بھٹو زندہ ہے۔منصور ندیم

پاکستان میں مسلم لیگ تحریک کے قائدین کے بعد اگر کسی سیاستدان کو عوامی شہرت اور پذیرائی ملی وہ ذوالفقار علی بھٹو تھے، یہ الگ بات ہے کہ ان کے آباء کے پاس بھی انگریزوں کی غلامی کا  سرٹیفکیٹ  تھا   ان کا سیاسی سفر بھی آمریت اور فسطائیت کی چھتری تلے ہی پنپا تھا، خیر پاکستانی سیاست میں تو یہ ایک اعزاز کی بات ہے۔

۱۹۶۵ کی جنگ  کا سہرا بھی ذوالفقار علی بھٹو اور ایوب خاں دونوں کو جاتا ہے، اس جنگ سے پاکستان کی معیشت کو شدید دھچکا لگ چکا تھا، اور یہ جنگ ایوب خان کو لے ڈوبی اور ان کی عوامی مقبولیت کو بھی شدید دھچکا لگا، بھٹو نے اس موقع کا خوب فائدہ اٹھایا اور یہ کہا جو جنگ ہم میدان میں جیت رہے تھے وہ ہم مذاکرات کی میز پر ہار گئے، اور پہلی بار پاکستان کی عوام کو ایسا محسوس ہوا کہ ایک آمر عوام کی تحریک سے جاسکتا ہے، لیکن باوجود ایک آمر کے جانے کے بعد نیا آمر جنرل یحیی خان آگیا۔

۷۰  کی دہائی میں ذولفقار علی بھٹو سنہ ۱۹۷۰ کے الیکشن کے نتیجے میں مغربی پاکستان میں بھاری اکثریت سے جیتے اس الیکشن کی ایک خاص بات یہ تھی کہ یہ الیکشن نیشنلسٹ پارٹیز اکثریت سے جیتی تھیں۔ مشرقی پاکستان میں بنگالی نیشنلسٹ بھاری اکثریت سے جیتے، ملک کے دولخت ہونے پر بہت متنازعہ اور لا تعداد Theories ہیں، کہ ملک کے ٹوٹنے کے ذمہ دار ذوالفقار علی بھٹو تھے یا جنرل یحیی خان یا پھر مشرقی پاکستان سے شیخ مجیب الرحمن تھے، چونکہ یہ ایک بہت طویل اور اختلافی بحث ہے، لیکن ملک کا ایسے ٹوٹنا حقیقتاً  بہت برا ثابت ہوا تھا، اس میں مغربی پاکستان کی زیادتی کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا اور مشرقی پاکستان میں بھی بہاری اور پاکستان کو Own کرنے والوں کے ساتھ کافی ظلم ہوا ۔ اس دن پاکستان ٹوٹ گیا اور دو قومی نظریہ پر بھی سوال اٹھ گیا جس کی بنیاد پر پاکستان بنایا گیا تھا۔

ڈاکٹر مبارک علی نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ” ۱۹۷۳ میں بھٹو نے پاکستان کے دائیں اور بائیں کے Intellectual اور آئیڈیلاز کو بلا کر پوچھا کہ  اب یہ نیا پاکستان ہے اور مشرقی پاکستان اب بنگلہ دیش ہے اور اب ہمیں دیکھنا ہے کہ یہ پاکستان کیسے چلے گا” ۔ اسی عہد میں نظریات پاکستان کی موجودہ Terms دی گئی جو ہمیں آج ایسے ہی پڑھائی جاتی ہیں جیسے یہ قائد اعظم کے دور سے چل رہی ہیں ۔اور پھر ذولفقار علی بھٹو نے بتایا کہ ہم ماڈرن نیشنلسٹ سوشلائز مملکت ہیں۔ اور پھر نفسیاتی طور پر یہ تبدیلی آئی کہ جنوبی ایشیا کی ہسٹری سے جو ہمارا کلچر یا Contact تھا ہمیں اس سے کاٹ کر وسط خلیج سے ہمارا تعلق جوڑنا شروع کیا گیا، کہ ہم وسیع اسلامی امہ کا حصہ ہیں اور فلسطین و سعودی عرب ہمارے لئے اتنے ہی اہم ہیں جتنا ہمارے لئے کشمیر، چونکہ خلیج میں اس وقت نئی نئی دولت آنی شروع ہوئی تھی اور پاکستان سے لوگ روزگار کے لئے خلیجی ممالک جانے شروع ہوئے  اور جب پیسہ آنے لگا تو اسلامی ممالک کی مساوات کا نظریہ ابھرنے لگا، سنہ ۱۹۷۳ کی خلیجی ممالک میں بھٹو نے کافی کردار ادا کیا تھا ، اور سنہ ۱۹۷۴  کی اسلامی کانفرنس کی لیڈر شپ کا بھی تصور دیا۔

پھر نیشنلائزیشن  کا ڈرامہ ہوا ، بڑی صنعتیں تو سمجھ میں آسکتی تھیں لیکن انہوں نے چھوٹے اداروں کو بھی اس کی لپیٹ میں لے لیا ، اس کی وجہ سے ملک میں مڈل کلاس طبقے کی بربادی شروع ہوئی، بھٹو کے پاس جتنا سنہری موقع تھا اسٹیٹ بلڈنگ کا شاید  کسی اور عوامی نمائندے کو کبھی ملا تھا اور نہ ہی آج تک اس کے بعد ملا، لیکن انہوں نے بھی کچھ نہ کیا، سوائے  ۷۰  کی دہائی کو آپ پاکستان ٹی وی ڈرامہ اور سینما کا Golden Era کہہ سکتے ہیں ، بائیں بازو کے رہنماوں  کو بھی انہوں نے سائیڈ پر کر دیا جو بالآخر ان کی سیاسی تنہائی کا سبب بنا۔ ۷۰   کی دہائی کے اواخر میں پاکستان میں ایک ایسی خونی لکیر کھینچی گئی، کہ تاریخ مکمل طور پر بدل گئی ، ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دے دی گئی۔ جنرل ضیاءالحق نے پاکستان پر شب خون مار کر آمریت کے ایک انوکھے دور کا آغاز کیا۔

آج ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے۳۹  سال کے دوران جنم لینے والی تیسری نسل کے لئے بھٹو ایک  پاکستانی تاریخ کے ذیلی حاشیے، بینظیر کے والد اور بلاول کے نانا سے زیادہ کچھ نہیں، اگر بھٹو ازم تھا بھی تو اب وہ کسی مقدس صندوقچی میں بند ہےجس کا دیدار ایک  عام پیشہ ور مرثیہ خوان سال میں ہمیں  بس دو دن ۵  جنوری بھٹو کے یوم پیدائش  اور ۴ اپریل کو کرواتا ہے. جو سیانے سمجھتے ہیں کہ تاریخی عمل کی گاڑی میں ریورس گئیر نہیں ہوتا۔ انہیں اپنے مفروضے کی اوقات دیکھنی ہو تو پاکستان سے بہتر مثال کہاں ملے گی۔

رہی پیپلز پارٹی یا ان کے گدی نشین تو ان کے لئے بھٹو کوئی شخصیت نہیں بلکہ ایک ٹریڈ مارک  ہے جو مسلسل  بکنے کے باوجود مالی اور اقتداری شکم کی آگ بجھانے میں ناکام ہے۔بھٹو کا ایک اور دوسرا نام کئی برس سے چلو چلو لاڑکانہ چلو , بھی ہےجہاں بھٹو   ۵   جنوری کےسالگرہ کے کیک میں  اور۴ اپریل کی  برسی کی بریانی میں پایا جاتا ہے۔بھٹو پیپلزپارٹی کے سیاسی میوزیم میں سجا مجسمہ ہے ۔سوچتا ہوں کہ اگر نواز شریف کی۳۱ سالہ  سیاست، عمران خان کی ۲۱ سالہ سیاست اور مولانا فضل الرحمن کی ۳۷ سالہ سیاست کوئی تبدیلی نہیں لا سکی تو واقعی بھٹو کو مرنے کے بعد بھی ایسے ہی زندہ رہنے کا حق حاصل ہے۔

اچھا  ہی ہوا بھٹو کو ۳۹ برس پہلے پھانسی لگ گئی، کم سے کم یہ تو معلوم ہے کہ اس کو  کس نے لٹکایا،ورنہ  پیپلز پارٹی کے ۵ سالہ اقتدار میں بھٹو کی بیٹی کے قاتل کا نام جاننے کی  نوبت ہی نہیں آسکی ابھی تک ۔ ان ۳۹  برسوں میں اصل ذہنی ٹریجڈی پیپلز پارٹی کے ساتھ ہوئی جو آج بھی گلی گلی کھلے بالوں گھوم رہی ہے اور زرداری کے ہاتھوں یرغمال  ہے ، لیکن کوئی بھی ایسا نہیں جو پیپلز پارٹی کو ایدھی سینٹر پہنچا دے۔

بس ایک ہی نعرہ  زندہ ہے

کل بھی بھٹو زندہ تھا
آج بھی بھٹو زندہ ہے!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *