مسئلہ فلسطین پر مجرمانہ سازباز۔۔محمد شہابی

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے بیت المقدس کو اپنے دارالحکومت کے طور پر اعلان کئے جانے پر مبنی اسرائیلی اقدام کی حمایت کے بعد ایسی خبریں موصول ہوئی ہیں کہ ان دو ممالک کے حکام نے اردن اور فلسطین اتھارٹی پر بھی اس “صدی کی ڈیل” کو ماننے کیلئے دباو بڑھا دیا ہے۔ متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ عبداللہ بن زاید آل نہیان نے ایک ہفتہ پہلے اپنے دورہ اردن کے دوران اس ملک کے فرمانروا شاہ عبداللہ دوم سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں عبداللہ بن زاید آل نہیان نے دوطرفہ تعلقات میں بہتری لانے کے علاوہ اردن کے فرمانروا سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ وہ خطے میں امن اور استحکام کیلئے متحدہ عرب امارات سے تعاون کریں۔ متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ نے مالی تعاون اور اردن میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی مالی مدد کا وعدہ کرتے ہوئے ملک عبداللہ دوم سے درخواست کی کہ وہ علاقائی ایشوز خاص طور پر مسئلہ فلسطین میں ان سے قریبی تعاون کریں۔

فلسطینی اخبار “القدس” میں شائع ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے اردن اور فلسطین اتھارٹی پر شدید دباو ڈال رکھا ہے کہ وہ اس “صدی کی ڈیل” کو قبول کر لیں جس کے مطابق بیت المقدس کو اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم کا دارالحکومت قرار دیا گیا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق ان دو عرب ممالک کے حکام اردن اور فلسطین اتھارٹی پر مسئل فلسطین کے بارے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے کو مان لینے کیلئے دباو ڈال رہے ہیں جبکہ اردن اور فلسطین اتھارٹی اس منصوبے کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہیں اور اسے اپنی حق تلفی قرار دیتے ہیں۔ مزید برآں وہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دیئے جانے کو مسئلہ فلسطین کی موت سمجھتے ہیں۔ روزنامہ القدس اپنی رپورٹ میں مزید لکھتا ہے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات اردن کے فرمانروا شاہ عبداللہ دوم فلسطین اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس پر یہ منصوبہ قبول کرنے کیلئے دباو ڈال رہے ہیں۔

البتہ اس سے پہلے بھی استنبول میں قدس شریف کے بارے میں اسلامی تعاون کونسل کے منعقدہ ہنگامی اجلاس کے ضمن میں اردن کے فرمانروا عبداللہ دوم اور سعودی عرب کے فرمانروا ملک سلمان بن عبدالعزیز کے درمیان ملاقات انجام پائی جس میں مسئلہ فلسطین سے متعلق ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ منصوبے کے بارے میں بات چیت عمل میں آئی لیکن نتیجہ خیز ثابت نہ ہو سکی۔ اس کے علاوہ دو ماہ قبل بھی اردن کے فرمانروا اور سعودی ولیعہد محمد بن سلمان کے درمیان ملاقات ہوئی جس میں یمن اور قدس شریف کے بارے میں بات چیت ہوئی۔ اس ملاقات میں سعودی ولیعہد نے اردن کے فرمانروا عبداللہ دوم پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کا دارالحکومت تل ابیب سے قدس شریف منتقلی پر مبنی ٹرمپ کے راہ حل کو قبول کر لیں لیکن عبداللہ دوم کی جانب سے اس کی شدید مخالفت اور فلسطین کی حمایت کے نتیجے میں دونوں کے درمیان تلخ کلامی ہوئی اور کوئی مثبت نتیجہ نہ نکل سکا۔

اخبار ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق اردن کے فرمانروا عبداللہ دوم سعودی ولیعہد محمد بن سلمان سے ملاقات ادھوری چھوڑ کر باہر نکل آئے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وہ انتہائی غصے میں تھے اور انہوں سے سعودی ولیعہد سے خدا حافظ بھی نہیں کہا۔ باہر نکلتے ہی وہ سیدھا اپنے مخصوص ہوائی جہاز کی جانب گئے اور اردن واپس لوٹ آئے۔ تفصیلات کے مطابق سعودی ولیعہد محمد بن سلمان نے اس ملاقات میں اردن کے فرمانروا عبداللہ دوم کو مالی امداد کی لالچ دے کر مسئلہ فلسطین کے بارے میں امریکہ کے مجوزہ راہ حل کو قبول کرنے کی پیشکش کی تھی۔ اردن کے فرمانروا نے سعودی ولیعہد کو جواب میں کہا: “ہمیں اس بات کی ضرورت نہیں کہ کوئی ہمیں شجاعت کا سبق پڑھائے۔” اس کے بعد وہ محمد بن سلمان سے خدا حافظی کئے بغیر ملاقات والے کمرے سے باہر نکل آئے اور اس دن کے بعد سعودی عرب اور اردن میں ہر قسم کا رابطہ منقطع ہو چکا ہے۔

ٹائمز اخبار میں شائع ہونے والی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد اور مشیر جیرڈ کوشنر نے حال ہی میں سعودی عرب کا دورہ کیا ہے اور محمود عباس اور عبداللہ دوم کے موقف پر بات چیت کرنے کے ساتھ ساتھ سعودی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مسئلہ فلسطین کے بارے میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا راہ حل قبول کرنے کیلئے ان دونوں پر دباو ڈالیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چاہتے ہیں ڈیڑھ ماہ بعد “یوم النکبہ” کے موقع پر فلسطین اتھارٹی اور غاصب صہیونی رژیم کے درمان “صدی کی ڈیل” کے عنوان سے نئے امن معاہدے کا اعلان کریں۔ کہا جا رہا ہے کہ اس ڈیل میں تمام اہم ایشوز جیسے قدس شریف، نئی حدود اور جلاوطن فلسطینیوں کے بارے میں فیصلہ کیا گیا ہے۔ یاد رہے سعودی عرب اور بعض دیگر خلیجی ریاستوں خاص طور پر متحدہ عرب امارات نے اس منصوبے کی حمایت کا اعلان کر رکھا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یہ اعلان کئے جانے کے بعد کہ وہ یوم النکبہ (مقبوضہ فلسطین پر غاصب صہیونی رژیم کے قبضے کا دن) کے روز قدس شریف میں نئے امریکی سفارتخانے کا افتتاح کریں گے خود امریکہ میں ہی قدس شریف کی حمایت میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ اسی سلسلے میں گذشتہ جمعے کے دن مقبوضہ فلسطین میں بھی مظاہرے ہوئے جن کے خلاف پولیس نے تشدد آمیز رویہ اختیار کیا جس کے نتیجے میں کئی افراد زخمی ہو گئے۔ یہ مظاہرے مقبوضہ فلسطین کے شہر نابلس کے جنوب میں واقع علاقوں اللبن شرقی، بینا اور کفر قلیل میں انجام پائے۔ اسی طرح غاصب صہیونی رژیم کی سکیورٹی فورسز نے غزہ کی پٹی کے شمالی اور مشرقی حصوں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف احتجاجی مظاہروں میں شریک 25 جوانوں کو فائرنگ کر کے زخمی کر دیا۔

کہا جا رہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے اسرائیل میں واقع اپنا سفارتخانہ تل ابیب سے قدس شریف منتقل کرنے کی اعلان کردہ تاریخ قریب آنے پر مقبوضہ فلسطین میں جہادی اور استشہادی کاروائیوں میں بھی تیزی آ رہی ہے۔ چند روز قبل مغربی کنارے میں ایک استشہادی کاروائی انجام پائی جس کے نتیجے میں دو صہیونی فوجی واصل جہنم ہو گئے۔ اسلامی مزاحمت کی تنظیم حماس کے اعلی سطحی عہدیدار اسماعیل رضوان نے اس کاروائی کو امریکہ کی جانب سے اپنا سفارتخانہ قدس شریف منتقل کرنے پر مبنی فیصلے کا قدرتی ردعمل قرار دیتے ہوئے کہا:
“امریکہ غاصب صہیونی رژیم کو درپیش مشکلات اور چیلنجز سے نجات دلانے کیلئے اگلے ہفتے اپنی میزبانی میں غزہ اجلاس منعقد کرنا چاہتا ہے۔ ماہرین کی رائے میں امریکی حکومت کی درخواست پر غزہ کی پٹی میں انسانی بحران کے جائزے کے عنوان سے عنقریب جو اجالس منعقد ہونے والا ہے وہ انتہائی خطرناک اہداف کا حامل ہے۔ واشنگٹن کی کوشش ہے کہ وہ غزہ کی پٹی میں موجود تمام مسائل اور مشکلات کو انسانی نوعیت کا ظاہر کر کے غاصب صہیونی رژیم کے مجرمانہ اقدامات پر پردہ ڈال دے اور اسے بری الذمہ قرار دے دے۔”

بشکریہ اسلام ٹائمز

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *