جناح ہاؤس منہدم کردیا جائے؟ : سعید حمید

جناح ہاؤس منہدم کردیا جائے؟ پھر گیٹ وے آف انڈیا اور وی ٹی وغیرہ کیوں نہیں؟
سنگھی ذہنیت ، انتہائی تخریبی ذہنیت ہے ۔توڑ پھوڑ کی ذہنیت ہے ،یہ اپنی تخریبی فطرت کا وقفہ بہ وقفہ اظہار کرتی رہتی ہے ۔مثال ۔۔؟؟یوگی راج میں جیسے ہی سلاٹر ہاؤسز پر پابندی کا اعلان کیا گیا ، ویسے ہی کچھ انتہا پسندوں نے گوشت کی دکانوں کو آگ لگانا شروع کردی۔بابری مسجد پر حملہ اور اس کی 6دسمبر 1992ء کو شہادت بھی اسی تخریبی سنگھی ذہنیت کی ایک گھناؤنی مثال ہے ۔اب کوئی سنگھی ٹریننگ یافتہ شخص ، جس نے شاکھاؤں میں تربیت حاصل کی ہو ،
تعمیراتی بزنس کا بڑا نام بن جائے ۔تب بھی وہ اپنی تخریبی ذہنیت کا اظہار کرہی دیتا ہے کیونکہ یہ تو اس کی مجبوری اور فطرت ہے ۔حالیہ اسمبلی سیشن میں ایک بی جے پی کے ایم ایل اے نے یہ مشورہ دیا کہ چونکہ ممبئی کے ملبارہل پر واقع جناح ہاؤس بانیٔ پاکستان محمد علی جناح کی رہائش گاہ ہے اور ۔۔۔یہ ملک کی تقسیم کی نشانی ہے اسلئے اسے منہدم کردیا جائے ۔یہ کوئی نئی سوچ نہیں ہے ۔یہ کوئی نیامشہورہ نہیں ہے ۔۔۔
آزادی کے بعد سےسے ہم ایسے توڑ پھوڑ والے مشورے سنتے چلے آرہے ہیں ، جوصرف مسلم دشمن ذہنیت کا اشارہ دیتےہیں ۔ کوئی بابری مسجد توڑنے کا مشورہ دیتارہا (اور بعد میں اس پر عمل بھی کردیا گیا )کسی کو تاج محل سے تکلیف ہوتی رہی ہے ۔کسی کو لال قلعہ اور قطب مینار سے دشمنی ہے اورگزشتہ ہفتے مہاراشٹر اسمبلی میں ایک کنسٹرکشن سمراٹ نے ڈسٹرکشن کا جو آئیڈیا دیا کہ جناح ہاؤس کو منہدم کردیا جائے۔۔تو مشورہ نیا ہے لیکن ۔۔۔ ذہنیت پرانی ہے ۔
اگر جناح ہاؤس سے کوئی تکلیف محض اسلئے ہے کہ یہ تقسیم وطن کی نشانی ہے ۔اس لئےاسے منہدم کردینا چاہئےتو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمارے نام نہاد دیش بھکتوں کو ہمارے شہر میں تعمیر شدہ ان عمارتوں اور تعمیرات سے کیوں تکلیف نہیں ہوا کرتی ہے ۔جو ہمارے لئے برٹش غلامی کی نشانیاں ہیں؟یہ عمارتیں جن کی شکل وصورت اور تاریخ یہ یاد دلاتی ہے کہ ہمارا دیش(اور ہمارا شہر) 200برس تک انگریزوں کا غلام تھا۔تو کیا یہ عمارتیں بھی منہدم کردی جائیں؟کہ یہ برٹش غلامی کی نشانیاں ہیں؟حیرت کی بات تو یہ ہے کہ ان (برٹش غلامی کی نشانی) عمارتوں کو ہماری حکومتوں نے ہریٹیج(HERITAGE) عمارتیں قرار دیا ہے ۔یعنی یہ عمارتیں جن میں گیٹ وے آف انڈیا ، سی ایس ٹی ہیڈکوارٹر ، بی ایم سی ہیڈ کوارٹر ، ہائی کورٹ کی عمارت ، راجہ ہائی ٹاور ، ممبئی یونیورسٹی کی عمارت۔ایشیا ٹک لائیبریری وغیرہ شامل ہیں ۔انہیں سرکار تاریخی ورثہ کہتی ہے ۔غلامی کی نشانی نہیں جبکہ گیٹ وے آف انڈیا کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو کیا پتہ چلتا ہے ؟
گیٹ وے آف انڈیا کی تعمیر 1911ء میں ہوئی تھی،کیوں ہوئی تھی؟اس کی تعمیر شاہ برطانیہ کنگ جارج پنجم اور ملکہ برطانیہ کوئن میری کی ممبئی آمد اور یہاں قدم رکھنے کی یاد گار کے طور پر ہوئی تھی۔شاہ اور ملکہ برطانیہ دہلی دربار میں شرکت کے لئے جانے کے لئے بحری جہاز کے ذریعے ممبئی اُترے اور یہاں سے دہلی گئے ۔ ان کے استقبال کیلئے جو گیٹ تعمیر کیا گیا وہ ہے گیٹ وے آف انڈیا اور پھر اس کے بعد تو یہ رسم بن گئی کہ برطانیہ سے غلام دیش ہندوستان پر راج کرنے کیلئے جو بھی نیا برٹش وائسرائے یا گورنر انڈیاآتا وہ اسی گیٹ سے اپنے غلام دیش میں داخل ہواکرتا تھا۔اسلئے برٹش حکمرانوں کے لئے اس کا نام گیٹ وے آف انڈیا رکھا گیا ۔کیا یہ ہمیں غلامی کی یاد نہیں دلاتا ہے ؟کیا یہ غلامی کی نشانی نہیں ہے ؟تو پھر کیا ہمیں اسے بھی منہدم کردیناچاہیئے ؟توڑ پھوڑ کی ذہنیت چھوڑ دو بھائی ۔۔۔ورنہ پھر کیا کچھ نہیں توڑنا ہوگا ،کیا کچھ نہیں پھوڑنا ہوگا اور اس توڑ پھوڑ کاکوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوگا ۔سوائے تباہی بربادی کے ۔جہاں تک جناح ہاؤس کی بات ہے ،پاکستان اور بانیٔ پاکستان سے نفرت اپنی جگہ اور حقیقت اپنی جگہ ۔جن لوگوں کی ذہنی پرورش وتربیت شاکھاؤں میں ہوئی ہے وہ آج تک پاکستان کو قبول نہیں کرسکے ۔یہ بھی ایک حقیقت ہے۔اسلئے جناح کے لئے ان کے دلوں میں جو نفرت ہے اس کا اظہار مختلف انداز میں ہوجاتا ہے ۔تقسیم کا المیہ اپنی جگہ ۔۔لیکن اس بات کو مسترد نہیں کیا جاسکتا کہ محمد علی جناح ایک ممبئیکر تھے اور ممبئی شہر اور محمد علی جناح کی ایک دوسرے سے بڑی وابستگی رہی ہے ۔محمد علی جناح ممبئی ہائی کورٹ کے ایک مشہور ومعروف وکیل تھے ۔آج بھی ممبئی بارایسوسی ایشن کی تاریخ کے صفحات میں ان کا نام آتا ہے ۔
آج بھی ممبئی ہائی کورٹ کے پرانے مقدمات کی دستاویزات اور ریکارڈ میں بیرسٹر محمد علی جناح کا نام آتا ہے ۔کیا تقسیم کی وجہ سے محمد علی جناح کا نام ان جوڈیشیل ریکارڈز اور تاریخی دستاویزات سے خارج کیا جاسکتا ہے ؟جی نہیں ۔۔۔لوکمانیہ تلک ایک بڑے انقلابی لیڈر تھے ۔ان پر جب انگریزوں نے ممبئی میں مقدمات چلائے تب بال گنگا دھرتلک نے بامبے ہائی کورٹ میں پریکٹس کرنے والے ایک 32 سالہ نوجوان ایڈووکیٹ کو اپنے دفاع کے لئے طلب کیا
وہ وکیل کون تھا؟وہ کوئی اور نہیں ۔ محمد علی جناح تھا ۔1909ء میں جب بال گنگا دھر تلک کو کیسری اخبار میں انقلابی اداریے لکھنے پر بغاوت کے الزام میں گرفتار کیا گیا،تب ایک پارسی جج جسٹس جے ڈاور کی عدالت میں لوکمانیہ تلک کا دفاع بیرسٹر محمد علی جناح نے کیا ۔کیا تقسیم کی وجہ سے اس تاریخی واقعہ کو مسترد کیا جاسکتا ہے ؟لوکمانیہ تلک کے وکیل کے طور پر مقدمہ لڑنے والا محمد علی جناح ۔برٹش عدالت میں لوکمانیہ تلک کا دفاع کرنے والا محمد علی جناح ۔
برٹش ججوں کے سامنے لوکمانیہ تلک کی پیروی کرنے اور ان کو سزا سے بچانے کی جدوجہد کرنے والا محمد علی جناح ۔بعد میں اسی محمد علی جناح نے مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کرلی تو کیا لوکمانیہ تلک محمد علی جناح کے دشمن بن گئے ؟جی نہیں ۔۔۔ہندومسلم اتحاد کیلئے لوکمانیہ تلک اور محمد علی جناح دونوں متحد ہوئے ۔دسمبر 1916ء میں لکھنؤ میں کانگریس اور مسلم لیگ کا تاریخی معاہدہ ہوا ۔اس کے آرکیٹکٹ کون تھے ؟لوکمانیہ تلک اور محمد علی جنا ح۔۔۔اس زمانے میں تو محمد علی جناح کو ہندومسلم اتحاد کا سفیر کہا جاتا تھا۔لوکمانیہ تلک اور محمد علی جناح کا یہ اتحاد ایک دودن کا اتحاد نہیں تھا بلکہ لوکمانیہ تلک اور محمد علی جناح اس سے قبل دس برس سے ایک ساتھ کام کررہے تھے ۔اس کے نتیجے میں ۔۔۔معاہدۂ لکھنؤ کا جنم ہوا۔اس لئے تاریخ تو یہ کہتی ہے کہ لوکمانیہ تلک اور محمد علی جناح جنگ آزادی کے ساتھی تھے ۔بعد کے حالات میں محمد علی جناح بانئ پاکستان بن گئے ۔لیکن ۔۔کیا اس سے قبل کی تاریخ کو مسترد کیا جاسکتا ہے؟کیا تلخیوں کو بھلایا نہیں جاسکتا ؟کیا نفرت کو دور نہیں رکھا جاسکتا ۔؟تقسیم کے زخم کو کب تک کریدا جائے گا ؟کیا تقسیم کے زخموں کو مندمل نہیں ہونے دیا جاسکتا ؟یہ سوال صرف ہمارے ملک کے لئے نہیں۔سرحد کے اس پار اور سرحد کے اُس پار موجود ان تمام طبقات سے کئے جانے چاہئیں۔جن کے دل ودماغ پر توڑ پھوڑ کی نفسیات کا غلبہ ہے ۔نفرت کی سیاست دونوں طرف کی جارہی ہے ۔سرحد کے اس طرف بھی ۔سرحد کے اُس طرف بھی۔اسلئے ۔۔۔اس ذہنیت اور فکر کی مخالفت ضروری ہے ۔اگر یہ پوچھا جائے کہ ملبارہل کے جناح ہاؤس کا کیا کیا جائے ؟تو ایک بہتر مشورہ دیا جاسکتا ہے۔ ۔
جناح ہاؤس ممبئی کے مشہور تعلیمی ادارے انجمن اسلام کے سپرد کردیا جائے اور یہ نیک کام ہندوستان وپاکستان مل جل کر کریں ۔انجمن اسلام ملبارہل کے جناح ہاؤس میں مسلم گرلز کالج اور پالی ٹیکنک قائم کرے جس کے دروازے تمام طبقات کے لئے کھلے ہوں ۔شائد جناح ہاؤس کا تنازع اس سے بہتر انداز میں حل نہیں ہوسکتا ۔واضح ہو کہ محمد علی جناح، جو ایک ممبئیکر تھے ۔ انجمن اسلام سے بھی وابستہ رہے اور انہوں نے کئی مرتبہ انجمن اسلام کو ڈونیشن بھی دیئے ۔
انجمن اسلام کی ترقی کے لئے ان کی بھی مدد شامل رہی ۔قیام پاکستان کے بعدمحمد علی جناح تو پاکستان چلے گئے لیکن اپنے قانونی ماتحت اور اسسٹنٹ بیرسٹر اکبر پیر بھائی کو وہ ممبئی چھوڑ گئے ۔آزادی کے بعد انجمن اسلام کو آگے بڑھانے میں محمد علی جناح کے اسسٹنٹ بیرسٹر اکبر پیر بھائی کا اہم کردار رہا ۔وہ کئی دہائیوں تک انجمن اسلام کے صدر بھی رہے ۔ بیرسٹر اکبر پیر بھائی بھی تو محمد علی جناح کی یادگار اور نشانی تھے !
آج کہا جارہا ہے کہ ملبارہل کا جناح ہاؤس تقسیم کی نشانی ہے اور اسے منہدم کردینے سے کیا تقسیم کا درد ختم ہوجائے گا ؟کیا جناح ہاؤس کو منہدم کردینے سے تقسیم کا زخم مندمل ہوجائے گا ۔جی نہیں ۔ نفرت کی آگ مزید بھڑک اٹھے گی۔ ویسے بھی جناح ہاؤس کو منہدم کرنا ممکن نہیں اس میں سفارتی دشواریاں کھڑی ہوسکتی ہیں ۔لیکن ہندوستان ، پاکستان اگر چاہیں تو جناح ہاؤس میں انجمن اسلام کا ایک گرلز کالج اور گرلز پالی ٹیکنیک قائم ہوسکتا ہے ، جو مسلم وپسماندہ طبقات سے وابستہ لڑکیوں کی زندگیوں کو تعلیم کی روشنی سے جگمگا سکتا ہے۔

گوشہ ہند
گوشہ ہند
ہند کے اردو دان دوست آپ کیلیے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *