت سے  قابل افسوس واقعات بھی ہیں جن کا   ذکر ضروری ہے ان میں سے ایک تو ڈکشنری ہے جو ولیم کرک پیٹرک کی زیر تدوین بھی تھی جس کا نام ڈکشنری ہندوستان اینڈ انگلش تھا جسے میجر جوزف ٹیلر نے مکمل کیا اور گلکرائسٹ اس کے شریک کار رہے جن کے متعلق ڈاکٹر جالبی نے کہا کہ جو کتاب آپ کے پاس ہے ہمارے ہاتھ لگ جاتا تو آج اردو کی لسانی تاریخ کچھ اور ہوتی۔۔ دوسرا  اِن کی  نصاب سازی اور اس کی تشکیل کے لیے سعودی عرب امریکہ برطانیہ جیسے ممالک میں مدعو کیا جانا سوائے پاکستان کے جہاں ستیہ صاحب کو خود بھی آنے کی خواہش تھی ۔

اور سب سے قابلِ افسوس واقعہ مشتاق احمد شاد صاحب کا ۔محترم ستیہ صاحب سے مذہبی بنیاد پر سلوک ہے۔ ۔ مجھے نصیر احمد ناصر کے گھر پیش آنے والے واقعہ نے جہاں دلی تکلیف پہنچائی وہاں محترمہ نگار صاحبہ کے حُسنِ سلوک نے متاثر بھی کیا۔ ۔ اور میں نے دل شکر ادا کیا ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو وطن اور مذہب کی لاج رکھتے ہیں۔ ۔

ایسے ہی تلخ و شیریں ادوار سے گزرتی ستیہ صاحب کی یہ پُر اثر داستان شروع تا آخر قاری پر سحر طاری کیے  رکھتی ہے۔ ۔ اس کتاب سے جو کوئی آسان زبان میں برصغیر اور اردو پر مختصر اور غیر جانبدارانہ مواد حاصل کرنا چاہے، استفادہ کر سکتا ہے۔ ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *