عوام جائے بھاڑ میں۔۔۔محمد منیب خان

 ذہن میں جھّکڑ چل رہے ہیں، سوچ کے پر کٹے ہوئے محسوس ہو رہے ہیں اور الفاظ شکست و ریخت کے بعد اس قدر گھس پھٹ گئے ہیں کہ اب سوچ کو الفاظ کا جسم میسر نہیں رہا۔ میں کوشش کررہا ہوں کہ الفاظ کچھ اس قابل تو ہوں کہ ذہن میں چلتے جھّکڑ سے منتشر ہوتے خیالات کو کچھ تو معنی و مطالب دیں۔ میں یہ جاننے کی کوشش کر رہا ہوں کہ وقت کا دھارا مجھے اس وقت کہاں لے آیا ہے۔ فکر فردا ہے تو صرف اس لیے کہ ماضی کے تجربات ہولناک شکلوں میں مجھے منہ چڑا رہے ہیں۔ میں آنکھیں بند کرتا ہوں تو ماضی کے عجیب و غریب سیاسی منظر میری نظروں کے سامنے گھوم جاتے ہیں۔

میں کریدنا چاہتا ہوں کہ وہ کون سے عوامل تھے جو صرف پاکستان بننے کے گیارہ سال بعد ہی مارشل لا کی راہ ہموار کیے بیٹھے تھے۔ اس وقت سیاسی افق پہ کون سے لوگ موجود تھے جو ملک کو چلانے کے حوالے سے بانجھ ہو چکے تھے؟ میں جاننا چاہتا ہوں کہ مادر ملت کو عوام نے کیوں پذیرائی نہیں دی اور ان کو بدترین شکست کا سامنا کیوں کرنا پڑا؟

اور کوئی مجھے بتائے کہ جب مادر ملت کے  کردار پہ کیچڑ اچھالا جا رہا تھا تو یہ قوم کس فریب میں یہ سب برداشت کر رہی تھی؟ مجھے معلوم کرنا ہے کہ ایوب خان کے دور سے لے کر سید مشرف کے آمرانہ دور تک سب فوجی حکمرانوں کو وزیر خزانہ بیرون ملک سے ہی کیوں درآمد کرنا پڑے؟ گویا ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے اسلامی سوچ والے ضیا اور لبرل سوچ والے مشرف۔

یہ بھی پڑھیں :  غلط روایتوں کے امین۔۔محمد اشتیاق

میں کھوجنا چاہتا ہوں کہ ہر آمر کے غیر آئینی اقدام سے پہلے ایسا کون سا سیاستدانوں کا قحط الرجال تھا کہ جس کو صرف غاصب ہی دور کر سکتے تھے؟

یہ سارے سوالات اس وقت میرے ذہن  میں ہلچل مچائے ہوئے ہیں۔ لیکن ان سارے سوالات کا موجودہ سیاسی منظر نامے سے کیا تعلق؟۔۔ تعلق تھا یا نہیں ،لیکن تعلق بنا دیا گیاہے کیونکہ پگڑیاں اچھالنے کا موسم بہار پھر سے جوبن پہ ہے۔ اور یہ موسم آنا بھی بہت ضروری تھا۔ کیونکہ سیاستدان جب اپنی “اوقات” بھول جائیں اور سیاست کے ریگزار میں تین دہائیاں گزار کر دو بار دو تہائی اکثریت سے کامیاب ہو کر خو کو لیڈر سمجھنے لگیں اور وہ یہ بھول جائیں کہ جنرل جیلانی کی مرہون منت سیاست میں ان پہ دست شفقت رکھ کر ان کو کامیاب کروایا گیا تھا تو پگڑی اچھالنا بنتی ہے۔

مانا کہ آپ کو دو تہائی اکثریت دوبار نصیب ہوئی لیکن آپ یہ بات کیوں بھول جاتے ہیں کہ پہلی بار دو تہائی اکثریت حاصل کرنے کے صرف ڈھائی سال بعد ہی آپ ایٹمی دھماکے کر کے سکیورٹی رسک بن گئے۔ اور دوسری بار دو تہائی اکثریت حاصل کر کے خطے میں امن کی داغ بیل ڈالنے کی کوششوں میں چند لوگوں کے پیٹ پہ لات مارنے کا گناہ اپنے سر لے بیٹھے۔

آپ کو زعم تھا کہ میں عدالت سے نااہلی کے بعد اب ووٹ کی حرمت بحال کراؤں گا۔ پہلے عدلیہ بحال کی تھی اب عدل بحال ہوگا۔ اللہ بھلا کرے ہمارے سر کے سائیں ابھی سلامت ہیں ان کے ہوتے  ہوئے آپ نے یہ سوچ بھی کیسے لیا کہ آپ کوئی ایسا کام کر سکتے ہیں۔ آپ نے ووٹ کی حرمت بحال کرنی تھی نا تو دیکھیے اب بلوچستان اسمبلی کا وزیراعلی ایسا ممبر ہے جس نے چھپن ہزار رجسٹرڈ ووٹوں میں سے صرف ساڑھے پانچ سو ووٹ لے کر کامیابی سمیٹی تھی۔ لیکن سر کے تاج سلامت ہوں تو وہ سب سے کمزور بچے کو بھی کامیاب بنا دیتے ہیں۔ تو وہی ہوا کامیاب بنا دیا۔ اور آپ ووٹ کی حرمت کا چورن بیچتے رہے۔

یہاں پر بھی بس ہو جاتی تو شاید ٹھیک تھا لیکن آپ اس سے اتنا سبق نہ سیکھتے اس لیے براہ راست آپ کو سبق سیکھایا گیا۔ اور ایوان بالا کے اراکین کے انتخاب سے لے کر چئیرمین کے انتخاب تک فرشتوں نے اپنا بھرپور کام دکھایا اور سب جانتے ہیں کہ فرشتے صرف اللہ کی رضا سے کام کرتے ہیں ان کی اپنی کوئی منشا و مرضی نہیں ہوتی۔

یہ بھی پڑھیں : میری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں ۔۔کفایت الرحمن

سینیٹ میں جو کچھ ہوا یہ اگر کوئی سیاسی جماعت کرتی تو شاید ساری عمر کا لیبل اس جماعت کے ساتھ لگ جاتا لیکن اب یہ سارا گند سونے کی طشتری میں چاندی کے ورق سے سجایا گیا ہے اس لیے سب نونہال نہال ہو رہے ہیں۔ آپ کو اگر نواز شریف پسند نہیں تو یقین مانیں ہمیں بھی پسند نہیں تھا۔ لیکن آپ نے وہ کھیل کھیلا کہ ہمیں اس سے بے  تکی ہمدردی ہونے لگی ہے۔ اور اب ہمدردی کا وقت بھی ہے۔ کہ میرے سر کے سائیوں (اللہ سلامت رکھے) نے ٹریلر نہیں پوری فلم چلا دی ہے۔ اور اب اس فلم کا سیکوئنس اگلے الیکشن میں بنے گا۔ کردار یہی رہیں گے۔ مہرے بھی یہی گھسے پھٹے ہوں گے۔ لیکن کوشش ہو گی کہ اِس وقت کی حکمران جماعت کو الیکشن نہ جیتنے دیا جائے۔

جبکہ مخالفین کے لیے کسی ایسے ہی بلوچستان والے پُل پہ ڈیٹ کا انتظام کیا جائے گا۔ اور نتیجہ ہوگا معلق پارلیمنٹ۔ معلق پارلیمنٹ کا فائدہ یہ ہوتا کے کہ وہ ہمیشہ اپنی ماں سے مخلص ہوتی ہے چاہے وہ جنم دینے والی “سیروگیٹ” ہی کیوں نہ ہو۔ لیکن اس پارلیمنٹ کا سربراہ خلاف توقع “شوکت عزیز” ہی ہوگا نہ کہ اپنی ذات میں خود کو قوم کو مسیحا سمجھنے والا کوئی لیڈر اور بالفرض اگر سب انتظامات کے باوجود کسی طرح یہ نام نہاد لیڈر دوبارہ جیت گئے تو ایک بڑا دھرنا پلان ہو سکتا ہے جس میں گرینڈ اپوزیشن الائنس ہوگا اور پھر سب فائلیں ایک ایک کر کے کھولی جائیں گی اور حسب ذائقہ منہ پہ مزید کالک مل دی جائے گی۔ اسی کالک کی دستیابی کے لیے نیب کو کیسز کے لیے دو ماہ کی مزید مہلت دے دی گئی ہے۔ تاکہ الیکشن تک کچھ بھی کلئیر نہ ہو۔

اس فکر فردا میں سب سے زیادہ نقصان ملک کا محسوس ہوتا لگ رہا ہے۔ اللہ کرے میرے خدشات غلط ہوں لیکن جب میں پیچھے مڑ کے دیکھتا ہوں تو وہی ماضی کے ہولناک منظر مجھے منہ چڑانے  لگتے ہیں۔ جس ملک میں لیاقت علی خان کو سرعام شہید کر دیا گیا ہو۔ جس ملک میں مادر ملت کے کردار پہ کیچڑ اچھالا جا چکا ہو۔ جس ملک میں ذوالفقار علی بھٹو سیاسی فیصلے پہ پھانسی کی سزا پا جائے۔ اور جس ملک میں دو تہائی اکثریت والا وزیراعظم گھر بھیج دیا جائے اس ملک میں عوام کی کیا اوقات؟ عوام جائیں بھاڑ میں۔

سر کے سائیں سلامت رہیں اور ان کے کاروبار چلتے رہیں باقی کسی کا کوئی بھی کاروبار ہے تو رسیدیں سنبھال کے رکھے ورنہ کالک کسی بھی وقت آپ کے منہ پہ بھی ملی جا سکتی ہے۔میں اب ساری خوش گمانیوں سے باہر آ چکا ہوں آپ نہیں آئیں گے کیونکہ آپ کا پیار نیا ہے اور نیا نیا پیار سب کو اچھا لگتا ہے جو اس کو “ہنڈا” چکا ہو اس کی بات کوئی نہیں سمجھنا چاہتا۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *