نظم : حسیں مطربہ۔۔۔صدیق انجم

پوچھتے ہو کیا یارو !

مُغَنّیہ کے بارے میں

اُس حسیں پری زادی

مطربہ کے بارے میں

وہ پری تو جیسے اک

ساز کا سراپا ہے

نغمۂ مجسم ہے،

رشک ہائے مینا ہے،

 

وہ سراسوتی دیوی

راگ جب لگاتی ہے

جھوم جھوم جاتی ہے

اُسکو راگ میں گم سم

کوئی شخص دیکھے تو

ایک پل کو سوچے تو

یہ گماں گزرتا ہے

یہ زماں، مکاں،ہر شے

اُس کے دم سے چلتے ہیں

 

طبلوؤں کی ترکھٹ میں

جب بھی سَم ابھرتا ہے

واں کھماج کا راگا

ایک دم ابھرتا ہے

اور پورے عالم میں

رات ہونے لگتی ہے

گویا مادرِ گیتی

اُس حسیں سے راحت کا

اذن پانے آتی ہے

اور سونے لگتی ہے

اور کچھ توقف سے

راگ جوگیا گا کر

صبح کے ابھرنے کا

حکم جاری ہوتا ہے

یوں نظام عالم کا

اُس حسیں کے دامن سے

کارِ کاری ہوتا ہے

 

جھیل کے کنارے پر

اپنے آپ میں گُم سُم

یونہی بیٹھے بیٹھے جب

تان وہ لگاتی ہے

سا رے گا ما پا دھا نی

جھوم کر سناتی ہے

تان سین یا برکت

اللہ رکھی کہ اختر

سب ہی دوڑے آتے ہیں

اپنے سب زمانوں کو

بھول بھول جاتے ہیں

اور کوئی پوچھے تو

اُس حسین پیکر کو

راگ، تان، سرگم کا

دیوتا بتاتے ہیں

 

کیا کہا فسانے ہیں

واہمہ طرازی ہے

آؤ میرے ساتھ آؤ

تم کو لے کے چلتا ہوں

اک حسیں سرودوں کی

ناخدا کاپوچھتے ہو کیا یارو !

مُغَنّیہ کے بارے میں

اُس حسیں پری زادی

مطربہ کے بارے میں

وہ پری تو جیسے اک

ساز کا سراپا ہے

نغمۂ مجسم ہے،

رشک ہائے مینا ہے!

صدیق انجم
صدیق انجم
شاعر، نثر نگار اور حقیقی ادب کا داعی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *