رمیز راجہ کا دل آزاری کا ٹوئٹر تماشہ۔۔ولائیت حسین اعوان

کرکٹ ہو فٹ بال ہو یا ہاکی، کھیل کے دوران کھلاڑیوں کے جارحانہ رویے جوش جزبات مختلف ایکشن اور بعض دفعہ تلخ کلامی ہو جانا کھیل کا ہی حصہ سمجھا جاتا ہے۔اور پروفیشنل کھلاڑی کبھی بھی ایسے جھگڑوں کو گراونڈ سے باہر لے کر نہیں جاتے نہ ہی بعد میں بیان بازی کو مناسب سمجھا جاتا ہے۔ پاکستانیوں کے لیئے خصوصی طور پر اس وقت کرکٹ میلہ پی ایس ایل کی صورت میں متحدہ عرب امارات میں پورے جوبن پر ہے۔ اس بار پی ایس ایل کے دوران بھی ایک واقعہ پیش آیا جس میں کراچی کنگز کے کپتان عماد وسیم اور کوئٹہ گلیڈی ایٹر کے فاسٹ بائولر راحت علی کے درمیان تلخ جملوں اور اشاروں کا تبادلہ ہوا جس پر سوشل میڈیا پر ان کے درمیان تلخی پر مبنی ویڈیو خوب وائرل ہو رہی ہے۔ راحت علی دوسرے بولرز کی نسبت تحمل مزاج اور کم گو سمجھے جاتے ہیں۔عماد وسیم کے ساتھ انکی تلخی پر سابق کپتان اور مشہور کمنٹیٹر رمیض حسن راجہ بھی میدان میں آگئے ہیں۔

میچ کے دوران راحت علی نے جب عماد وسیم کو آوٹ کیا تو باقی بولرز کی طرح انہوں نے بھی خوب جوش و جذبے کے ساتھ انہیں آوٹ کرنے کی خوشی منائی جو کہ عمومی طور پر بولرز کی خصوصیت ہوتی ہےجو عماد وسیم کو کچھ اچھی نہ لگی کہ جناب ویسے بھی فیلڈ میں احمد شہزاد اور وہاب ریاض کی طرع کچھ تیز مزاج رکھتے ہیں ان دنوں عام کھلاڑی نہیں بلکہ ایک ٹورنامنٹ فیورٹ ٹیم کے کپتان ہیں۔ اور راحت ایک عام کھلاڑی۔ انہوں نے شائد اسے اپنی شان میں گستاخی جان کر جاتے ہوئے رک کر راحت علی کو کچھ جملے کہے جس پر راحت علی نے ہاتھ کا اشارہ دکھا کر انہیں وہاں سے جانے کو کہا اور اسی دوران کوئٹہ گلیڈی ایٹر کے کپتان سرفراز احمد راحت علی کو اپنے ساتھ لے کر چلے گئے

۔سوشل میڈیا صارفین کو بس خبر اور موضوع چاہیئے اور پھر انکے چٹکلے پھبتیاں اور تبصرے ہوتے ہیں کہ رکنے کا نام نہیں لیتے۔ تاہم سابق کرکٹر اور کمنٹیٹر رمیض حسن راجہ نے اس منظر پر سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ایک پیغام میں ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ’’ راحت علی نے بھی کراچی کنگز کو غصہ دکھا یا ،پتہ نہیں کیوں لیکن ایسا کرنے پر مجھے راحت بہت اچھا لگا‘‘ ۔راحت علی اور عماد وسیم کی تلخی والی تصویر ٹویٹر پر شیئر کرتے ہوئے رمیض حسن راجہ کا کہنا تھا کہ ’’اتنی گندی لاہور قلندر کی مسلسل چھ شکست کے بعد نہیں ہوئی جتنی راحت علی نے عماد وسیم کی کر دی‘‘۔ ایک اور پیغام میں رمیض راجہ کا کہنا تھا کہ ’’جب کو ئی کراچی کا شخص یہ کہتا ہے کہ ”کراچی چلتا ہے تو پاکستان پلتا ہے“ تو پھر میرا رد عمل بھی ایسا ہی ہوتا ہے ‘‘ رمیض اپنے دور کا کھلاڑی بھی برا نہیں تھا اور انسان بھی بہت اچھا تھا۔شائد عمران خان کے بعد اس دور کی ٹیم میں سب سے زیادہ تعلیم یافتہ بھی تھا۔میں حیران ہوں کہ سالوں کرکٹ کھیلنے والا اور پوری دنیا میں پاکستان کی نمائیندگی کرنے والا شخص ٹویٹر پر ایسے سستے اور دل آزاری والے کمنٹس دے گا۔دلی رنج ہوا ایسے تبصرے اور خیالات پر۔ہر شخص اپنی رائے کا مالک ہے اور اسے اپنی رائے دینے میں مکمل آزادی ہے۔لیکن آپ پاکستان کرکٹ کی نمائندگی کرتے ہوئے اور عماد، راحت کے ایک معمولی جھگڑے پر کہاں کراچی لاہور کو گھسیٹ رہے ہیں اور طعنہ زنی فرما رہے ہیں۔ اگر رمیض صاحب اپنے لکھے کو دوبارہ پڑھ لیں اور غور کریں تو شائد وہ خود ہی اس پر معزرت خواہ ہوں گے۔ “لاہور کے ساتھ گندی ہونا” والے الفاظ گلی محلے میں کرکٹ کھیلنے دیکھنے کے شوقین تو استعمال کریں تو سمجھ آتی ہے لیکن ایک ایسا شخص جس کو ہزاروں لوگ فالو کر رہے ہوں جس کی رائے یا تبصرہ کو لوگ کوٹ کرتے ہوں اس سے ایسی گفتگو کی امید نہیں تھی۔جناب آپ بھی کھلاڑی رہے۔کھیل میں ہار جیت ہوتی رہتی ہے اور کوشش ہر تیم کرتی ہے جیتنے کی۔ “عماد کے ساتھ گندی ہونا” انتہائی غلط اور قابل مزمت۔او بھائی صاحب یہ کھیل ہے اس میں کسی کی بھی انا مجروح کرنا مقصد نہیں ہوتا کسی کو گندہ نہیں کی جاتا۔بس وقتی جزبات ہوتے ہیں اپنی فتح کے۔کامیابی کے یا صلاحیت کے۔ “کراچی چلتا ہے تو پاکستان پلتا ہے” یہ بیان جس کا بھی ہو گا وہ رمیض راجہ جتنا پڑھا لکھا نہیں ہو گا اور نہ راجہ صاحب جتنی دنیا گھومتا ہو گا۔تو پھر اسکو اسی جیسا جواب دینا کیا ضروری ہے۔۔وہ بھی بحثیت محب وطن پاکستانی۔ اس میں شک بھی نہیں کہ کراچی کی معیشت ملکی معیشت پر خاطر خواہ اثر ڈالتی ہے اور رزق کمانے والوں کے لیئے وہ پاکستان کا سب سے زیادہ زرخیز شہر ہے۔اب اگر کسی نے تھوڑا سخت کہہ دیا تو کیا حرج ہے۔ویسے بھی عماد کراچی کا رہنے والا کب ہے۔کہ آپ اسے کراچی کے حوالے سے طعنے دیں۔ یہ مضمون لکھنے سے کسی پر تنقید یا طعنہ زنی مقصد نہیں تھا بس صرف یہ درخواست کرنی تھی کہ کھیل کو کھیل ہی رہنے دیں۔اسکو سیاست لسانیت صوبائیت کی بھینٹ نہ چڑھائیں گریٹ کمنٹیٹر صاحب۔۔۔۔

ولائیت حسین اعوان
ولائیت حسین اعوان
ہر دم علم کی جستجو رکھنے والا ایک انسان

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *