حبیب جالب ۔ حق گوئی کا اک استعارہ۔۔منصور ندیم

وہ جو اس راہ گزر سے چاک گریباں گزرا تھا

اس آوارہ دیوانے کو حبیب جالب کہتے ہیں۔

۱۳ مارچ سنہ ء ۱۹۹۳ حبیب جالب اس دنیا سے چلے گئے، پچیس برس بیت گئے، حبیب جالب ایک آواز، ایک للکار  جو مظلوموں اور محکموں کی  آواز بنی رہی، وہ آواز کہ جسے دبانے اور جھکانے  خریدنے کی خواہش ہر آمر وقت کے دل میں مچل مچل کر دم توڑ گئی، ان آمروں کے دور میں پتوں نے بھی ہلنا چھوڑ دیا تھا ایسے وقت میں حبیب جالب کی شاعری ایک عام آدمی کی زبان بن گئی۔ ایک عجب دلیرآدمی تھا، جو اس وقت بولتا تھا جب جبر و قہر سے  لوگوں کے بولنے پر پابندیاں لگتی تھیں۔ وہ ایک فکری سوچ کا حامل تھا، ایک ایسی بغاوت کا نام جو غربت  کسمپرسی، اور محرومیوں  کے باوجود حق کی آواز اٹھانے والا حقیقی درویش تھا۔

ان کا نام حبیب احمد تھا  اور تخلص جالب، ۲۴ مارچ ۱۹۲۸ء کو گاؤں افغاناں ، ضلع ہوشیار پور میں پید اہوئے۔۱۴؍اگست۱۹۴۷ء کو کراچی آگئے۔ انھوں نے راغب مرادآبادی کو اپنی کچھ غزلیں اصلاح کے لیے دکھائیں، بعد میں شاگردی ترک کردی۔حبیب جالب نے روزنامہ’’جنگ‘‘ اور روزنامہ’’امروز‘‘ میں ملازمت کی۔فلموں کے لیے گیت لکھے۔ ترنم سے اشعار پڑھتے تھے جو ان کا ایک منفرد انداز تھا۔

گوالیار کے ایک مشاعرے میں فراق گورکھپوری نے جالب کے ترنم پر کہا تھا، میرا بائی کا سوز اور سر داس  کا نغمہ جب یکجا ہوجائیں تو اسے حبیب جالب کہتے ہیں ، ایک بار اور ایک مشاعرے میں جگر مراد آبادی نے کہا کہ حبیب جالب جب اپنے اشعار ترنم سے پڑھتا ہے تو اگر ہمارا دور مے کشی ہوتا تو ہم بر سر مشاعرہ رقص کرتے۔

آزادی کے بعد کراچی آگئے تھے اور کچھ عرصہ معروف کسان رہنما حیدر بخش جتوئی کی سندھ ہاری تحریک میں کام کیا۔ یہیں ان میں طبقاتی شعور پیدا ہوا اور انھوں نے معاشرتی ناانصافیوں کو اپنی نظموں کا موضوع بنایا۔مختلف شہروں سے ہجرت کرتے ہوئے بالآخر ۱۹۵۶ء  میں لاہور میں رہائش اختیار کی۔

۱۹۵۸سنہء کو ایوب خان کا مارشل لاء ایسی شان و شوکت سے نافذ ہوا کہ ہلکی سی مزاحمت بھی محسوس نہ ہوئی، جاگیردار، سرمایہ دار، صنعتکار  تو چپ تھا سو چپ تھا، لیکن اہل فکر نظر  بھی خاموش تھے ،۱۹۶۲ سنہ ء میں اسی ایوبی آمریت نےنام نہاد دستور پیش کیا جس پر جالب نے اپنی مشہور زمانہ نظم کہی جس نے عوام کے جم غفیر کے جذبات میں آگ لگا دی ،  ایسے میں حبیب جالب ایک مشاعرے میں بلوائے گئے، انہوں نے غزل کے بجائے نظم سنانے کا کہا  اور پھر حبیب جالب کی آواز آئی کہ ،

دیپ جس کا محلات ہی میں جلے

چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے
وہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پلے
ایسے دستور کو، صبح بےنور کو
میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا

میں بھی خائف نہیں تختہ دار سے
میں بھی منصور ہوں کہہ دو اغیار سے
کیوں ڈراتے ہو زنداں کی دیوار سے
ظلم کی بات کو، جہل کی رات کو
میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا

پھول شاخوں پہ کھلنے لگے،تم کہو
جام رندوں کو ملنے لگے،تم کہو
چاک سینوں کے سلنے لگے ،تم کہو
اِس کھلے جھوٹ کو، ذہن کی لوٹ کو
میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا

تم نے لوٹا ہے صدیوں ہمارا سکوں
اب نہ ہم پر چلے گا تمھارا فسوں
چارہ گر میں تمہیں کس طرح سے کہوں
تم نہیں چارہ گر، کوئی مانے، مگر
میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا

یہ ایک نظم نہیں تھی، بلکہ یہ  پورےپاکستانی  سماج  کے تمام سوالوں اور مسائل  کو ایک نظم میں پرو دیا گیا تھا، غاصبوں، آمروں کے زمانے میں ایسے کون کہہ سکتا تھا، صرف حبیب جالب کہہ سکتا تھا کیونکہ  اس نے قربانی دوسروں سے مانگنے کے بجائے قربانی اپنی ذات سے دینی شروع کی تھی، تب ہی وہ اپنے نظرئیے کی آبیاری کرسکتے تھے، اپنا پیغام دے سکتے تھے۔یہی ان کی خوبی تھی  کہ انہوں نے عام آدمی کی زبان میں عام فہم نظموں کے ذریعے ایک عام پاکستانی کی تکلیف اور مسائل کا ذکر کیا۔ایوب آمریت کے خلاف حبیب جالب کی نظم “دستور ” ایک ایسا نعرہ بن گئی  جس نے اقتدار کے مکینوں کی نیندیں حرام کردیں۔یہ نعرہ لگانا آسان تو نہ تھا،  شاید یہ بات کرنے کی جرات اللہ کی خاص مہربانی تھی ۔ اس وقت ایوب خان کے مصاحبین اور وزراء سے لوگوں میں اک خاص نفرت  کا اظہار محسوس ہوتا تھا۔ حبیب جالب   نے اس پر بھی ایک نظم لکھ دی۔

میں نے اس سے یہ کہا
یہ جو دس کروڑ ہیں
جہل کا نچوڑ ہیں
ان کی فکر سو گئی
ہر امید کی کرن
ظلمتوں میں کھو گئی
یہ خبر درست ہے
ان کی موت ہوگئی
بے شعور لوگ ہیں
زندگی کا روگ ہیں
اور تیرے پاس ہے
ان کے درد کی دوا
میں نے اس سے یہ کہا
تو خدا کا نور ہے
عقل ہے شعور ہے
قوم تیرے ساتھ ہے
تیرے ہی وجود سے
ملک کی نجات ہے
توہےمہرِ صبح نو
تیرے بعد رات ہے
بولتے جو چند ہیں
سب یہ شرپسند ہیں
ان کی کھینچ دے زباں
ان کا گھونٹ دے گلا
میں نے اس سے یہ کہا
جن کو تھا زباں پہ ناز
چُپ ہیں وہ زباں دراز
چین ہے سماج میں
بے مثال فرق ہے
کل میں اور آج میں
اپنے خرچ پر ہیں قید
لوگ تیرے راج میں
میں نے اس سے یہ کہا
آدمی ہے وہ بڑا
در پہ جو رہے پڑا
جو پناہ مانگ لے
اُس کی بخش دے خطا
میں نے اس سے یہ کہا
جن کا نام ہے عوام
کیا بنیں گے حکمراں
تُو ‘یقین’ہے یہ ‘گماں’
اپنی تو دعا ہے یہ
صدر تو رہے سدا
میں نے اس سے یہ کہا
یہ جو دس کروڑ ہیں
جہل کا نچوڑ ہیں
ان کی فکر سو گئی
ہر امید کی کرن
ظلمتوں میں کھو گئی
یہ خبر درست ہے
ان کی موت ہوگئی
بے شعور لوگ ہیں
زندگی کا روگ ہیں
اور تیرے پاس ہے
ان کے درد کی دوا
میں نے اس سے یہ کہا

یہ نظم مشیر کے نام سے لکھی تھی، اس کے بنیادی خیال  کے بارے میں حبیب جالب اکثر محافل میں  بڑے دلچسپ انداز میں سنایا کرتے تھے کہ  ایک دن انہیں مال روڈ پر قومی ترانے کے شاعر حفیظ جالندھری ملے ، جالب صاحب نے حفیظ جالندھری سے پوچھا، کہ حفیظ صاحب آج کل کیا شغل ہیں ، حفیظ جالندھری نے آسمان کی طرف انگلی کا اشارہ کرتے ہوئےکہا  کہ ” میں اس  کا مشیر ہوگیا ہوں”۔ حبیب جالب نے جواب میں کہا کہ  ” کیا اللہ تعالی کے مشیر ہوگئے ہیں” ۔ حفیظ جا لندھری نے کہا ” ارے نہیں نہیں ! میں تو ایوب خان کا مشیر ہوگیا ہوں، ایوب خان  مجھے بلا لیتا ہے مجھ سے مشورے کرتا ہے، میں ایوب خان کو بتاتا ہوں کہ ان کالے کو ٹوں والوں پر بھی ڈنڈا رکھ، اور یہ جو کالجوں کے لڑکے احتجاج کرتے ہیں ان پر بھی ڈنڈا رکھ” ۔ حبیب جالب کہتے ہیں کہ حفیظ جالندھری کی تقریر جاری تھی اور میرے ذہن میں یہ نظم ” مشیر بن رہی تھی۔

یہ نظمیں جب پھیلنے لگی اور حکمرانوں کو فکر ہونے لگی تو پتہ کروایا کہ یہ کون ہے ، تو پتہ چلا کہ لاہور میں دو کمروں کے گھر میں رہنے والا  ایک مفلوک الحال شاعر ہے ، وہ غربت کے فقط  فسانے نہیں سناتا تھا، بلکہ خود ایسے گھر میں رہتا تھا جہاں غربت اٹھکھیلیاں   کرتی  تھی ، حبیب جالب کی کوئی جائیداد تو تھی نہیں جسے ضبط کر لینے کا خوف انہیں زبان بندی پر مجبور کرتا، کوئی ملازمت نہیں تھی کہ چھن جاتی ،  سو حکمرانوں نے وہی صدیوں سے چلتا پرانا نسخہ استعمال کیا، کہ اس شاعر کو جیل میں ڈال دیا جائے،ایوب خان اور یحیی خان کے دور آمریت میں متعدد بار قید و بند کی صعوبتیں جھلیں ۔ جالب کو ۱۹۶۰کے عشرے میں  جیل جانا پڑا اور وہاں انہوں نے کچھ اشعار لکھے”سرِمقتل” کے عنوان سے جو حکومتِ وقت نے ضبط کر لئے لیکن انہوں نے لکھنا نہیں  چھوڑا، اور ان کی شاعری کسی نہ کسی طرح باہر آجاتی، حکمرانوں نے اس درد سری سے نجات حاصل کرنے کے لئے انہیں میانوالی جیل میں منتقل کردیا،پھر بھی ان کا پیغام پھیلنے لگا، انہیں جیل میں رہنا پڑا تو اس پر ایک نظم لکھی،

فرنگی کا جو میں دربان ہوتا
تو جینا کس قدر آسان ہوتا

میرے بیٹے بھی امریکہ میں پڑھتے
میں ہر گرمی میں انگلستان ہوتا

میری انگلش بلا کی چست ہوتی
بلا سے جو نہ اردو دان ہوتا

جھکا کے سر کو جو ہو جاتا سر میں
تو لیڈر بھی عظیم الشان ہوتا

زمینیں میری ہر صوبے میں ہوتیں
میں واللہ  صدر پاکستان ہوتا

فرنگی کا جو میں دربان ہوتا

۱۹۶۵ ء میں ایوب خان کے دور میں شاہ ایران کے دورہ پاکستان کے موقع پر سرکاری طائفے کے استقبال کے لئے موجودہ   اداکار  شان کی والدہ اداکارہ نیلو کو پیغام بھجوایا گیا کہ اداکارہ نیلو سرکاری طائفے کے لئے رقص کریں ، لیکن اداکارہ نیلو نے رقص کرنے کے بجائے نیند کی زائد گولیاں کھا کر ہسپتال جانا گوارہ کر لیا تو حبیب جالب نے یہ مشہورنظم  اداکارہ نیلوکے لیے اس وقت لکھی ۔ جسے بعد میں ایک فلم زرقا میں بھی فلمایا گیا اور حبیب جالب کو نگار ایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔

تو کہ ناواقف آداب شہنشاہی تھی
رقص زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ہے
تجھ کو انکار کی جرأت جو ہوئی تو کیوں کر
سایۂ شاہ میں اس طرح جیا جاتا ہے
اہل ثروت کی یہ تجویز ہے سرکش لڑکی
تجھ کو دربار میں کوڑوں سے نچایا جائے
ناچتے ناچتے ہو جائے جو پائل خاموش
پھر نہ تا زیست تجھے ہوش میں لایا جائے
لوگ اس منظر جانکاہ کو جب دیکھیں گے
اور بڑھ جائے گا کچھ سطوت شاہی کا جلال
تیرے انجام سے ہر شخص کو عبرت ہوگی
سر اٹھانے کا رعایا کو نہ آئے گا خیال
طبع شاہانہ پہ جو لوگ گراں ہوتے ہیں
ہاں انہیں زہر بھرا جام دیا جاتا ہے
تو کہ ناواقف آداب شہنشاہی تھی
رقص زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ہے

محترمہ فاطمہ جناح کے جلسوں میں حبیب جالب نے بھرپور انداز میں شرکت کی ، عوام کا جم غفیر محترمہ فاطمہ جناح کو دیکھنے اور حبیب جالب کو سننے آتا، ایوب  خان نے جب جمہوری نظام کو دبانے کے لئے لوگوں پر گولیاں چلوائیں، تو محترمہ فاطمہ جناح الیکشن لڑنے نکلیں تھیں۔ تب حبیب جالب نے کہا کہ،

ماں دیکھ کے یہ بولی

یہ دل کے مرے ٹکڑے

یوں روئے مرے ہوتے

میں دور کھڑی دیکھوں

یہ مجھ سے نہیں ہوگا

میں دور کھڑی دیکھوں

اور اہل ستم کھیلیں

خوں سے مرے بچوں کے

دن رات یہاں ہولی

بچوں پہ چلی گولی

ماں دیکھ کے یہ بولی

یہ دل کے مرے ٹکڑے

یوں روئیں مرے ہوتے

میں دور کھڑی دیکھوں

یہ مجھ سے نہیں ہوگا

میداں میں نکل آئی

اک برق سی لہرائی

ہر دست ستم کانپا

بندوق بھی تھرائی

ہر سمت صدا گونجی

میں آتی ہوں میں آئی

میں آتی ہوں میں آئی

ہر ظلم ہوا باطل

اور سہم گئے قاتل

جب اس نے زباں کھولی

بچوں پہ چلی گولی

اس نے کہا خوں خوارو!

دولت کے پرستارو

دھرتی ہے یہ ہم سب کی

اس دھرتی کو نا دانو!

انگریز کے دربانو

صاحب کی عطا کردہ

جاگیر نہ تم جانو

اس ظلم سے باز آؤ

بیرک میں چلے جاؤ

کیوں چند لٹیروں کی

پھرتے ہو لیے ٹولی

بچوں پہ چلی گولی

فاطمہ جناح کی الیکشن کمپین میں اس نظم کو لوگوں میں  ” دستور”  کی طرح پذیرائی ملی، پھر ایوب خان کا دور ختم ہوا ، لیکن جاتے جاتے ایک اور آمر یحیی  خان کی فسطائیت  کو اس قوم پر مسلط کر گئی، یحیی خان کے دور میں مری میں ایک مشاعرے میں حبیب جالب کو بلوایا گیا، اس مشاعرے کی صدارت فیض احمد فیض کر رہے تھے، وہاں ایک تصور لگی ہوئی تھی یحیی خان کی، اس سے پہلے وہاں ایوب خان کی تصویر لگی ہوتی تھی، جب حبیب جالب کو اپنا کلام پیش کرنے کے لئے دعوت دی گئی تو انہوں نے یحیی خان کی تصویر کی طرف اشارہ کرکے اپنی نظم شروع کی اور  کہا،

تم سے پہلے وہ جو اک شخص یہاں تخت نشیں تھا

اس کو بھی اپنے خدا ہونے پہ اتنا ہی یقیں تھا

کوئی ٹھہرا ہو جو لوگوں کے مقابل تو بتاؤ

وہ کہاں ہیں کہ جنہیں ناز بہت اپنے تئیں تھا

آج سوئے ہیں تہ خاک نہ جانے یہاں کتنے

کوئی شعلہ کوئی شبنم کوئی مہتاب جبیں تھا

اب وہ پھرتے ہیں اسی شہر میں تنہا لیے دل کو

اک زمانے میں مزاج ان کا سر عرش بریں تھا

چھوڑنا گھر کا ہمیں یاد ہے جالبؔ نہیں بھولے

تھا وطن ذہن میں اپنے کوئی زنداں تو نہیں تھا

حبیب جالب کا کہنا تھا کہ ”  کہ شاعر کے پاس دو ہی ادارےہوتے  ہیں،  ایک دربار اور دوسرا عوام، تو میں نے عوام کو چن لیااور مجھے اس پر فخر ہے”۔  مشرقی پاکستان کا سانحہ ہر حساس دل پر عذاب بن کر اترا، اس سانحے سے بیشتر ہی حبیب جالب کا سیاسی شعور اس سانحے کا ادراک کر چکا تھا،۱۹۷۰ء کے انتخابات کے بعد جنرل یحییٰ خان نے اقتدار اکثریتی پارٹی کو منتقل نہیں کیا تھا اور اس کے جواب میں ان پر گولیاں برسائیں  تھیں اس وقت مغربی پاکستان اس فوج کشی کی حمایت کر رہا تھا، اس وقت حبیب جالب نیشنل عوامی پارٹی میں تھے، اور اصولی طور پر وہ مشرقی پاکستان  میں نسل کشی کے خلاف تھے، اس وقت  حبیب جالب  بھی ان چند گنے چنے لوگوں میں سے تھے جو لاہور میں مال روڈ پر احتجاج کے لئے اکٹھے ہوئے تھے۔اس وقت انہوں نے پنجاب کے لوگوں خاموش رہنا بزدلی ، اور جیل سے باہر رہنا بے غیرتی ہے،  اس وقت یہ جالب صاحب ہی تھے جو کہہ رہے تھے،

محبت گولیوں سے بو رہے ہو
وطن کا چہرہ خوں سے دھو رہے ہو
گماں تم کو کہ رستہ کٹ رہا ہے
یقیں مجھ کو کہ منزل کھو رہے ہو۔

۱۹۷۴  میں وزیر اعظم بھٹو فسطائیت  و آمریت کے برج   کے سہارے ہی   مسند اقتدار پر پہنچے تھے، حبیب جالب کا ذوالفقار علی بھٹو سے عجب محبت اور نفرت کا تعلق تھا ، کیونکہ آزادی کا تصور، عوام کی فلاح و بہبود کا تصور، جمہوریت کے تصور کے کچھ حصے انہیں ذوالفقار علی بھٹو کی سیاست میں نظر آتے تھے، اس اعتبار سے ان کی کچھ دوستی تھی، کیونکہ  پیپلز پارٹی کا ابتدائی نعرہ ” روٹی ، کپڑا اور مکان” تھا، اور حبیب جالب بھی یہی چاہتے تھے، لیکن جس وقت  بھٹو اقتدار میں آیا تو حبیب جالب نے محسوس کیا بعد از اقتدار  ذوالفقار علی بھٹو نے وہ کام تو کیے ہی نہیں جن کا انہوں نے نعرہ لگایا تھا، بھٹو نے حبیب جالب کو الیکشن لڑنے کی پیشکش بھی کی ، یہ پیشکش انہیں میاں محمود علی قصوری کے گھر پر ملی تھی جو اس وقت نیب کے صدر تھے  ، لیکن حبیب جالب نے یہ کہہ کر  مسترد کردیا کہ ” کبھی سمندر بھی دریا میں گرے ہیں “۔ اور آپ کیسے ہمارا ساتھ دے سکتے ہیں ، نو سال تو آپ خود جرنیلوں کے سائے تلے رہے۔ حبیب جالب کی زندگی کی لغت میں سمجھوتے اور  منافقت جیسے الفاظ کبھی نہیں رہے، ذوالفقار علی بھٹو کے منہ پر سچ بات بولنے کا حوصلہ حبیب جالب کو ہی تھا۔اسی تعلق میں ایک بار بھٹو کو کہا کہ ”

نہ گفتگو سے ، نہ وہ شاعری سے جائے گا

عصا اٹھاو، کہ  فرعون اسی سے جائے گا۔

ذوالفقار علی بھٹو کو بھی یہ انداز پسند نہ آیا اور ان کو نام نہاد حیدرآباد سازش کیس میں بند کردیا، اسی دور میں جالب صاحب کی یہ نظم بہت مشہور ہوئی۔

قصر شاہی سے یہ حکم صادر ہوا،
لاڑکانے چلو، ورنہ تھانے چلو

حبیب جالب جب  حیدر آباد سازش کیس میں جیل میں تھے  تو گرفتاری کے بعد ڈی ایس پی نے حبیب جالب سے کہا ’’آپ کے دیگر کامریڈوں سے بات ہو گئی ہے انہیں ہم نے چھوڑ دیا ہے اگر آپ بھی ولی خان کے خلاف بیان لکھ دیں تو ہم آپ کو ابھی چھوڑ دیں گے ورنہ عمر بھر حیدر آباد جیل میں سڑتے رہیں گے۔یہ ایسا کیس ہے جس میں آپ شاید ہی زندہ بچیں‘‘۔ جالب صاحب نے ڈی ایس پی سے کہا ’’جیل میں تو شاید چند سال جی بھی لوں مگر معافی نامہ لکھ کر میں چند دن بھی زندہ نہیں رہ سکوں گا بہتر ہے کہ آپ اپنی کارروائی کریں‘‘، ڈی ایس پی نے بڑے غصے سے حوالدار سے کہا ’’اس کو ہتھکڑی ڈالو ۔۔‘‘ اور یہ کہہ کر حیدر آباد جیل روانہ کردیا۔

پھر جنرل ضیا کے آمریت کے دور کا آغاز ہوا، اس دور کا استقبال بھی ہر ابن الوقت طبقے نے خوب کیا، لیکن حبیب جالب کا رد عمل بالکل ہی الگ تھا، اور ضیاءالحق عوام کو یہ تاثر دے رہا تھا کہ سول سوسائٹی ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی پر خوش ہے ، ضیاء الحق کے مارشل لاء  کے دور میں ہی  حیدرآباد سازش کیس ختم ہوا اور حبیب جالب کو رہائی  ملی تو انہوں نے اوروں کی طرح بھٹو دشمنی میں نہ ہی ضیاءالحق سے ہاتھ ملایا اور نہ ہی فسطائیت کے ترانے گائے بلکہ  اس وقت پریس کلب میں صحافی برادری کی طرف سے حبیب جالب کے اعزاز میں ایک محفل منعقد کی گئی اور اس  میں ہزاروں کا مجمع موجود تھا  وہاں حبیب جالب نے یہ نظم پڑھی۔

ظلمت کو ضیا ء صر صر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا

پتھر کو گُہر ، دیوار کو دَر ، کرگس کو ہُما کیا لکھنا
اک حشر بپا ہے گھر گھر میں ، دم گُھٹتا ہے گنبدِ بے دَر میں
اک شخص کے ہاتھوں مدت سے رُسوا ہے وطن دنیا بھر میں
اے دیدہ ورو اس ذلت سے کو قسمت کا لکھا کیا لکھنا
ظلمت کو ضیاء صر صر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا

یہ اہلِ چشم یہ دارا و جَم سب نقش بر آب ہیں اے ہمدم
مٹ جائیں گے سب پروردۂ شب ، اے اہلِ وفا رہ جائیں گے ہم
ہو جاں کا زیاں، پر قاتل کو معصوم ادا کیا لکھنا
ظلمت کو ضیاء صر صر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا

لوگوں ہی پہ ہم نے جاں واری ، کی ہم نے انہی کی غم خواری
ہوتے ہیں تو ہوں یہ ہاتھ قلم ، شاعر نہ بنیں گے درباری
ابلیس نُما انسانوں کی اے دوست ثنا کیا لکھنا
ظلمت کو ضیاء صر صر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا

حق بات پہ کوڑے اور زنداں ، باطل کے شکنجے میں ہے یہ جاں
انساں ہیں کہ سہمے بیٹھے ہیں ، خونخوار درندے ہیں رقصاں
اس ظلم و ستم کو لطف و کرم ، اس دُکھ کو دوا کیا لکھنا
ظلمت کو ضیاء صر صر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا

ہر شام یہاں شامِ ویراں ، آسیب زدہ رستے گلیاں
جس شہر کی دُھن میں نکلے تھے ، وہ شہر دلِ برباد کہاں
صحرا کو چمن، بَن کو گلشن ، بادل کو رِدا کیا لکھنا
ظلمت کو ضیاء صر صر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا

اے میرے وطن کے فنکارو! ظلمت پہ نہ اپنا فن وارو
یہ محل سراؤں کے باسی ، قاتل ہیں سبھی اپنے یارو
ورثے میں ہمیں یہ غم ہے ملِا ، اس غم کو نیا کیا لکھنا

ظلمت کو ضیاء، صَر صَر کو صبا ، بندے کو خدا کیا لکھنا۔

حبیب جالب کا یہ نظم لکھنا ایک گناہ ہوگیا، انہیں پھر جیل بھیج دیا گیا، آج کے چوہدری برادران کے والد چوہدری ظہور کی حبیب جالب سے کچھ دوستی تھی، انہوں نے حبیب جالب سے کہا میں نے ضیاءالحق سے بات کرلی ہے  تم بس اپنی نظم سے یہ ایک مصرعہ  نکال دو ” ظلمت کو ضیا، بندے کو خدا کیا لکھنا” تو میں تمہیں  جیل سے نکلوا لوں گا۔ لیکن حبیب جالب  نے کہا میں نے شعر لکھ دیا اب وہ عوام کی امانت ہے۔

حبیب جالب کی بیگم ایک دن اُن سے ملاقات کیلئے جیل گئیں اور جالب سے کہنے لگیں۔ آپ تو جیل میں آگئے ہو یہ بھی سوچا ہے کہ بچوں کی فیس کا کیا بنے گا اور گھر میں آٹا بھی ختم ہونے والا ہے۔ حبیب جالب نے اس ملاقات کے بارے میں ایک نظم لکھی۔ جس کا عنوان ”ملاقات“ رکھا۔

ملاقات

جو ہو نہ سکی بات وہ چہروں سے عیاں تھی
حالات کا ماتم تھا ملاقات کہاں تھی

اس نے نہ ٹھہرنے دیا پہروں مرے دل کو
جو تیری نگاہوں میں شکایت مری جاں تھی

گھر میں بھی کہاں چین سے سوئے تھے کبھی ہم
جو رات ہے زنداں میں وہی رات وہاں تھی

یکساں ہیں مری جان قفس اور نشیمن
انسان کی توقیر یہاں ہے نہ وہاں تھی

شاہوں سے جو کچھ ربط نہ قائم ہوا اپنا
عادت کا بھی کچھ جبر تھا کچھ اپنی زباں تھی

صیاد نے یونہی تو قفس میں نہیں ڈالا
مشہور گلستاں میں بہت میری فغاں تھی

تو ایک حقیقت ہے مری جاں مری ہم دم
جو تھی مری غزلوں میں وہ اک وہم و گماں تھی

محسوس کیا میں نے ترے غم سے غم دہر
ورنہ مرے اشعار میں یہ بات کہاں تھی.

۱۹۸۶ سنہء اپریل میں محترمہ بینظیر بھٹو جب پاکستان آئی تو پاکستان میں لاکھوں کا مجمع اور حبیب جالب کی  یہ خوبصورت نظم ان کے استقبال کی منتظر تھی،

ڈرتے ہیں بندوقوں والے اک نہتی لڑکی سے،
پھیلے ہیں ہمت کے اجالے اک نہتی لڑکی سے
ڈرے ہوئے ہیں، مرے ہوئے ہیں لرزیدہ لرزیدہ ہیں،
ملا، تاجر، جنرل جیالے، اک نہتی لڑکی سے۔۔۔
’آزادی کی بات نہ کر، لوگوں سے نہ مل‘ یہ کہتے ہیں
بے حس، ظالم، دل کے کالے، اک نہتی لڑکی سے۔۔۔!!!

آمریت کے بعد جب پیپلز پارٹی کا پہلا دور حکومت آیا ، اور حبیب جالب نے محترمہ بینظیر بھٹو کو ایک سربراہ کے طور پر بے بس پایا ، اور معاشرے کے پسے ہوئے طبقے کی مزید زبوں حالی دیکھی اور عوام کے حالات کچھ نہ بدلے تو حبیب  جالب ایک بار پھر پکار اٹھے۔

وہی حالات ہیں فقیروں کے
دن پھریں ہیں فقط وزیروں کے
ہر بلاول ہے دیس کا مقروض
پاؤں ننگے ہیں بے نظیروں کے

حبیب جالب نے کا انتقال ۱۳  مارچ ۱۹۹۳ء کو لاہور میں ہوا اور انھیں قبرستان سبزہ زار اسکیم لاہور میں سپرد خاک کیا گیا، آج ان کی ہم سے جدا ہوئے 24 برس بیت گئے لیکن  حبیب جالب حق گوئی کا ایک استعارہ تھے، اپنی زندگی میں حکومتی مخالفتوں کے ساتھ ساتھ عوامی حمایت کا بھی ایک جم غفیر ان کے ساتھ تھا ۔ جن میں ہر شعبۂ زندگی کے لوگ شامل تھے ۔ جن سے آپ کسی نہ کسی قسم کا فائدہ اٹھا سکتے تھے مگر انہوں نے ایک معمولی سا فائدہ نہ اپنی ذات کے لیے اٹھایا اور نہ اپنے اہل خانہ کو کچھ حاصل کرنے دیا ۔ ان کے بچے معمولی تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کر کے جوان ہوئے ۔حبیب جالب کی سیاسی شاعری آج بھی عام آدمی کو ظلم کے خلاف بے باک آواز اٹھانے کا سبق دیتی ہے۔ حبیب جالب کی پوری زندگی فقیری میں گذری ۔

حبیب جالب کی شاعری بلا شبہ ہماری تاریخ کی وہ دستاویز ہے ، جس میں ہماری کوتاہیوں اور نا اہلیوں کو خوبصورت  انداز میں لکھا گیا ہے

تاریخ   جو  کبھی  ہم سے  مانگے گی  حساب

ہم پیش کریں گے تیرے نغموں کی کتاب

تاریخ  نے خلقت  کو   تو قاتل  ہی  دیئے

خلقت نے اسے دیا ہے جالب سا جواب!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *