محبت کا اسرار۔۔مدثر محمود

آسکر وائلڈ نے کہا تھا محبت کا اسرار موت کے اسرار سے بھی زیادہ پراسرار ہے۔۔۔ مجھے یہ الفاظ ماضی کی معروف اداکارہ اور گلوکاره عارفہ صدیقی کے بارے میں حالیہ خبر پڑھتے ہوۓ یاد آئے ۔عارفہ صدیقی جس نے 90 کی دہائی میں اپنی گلوکاری اداکاری اور خوبصورتی سے شوبز کی دنیا میں بھونچال برپا کر دیا تھا ،نے ایک دن اچانک اپنی عمر سے  دو گنا سے بھی زائد عمر کے شخص استاد نذر حُسین سے شادی کر لی جو مالی لحاظ سے آسودہ حال یا امیر بھی نہیں تھا.استاد نذر حسین پیشے کے لحاظ سے موسیقار تھا اور میڈم نور جہاں کی گائی شہرہ آفاق غزلوں جیسے,جو نہ مل سکے وہی بیوفا اور رات پھیلی ہے تیرے سرمئی آنچل کی طرح وغیره کی موسیقی بھی  دے چکا تھا ۔عارفہ صدیقی جیسی سٹار پاور رکھنے والی اداکاره کی عمر رسیدہ شخص سے شادی نے شوبز اور اس کے پرستاروں کو حیران کردیا کیوں کہ  پیسوں یا اچھے لائف سٹائل کے لئے خواتین میں کسی کی محبت ٹھکرا کر عمر رسیدہ شخص سے شادی کے رجحان کی روایت رہی ہے لیکن کسی اداکاره کا اپنے کیریئر کے عروج پر ایسا فیصله اختیار کر کے گوشه نشین هو جانا حیران کن امر تھا جس نےہمیں آسکر وائلڈ کے الفاظ دہرانے پر مجبور کر دیا که محبت کا اسرار موت کے اسرار سے بھی زیادہ پراسرار هوتا ہے۔

اس ساری تمہید کا پس منظر یهی ہےجس نے مجھ سمیت سبھی کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا وہ یہ تھی کہ  استاد نذر حسین جس سے عارفہ نے محبت کی داستان رقم کی تھی عارفه نے اس کی موت کے بعد عدت کا بھی انتظار کرنا گوارا نہ کیا اور استاد نذر هی کے نوجوان شاگرد سے شادی کر لی جو عارفه کی عمر سے آدھی عمر کا ہے اس انہونی نے ہمارے ذہن میں موجود محبت کے قلعے کو متزلزل کردیا ۔ بظاهر خود مختار اور سٹار پاور رکھنے والی خاتون نے محبت میں پیسہ شہرت ٹھکرا کر ادھیڑ عمر کے غریب شخص سے شادی بھی کر لی اپنی عمر کے بیس پچیس سال بھی اس کی محبت میں  گزار  دیے ۔اپنے شوہر سے تا دم مرگ محبت کو نبھاتی بھی  رهی لیکن محبت میں ایسی کیا کمی رہ گئی کہ  عارفہ صدیقی کو ادھیڑ عمر میں آ کرشادی کرنا پڑی اور وه بھی  میچور شخص کی بجاۓ نوجوان سے! اس کا جواب آسکر وائلڈ کے الفاظ هی ہیں کہ  محبت کا اسرار موت کے اسرار سے بھی  زیادہ پراسرار ہے۔

محبت کے دو جزو ہیں روحانی اور جسمانی، محبت کی آسودگی اور تکمیل کے لئے روحانی اور جسمانی دونوں طرح کی محبت کا ملنا ضروری هوتا ہے ۔عارفہ صدیقی کے معاملے میں بھی یہی ہوا کہ  عمر رسیدہ شوہر سے اس کی روحانی ضروریات یعنی سوچ تو مل گئی لیکن جسمانی ضروریات کے حوالے سے اس کی ذات تشنه هی رہی۔ استاد سے اس کی روحانی محبت جسمانی محبت سے مضبوط تر تھی اس لیے اس نے خود کو جسمانی خواہش کے آگے زیر نه ہونے دیا لیکن استاد کی موت کے ساتھ هی وه روحانی محبت سے بھی محروم ہو گئی اور اپنی ذات کا مکمل خالی پن دور کرنے کے لئے اس نے استاد کے جواں سالہ شاگرد سے شادی کر لی ۔

ڈی ایچ لارنس کا ناول لیڈی چیٹرلی کا عاشق اسی طرح کے ریلیشن کی مثال ہے جس میں لیڈی چیٹرلی کا شوہر جنگ میں معذور ہو کر اپنی بیوی کی جسمانی ضروریات پوری کرنے کے قابل نہیں رہتا اور لیڈی چیٹر لی اپنے امیر شوہر کی بےپناہ روحانی محبت کے باوجود اپنے باغ کے چوکیدار سے شادی رچا لیتی ہے کیوں کہ  وہ محبت کا نامکمل جزو جسمانی محبت مکمل کرنا چاہتی ہے

۔ ہندو مذہب مرد عورت کے تعلق کو کاما سوترا فلاسفی کے تناظر میں دیکھتا ہے ۔ مرد اور عورت کے درمیان جسمانی اور روحانی دونوں طرح کی محبت ہونی چاہیے وگرنہ ذات میں جسمانی یا روحانی محبت کا خالی پن ره جاۓ گا ایسا خالی پن بے جوڑ شادیوں میں ہوتا ہے جہاں رشتے ضرورتوں کے تحت طے کیے جاتے ہیں محبت کا روحانی پہلو اتنا ہی ضروری ہے جتنا که جسمانی، روحانی محبت میں مرد اور عورت ایک دوسرے کو سمجھتے اور عزت دیتے ہیں وگرنه مرد و زن کا تعلق جانوروں کی طرح جسمانی هو کر هی رہ جاۓ اسی لئے میاں بیوی کا تعلق سالوں پر محیط ہونے کے باوجود بھی ایک دوسرے کو عزت نہیں دے پاتا اگرچه انہوں نے برسوں جسمانی تعلق قائم کیا ہوتا ہے لیکن روحانی طور پر ایک دوسرے کو سمجھا یا قبول نہیں کیا ہوتا ۔

سعادت حسن منٹو کا افسانہ سو کینڈل پاورکا بلب اس طرح کے تعلق کی اعلی مثال ہے جس میں سیکس سے اکتائی نیند کی خواهشمند عورت خاوند کو جان سے مار کر لاش کے پاس انجام سے بےخبر سو جاتی ہے -محبت کے بارے حتمی راے دینا بھی ممکن نہیں  کیوں کہ کچھ لوگوں کے نزدیک جسمانی محبت معنی هی نہیں رکھتی بلکه ان کے نزدیک ایک نگاہ یار ہی مکمل محبت ہوتی ہے اور هم بالآخر آسکر وائلڈ کے الفاظ دہرانے پر هی مجبور ہو جاتے ہیں mystery of love is greater than the mystery of death

” محبت کا اسرار موت کےاسرار سے بھی زیادہ پراسرار ہے-“

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”محبت کا اسرار۔۔مدثر محمود

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *