جوانی ضائع نا کریں۔۔ ڈاکٹر عامر میر

پچھلے سال ستمبر میں میرے ہاسپٹل میں ایک نئے ڈاکٹرصاحب آئے۔متھے پہ پاکستانی لکھا ہوا تھا۔آتے ساتھ  ہی مجھ  پہ  ٹھاہ ٹھاہ انگریجی  کے فائر کرنے لگے۔میرا پہلا جملہ یہی تھا۔ڈاٹرشاب،پاکستانی ہو؟
ہاں وہ نہیں میں تو امریکن نیشنل ہوں۔
میں:ویکھن اچ تے پاکستانی لگدے او۔تے میرے نال پنجابی وچ گل کرو۔
بہرحال ڈاکٹرصاحب کا تعارف یہ ہے کہ ملتان کی پیدائش ہیں۔پچانوے میں کنگ ایڈورڈ سے گریجویشن کرنے کے بعد امریکہ چلے گئے۔سپیشلائزیشن کی۔پاکستانی ہاؤس گرل کزن سے شادی ہوئی اور میاں بیوی امریکہ سیٹل ہو گئے۔چار بچے ہوئے اور پچھلے سال 2017 میں ڈاکٹرصاحب جاب کرنے سعودیہ آ گئے۔ڈاکٹرصاحب کی تعیناتی میرے ہاسپٹل میں ہوئی۔سلام  دعا کے بعد میرا ڈاکٹرصاحب سے پہلا سوال یہی تھا کہ ڈاکٹرجی امریکہ دی نیشنلٹی ہون دے باوجود ایتھے کہیڑے امب لین آئے او؟امید کے عین مطابق ڈاٹرشاب نے کوئی سدھا جواب نئیں دتا۔

میں:کتنی دیر ہوئی سعودیہ آئے؟
ڈاکٹرصاحب:تین مہینے ہوئے۔
میں:فیملی بھی ساتھ آئی ہے؟
یہاں اپنی سہولت کے لئے ڈاکٹرصاحب کا نام فیصل رکھ لیتے ہیں۔
فیصل:ہاں پر اب وہ واپس چلے گئے ہیں۔
میں:ہیں؟تو فیملی لائے کیوں تھے؟
فیصل:وہ خیال تھا کہ یہاں کسی اچھے سکول میں ڈال دیں گے
میں:ڈاکٹر جی۔طبیعت ٹھیک ہے؟یہ تو میڑک کا لڑکا بھی جانتا ہے کہ پورے عرب ورلڈ میں امریکہ کے معیار کا کوئی سکول نہیں۔کیا یہ امریکہ بیٹھے پتہ نہیں تھا؟
فیصل:وہ میرا ایک دوست پہلے سے سعودیہ میں ہے۔اُس کے مطابق یہاں سکولنگ ٹھیک ہے۔
میں:ڈاکٹرصاحب،کامن سینس استعمال کرو۔سکولنگ یہاں ٹھیک ہے مگر امریکہ کے ساتھ کیا تقابل  بنتا ہے۔کی ڈفر یار اے  تہاڈا۔
فیصل:ہاں وہ یہاں سکول میں بچے ڈالے تھے مگر بات بنی نہیں اور بیوی بچے واپس چلے گئے۔

اگلی گفتگو مہینوں پہ مشتمل ہے۔ صرف کام کی باتیں   لکھوں گا۔اس دوران ہماری فرینکس ہو گئی۔ہم نے اکٹھی نہاری اور سری پائے بھی کھائے۔

میں:ڈاکٹرصاحب بیوی تو آپ کی یہاں ہے نہیں۔مانا یہاں آپ کو مہینے کا تقریباً  پندرہ لاکھ روپیہ مل رہا ہے۔لیکن اس سینتالیس سال کی عمر میں اکیلا پیسہ سب کچھ نہیں ہوتا۔آپ کو بیوی کی ضرورت ہے جو آپ کو کھانا اور کپڑے استری کر کے دے۔گھر میں بیوی بچوں کی کمپنی چاہیے  ہوتی ہے۔جوانی میں بندہ کپڑے ہاتھ سے دھو لیتا ہے لیکن ادھیڑعمری میں یہ مشکل کام ہے۔بہتر یہی ہے کہ واپس چلے جائیں اور تھوڑے کم پیسوں پہ گزارہ کر لیں۔
فیصل:نہیں وہ میں ابوظبی،دوبئی وغیرہ دیکھ رہا ہوں۔
میں:سکولنگ کا مسئلہ وہاں بھی  ایسا ہی  ہے۔
فیصل:نہیں کچھ بہتر ہے؟سنا ہے۔
میں:ڈاکٹرجی میں آپ کا ڈفر والا دوست نہیں  ہوں۔سکولنگ کے حالات وہاں بھی کچھ ایسے ہی ہیں۔
فیصل:تو پھر یہیں رہ جاتا ہوں۔
میں:یہاں اکیلے کیسے رہو گے؟
فیصل:یہ مسئلہ بھی ہے۔کوئی حل دسو؟
میں:سارے حل میں ہی بتاؤں؟امریکہ سے کچھ نہیں سوچ کر آئے؟خیر یہاں رہنا ہے تو دوجا ویاہ کر لو۔
فیصل:وہ تو مشکل ہو جائے گی۔
میں:تے فیر’ویاہ جیا’ کر لو۔
فیصل:وہ بھی آپ ہی ڈھونڈ دو۔
میں:بہت اچھے۔اب یہ بھی میں ہی ڈھونڈوں۔اچھا ایک حل اور بھی ہے۔یہاں دوبئی قریب پڑتا ہے۔مہینے میں ایک یا دو دفعہ ویک اینڈ پہ دوبئی چلے جایا کرو اور غصہ ٹھنڈا کر کے آ جایا کرو۔
فیصل:اکیلا کیسے جاؤں؟تُسی وی کمپنی دینے کے لئے ساتھ چلو۔
میں:او نئیں ڈاکٹرجی۔میں پتنی ورتا قسم کا بندہ ہوں۔مینوں معاف ہی رکھو۔اکیلے ہی جاؤ۔
بہرحال ڈاکٹرصاحب ویاہ،ویاہ جیا اور دوبئی کو لے کر کنفیوج ہی رہے۔ٹرائیاں بڑی ماریاں پر کوئی گل نئیں بنی اور پھر تین ماہ بعد نومبر میں مجھے بتایا کہ میں short leave پہ امریکہ جا رہا ہوں۔ایک مہینے میں واپس آ جاؤں گا۔یہ سنتے ہی میری ہنسی چھوٹ گئی اور میں نے ڈاکٹرصاحب کو بتایا کہ آپ اب گئے تو دوبارہ واپس نہیں آئیں گے لیکن ڈاکٹرصاحب تو اَڑ گئے۔۔ نہیں میں واپس آؤں گا۔

میں نے کہا ڈاکٹرصاحب آپ نے امریکہ سے مجھے پیسے بھجوانے نہیں  ہیں ادروائز آپ سے سو امریکن ڈالر کی شرط لگا لیتا۔تو جناب ڈاکٹرصاحب نے دسمبر کے اینڈ پہ ہیپی نیوایئر سے پہلے واپس آنا تھا اور آج کے دن تک واپس نہیں آئے۔وٹس ایپ پہ میں بھی ڈاکٹرصاحب کو پندرہ بیس دن کے بعد میسج کر کے پوچھ لیتا ہوں کہ کب واپسی ہے؟اور ہر مرتبہ ڈاکٹرصاحب کا ایک ہی جواب ہوتا ہے کہ فیملی کے کچھ کاموں میں مصروف ہوں۔جلد آ جاؤں گا حالانکہ ڈاکٹرصاحب کی جاب ختم ہوئے عرصہ ہو گیا ہے۔

یہ فیصل جیسے خُشکے یہ ٹاپرز،الٹرا پڑھنے لکھنے والے دولے شاہ،تھری ایڈیٹس والا چتر،رٹے باز مخلوق نہ جانے خود کو اتنا جینیئس و ذہین کیوں سمجھ لیتی ہے؟ان کو شدید وہم ہوتا ہے کہ چونکہ ہم پڑھائی میں ٹاپ پہ ہیں تو دنیا کی جتنی ہمیں سمجھ ہے،کسی اور کو تو ہو ہی نہیں سکتی۔ان ایکچوئیلی پریکٹیکل لائف کے ڈمب اور ڈفر ہوتے ہیں یہ۔پیسے کی اہمیت سے انکار نہیں لیکن ایک سٹیج ایسی بھی آتی ہے جہاں پیسہ سب کچھ نہیں ہوتا۔پیسے کمانے کا فائدہ اُس وقت ہی ہے جب آپ اسے خرچ کر سکیں۔جنازے کے ٹائم پہ اگر آپ کے بنک میں کروڑوں پڑے ہیں تو یہ وہ پیسہ ہے جو آپ  نے اپنی ضرورت سے زیادہ کما لیا ہے۔بچوں کو اچھی خوراک و تعلیم و تربیت و تفریح دینا آپ پہ فرض ہے۔کچھ بیسکس مطلب مکان وغیرہ چھوڑ جائیں یہ بھی ٹھیک ہے۔مگر کروڑوں کا ترکہ چھوڑنا حماقت ہے۔اگر میں نے اپنے باپ سے زیادہ کما لیا ہے تو میرے بچے مجھ سے زیادہ کما لیں۔ذہنی معذور تو نہیں  ہیں۔ہاں اگر بچے کے ساتھ خدانخواستہ کوئی کمی ہے تو پھر اُس کے لئے کچھ مناسب چھوڑ کے جانا آپ پہ فرض ہے۔

اس پوسٹ میں ،مَیں نے ایک سے زائد موضوعات کو چھیڑا ہے۔کچھ موضوعات میں نے اینڈ پہ کنکلوڈ کرتے ہوئے لکھ دیئے اور کچھ کو جان بوجھ کر نہیں چھیڑا۔دیکھتے ہیں کمنٹس میں کتنوں کو کتنی سمجھ آئی  ہے؟

ڈاکٹر عامر میر
ڈاکٹر عامر میر
اکثر لوگ کہتے ہیں کہ میں تکلیف دہ حد تک سچا انسان ہوں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *