وردی بدلی سوچ نہ بدلی۔۔عامر عثمان عادل

چند روز پہلے ایک تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس میں یونیفارم میں ملبوس ایک چھوٹا تھانیدار روایتی کرو فر کا مظاہرہ کرتے ہوئے پھول سی نازک بچی کو انتہائی  وحشیانہ انداز میں موٹر سائیکل سے اٹھا کر زمین پر پٹختا ہے بنا کسی قصور کے یہ پرواہ کیے  بغیر کہ بچی کو چوٹ بھی آ سکتی ہے ۔۔رکیے ابھی صاحب کی فرعونیت اور تھانیداری کی تشفی نہیں ہوئی ۔ اس کالے کرتوت کی ویڈیو بنانے اور اسے سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے کی پاداش میں ویڈیو بنانے کی جسارت کرنے والے نوجوان کا بازو توڑ دیا گیا ۔۔

ارے صاحب ہم بات کرتے ہیں تو کچھ جبینیں شکن آلود ہوتی ہیں کہ ہم پولیس کے خلاف ہیں ہمیں پولیس سے نہیں اس کے رویے اور انداز سے شکوہ ہے آپ نے تھانہ کلچر بدلنے کے بلند بانگ دعوے کیے خستہ حال پرانی عمارات کی جگہ کروڑوں روپے سے عالیشان تھانے تعمیر کر دیے، ہر تھانے میں فرنٹ ڈیسک قائم کر کے خوش اخلاق عملہ مامور کر دیا، سوچ بدلی ؟۔۔۔

پھر آپ کو خیال آیا کیوں نہ یونیفارم بدل دی جائے کیا پھر بھی سوچ بدلی ؟ ۔۔۔نہیں ناں !

تو ثابت ہوا کہ عمارت فرنیچر یونیفارم بدلنا اس وقت تلک بے سود ہے جب تک آپ سوچ نہیں بدلتے اور سوچ بدلنا اس وقت تک ایک خواب ہے جب تک آپ پولیس کو غیر سیاسی اور پروفیشنل نہیں بناتے۔ پنجاب پولیس کا لب ولہجہ ان کا رویہ قابل اعتراض ہے ۔ایمان سے بتلائیے کسی بھی بھلے مانس کو پہلی بار تھانے کا رخ کرنا پڑ جائے تو وہ گھبرائے گا کسی بڑے کی سفارش یا ٹاؤٹ  کا آسرا ڈھونڈے گا ،ہم تو یہ چاہتے ہیں جرائم پیشہ عناصر کے ساتھ کوئی  رعایت نہ برتی جائے لیکن عام شہری کے ساتھ تمیز کے ساتھ تو پیش آیا جائے۔

ترقی یافتہ ممالک میں پولیس عوام کی مددگار ہوتی ہے  لیکن ہمارے یہاں معاملہ اس کے  برعکس ہے، ارباب اختیار کو فرصت ملے تو کھوج لگائیں اس سبب کا کہ تمام تر وسائل کمیونٹی پولیسنگ کے تجربوں پولیس لائزن کمیٹیوں کے قیام کے باوجود پولیس ایک شہری کیلئے فرینڈلی پولیس کیوں نہیں بن پائی؟

پولیس یونیفارم عوام کی نظروں میں احساس تحفظ کی بجائے نفرت کی علامت کیوں ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ پولیس مکمل سیاسی ہے، یہ حاکم وقت کی بیٹی کو کوئی  عہدہ نہ رکھنے کے باوجود سلیوٹ پیش کرتی ہے جبکہ ایک عام آدمی کی تین سالہ معصوم بے گناہ بچی کو رعونت اور بربریت سے اٹھا کر  زمین پر پٹختی ہے۔

پولیس کرے بھی کیا جب وہ وی آئی  پیز کے پروٹوکول پر مامور ہو جب اس سے عوام کی حفاظت کی بجائے  سیاسی مخالفین کی سرکوبی کا کام لیا جائے، جب تھانوں میں تعیناتی کا معیار حلقے کے ایم این اے ،ایم پی اے کی خوشنودی کا پروانہ ہو، جب انسپکٹرز کی بجائے سب انسپکٹرز کو ایس ایچ او تعینات کیا جائے گا تو ایسے مناظر تو عام ہوں گے ہی  وقت کے فرعونو!

یہ تصویر تمہارے تمام کھوکھلے دعوؤں  کی قلعی کھولنے کیلئے کافی ہے تھانے بدلے ہیں نہ تھانہ کلچر ہاں یہ ضرور ہے کہ اب تمہاری بربریت وحشت اور شریف شہریوں سے توہین آمیز سلوک کے مناظر بے نقاب ہونے لگے ہیں چھوٹے تھانیدار جی!

آپ کی اولاد ہے،؟ کوئی  بیٹی بھی ہو گی۔ آج گھر جا کے صرف ایک نظر اسے دیکھ کر تصور کرنا کہ اگر کوئی  اسے اٹھا کر زمین پر پٹخنا تو دور ہاتھ بھی لگائے تو آپ کا ردعمل کیا ہو گا؟ غیرت ہوئی  تو اس ہاتھ کو توڑ دیں گے، آپ نے تو وردی اور طاقت کے نشے میں آپ کی غنڈہ گردی کو رپورٹ کرنے والے بازو کو ہی توڑ دیا۔

ڈرو اس وقت سے جب آسمانوں کے رب کی عدالت میں وہ معصوم بچی تمہارا دامن پکڑ کر فریاد کرے گی اور تمہاری پشت پناہی کیلئے کوئئ  پیٹی بھائی ہو گا نہ کوئی   گاڈ فادر!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *