اسلام ،ذات پات اور شادی۔۔افراز اختر

آمنہ آئی ٹی میں ماسٹرز کر کے فارغ ہی ہوئی تھی کہ اس کے گھر میں اس کی شادی کے لیے لوگوں کا  آنا شروع ہو گیا ، کچھ اس کی کلاس فیلو لڑکیوں کے بھائی تھے اور کچھ جاننے والوں کے  بہت اچھی فیملی کے لڑکوں کے پروپوزل تھے اس کے لئے  لیکن اس کے ابو نے صاف صاف بول دیا کہ وہ اپنی فیملی سے باہر کبھی بھی نہیں دیں گے ،چاہے کچھ بھی ہو جائے آمنہ کی امی جان نے بہت بار کہا بھی کہ ایک مرتبہ آمنہ سے بھی پوچھ لیں کیوں کہ ان کے اپنے خاندان میں ایسا کوئی پڑھا لکھا نہیں تھا لیکن اس کے ابو نے سختی سے منع کر دیا کہ آمنہ وہی کرے گی جو  ہم چاہیں گے۔ اس کے ابو نے صاف صاف بول دیا کہ آمنہ کو پڑھانے کا مطلب یہ نہیں بس وہ بالکل ہی آزاد ہے اور دوسری بات کہ ہم خاندان سے باہر  شادی کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے ، چاہے کچھ بھی ہو جائے میں برادری میں کسی کو منہ دکھانے کے لائق نہیں رہوں گا میری ناک کٹ جائے گی۔

کچھ ہی دنوں میں  آمنہ کی شادی اس کے  ابو کے ایک کزن کے بیٹے سے کر دی گئی جو مشکل سے میٹرک پاس بھی نہیں تھا ایک جگہ اس کی دکان تھی، باپ  نے کہاکہ لڑکا اچھا کماتا ہے میری بیٹی بہت خوش رہے گی سو آمنہ کی شادی میں اس سے پوچھنا تک بھی گوارہ نہیں کیا گیا ۔شادی کے بعد آمنہ نے کافی  دفعہ  اپنے شوہر سے اجازت بھی لینے کی کوشش کی کہ وہ کوئی جاب کرے یا پھر اپنی آئی ٹی کی فیلڈ میں آگے بڑھے مگر اس کے شوہر نے ہمیشہ  جواب کی بجائے ایک طنزیہ مسکراہٹ اس کی جانب اچھا ل دی۔آمنہ کو یہ  دکھ بھی تھا کہ اس کا شوہر اس پر ذرہ برابر بھی توجہ نہیں دیتا ،اس نے کئی بار چاہا کہ اپنی ماں سے یہ بات ڈسکس کرے،لیکن پھر  چپ سادھ لی کہ اپنی اولاد اور والدین کی  خاطر پہلے ہی اپنی تمام خواہشات کا گلہ تو گھونٹ ہی چکی تھی۔

محترم قارئین یہ صرف ایک آمنہ کی کہانی نہیں ہے ہمارے یہاں ہر روز ایسی نجانے کتنی آمنہ ہیں جو یہ سب کچھ برداشت کرتی ہیں اور ان کی ہنسی ہمیشہ کے لیے گم ہو جاتی ہے ۔وہ اپنے والدین کے سامنے یا پھر بڑوں کے سامنے کبھی بھی منہ نہیں کھولتیں،  لیکن ان کے دل پر کیا گزرتی ہے ان کے اور اللہ تعالی کی ذات کے علاوہ کو ئی  بھی نہیں جانتا۔آپ کبھی اپنے ارد گرد نظر دوڑایئے آپ کو ایسی بہت سی مثالیں ملیں گی۔جہاں برادری سسٹم کی وجہ سے خواتین کے ساتھ ایسا کچھ ہوتا ہے ۔آپ کو اپنے خاندان میں ایسی کئی  مثالیں مل جا ئیں گی ۔بعض دفعہ تو لڑکی ڈاکٹر بھی ہو گی یا بہت پڑھی لکھی بھی ہو گی توبھی اس کی شادی کسی ان پڑھ یا کسی  معمولی دکاندار یا واجبی  سی تعلیم والے لڑکے سے کردی جاتی ہے۔وہ شخص  اس کو ذلیل کرے یا عزت دے اس کی مرضٰی ،ان کی بنے یا نہ بنے ۔

بعض دفعہ لڑکا بہت پڑھا لکھا ہو گا لیکن اس کی شادی کسی ان پڑھ لڑکی سے کروا دی جاتی ہے ۔ کبھی  تو دونوں کی آپس میں بن جاتی ہے،  لیکن  زیادہ تر   ایسا نہیں ہوتا ،بلکہ لڑکی بات بات پر لڑکے کو طعنے دیتی ہے،جس کی وجہ سے لڑکا  گھر سے باہر     دلچسپیاں ڈھونڈ لیتا ہے۔اس بات کا اثر آنے والی نسل پر پڑتا ہے ان پر پوری توجہ نہیں دی جا تی، باپ کچھ اور کہتا ہے اور ماں کی مرضی کچھ اور ہوتی ہے ۔یہ سوچ کا اختلاف ہوتا ہے یا ضد لیکن اس کا اثر بچوں کی تربیت پر بہت برا پڑتا ہے ۔وہ تعلیم پر پوری طر ح توجہ نہیں دے پاتے  ۔ بچے   تعلیم پر دھیان نہیں  دیتے  ۔یہ وہ پہلو ہے جو اگلی نسل  کو بری طرح متاثر کرتا  ہے لیکن اس کے علاوہ اس لڑکے اور لڑکی کی زندگی بھی بس روبوٹ کی  شکل اختیار کرلیتی ہے۔

پاکستان میں ذات پات کا سسٹم ہمیشہ سے ہی بہت مضبوط رہا ہے،جس کی وجہ سے اکثر اوقات والدین بہترین رشتوں سے بھی انکار کردیتے ہیں ،اور لمحے کو بھی سوچنے کی زحمت گوارا نہیں کرتے۔اسی ذات برادری کے چکر میں قتل کردیے جاتے ہیں ،جبکہ جس مذہب کے ہم پیروکار ہیں ،اس نے تو یہ ذات برادریاں،قبیلے  صرف  پہچان کے لیے بنائے  تھے ،لیکن ہماری جہالت ہمیں غلط سمت پر لے دوڑی۔

ارشادِ ربانی ہے” اے لوگو ہم نے تمہیں  ایک مرد اور ایک عورت کی جوڑ ی سے پیداکیا اور تمہیں   قوموں اور قبیلوں میں بانٹا تا کہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو مگر تم میں سے افضل اور اللہ کے نزدیک وہ ہے جو زیادہ نیک ہے ،اللہ تعالی کو مکمل علم اور پہچان ہے (القرآن )

آپ ؐنے اپنے آخری خطبہ میں فرمایا۔ تمام انسان حضرت آدم ؑ کی اولاد ہیں، کسی عربی کو کسی عجمی یا کسی عجمی کو کسی عربی پر کوئی فوقیت حاصل نہیں نہ کسی کالے کو کسی گورے پر نہ کسی گورے کو کسی کالے پر سوائے تقوی کے(بخاری )

میں اس بات سے انکار نہیں کرتا کے والدین غلط فیصلے کرتے ہیں لیکن اسلام نے اس بات کی بھی اجازت دی ہے کہ مرد اور عورت کی مرضی معلوم کر لی جائے مگرہمارے ہاں اس بات کی طرف دھیان ہی نہیں دیا جاتا ، بلکہ بہت بڑے بڑے اسلامی گھرانے بھی اب اس  ذات پات کے سسٹم میں پوری طر ح دھنس چکے ہیں کسی اچھی جگہ سے کسی لڑکے یا لڑکی کا پروپوزل ہو گا بھی تو برادری میں ناک کٹ جائے گی فلاں کیا کہے گا فلاں کیا کہے گا، بس اس ڈر سے ہم اپنے فیصلے  صحیح  طور نہیں کر پاتے ۔

دوستو! اسلام نے برتری کا معیا ر تقوٰٰی پر رکھا ہے لیکن ہم نے خاندان پر بنا دیا ۔ایک منٹ کے لیے سوچیے کہ تکبر صرف اور صرف اللہٰ تعالی کی  ذات کے لیے مخصوص ہے اور اللہ تعالی کی ذات کے علاوہ اگر کسی نے تکبر کیا تو اس کو سزا ملی ہم نے بھی بس خاندان کی وجہ سے تکبر شروع کر دیا ہے اپنی ذات کو سب سے اعلی سمجھنا اور باقی سب کو اپنے سے کمتر سمجھنا، کل کو اللہ تعالیٰ نے قیامت  کے روز صرف  اس ایک  بات کی ہی سزا دی تو ہمارا کیا ہو گا؟ ہم کہاں جائیں گے ۔

آپ ؐنے ارشاد فرمایا ۔تم میں سے ہر ایک کو نگہبان بنایا گیا ہے اور قیامت والے دن اس سے اس کی رعایا کے متعلق سوال ہو گا۔

آپ سے بھی سوال ہو گا بچوں کی تربیت شادی سب چیزوں کا اگر ہماری آج کی غلطی سے ہمارے بچوں کی زندگی خراب ہوگی تو کل   ہم   جواب دہ ہوں گے ۔اس سسٹم کو تبدیل کرنے کے لیے کسی ایک کو تو آگے بڑھنا ہی ہوگا،تاکہ ایک منفرد اور خوبصورت  معاشرہ تشکیل پائے!!

افراز اخترایڈوکیٹ
افراز اخترایڈوکیٹ
وکیل ، کالم نگار ، سوشل ایکٹویسٹ، گلوبل پیس ایمبیسڈر ،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *