• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • پرویز مشرف کیس ، کیا نواز شریف رہنمائی فرمائیں گے؟۔۔ آصف محمود

پرویز مشرف کیس ، کیا نواز شریف رہنمائی فرمائیں گے؟۔۔ آصف محمود

پرویز مشرف بالآخر وطن لوٹ رہے ہیں ۔ زلفِ یار جیسا نامہ اعمال فردِ جرم کی صورت ان کا منتظر ہے ۔ آئین جیسی مقدس دستاویز کی پامالی کا معاملہ کوئی معمولی چیز نہیں ہے۔ ایک مہذب سماج کی تشکیل کے لیے لازم ہے کہ اس کیس کو اس کے منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔ پرویز مشرف کوکٹہرے میں کھڑاہونے میں ابھی کچھ وقت ہے تو کیوں نہ اس دورانیے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے چند سوالات میاں نواز شریف کی خدمت میں رکھے جائیں تا کہ جب مقدمہ شروع ہوتو اس کی مبادیات ہم پر اچھی طرح واضح ہو چکی ہوں

میاں نواز شریف سے پہلا سوال یہ ہے کہ جنرل مشرف نے آئین شکنی 12 اکتوبر1999 کو کی تھی ۔ اسی دن میاں صاحب کی آئینی حکومت کا نا جا ئز طریقے سے خاتمہ کیا گیا تھا ۔ اسی روز انہیں وزیر اعظم ہاؤس سے گرفتار کیا گیا تھا ۔ پھر ایسا کیا ہوا کہ میاں صاحب کی حکومت نے جب جنرل مشرف کے خلاف مقدمہ درج کرایا تو وہ 12 اکتوبر1999کو کی گئی آئین شکنی کو نظر انداز کرتے ہوئے 3 نومبر کی ایمرجنسی کے نفاذ پر کرایا ؟ میاں صاحب قوم کی رہنمائی فرمائیں کہ بارہ اکتوبر کو جو غیر آئینی کام ہوا وہ بڑا جرم تھا یا تین نومبر کی ایمر جنسی؟ اس کام میں آخر کیا حکمت تھی کہ آپ کی حکومت نے بڑے جرم کو نظر انداز کر دیا اور ایک نسبتا چھوٹے جرم کی بنیاد پر آرٹیکل 6 لگا دیا؟ مسلم لیگ ن کے کئی رہنما اس فیصلے کی ایک قانونی توجیح پیش کرتے ہیں ۔

ان کا کہنا ہے کہ کہ پچھلے مارشل لاز کی طرح 12 اکتوبر کو ہونے والے غیر آئینی اقدام کی پارلیمنٹ نے توثیق کر دی ہے اس لیے وہ جرم نہیں رہے اور تین نومبر کے اقدامات کی توثیق نہیں ہوئی اس لیے تین نومبر سے کارروائی کی جا رہی ہے ۔ یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر پارلیمنٹ کسی غیر آئینی اقدام یا مارشل لاء کی توثیق کر دے تو کیا وہ جرم اب جرم نہیں رہتا اور اس پر کارروائی نہیں ہو سکتی؟ آئین اس کا جواب واضح طور پر نفی میں دے رہا ہے۔ آئینی پوزیشن یہ ہے کہ پارلیمان کی توثیق کے باوجود آئین شکنی کا جرم جرم رہے گا اور اس کے خلاف کارروائی ہو گی ۔ مارشل لاز کی توثیق پارلیمنٹس نے آرٹیکل 270کے تحت کی اور آرٹیکل 270 کا عنوان ہے’عارضی تو ثیق‘۔ تاکہ نظام ریاست چلتا رہے۔

آرٹیکل 12(2) میں صاف لکھا ہے کہ ایسی توثیق کا مطلب یہ نہیں ہو گا کہ ہائی ٹریزن کے مجرم کو سزا نہ دی جائے،اس توثیق کے باوجود سزا دی جائے گی ۔ جب آئین کسی بھی مارشل لاء یا غیر آئینی اقدام کی پارلیمان سے توثیق کے باوجود اسے جرم قرار دے رہا ہے تو میاں نواز شریف قوم کی رہنمائی فرمائیں انہوں نے بارہ اکتوبر کے غیر آئینی اقدام کو کیسے نظر انداز کر دیا؟ اگلا سوال میاں نواز شریف سے یہ ہے کہ کیا آئین میں حکومت کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ کسی آئین شکن کے ایک اقدام کو چھوڑ کر نسبتا کم سنگین اقدام پر آرٹیکل 6 کا مقدمہ قائم کر دے؟ اس کا جواب بھی نفی میں ہے۔ اس کی تفصیل آرٹیکل 12 کی ذیلی دفعہ 2 میں بیان کر دی گئی ہے۔

یہ آرٹیکل حکومت کو پابند کرتا ہے کہ وہ کسی ایک آئین شکنی کو نظر انداز کر کے کسی دوسری کے خلاف ایکشن نہیں لے سکتی۔ بلکہ اس آرٹیکل نے حکومت کو پابند کر دیا ہے کہ آئین شکنی کا مقدمہ جب بھی شروع ہو گا وہ 23 مارچ 1956 سے اب تک کے تمام واقعات پر ہو گا جن میں آئین شکنی کی گئی۔ اب یہ تو کہا جا سکتا ہے کہ باقی آمر زندہ نہیں اس لیے کارروائی تو صرف جنرل مشرف کے خلاف ہو گی اور انہیں اس بنیاد پر نہیں چھوڑا جا سکتا کہ باقی آمر موجود نہیں تو انہیں بھی کچھ نہ کہا جائے لیکن جنرل پرویز مشرف کی تمام آئین شکنیوں پر گرفت لازم ہے۔ اور آئین شکنی کی بنیاد بارہ اکتوبر ہے، تین نومبر نہیں ۔

نواز شریف ہم طالب علموں کی رہنمائی فرما دیں کہ انہوں نے بارہ اکتوبر کے معاملے کو آئین کی کس شق کے تحت نظر انداز کیا؟ آئین کی یہ شق اگر نامناسب لگتی ہے تو اسے بدل دیجیے لیکن جب تک یہ موجود ہے اس کے خلاف فیصلہ کیسے کیا جا سکتا ہے؟ آرٹیکل چھ کی کلاز 2 کے تحت صرف ایک آدمی مجرم نہیں ہوتا بلکہ وہ سب برابر کے مجرم ہوتے ہیں جنہوں نے اس جرم میں مجرم کی معاونت کی ہو، ساتھ دیا ہو، اسے مشورے دے دے کر اکسایا ہویا کسی بھی طریقے سے اسے اس جرم کے ارتکاب کی ترغیب دی ہو۔ اب سوال یہ ہے کہ آرٹیکل چھ کے تحت قائم مقدمے میں اس آرٹیکل کی کلاز 2 کی نفی کیسے کر لی گئی؟ یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ تین نومبر کی ایمر جنسی مشرف نے بطور آرمی چیف کیوں لگائی؟ بطور صدر پاکستان کیوں نہ لگائی؟

ہمیں یاد ہونا چاہیے کہ ظفر علی شاہ کیس میں سپریم کورٹ نے پرویزمشرف کو تین سال حق حکومت دیا تھا اور کہا تھا کہ آرمی چیف حسب ضرورت آئین میں ترمیم کر سکتے ہیں۔ حق حکومت میں تین سال کی شرط تھی لیکن پیراگراف 6 میں جس جگہ آئین میں ترمیم کا حق دیا گیا وہاں ایسی کوئی شرط نہ تھی کہ یہ حق کتنے سال کے لئے دیا جا رہا ہے۔ اب اگر ایمرجنسی ظفر علی شاہ کیس میں سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کا سہارا لے کر لگائی گئی تو کیسے ممکن ہے ظفر علی شاہ کیس کا فیصلہ زیر بحث نہ آئے اور بات بارہ اکتوبر تک نہ جائے؟ نواز شریف ہماری رہنمائی فرمائیں گے کہ وہ اسے تین نومبر تک کیسے محدود رکھنا چاہتے ہیں؟ کس کو بچانا مقصود تھا؟

اب آئیے آخری سوال کی جانب ، سوال یہ ہے کہ کیا نواز شریف پرویز مشرف کا واقعی احتساب چاہتے تھے یا ایک کمزور مقدمہ قائم کر کے صرف سیاسی پوائینٹ سکورنگ کی گئی ہے ؟ کیا وہ وکٹ کے دونوں طرف کھیلتے رہے؟ ایک ٹیم سے کہا دیکھا میں نے آمر کو آرٹیکل چھ کا باؤنسر مار کے تاریخ رقم کر دی ہے اور دوسری ٹیم کو سرگوشی کی کہ ڈرنا مت نو بال پھینکوں گا کچھ نہیں ہو گا ۔ پر ویز مشرف کہہ چکے کہ ان کو ملک سے باہر بھجوانے میں راحیل شریف صاحب نے کردار ادا کیا ۔ نواز شریف صاحب بتائیں کیا یہ بات درست ہے؟ درست ہے تو یہ کردار کیس نوعیت کا تھا ؟ آپ کے درمیان کوئی مفاہمت ہو گئی تھی یا آپ دباؤ میں آ گئے تھے؟ مفاہمت تھی تو کیا یہ سمجھا جائے کہ آپ حکومت میں ہوں تو آپ موقع پرست بن جاتے ہیں اور اب آپ نا اہل ہوئے تو آپ نظریاتی بن گئے؟ اور اگر آپ دباؤ میں آ گئے تھے تو پھر آپ نے راحیل شریف کو اتنی گرمجوشی سے الوداع کیوں کیا جس کی کوئی مثال نہیں ملتی؟ اقتدار میں ایسی وارفتگی اور نا اہل ہو نے کے بعد ایسی برہمی؟ معاملہ کیا ہے؟

نواز شریف صاحب کا تازہ بیانیہ غلطی ہائے مضامین ہے ۔ کہا عدالتیں مشرف کا نام ای سی ایل پر کیوں نہیں ڈالتیں ۔ وہ بھول گئے یہ نام ای سی ایل سے اس وقت نکلا جب وہ خود وزیر اعظم تھے۔ انہیں یہ بھی یاد نہ رہا کہ ان کے وزیر داخلہ احسن نے ابھی ایک روز قبل کہا ہے کہ ای سی ایل میں نام ڈالنے کا فیصلہ اب وفاقی کابینہ کرتی ہے۔ فیصلہ کابینہ نے کرنا ہے پھر عدالت سے کیا گلہ؟ انہیں مشرف کا بیرون ملک ہونا اس وقت تک بالکل یاد نہ آیا جب وہ اقتدار میں تھے۔ اس بیانیے کے کئی مزید کمالات ابھی سامنے آئیں گے۔ جب دانستہ طور پرقائم کے گئے ایک کمزور مقدمے کا مشرف کے وکیل تیا پانچا کر دیں گے تو نواز شریف اپنی کوتاہی تسلیم کرنے کی بجائے فرمائیں گے: میرا بیانیہ مقبول ہو رہا ہے۔ آمروں اور جرنیلوں کو سزا نہیں ہوتی ۔ قانون صرف میرے لیے ہے کیا ؟ بتاؤ مجھے کیوں نکالا؟

Avatar
آصف محمود
حق کی تلاش میں سرگرداں صحافی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *