گوگی گارڈن۔ایک پریم کتھا(11)۔۔۔۔۔ڈاکٹر کاشف رضا

آس پاس کے اسٹوڈنٹس نے نگران کی طرف دیکھا، پھر پیپر دیکھا، پھر حنان کی طرف دیکھا۔ پورا ہال MCQ پیپر پہ حلف اٹھا کے اس بات کی گواہی دےسکتا تھا کہ حنان کو لوز موشنز لگے ہوئے تھے !،نگران نے اس جانے دیا۔

طیبہ اسے دیکھتی رہ گئی حنان اس کی آنکھوں سے  آنکھیں نہیں ملا سکتا تھا۔ طیبہ نے آگے پیچھے سے مدد طلب کی۔کہیں سے کوئی شنوائی نہ ہوئی۔سائیڈزوالوں نے بھی ہاتھ کھڑے کر دیئے۔ انعم میسنی اپنے Pp سے انتہائی چالاکی سے MCQs پوچھ رہی تھی۔طیبہ کو اس پر بہت غصہ آرہا تھا۔ اس کا دل کر رہا تھا کہ جاکے انعم کو بالوں سے پکڑے اور پورےہال میں گھسیٹے !

5 منٹ  باقی بچے تھے۔ اور ننھی مُنی طیبہ کے 20 سوال رہتے تھے۔ اس نے اسی لمحے اپنی زندگی کا اہم اور تاریخی فیصلہ کیا۔ اس نے فوراً آن لائن پیرنی کو یاد کرکے باادب ہاتھ باندھتے ہوئے، آنکھیں بند کرکے استخارہ کیا۔ دو منٹ مراقبے میں رہنے کے بعد اس نے تیزی سے آنکھیں کھولیں اور 3 منٹ  میں تمام 20 کے 20 سوالات کے جواب آپشن B لگادیئے۔ اس کا استخارہ کام آ چکا تھا۔

نگران نے MCq اور ان کی رسپانس شیٹ کلیکٹ کرنا شروع کیں۔ نگران کو طیبہ کی معصومیت پہ  پیار آرہا تھا۔ وہ اس نورانی مخلوق سے پیپر نہیں لینا چاہتا تھا۔ مگر سپریٹنڈینٹ آفت کا پر کالا تھا۔ مجبوراً نگران قطار سے پیپر لیتے ہوئے طیبہ کی سیٹ کے پاس آگیا اور باادب کھڑا ہو گیا۔ ایسے لگ رہا تھا جیسے ایک مرید مرشد کے آستانے پر کھڑا دستک دے رہا ہو۔ طیبہ مسکرا رہی تھی۔ اسے معلوم تھا یہ سب آن لائن پیرنی کی کرامات تھیں۔ سپریٹنڈنٹ کی آواز کڑکی۔ طیبہ نے بوجھل دل کے ساتھ نگران کو پیپر اور Response Sheet تھمائی۔ ایک بار تو اس کا دل کیا کہ MCQ پیپر کو مروڑ کے، ہاتھوں سے مسل کے کچا چبا جائے !

اب وہ حنان کی طرف دیکھ رہی تھی۔ حنان سائیڈ والی لڑکی سے پوچھ پوچھ کر جلدی سے دائرے بھر رہا تھا۔ اسے حنان سے یہ توقع نہ تھی۔ طیبہ کو وہ بہت بے وفا معلوم ہو رہا تھا۔ وہ غصے کے گھونٹ پی کے رہ گئی۔ اس نے سوچا حنان سے زیادہ فرشتہ صفت تو وہ نگران تھا جس نے ایک گھنٹے میں 6 بار طیبہ کو پانی منگوا کے پلایا تھا۔

طیبہ نے SEQs حل کرنا شروع کیے۔ پہلےسوال کے علاوہ اس  کو باقی تقریباً سارے آتے تھے۔اس کے نرم وگداز ہاتھوں کی باریک انگلیوں سے قلم خود بخود چلتا رہا۔ وہ صفحے بھرتی گئی۔ حنان کی دیکھا دیکھی  وہ بھی ادھراُدھر کھسر پھسر کرتی رہی۔ MCQ والا ڈراؤنا خواب ابھی بھی اس کی آنکھوں کےسامنےچل رہا تھا۔ اس کی کوشش تھی کہ کہ SEQs میں Compensate کرلے۔ دو دھاری تلوار کی طرح وہ قلم چلاتی رہی۔ وہ آخری سوال پر پہنچی۔ اسے تپ چڑھ گئی۔ بہت بے ہودہ سوال تھا۔ Oral Contraceptives کےسائیڈ ایفیکٹس پوچھے ہوئے تھے۔طیبہ نے یہ ٹاپک پڑھا ہی نہیں تھا۔ اس نے یہ بے ہودہ سوال حل کرنےسے انکار کر دیا۔

اتنی  نیک سیرت تھی حنان کی طیبہ !

پیپر کا وقت ختم ہونے والا تھا۔ ہر کوئی پیپر جوڑ رہا تھا، سوالات دیکھ رہا تھا کہ کہیں کوئی رہ نہ گیا ہو، کوئی بار بار اپنے رول نمبر کی تسلی کر رہا تھا۔ منحوس نگرانوں نے آج سخت ماحول بنائے رکھا تھا۔

طیبہ نے شیٹس کو اکٹھا کیا، رول نمبر چیک کیا اور سوالات چیک کرنے لگی۔ اس نے سب سوالات حل کیے ہوئے تھے سوائے آخری کے۔ اس نے اندازے سے ادھر ہی مارکس گننا شروع کر دیے۔ ابھی چالیس نمبر بن رہے تھے انشائیہ میں۔ اس نے ادھر ادھر دیکھا، پھر شرم سے آنکھیں جھکا کے چپکے سے جلدی جلدی Oral Contraceptives کے سائیڈ ایفیکٹس بھی لکھ ڈالے۔ ایک بار حنان نے اسے مثالیں دے دے کر سائیڈ ایفیکٹس اچھی طرح سے سمجھا دیے تھے۔

پیپرز لے لیے گئے۔ اسٹوڈنٹس باہر آگئے۔ وہ ایک دوسرے سے ڈسکس کرنے لگے۔ سب کے چہرے اترے ہوئے تھے۔  اب جا کر طیبہ کو معلوم ہوا کہ ہال میں ہُو کا عالم کیوں تھا۔ سب کو جوابات تو دور سوالات بھی یاد نہیں تھے۔طیبہ بھی دوستوں سے ڈسکس کرنے لگی۔ کچھ دیر ڈسکس کرنے کے بعد اسے محسوس ہوا کہ اسے ڈسکس ہی نہیں کرنا چاہیے۔ وہ مایوس ہو رہی تھی۔ ہال کے باہر صرف انعم میسنی ہی مطمئن نظرآرہی تھی۔ وہ بوائز سے سوالات ڈسکس کر رہی تھی۔طیبہ کو وہ بہت بے حیا معلوم ہو رہی تھی۔

طیبہ اپنے حنان کوڈھونڈنے لگی۔

طیبہ کو تھوڑا فاصلے پے نور کا سایہ نظر آیا۔ حنان لائبریری کی طرف جانے والے راستے میں ایک پِلر میں منہ چھپائے کھڑا تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ وہاں سے سارے غائب ہو جائیں اور وہ چھپ چھپا کے بھاگ کے کمرے میں پہنچ کر ماتم کرے! اس کی دائیں آنکھ پھڑک رہی تھی۔ طیبہ اس کے پاس پہنچی۔

دونوں پانچ منٹ خاموشی سے ایک دوسرے کو دیکھتے رہے۔ ایسے لگ رہا تھا جیسے حنان ابھی ایک بچے کی طرح روتے ہوئے طیبہ کی بانہوں میں آجائے گا۔ طیبہ نے خاموشی توڑی۔

“حنان! آپ کی ٹوپی کہاں ہے؟”

حنان نے تیزی سے سر پر ہاتھ پھیرا۔ ٹوپی نہ ملی۔ وہ صبح جلدی میں پہننا بھول گیا۔ اس کا سانس پھول گیا۔ اس نے معذرت خواہانہ چہرے کے ساتھ طیبہ کو دیکھا۔ طیبہ غصے سے لال ہوگئی۔

“مجھے آپ سے یہ امید نہیں تھی حنان ! اتنا اہم پیپر تھا اور تم ٹوپی پہن کر نہیں آئے۔”
“اور دیکھو تمہارے ٹوپی نہ پہننے کا نتیجہ ہے کہ پیپر اتنا مشکل آیا۔ اب سب طلبا آپ کو بد دعائیں دیں گے۔
کاش کہ آپ ٹوپی سجا کر آتے ! کاش !”

طیبہ روہانسی ہوگئی تھی۔ اسے پیپر مشکل آنے کا راز معلوم ہو چکا تھا۔

حنان اپنے آپ کو مجرم محسوس کر رہا تھا۔ صرف طیبہ کا نہیں، بلکہ پیپر دینے والے ہر اسٹوڈنٹ کا۔ اس نے احساسِ ندامت سے آنکھیں جھکا لیں اور ہاسٹل چل پڑا۔

انعم طیبہ کو اپنے  ساتھ ہاسٹل لے گئی۔ انہوں نے اکٹھے Key چیک کرنی تھی۔ ہاسٹل میں ہلچل مچی ہوئی تھی۔ ہر کوئی دہائی دے رہا تھا۔ طیبہ نے پیرنی کو میسنجر پے کال کی۔ طیبہ نے  پہلے تودو چار آن لائن گالیں دیں، پھر جاکر ٹھنڈی ہوئی اور اسے پیپر کا مکمل حال بتایا۔ پیرنی نے اسے مکمل رازدرانہ تسلی دی۔

انعم نے اسے Key پوسٹ ہونے کی اطلاع دی۔دو اور سہلیاں بھی آگئیں۔ Key چیک ہونے لگی۔ 20 Mcqs تو استخارے میں چلے گئے۔ طیبہ کو یاد نہیں آرہا تھا کہ باقی Mcqs کے سوالات کیا تھے، اور اس نے آپشنز کیا لگائے۔ اسے کسی سوال کا ایک لفظ یاد آرہا تھا تو کسی آپشن کا ایک لفظ۔ ڈیڑھ گھنٹے  کِے  چیک کرنے کے بعد اس کے 18 ٹھیک ہورہی تھے۔ انعم میسنی کے 31 ٹھیک تھے۔ طیبہ نے ایک دوسری بنائی Key ٹرائی کی۔ اس Key کے مطابق اس کے 20 ٹھیک بن رہے تھے۔ اسے یہ والی کی بنانے والے بندے پے پیار آرہا تھا.

طیبہ نے حساب کتاب لگانا شروع کیا۔20+41=61

اور Internal Assessment 61+8/9=69/70

اسے پاس ہونے کے لیے مزید پانچ چھے نمبر چاہیے تھے۔ اس کے پاس ہونے کا دارومدار استخارے والے سوالات پے تھا۔طیبہ نے سوچاکہ  اگر ان میں سے آپشن B چل گئے تو وہ آسانی سے پاس ہو جائے گی۔ اس نے ایک بار پھر سے پیرنی کو کال کی اور اسےسے خصوصی دعا کرائی۔

طیبہ کو حنان کی طرف سےکوئی خبر موصول نہ ہوئی تھی۔ اس نے فورا اس کا نمبر ملایا۔ دوسری باری پے حنان نے کال اٹھائی۔

“حنان Whatsapp پہ  آؤ۔ ادھر زیادہ بیلنس نہیں ہے۔”

کال بند کرکے اس نے حنان کو Whatsapp پہ ویڈیو کال کی۔ حنان اُجڑا بیٹھا تھا۔

“طیبہ! میں نے پھندنوں والی ٹوپی پہن کر Key چیک کی مگر پھر بھی میرے 19 ٹھیک بن رہے۔
“میں نہیں ہوتا پاس، میں مر جاؤں گا۔”

یہ کہتے ہی حنان کی گھگھی بندھ گئی۔وہ ہچکیاں لے رہا رہا تھا۔ طیبہ نے اسے تسلیاں دیں۔ اس نے اسے اپنی قسم دی، تب جاکر حنان کی ہچکیاں بند ہوئیں۔
پھر وہ آدھا گھنٹہ  کچھ Mcqs ڈسکس کرتے رہے اور ایک دوسرے کو تسلیاں دیتے رہے۔ دونوں نے ایک دوسرے کو فارما کی رنجشیں بھلا کر پیتھو کی تیاری فوراً شروع کرنے کے بیش قیمت مشورے دیئے۔ انہوں نے وعدہ کیا اب وہ پیتھو کے بعد ہی ایک دوسرے سے بات کریں گے۔

“اور حنان پلیز اب ٹوپی ضرور پہن کے آنا منگل کو۔”

حنان نے نہ بھولنے کا وعدہ کیا اور دونوں نے کال ختم کی۔

دوسری طرف عثمان بھائی طیبہ کو ٹیکسٹ پے تسلیاں دے رہے تھے اور اپنے فارما پاس کرنے کا واقعہ بتا رہے تھے۔

“میرے بھی شاید 24,25 ہی ٹھیک تھے۔ پھر بھی میں نے 88 نمبروں کے ساتھ فارما پاس کی۔”

طیبہ حیران اور مطمئن تھی۔ عثمان بھائی نے اس کی ڈھارس بندھا دی تھی۔

“آپ ٹینش نہ لو۔پاس ہو آپ۔۔۔۔تجربے سے بتا رہا میں۔ جب پیپر مشکل آئے تو مارکنگ بہت Lenient ہوتی ہے۔ سارے پاس ہوتے ہیں۔

پھر بھی اگر کوئی ٹینشن ہے آپ کو، تو میرے UHS میں بہت سے جاننے والے ہیں۔ میں پاس کرادوں گا آپ کو۔ ڈونٹ وٙری مائی ڈیِئر۔”

طیبہ ٹیکسٹ پڑھتے ہوئے مسکرا رہی تھی !

جاری ہے

ڈاکٹر کاشف رضا
ڈاکٹر کاشف رضا
کاشف رضا نشتر میڈیکل یونیورسٹی سے ابھرتے ہوئے نوجوان لکھاری ہیں۔ وہ اپنی شستہ زبان،عام فہم موضوعات اور انوکھے جملوں سے تحریر میں بے پایاں اثر رکھتے ہیں۔ان کی تحریریں خصوصاً نئی نسل میں تیزی سے مقبول ہو رہی ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *