کیا پشتون بیٹیاں بِکتی ہیں؟۔۔۔عارف خٹک

پشتون دنیا کی واحد قوم ہے جو ملٹی کلچرز کا حصہ  بننے پر کبھی  تیار نہیں ہوتے۔ یہ صدیوں سے ان کا تمدن اور معاشرتی مزاج ہے۔پشتون قبیلوں کی  صورت میں رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ خواہ آپ کراچی لے کر جائیں یا لاہور  بلکہ میں نے لندن میں پشتونوں کو دیکھا ہے کہ وہاں رہنا پسند کرتے ہیں جہاں اور بھی پشتون آباد ہوں ۔
کمیونٹی میں رہنے کی عادت  نئی  نہیں ہیں  بلکہ صدیوں سے ان کے مزاج کاحصہ ہے۔ لہذا پشتونوں کے  بہت سے رسم و  رواج سے غیر پشتون ناواقف ہوتے ہیں  کیونکہ پشتون اپنے رسم و  رواج کو مذہب سے زیادہ مقدس مانتے آئے ہیں بلکہ کافی جگہ مذہب اور عقیدہ بھی پشتون رویوں کا محتاج رہا ہے۔

پشتونوں  کے بہت سے    رواج جن سے غیر پشتون کافی نابلد رہے ہیں ، لہذا کچھ روایات سنی سنائی ارتقائی تبدیلیوں سے ہوتے ہوتے ایک گالی بنا دی جاتی ہے۔
ایسی  ہی ایک رسم جس میں لڑکی سے شادی کے  عوض لڑکے والے ایک طے شدہ رقم لڑکی کے  والدین کو ادا کرتے ہیں۔ آج کل نان پشتونوں نے اسے ایک گالی بنا کر رکھ دیا ہے۔
ہم  اس موضوع پر بات کریں گے  تاکہ کنفیوژن ختم ہوسکے۔

قدیم تاریخی پس منظر رکھنے والی یہ قوم دراصل یہودیوں سے تعلق رکھتی ہے۔ اس لئے پشتون روایات میں  آپ کو جابجا   قبل از اسلام سے پہلے بھی پشتون  وحدانیت کے پیروکار ملتے ہیں ۔ فارس (موجودہ ایران) میں یہودیوں اور آتش پرستوں کا بول بالا تھا  اور دوسری طرف تاجک اقوام جو بدھ مت کے پیروکار تھے۔
پشتون قبیلے کا سربراہ قیس عبدالرشید فارس اور خراسان کی  سرحد پر کندھار میں اپنے ہی قبیلے کی سربراہی کررہا تھا۔ وہ دو اقوام کے بیچ اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہا تھا۔ ایسے میں خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ نے جب خراسان کے  دروازے پر دستک دی تو قیس عبدالرشید کو اسلام اس لئے بھی اجنبی نہیں لگا کہ یہ مذہب بھی وحدانیت کا مرہون منت تھا اور دوسرا خالد بن ولید خراسان کو بھی فتح کرنا تھا۔ سو قیس عبدالرشید کو یہ موقع  اچھا لگا  اور داخل میں  اسلام ہوگیا۔

پشتون صدیوں سے جنگجو قوم رہی ہے اس لئے پشتون کسی اور قوم پر بھروسہ نہیں کرسکتے۔ لہذا نظریہ بقاء کے زیر اثر پشتون اپنی اولاد کی شادیاں غیروں میں نہیں کرتے اور اسے بہت برا سمجھا جاتا ہے۔صدیوں سے یہ رواج چلا آرہا تھا کہ جب کوئی پشتون کسی لڑکی سے شادی کا خواہش مند ہوتا ہے تو وہ جرگہ بھیج دیتا ہے۔ جرگے میں یہ فیصلہ کیا جاتا ہے کہ آیا لڑکے والے کتنی رقم ادا کرنے کے اہل ہیں۔
پشتون جب قندھار سے پھیل کر پنجشیر تک پھیل گیا اور ساتھ میں اپنی سرحدیں پنجاب تک پھیلا دیں  تو پشتونوں کو متحد رکھنے کیلئے مذہبی لوگوں کو  لیڈر شپ دے دی گئی۔ کیونکہ پشتونوں کو آپ مذہب کے  تابع تو کرسکتے ہیں مگر کسی امیر کے ماتحت رکھنا ناممکنات میں سے ہے۔

مذہبی لوگوں نے پشتونوں کو اسلام کی اصل روایات سے آگاہ کیا اور بیشتر غیر اسلامی رسومات کا خاتمہ کرڈالا۔ جس میں   دشمن کو معاف کرنا، امن سے رہنا اور لڑکی سے شادی کے عوض رقم کا تقاضا کرنا شامل ہیں ۔

سرحدیں پھیلنے کیساتھ ساتھ پشتون بھی واضح طور  پر دو ٹکڑوں میں تقسیم  ہوگئے۔ ایک وہ پشتون بیلٹ جو قندھار میں موجود رہی  یا ان کے وہ قبیلے جو قندھار سے ابھی تک جڑے ہوئے تھے۔ ابھی بھی قندھار پشتون کے زیر اثر رہیں۔ جیسے خٹک، وزیر، نورزئی، اچکزئی اور احمد زئی۔

یاد رہے  پشتونوں میں صرف دو قبیلے جو آج بھی اپنے آپ میں اصل ہیں۔ وہ احمدزئی اور یوسفزئی ہیں۔ باقی قبیلے ان دو قبیلوں کی اولادوں میں سے ہیں۔

احمد زئی قبیلے کی اولادوں میں سے جن قبائل نے جنم لیا۔ وہ ابھی تک اس رسم کا اعادہ کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ خوشحال خان خٹک نے بھی اس رسم کو پسند کیا تھا۔ کیونکہ اس رسم کے تحت لی گئی رقم بیچنے کے زمرے میں اس لئے بھی نہیں آتی  کہ یہ رقم لڑکے کی طرف سے لڑکی کے والدین کو تحفہ ہوتی ہے کہ اس رقم سے وہ اپنی بیٹی کیلئے جہیز بنا سکیں  اور ان کا بوجھ کم ہو۔ اس عمل کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ بلکہ میں نے تو خٹک اور دوسرے قبیلوں میں  آج بھی دیکھا ہے کہ اگر آپ اپنی بیٹی کی شادی بغیر ادا شدہ رقم کے کرتے ہیں  تو اس لڑکی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کا چال چلن ٹھیک نہیں تھا۔ تبھی تو مفت میں آئی ہے  اور لڑکے والے بھی اس سے بچنے کی سعی کرتے ہیں۔ بیٹی کیلئے لی گئی رقم میں سے پیسے خود پر خرچ کرنا انتہائی برا سمجھا جاتا ہے۔

یوسفزئی قبیلہ اور اس کے زیر اثر قبائل میں اس رسم کو ختم کرنے میں سب سے بڑا ہاتھ مذہبی شخصیات کا ہے ۔ جس میں پیر بابا اور اخوند بابا کا نام سر فہرست ہے۔یوسفزئی قبائل جو دیر، مردان اور سوات تک پھیلے ہوئے ہیں۔ نسبتاً تعلیمی میدان میں سب پشتونوں سے  آگے ہیں۔ وہاں براہ راست اس رسم کا کوئی عمل   دخل نہیں مگر لڑکے والوں کو بڑا جہیز دینا پڑتا ہے۔ جو سونے یا جائیداد کی شکل میں ہوتا ہے۔ عملی طور  پر اگر  آپ رقم کا نقد استعمال کرلیتے ہیں تو یقیناً رقم پانچ لاکھ سے اوپر نہیں جاتی۔مگر لڑکے کا براہ راست جہیز دینا بہت بڑی رقم ہوتی ہے بنسنت نقد رقم کے۔

دونوں رسومات میں پیسہ صرف لڑکی کو ملتا ہے جو کہ میری نظر میں خوش آئند بات ہے۔ کیونکہ یہی پیسہ واپس لڑکے کو مل جاتا ہے۔
دوسری اقوام میں پشتونوں پر یہ اعتراض بھی ہوتا ہے کہ پشتون لڑکیوں کو اپنی مرضی سے جیون ساتھی منتخب کرنے کا کوئی حق نہیں دیا جاتا۔

اعتراض کافی موثر ہے مگر اس اعتراض کو سمجھنے کیلئے ہمیں   پشتون معاشرتی زندگی کے اصولوں کو سمجھنا ہوگا۔
پشتون معاشرے میں مردوعورت کی تربیت ایک خاص میکنزم کے  ذریعے  ہوتی ہے۔ جس میں دونوں فریقین کو اپنی  اپنی  حدود کا علم ہوتا ہے۔ مرد بچے کو یہ سکھایا جاتا ہے کہ اس کا کام محنت مزدوری کرکے اپنے خاندان والوں کو پالنا ہوتا ہے۔ اور بعد ازاں قبیلے کی  روایات کی پاسداری بھی کرنے کی  ذمہ داری اس کے کندھوں پر ڈالی جاتی ہے۔

بچی کو ماں کی گود میں سکھایا جاتا ہے کہ قابل عزت ہو۔ لہذا اپ کا اٹھایا گیا انفرادی قدم پشتون ولی کی عزت کی دھجیاں بکھیر سکتا ہے۔ ایک مجموعی اجتماعی خاندان کا تصور لڑکی کے  ذہن میں نقش کردیا جاتا ہے کہ وہ مرتے دم تک اس پر عمل پیرا رہتی ہے۔ لہذا اس اجتماعی شعور میں پشتونوں میں طلاق یا علیحدگی کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔

ہر قوم کی اپنی نفسیات ہوتی ہیں  اور ہر قوم اپنی  ان روایات اور سوچ کے تابع ہوتی  ہے۔ لہذا کسی نان پشتون کے اعتراضات پر ہم اس لئے بھی انگلی نہیں اٹھا سکتے کیونکہ دونوں کا نقطہ نظر ایک ہوتا ہے مگر سمتوں کا فرق ضرور ہوتا ہے۔
بدقسمتی سے ہمارے کچھ پشتون قبائل میں اس رسم کو ظالمانہ حد تک محدود کردیا گیا ہے۔ جیسے قندھار یا ملحقہ سرحدی علاقوں میں بستے پشتون دس لاکھ سے لیکر چالیس لاکھ تک کی رسم ادا کرتے ہیں اور یہ پیسہ لڑکی کو نہیں دیا جاتا جو واقعی قابل مذمت عمل ہے۔

تعلیم گھر گھر پہنچ چکی ہے۔ اب تو کراچی میں  پشتون لڑکیاں  جینز پہنے بھی نظر آتی ہیں  ا ور مردوں کے شانہ بشانہ دفتری امور بھی سلجھا لیتی ہیں۔ کیا اس سے میرے پشتون ولی کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
میرا جواب ہے ہر گز نہیں!

عارف خٹک
عارف خٹک
بے باک مگر باحیا لکھاری، لالہ عارف خٹک

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *