جب گھر سے لاش اٹھاؤگے

سفاکی، درندگی اور بے حسی ہمارے آج کے معاشرے کے وہ ناسور ہیں جو ہمارے ذہن، سوچ ،کرداراور افکار میں اتنی تیزی سے سرایت کررہے ہیں کہ ہم صحیح یا غلط کی پہچان سے بے بہرہ ہوتے جارہےہیں ہم میں برداشت اور رواداری جیسی انسانی خصوصیات ختم ہوتی جارہی ہیں۔ میڈیا اور سوشل میڈیا کی آسان فراہمی اور بے بنیاد پروپیگنڈہ جیسے مسائل ہماری روزمرہ زندگی میں ذہنی تناو، حسد اور انتہا پسندی جیسے محرکات کا باعث بنتے جارہے ہیں ہم جتنی بھی ترقی کرلیں اگر اپنے مستقبل کو تشدد پسندی کے ذریعے مسائل حل کرنے سے نہ بچا سکے تو یہ سچ ہے کہ اس کا پھیلاؤ بالواسطہ یا بلاواسطہ ہم سب کی زندگیوں کو بری طرح متاثر کرے گا اور اس کا احوال ایک ماں ہی سناسکتی ہے جس کے جوان بیٹے کو بنا کسی جرم کے ثابت ہوئے ٹھڈوں، لاتوں، گھونسوں سے زخمی کیاگیا جس سے پہلے اسے گولی بھی ماری گئی۔
مشتعل ہجوم نے لاش کو اس طرح مسخ کیا کہ کوئی جانور بھی کسی دوسرے جانور کی لاش کے ساتھه یہ سلوک نہ کرے۔اور سب سے المناک اور دل سوز حقیقت یہ ہے کہ اس سب کا محرک توہین_رسالت اور توہین_مذہب کو قرار دیاگیا وہ مذہب جو ایک فرد کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے۔ وہ نبی جس کے ہاتھ اور زبان سے کبھی اس کے کسی دشمن تک ایذا نہیں پہنچی پھر ایک جامعہ میں اپنے ہی ساتھیوں کےہاتھوں قتل ہونے والے مشال خان کا کیا جرم تھا؟مشال خان کون تھا اس نے ایسا کیا کیا تھا جس کے نتیجے میں اسے ہاسٹل میں گولی ماردی گئی اور پھر اس کی لاش کوپوری یونیورسٹی میں گھسیٹاگیا یونیورسٹی کے دروازے تک ٹوٹ گئے اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ مشال خان نے توہین_رسالت کی تھی۔
لیکن سوال یہ ہے کہ یونیورسٹی میں موجود ہجوم کو یہ حق کس نے دیا تھا کہ وہ مشال خان کو اس طرح کی عبرتناک موت دے کر جہنم رسید کرتے اور قانون کی دهجیاں اڑادیتے اس کا گناہ تو ثابت نہیں ہوا مگر ہمارے ملک میں تیزی سے سرایت کرتی ہوئی انتہا پسندی، قانون شکنی، ظلم پروری ضرور سامنے آگئی۔ اور المیہ یہ ہے کی یہ روح سوز سانحہ ایک جامعہ میں پیش آیا جہاں طلبہ انسانیت اور قانون کا سبق پڑهنے آتے ہیں ہاتھوں میں کتابوں کی بجائے اسلحہ کس نے دیا۔
شروع دن سے ٹیکسٹ بکس میں اسلام کے احکامات پڑهتے ہوئے آنے والوں کو درسگاہوں میں قتل و غارت اور خون ریزی کا درس کس نے دیا۔ یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ کہیں بھی کوئی سانحہ پیش آجائے تو ہمارے اپنے لوگ اپنے ہی مذہب کوبرا بھلا کہنے لگ جاتے ہیں ۔جو کہ آج کے مادہ پرست دور میں سیکولرزم اور ماڈرنزم کہلاتا ہے مولویوں کواسلام کا ٹھیکیدار بنادیاجاتا ہے جبکہ اللہ یا نبی نے کہیں بھی مذہب کو سمجھنے اور اس پر عمل پیرا ہونے کیلئے مولویوں کی ضرورت اور حیثیت کی نہ تو کہیں کوئی وضاحت دی ہے نہ ہی کوئی حوالہ ۔تو پھر ہم اسلام اور مولویوں ملاؤں کو ایک ہی پلڑے میں کیوں تولتے ہیں؟ لوگ مذہب کی آڑ میں جو کچھ بھی کررہے ہیں اس میں مذہب کا صریحاًکوئی قصور نہیں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ مذہب کے خلاف اتنا پروپیگنڈہ پھیلانے والے بھی ہمارے اپنے پڑهے لکھےلوگ ہیں جن کو اس حقیقت کا مکمل ادراک ہے کہ اسلام کو دنیا کا سخت ترین مذہب ثابت کروانے والےدر اصل مسلمان کیسے ہوسکتے ہیں قرآن اور حدیث میں وہ کونسی آیت یا حدیث ہے جس میں یہ لکھا گیا ہو کہ اسلام کی بالادستی کیلئے نہتے انسانوں خصوصاًعورتوں بچوں والی جگہ پر پہنچ کر سرعام خود کش حملہ کردو اور اپنے آپ سمیت سینکڑوں بے قصوروں کو موت کے گھاٹ اتاردو۔
اگر اسلام ظلم و تشدد اور قتل وغارت کا مذہب ہوتا تو جب طائف والوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پتھر مار مار کر لہو لہان کردیا تو نبی نے خدا کے فرشتے سے قبیلے والوں پر حقیقتاًپہاڑ گروادیا ہوتا مگر نبی تو اپنا خون بہا کر بھی بستی والوں کیلئے ہدایت کی دعا کرتے رہے اگر نبی کے اوپر کوڑا پھینکنے والی بڑهیا آج کے دور میں ہوتی تو اس کو تو گھر میں گھس کر لہولہان کردیا جاتا کیا اس کی بھی لاش کے سا تھ اسلام کے ٹھیکیدار یہی سب کرتے مگر وہ تو خوش قسمتی سے نبی کے دور کی کی کافر عورت تھی کہ نبی پاک اس کے گھر اس کی عیادت کو گئے ، گھر کی صفائی کی۔ تو پھر اسلام کب اور کہاں توہین رسالت کی یہ سزا دیتا ہےجوکہ نہتے مشال خان کو دی گئی ۔

لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ انتہا پسند تنظیموں کے اپنے نیٹ ورکس ہیں جو کہ معصوم ذہنوں کو استعمال کرتے ہیں اس کی ایک مثال سرچ آپریشن میں برآمد ہونے والی میڈیکل کی طالبہ نورین لغاری ہے جو کہ داعش کے ہاتھوں استعمال ہوئی ۔ایک پڑهے لکهے گھرانے کی لڑکی کے سامنے وہ کیا محرکات تھے جنهوں نے طالبہ کو اس انتہائی اقدام پر مجبور کیا کس طرح فیس بک کے ذریعے اس بچی کی برین واشنگ کی گئی کہ وہ کالعدم تنظیم میں شامل ہوگئی۔ اور پھر اس کو خود کش حملے تک کیلئے استعمال کیئے جانے کا پلان تیار کر لیا گیا اب یہ سب مذہب کی آڑ میں ہوا یا نہیں مگر مسئلہ یہ ہے کہ کالعدم اور انتہا پسند تنظیمیں انٹرنیٹ کے ذریعے بڑی آسانی سے نوجوان ذہنوں کی برین واشنگ کرکے انہیں اپنے گھناؤنے عزائم کیلئے استعمال کرسکتے ہیں۔ کوئی بھی کسی کا بھی قتل کرواسکتا ہے کر سکتا ہے یہ ہمارے لئیے لمحہ فکریہ ہے کہ دہشت گرد تنظیمیں ہمارے طلبا، نوجوانوں، بچوں اور ہماری درسگاہوں میں پہنچ رہی ہیں۔ پہلے تو آرمی پبلک سکول میں بچوں کے خون کے ساتھه ظلم کی ہولی کھیلی گئی، تعلیم کے حصول کے راستے کو پر خطر کردیاگیا آج بھی پورے ملک میں ہر وقت سکولز کو دهمکیاں ملتی ہیں سیکیورٹی الرٹ شروع ہوجاتا ہے۔ کیا حال ہوتا ایسے میں ماں باپ کا جنهیں ہر دفعہ آرمی پبلک سکول کا سانحہ یاد دلایا جاتا ہے تخریب کاروں کے کلیجے اے پی ایس میں خون کی ندیاں بہا کر بھی جب ٹھنڈے نہیں ہوئے تو پھر انهوں نے ڈائریکٹ طلبا کو ہی تخریب کاری میں شریک_کار بنانے کیلئے سر جوڑ لئے اور اس ہفتے میں طلبا سے متعلق دو واقعات سے یہ حقیقت مکمل واضح ہے کہ ہمیں اپنی نسلوں کا مائنڈ سیٹ مثبت کاموں میں لگانا ہوگا۔ اپنے مذہب کی اصل روح کواجاگر کرنا ہوگا تاکہ کسی بھی ایرے غیرے کی بے بنیاد تقریر سن کر طلبا اپنے ساتھی طالب علموں کے ساتھ وہ سفاکانہ خونریزی نہ کریں جس کا شکار مشال خان ہوا۔
مگر اس نہتے اور مجبور انسان کا خون رائیگاں نہیں جانا چاہئیے مشال کو انصاف ملنا چاہئیے کیونکہ اس بے بس انسان کو ملنے والا انصاف پوری انسانیت کی توقیر کیلئے اشد ضروری ہے ورنہ کہیں بھی، کوئی بھی کسی بھی طرح کھڑے کھڑے کسی کوبھی کسی بھی جرم کی پاداش میں موت کے گھاٹ اتاردے گا
تم تب آواز اٹھاؤگے۔۔
جب گھر سے لاش اٹھاؤگے۔۔
۔ ان الفاظ نے مجهے جھنجھوڑ کر رکھه دیا کہ اگر بڑهتی ہوئی انتہا پسندی، دہشت گردی اور غنڈہ گردی کو کنٹرول نہ کیا گیا تو ہر دن کہیں سے بھی کسی بھی مشال خان کو قتل کرکے مسخ کردیاجائے گا اور وہ بچہ لازمی نہیں ولی خان یونیورسٹی کا طالبعلم ہو جس کے باپ کو پتہ ہو کہ اس کے بچے کے اوپر چڑھ کے اس کے جسم کو ایذا پہنچانے والے اس کی آنکھوں کے سامنے زندہ سلامت منڈلائیں گے۔ جس کی نمازجنازہ پڑهنے سے مولوی بھی انکار کردے۔ آئے دن مجھے اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ ہم بے حسی کی گہرائیوں میں بری طرح گر چکے ہیں مگر یہ ملا حضرات ان کا کیا جائے جو مری ہوئی لاشوں کو بھی نہیں بخشتے یہ کونسا اسلام ہے جس کی تبلیغ اور ترویج یہ لوگ کررہے ہیں حضرت علی رضی اللہ فرماتےہیں کہ معاشرہ کفر پر قائم رہ سکتا ہے مگر ظلم پر نہیں

Avatar
رابعہ احسن
لکھے بنارہا نہیں جاتا سو لکھتی ہوں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *