• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • سانحہ قندوز اور بحثییت فرد ہماری ذمہ داریاں ۔۔۔ ظفرالاسلام سیفی

سانحہ قندوز اور بحثییت فرد ہماری ذمہ داریاں ۔۔۔ ظفرالاسلام سیفی

تین اپریل کا سورج پُرپیچ پہاڑوں کی اوٹ لیے کسی خونی افق سے طلوع ہوا،آفتاب ابھی سوا نیزے کا فاصلہ ہی طے کرپایا تھا کہ افغانی صوبہ قندوز لہو لہو ہوچکاتھا،ننھے حفاظ خوش گلو ورسیلی آوازوں میں نغمہ سرا تھے،دستار فضیلت سجائی جا چکی تھی کہ یکایک کسی سمت سے سربفلک طیارہ ہلکی دھمک کے ساتھ نمودار ہوااور لمحوں میں صدیوں کو ماتم زدہ ورنجور کرگیا۔

سانحہ قندوز تاریخ انسانی کا بدترین المیہ ہے ہم مگر جس کے متعلق سوال کے مجاز نہیں،تہذیب کا معیار استعمار کی سفید چمڑی ہے وہ جیسا اور جو کرے وہی تہذیب ہے اور معیار۔امت مسلمہ کے کٹتے وجود وجھلستے لاشوں پر آواز اٹھانابدتہذیبی ہی نہیں شدت پسندی،بنیادپرستی،قدامت پسندی اور دہشتگردی بھی ہے،بولے تو کوئی کیوں؟کہنے کا حق ہی کیا ہے؟اٹھنا ہے تو کس بات پر؟آپ پہاڑوں پر بیٹھے ان خانہ بدوشوں کو انسان سمجھتے ہیں تو یہ آپ کی غلطی ہے،یہی تھے جنہوں نے بڑے ہوکر دہشت گرد وبنیاد پرست بننا تھا،انکے جھلستے لاشوں سے ہم نے دنیا کا مستقبل محفوظ کیا ۔۔

یہ ہے تاریخ انسانی کا وہ بدترین بیانیہ جس کی آج کی وہ دنیا علمبردار ہے جسے ہم مہذب وشائستہ کہتے ہیں جس کے کردار واخلاق کی مثالیں ہمارے نام نہاد دانشور دیتے نہیں تھکتے،جن کی نظرمیں داڑھی وپگڑی میں ملبوس کردار مشکوک ہے اسے آج کی دنیا میں جینے کا حق ہے نہ رہنے کا،وہ دہشت گرد بلکہ وہی دہشت گرد ہے،اس کی سوچ سے بحث ہے نہ کردار سے،اس کی تعلیمات کوئی معنی رکھتی ہیں نہ افکار سے سروکار،اس کی علمی حیثیت کارآمد ہے نہ عقلی مستوی،وہ جو ہے غلط ہے کیونکہ وہ محمد عربی فداہ ابی وامی کے لبادہ میں ہے، قندوز سمیت دنیا کا ہر وہ خطہ جہاں خون مسلم ارزاں اور انکا وجود بے معنی ہے وہاں سفید چمڑی کا مذکورہ بیانیہ ہی ہے جو زیر عمل ہے ۔

اقوام متحدہ کے امدادی مشن کا کہنا ہے کہ ان کی حقوق انسانی کی امدادی ٹیمیں حقائق مرتب کر رہی ہیں،ہیومن رائٹس واچ کی سینئر ریسرچریشیاگوسمین کے مطابق انہیں ہلاکتوں بارے تشویش ہے مگر کون بے خبر ہے کہ امدادی مشن کی رپورٹس پایہ تکمیل کو پہنچ پائے گی نہ تشویش بانتیجہ ہوسکے گی،ہم مگر پر امید ہیں نہ امید رکھنے کو کارآمد سمجھتے ہیں،اس بدترین سفاکیت پر ٹسوے بہانے والوں کا ایک اور چہرہ بھی ہے جو ایک مختلف روپ میں دنیا کے سامنے ہے جس کی ادنی جھلک نیٹو وافغان وزارت دفاع کے حکام اور صوبائی گورنر عبدالجبار کے حملے کے سفاکانہ جوازتلاشنے میں دیکھی جاسکتی ہے۔

تاریخ کے ان بدترین کرداروں کے مطابق صوبہ قندوز کے ضلع دشت ارچی کے دارالعلوم الھاشمیہ العمریہ میں طالبان جنگجوؤں کی کوئٹہ شوری کا اجلاس ہورہا تھاجسے نیٹوو افغان فضائیہ کی مشترکہ کاروائی میں نشانہ بنایا گیا،ایک ایسے وقت میں جب عالمی منظرنامہ سوشل نیٹ ورکنگ کی بدولت گلوبل ویلج بن چکا اور جہاں نیل کے ساحل سے تابخاک کاشغر کسی واقعہ وحادثہ کو کھلی آنکھوں دیکھا اور جانچا جاسکتا ہے افغانی گورنر کا مذکورہ بیان انکی ذہنی سطح کو مشکوک کرنے اور انہیں کسی سیارائی مخلوق سمجھنے کے لیے کافی شہادت ہے،کوئی ہے جو ان سے پوچھے کہ جنگجو کسے کہتے ہیں اور کوئٹہ شوری کیا ہے؟ننھی کلیاں جو بقول کسے اپنی لطافت تک کی داد نہ پاسکی تھیں کیا وہ جنگجو اور انکا تعلیمی وقرآنی معصومانہ حلقہ کیا وہ کوئٹہ شوری ہے جسکا حوالہ وہ اپنے شاطرانہ بیان میں دے رہے ہیں؟کیا وہ نہیں جانتے کہ وہ اپنے جن شاطرانہ حوالوں سے بدھیاں ڈال رہے ہیں وہ کسی اور کی نہیں خود انکی اخلاقی سطح دنیا کے سامنے طشت ازبام کیے جارہی ہے؟

ہمیں مگرکچھ کرنا اور جلد کرناہوگا اس احساس کے ساتھ کہ دنیا جس استعماری سرطان میں مبتلا ہے یہ امت مسلمہ کے حق میں متعدی ہے،ایک ایک عضوہمارا آخر کب تک کاٹا جاتا رہے گا؟بے دست وپا لاشہ بننا گوارہ کیا جاسکتا ہے؟اگر اپنے ضمیر سے پوچھے جانے والے ان سوالات کا جواب اثبات میں ہے تو ہمیں کسی تکلف کی ضرورت نہیں،جو ہورہا ہے اچھا ہے اور ہونے دیجیے،اس کے لیے ہمیں کچھ کرنا نہیں بلکہ کچھ بھی نہیں کرنا ہے،لیکن اگر ہم ایسے ہیں نہ ایسا چاہتے ہیں تو پھر ہمیں بحیثیت امت مسلمہ ایک اجتماعی لائحہ عمل کی ہر سطح پر ضرورت ہے،فرد ہو یا افراد،انفراد ہو یا اجتماع،نظم حکومت ہو یا سماجی ماحول ہر ایک کو ہر سطح پر کچھ نہ کچھ کرنا ہوگا،میری نظرمیں فرد اپنی ذاتی اور سماج اپنی داخلی حیثیت کودرست کرلے تو ہمارا آدھا کام ہوجائے گا،ہمیں صرف جہاد ہی نہیں مغرب کے ساتھ علمی وفکری ڈسکیشن کے ماحول کی استعداد بنانا ہوگی،زمانے کے ارتقائی مدارج سے باخبر رہ کر نئی نسل کو ا سکی نفسیات کے مطابق تیارکرنا ہوگا۔

اسلام کا مقدمہ اس کی اصل تصویر کے ساتھ دنیا کے سامنے خوداعتمادی سے پیش کرنا ہوگا،اپنے تعلیمی نظم کو افراد وانفراد کی سطح پر ہی مضبوط بنیادوں پر لانے کی کوشش کرنی ہوگی ،قلم کا مقابلہ قلم،علم کا علم،عمل کا عمل، مکالمے کا مکالمے اور ڈسکیشن کا ڈسکیشن سے ہی کرنا ہوگا،زمانے کی بدلتی ترجیحات،ارتقاء پذیر تصورات اور نت نئی نفسیات کو سمجھنا ہوگا،اہداف کے تعین کے ساتھ افرادکو اپنی اور اجتماع کو اپنی سطح پر امت کی بہی خواہی کو عملی تشکل دینا ہوگا،میری نظرمیں ان کاموں کو ہر سطح پرجتنا جلد ممکن ہو شروع ہوجاناچاہیے۔

زاویہ فکر کی ایک سنگین غلطی یہاں یہ بھی ہے کہ ہم اپنے طور پر یہ طے کرلیں کہ یہ سب حکومتوں کے کرنے کے کام ہیں،لاریب کہ یہ حکومتوں کے بھی کرنے کے کام ہیں مگر اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ان حالات میں ہماری کوئی ذمہ داری نہیں،میری نظر میں یہ زاویہ فکر دورنبوت ومزاج صحابہ سے جو کہ اسلام کے کسی بھی طرز عمل کے لیے معیار ہیں کے سوفیصدی برخلاف ہے،فرد سے فرد سدھرتا ہے اور افراد سماج کی تشکیل کرتے ہیں،ملک معاشرتی مجموعوں کا نام اور دنیا ممالک کے مجموعے کو کہا جاتا ہے،اندریں حالات کیا فرد کے کردار سے نفی ہوسکتی یا کی جا سکتی ہے؟ہرگزنہیں اس لیے بقول اقبال ”ہرفرد ہے ملت کے مقدر کاستارہ“کو عملی منہج کے لیے معیار سمجھتے ہوئے استعمار کا ہر محاذ پر مقابلہ کرنا ہوگا۔تہذیبی ارتقاء ہو یامعاشی چیلنج،عسکری اہداف ہوں یا علمی واخلاقی مقاصد،مغرب کو مغرب کے لہجے،طرزعمل اور انداز گفتار میں ہی جواب دینا صائب عملی منہج ہے جس کی طرف ہمارے ارباب اقتدار واختیاراور عوام وخواص کو جتنا جلد ممکن ہو آجانا چاہیے وگرنہ آج سانحہ قندوز اور کل کوئی دوسراہوگا،قندوز کے دارالعلوم الھاشمیہ میں مسلتے گلاب بھی اگر ہمارے ضمیر کے بند گوشے وا نہ کرسکے تو تسلی رکھیے کہ ہمارا کوئی المیہ آخری نہیں ہوگا۔

ظفر الاسلام
ظفر الاسلام
ظفرالاسلام سیفی ادبی دنیا کے صاحب طرز ادیب ہیں ، آپ اردو ادب کا منفرد مگر ستھرا ذوق رکھتے ہیں ،شاعر مصنف ومحقق ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *