کشمیر کمیٹی ۔۔ سفید ہتھنی ؟/ آصف محمود

مولانا کو ہر گز بھارت پر حملہ کرنے کی ضرورت نہیں ، کشمیر کمیٹی کی کارکردگی کے بارے میں البتہ کوئی سوال ہو تو تہتر کے آئین کے تناظر میں وہ پابند ہیں کہ اس کا جواب دیں۔

جے یو آئی کے احباب اس سوال پر بد مزہ ہو جاتے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کیا ہم دفتر خارجہ ہیں ، کیا مولانا کو آپ نے وزیر خارجہ بنا رکھا ہے ، کیا مولانا پاک آرمی کے سربراہ ہیں اور مسلح افواج ان کی کمان میں ہیں کہ ان سے یہ سوال پوچھا جا رہا ہے ۔ ساتھ ہی وہ مشورے بھی دیتے ہیں کہ مولانا پر تنقید کرنے سے پہلے قومی اسمبلی کے قواعدو ضوابط تو پڑ ھ لیے جائیں تا کہ معلوم ہو سکے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کا دائرہ کار کیا ہے ۔ ان کا خیال ہے کہ قومی اسمبلی میں آکر اتنی کمیٹیاں موجود ہیں ان سے تو کبھی کسی نے اس طرح سوال نہیں کیا جس طرح مولانا سے کیا جاتا ہے ۔ ان کے نزدیک مولانا سے اس باب میں سوال پوچھنا اصل میں اس بات کی علامت ہے کہ پوچھنے والا مولانا سے بغض رکھتا ہے۔ پہلے یہ تلخی صرف کارکنان کے رویے میں ظہور کرتی تھی اس مرتبہ مولانا بھی اس عدم توازن کا شکار ہو گئے اور کشمیر کمیٹی کی کارکردگی پر کیے گئے سوال کے جواب میں فرمایا کہ اور کیا کروں ؟ کیا بھارت پر حملہ کر دوں ؟

اس رویے کا اعتدال کے ساتھ جائزہ لینا بہت ضروری ہے ۔ پہلی بات جو سمجھنے کی ہے وہ یہ ہے کہ کشمیر کمیٹی کی حیثیت ہر گز وہ نہیں ہے جو دوسری قائمہ کمیٹیوں کی ہے۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں درجنوں قائمہ کمیٹیاں ہیں لیکن کسی ایک کمیٹی کے چیئر مین کا رتبہ وفاقی وزیر کے برابر نہیں ۔ حتی کہ قائمہ کمیٹی برائے دفاع قائمہ کمیٹی برائے امور خارجہ کے چیئر مین کو بھی کوئی امتیازی رتبہ نہیں دیا گیا ۔ کسی اور کمیٹی کو کبھی بھی بجٹ میں600 ملین کی اضافی رقم نہیں دی گئی ۔ لیکن کشمیر کمیٹی ایک سپیشل کمیٹی ہے اور اس کے چیئر مین کا مرتبہ وفاقی وزیر کے برابر ہے۔ چنانچہ باقی تمام کمیٹیوں کے چیئر مین پارلیمانی لاجز کی ان رہائشگاہوں میں رہتے ہیں جہاں دیگر اراکین پارلیمان کا قیام ہے لیکن کشمیر کمیٹی کے چیئر مین کو وفاقی وزراء کے لیے مختص کالونی میں خوبصورت رہائش دی گئی ہے ۔

جب کشمیر کمیٹی کو سپیشل کمیٹی قرار دیا گیا اس وقت تو جے یو آئی میں سے کسی نے نہیں کہا کہ ایسا کیوں کیا جا رہا ہے، جب کشمیر کمیٹی کے سربراہ کو وفاقی وزیر کے برابر رتبہ دیا گیا تب بھی کسی نے نہیں کہا کہ یہ نامناسب ہے اور سب کمیٹیوں کے ساتھ ایک سا سلوک ہونا چاہیے ، جب حضرت مولانا کو ایک عالیشان بنگلہ وزراء کی کالونی میں الاٹ ہوا اور وہ وہاں منتقل ہوئے تب بھی کسی کو خیال نہ آیا کہ جب باقی کمیٹیوں کے چیئر مینوں کو وفاقی وزراء کی کالونی میں رہائش نہیں دی گئی تو صرف حضرت صاحب کو کیوں دی جا رہی ہے۔ جملہ مراعات سے لطف اندوز ہونے کے لیے کشمیر کمیٹی ٹھیک ہے لیکن کوئی سوال پوچھ لے کہ قبلہ آپ کی کارکردگی کیا ہے تو احباب خفا ہو جاتے ہیں کہ ساری قائمہ کمیٹیوں کو چھوڑ کر صرف کشمیر کمیٹی سے سوال کیوں کیا جاتا ہے۔ آپ ہی بتائیے کیا علم کی دنیا میں اس رویے کا کوئی اعتبار ہے؟

درست بات ہے کہ مولانا نہ آرمی چیف ہیں نہ ہی وزیر خارجہ ۔ تاہم یہ بھی غلط نہیں کہ کشمیر کمیٹی سے جب پوچھا جاتا ہے اس نے کشمیر کے لیے کیا کیا تو اس کا مطلب ہر گز نہیں ہوتا کہ مولانا وضاحت فرمائیں وہ ابھی تک سری نگر پر قومی پرچم کیوں نہیں لہرا سکے۔ ان سے اس بات کا سوال بھی نہیں ہوتا کہ اقوام متحدہ میں کشمیر کا ز کے لیے پاکستان ابھی تک کیا کر سکا ہے۔ ان سے جب سوال ہوتا ہے تو اسی دائرہ کار کے بارے میں ہوتا ہے جو خود مولانا کے پیغام کے ساتھ قومی اسمبلی کی ویب سائٹ پر جاری فرمایا گیا کہ کشمیر کمیٹی یہ یہ کام کرے گی ۔ اس لیے اس کے جواب میں اپنا نامہا عمال پیش کرنا چاہیے نہ کہ یہ شکوہ کرنا چاہیے کہ مولانا کون سے وزیرخارجہ یا آرمی چیف ہیں کہ کشمیر کے بارے میں ان سے سوال کیا جا رہا ہے۔ مولانا کشمیر کے نام پر مراعات سمیٹ سکتے ہیں، 1300 سی سی کی گاڑی رکھ سکتے ہیں، ہر ماہ 360 لٹر پٹرول لے سکتے ہیں، وزراء کالونی میں رہائش اختیار فرما سکتے ہیں اور گذشتہ دس سال سے آپ ایک وفاقی وزیر کی مراعات سے کشمیر کے نام پر لطف اندوز ہو رہے ہیں تو کشمیر کے بارے میں اگر ان سے ایک سوال ہو جائے تو انہیں کم از کم اس سے بد مزہ نہیں ہونا چاہیے۔

کشمیر کمیٹی کا کام کیا ہے؟ سری نگر فتح کرنا یا بھارت پر حملہ کرنا اس کی ذمہ داریوں میں نہیں ہے۔ اس کی ذمہ داریاں کچھ اور ہیں۔

پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ یہ کمیٹی مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کے ہاتھوں حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں کو مانیٹر کرے گی ۔ سوال یہ ہے مولانا نے اپنی چیئر مینی کے اس سارے عرصے میں اس کے لیے کیا کچھ کیا ؟ کوئی رپورٹ مرتب کی؟ کوئی تحقیق کی ؟ کوئی ریسرچ پیپر لکھا یا لکھوایا گیا ؟

کمیٹی کی دوسری ذمہ داری یہ ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کے بارے میں ملک کے اندر اور ملک سے باہر آگہی کو فروغ دے اور لوگوں کو اس مسئلے کے بارے میں بتائے۔ کیا مولانا بتانا پسند کریں گے کہ اس سلسلے مین ان کی کارکردگی کیا ہے؟بیرونی دورے تو خوب فرمائے گئے لیکن کشمیر کاز کے لیے کیا کیا ؟ حالت یہ ہے کہ ملک کے اندر تعلیمی اداروں میں نصاب کی کتب میں جو نقشے ہین ان میں سارا کشمیر بھارت کا حصہ دکھایا گیا ہے۔ مولانا اور ان کی کمیٹی نے اس معاملے میں کتنی آگہی پیدا کی؟ اس سلسلے میں انہوں نے کیا طریقہ اختیار کیا ؟ کوئی کانفرنس، کوئی ورکشاپ ، کوئی سیمینار، کوئی ایک کام ؟

کشمیر کمیٹی کی تیسری ذمہ داری یہ ہے کہ کشمیریوں کے حق خود اداریت اور اس پر پاکستان کے موقف کے بارے میں عالمی رائے عامہ ہموار کرنا ۔ عالمی رائے عامہ کو تو رکھ دیجیے ایک طرف ، صرف یہ بتا دیجیے کہ کبھی مولانا نے جے یو آئی کی رائے عامہ ہی ہموار کرنے کے لیے کچھ کیا ہو، کشمیر پر کوئی خصوصی کانفرنس وغیرہ کی ہو یا کوئی جلسہ کیا ہو ؟

چوتھی ذمہ داری اس کمیٹی کی یہ ہے کہ یہ ان تمام تنظیموں اور اداروں کی کارکردگی کو مانیٹر کرے جو کشمیر پر کام کر رہے ہیں اور انہیں جہاں ضروری ہو رہنمائی فرمائے۔ سوال یہ ہے کہ اس ضمن میں کمیٹی نے اب تک کیا کارکردگی دکھائی؟ کس کس ادارے کے کام کو مانیٹر کیا اور کیسے کیا ؟ اور ان اداروں کو کیا رہنمائی فرمائی؟ لمبے چوڑے تردد میں نہ پڑ یے ، کوئی ایک ہی بتا دیجیے۔

آخری ذمہ داری یہ ہے کہ اوپر دی گئی تمام ذمہ داریوں اور کاموں کے حوالے سے مختلف معاملات وغیرہ پر غور کر کے خود کوئی فیصلے کر لے یا معاملات پارلیمان کے سامنے رکھ دے ۔ آپ بتا دیجیے اس معاملے میں اس کمیٹی کی کارکردگی کیا رہی؟

بد قسمتی یہ رہی ہے کہ ہمارے ہاں یہ روایت ہی موجود نہیں کہ پارلیمان خود یا اس کی کمیٹیاں ہر سال کے بعد اپنی ایک باقاعدہ رپورٹ جاری کریں تا کہ معلوم ہو کس نے کیا کیا ، کون اجلاس میں سویا رہا ، کون غیر حاضر رہا، کس نے اسمبلی کے کتنے سیشنز میں شرکت کی اور کتنوں میں غیر حاضر رہا ۔ چنانچہ یہ بہت آسان ہوتا ہے کہ سوال ہو آپ کی کارکردگی کیا ہے تو جواب ملے: اتنا کچھ تو کر دیا اور کیا بھارت پر حملہ کر دوں؟

یہ اتنا کچھ جو کشمیر کمیٹی نے کر دیا ، کیا آپ اس سے آگاہ ہیں؟

2016 میں شائع ہونے والی رپورٹس کے مطابق 3 سالوں میں کشمیر کمیٹی کی صرف تین میٹنگز ہوئیں اور اس عرصے میں 175ملین خرچ کیا گیا ۔ جی ہاں 175ملین اور یاد رکھیے ایک ملین میں دس لاکھ ہوتے ہیں ۔ یہ تین میٹنگز بھی کشمیر ڈے کے حوالے سے ہوئیں ۔ یعنی ان بزرگوں کی ایک میٹنگ ہمیں 60 ملین روپوں میں پڑی ۔

گذشتہ سال کے بجٹ میں کشمیر کمیٹی کو اضافی طور پر 600 ملین روپے دیے گئے۔ شنید یہ ہے کہ ان کا آڈٹ تک نہیں ہو سکتا کہ کہاں گئے۔ کارکردگی البتہ آپ کے سامنے ہے ۔ حد تو یہ ہے کہ گذشتہ سال جب پارلیمان نے کشمیر پر بین الاقوامی سیمینار منعقد کیا تو چیئر مین کشمیر کمیٹی نے وہاں تشریف لانا بھی گوارا نہ کیا۔ غیر سنجیدگی کا یہ عالم ہے کہ 2013 سے لے کر اب تک اس کمیٹی کے صرف 8 اجلاس ہوئے ہیں۔ یعنی سال میں ایک اجلاس ۔

اس پر بھی اگر آپ خوش نہیں تو بتائیں حضرت اور کیا کریں ؟ کیا حضرت بھارت پر حملہ کر دیں ؟

آصف محمود
آصف محمود
حق کی تلاش میں سرگرداں صحافی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *