بھارت کے نئے خارجہ سیکرٹری ونے کمار کواٹرا۔۔افتخار گیلانی

بھارتی دارلحکومت نئی دہلی میں پارلیمانی، خارجہ اور دفاع کی وزارتیں ہر دو یا تین سال کے وقفہ کے بعد بیٹ رپورٹرز کیلئے متعلقہ وزارتوں سے متعلق ایشوز کو سمجھنے اور ان کا عمیق جائزہ لینے کیلئے کورسز کا اہتمام کرتی ہیں۔ وزارت دفاع کا کورس تو کئی مہینوں تک محیط ہوتا ہے اور اس کیلئے رپورٹر کو کئی ماہ تک دفتر سے چھٹی لینی پڑتی ہے، کیونکہ اس دوران ان کو ملک کے مختلف علاقوں میں مسلح افواج کی تینوں شاخوں کی بیس کمانڈز کا دورہ کرایا جاتا ہے۔ دفاع میرا بیٹ کبھی نہیں رہا ہے، مگر چونکہ پارلیمانی اور خارجہ امور کی رپورٹنگ کئی دہائیوں سے کرتا آیا ہوں اور ان کے کورسز بھی دارالحکومت میں ہی ہوتے ہیں، اسلئے میں نے ان سے استفادہ کیا ہے۔ وزارت خارجہ ان کورسز کا اہتمام دہلی میں موجود انسٹیٹیوٹ آف فارن سروسزمیں کراتی ہے، جہاں سفارت کاروں کو بھی ٹریننگ فراہم کرائی جاتی ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ میں تقریباً 62ڈویژن کام کرتے ہیں اور یہ کورسز وزارت کی اندرونی ورکنگ کے علاوہ مختلف خطوں میں بھارت کے مفادات کے متعلق بریفنگ کے علاوہ رپورٹروں کو ان ڈویژنوں کے سربراہوں سے بالمشافہ ملاقات کرنے کو موقع فراہم کراتے ہیں۔ ایک طرح سے رپورٹروں اور وزارت کے بیوروکریٹس کے درمیان زندگی بھر کا ایک رشتہ سا قائم ہوجاتا ہے۔ اسی طرح کے ایک کورس کے دوران مجھے یاد ہے کہ ایک خاموش طبع افسر ، جو شاید اسوقت پالیسی ، پلاننگ ڈویژن کے سربراہ تھے، ایک بار لیکچر دینے کیلئے وارد ہوئے۔ ان کے لیکچر کی کوئی خاص بات یاد تو نہیں ہے، مگر وہ خود مختلف موضوعات پر اپنے طالب علموں یعنی رپورٹروں سے گفتگو کرکے حالات و واقعات جاننے کی جستجو کرتے تھے۔ چائے یا لنچ کے وقت تو وہ میز پر داخلی اور بین الاقوامی سیاست اور دیگر امور پر متعلقہ رپورٹرز پر سوالات کی بوچھار کرتے تھے۔ چونکہ اکثر بیوروکریٹ اپنے آپ کو عقل کل سمجھتے ہیں اس لئے ان کا یہ رویہ اورطرز تجسس منفرد تھا۔ یہ افسر تھے ونے کمار کواٹرا، جو اب یکم مئی سے بھارت کے نئے خارجہ سیکرٹری مقرر ہوئے ہیں۔ اتراکھنڈکے صحت افزا مقام مسور ی میں واقع لال بہادر شاستری اکیڈیمی آف ایڈمنسٹریشن، جہاں سول سروسز افسرا ن کی ٹریننگ ہوتی ہے، میں کواٹرا کے گروپ کے افسرا ن کا کہنا ہے کہ وہ وہاں بھی ہر وقت معلومات حاصل کرنے کی جستجو میں رہتے تھے۔ شاید اسکی وجہ یہ تھی کہ وہ سائنس بیک گرائونڈ سے تھے اور بین الاقوامی امور وسماجی علوم کے سا تھ بطور طالب علم ان کا وا سطہ نہیں رہا تھا۔ گو کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے حکومت میں خارجہ سیکرٹری کے پوسٹ کی اتنی اہمیت نہیں رہی ہے، جو اسکا خاصہ ہوتا تھا، مگر اس نئی تقرری سے یہ بات عیاں ہوجاتی ہے کہ بھارت ، امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو ترجیح دینا چاہتا ہے۔ 2015میں سبرامنیم جے شنکرکو خارجہ سیکرٹری اور بعد میں2019میں انہیں وزیر خارجہ انہی وجوہات کی بنا پر بنایا گیا تھا۔ جے شنکر جب سیکرٹری خارجہ بنائے گئے تھے، تو انہوں نے کواٹرا کو وزارت خارجہ میں امریکہ ڈویژن کا سربراہ بنایا تھا۔ اس سے قبل وہ خود ہی اس ڈویژن کے ہیڈ تھے اور اس حیثیت سے انہوں نے بھارت ۔امریکہ جوہری معاہدہ کو حتمی شکل دینے اور اسکو امریکی کانگریس سے منظوری دلوانے میں کلیدی رول ادا کیا تھا۔ انعام کے طور پر 2013میں من موہن سنگھ نے ان کا نام خارجہ سیکرٹری کے لئے تجویز کیا، جس کی کانگریس پارٹی کے اندر سے سخت مخالفت ہوئی۔ وزیر اعظم کو بالآخر سرخم کرکے سجاتا سنگھ کو خارجہ سیکرٹری بنانا پڑا۔مگر جنوری 2015 کو جب امریکی صدر بارک اوبامہ بھارت کا دورہ ختم کرکے طیارہ میں سوار ہوگئے، تو وزیر اعظم نریندر مودی نے سجاتا سنگھ کو معزول کرکے جے شنکر کو سیکرٹری خارجہ بنایا دیا۔ وہ صرف دو دن بعد ریٹائرڈ ہونے والے تھے۔ جے شنکر اسوقت امریکہ میں بھارت کے سفیر تھے اور اوبامہ کے دورہ کے سلسلے میں نئی دہلی آئے ہوئے تھے۔انہیں فی الفور رات کو ہی فارن آفس میں رپورٹ کرنے اور عہدہ سنبھالنے کیلئے کہا گیا۔ جے شنکر کو خارجہ سیکرٹری کے عہدے پر فائز کرنے کی کانگریسی لیڈران نے اسلئے مخالفت کی تھی کہ ان کے مطابق ایک امریکہ نواز آفیسر کو اس اہم عہدہ پر فائز کرانے سے بھارت کی غیر جانبدارانہ شبیہ متاثر ہوگی۔ وکی لیکس فائلز نے جے شنکر کی امریکہ کے ساتھ قربت کو طشت از بام کردیا تھا۔ کانگریسی لیڈروں نے من موہن سنگھ کو بتایا کہ جے شنکر کی تعیناتی سے ہمسایہ ممالک سے تعلقات خراب ہونے کا بھی اندیشہ ہے۔ کانگریسی لیڈروں کا یہ تجزیہ حرف بہ حرف صحیح ثابت ہوا۔ 19 دسمبر 2005 کو ایک کیبل میں امریکی سفارت خانہ کا کہنا ہے کہ جے شنکر نے ان کو خارجہ سیکرٹری شیام سرن کے دورہ امریکہ کے ایجنڈہ کے بارے میں معلومات دی ہیں۔ امریکی عہدیداروں کے ساتھ ملاقاتوں میں بھارتی موقف کی جانکاری خارجہ سیکرٹری کے واشنگٹن پہنچنے سے قبل ہی امریکی انتظامیہ کو مل چکی تھی۔ مگر سب سے زیادہ ہوشربا معلومات بیجنگ میں امریکی سفارت خانہ نے واشنگٹن بھیجی۔ اس میں بتایا گیا کہ چین میں بھارت کے سفیر جے شنکر نے چین کے ہمسایہ ممالک کے تئیں جارحارنہ رویہ کو لگام دینے کیلئے امریکہ کی معاونت کرنے کی پیشکش کی ہے۔ یعنی ایک طرح سے وہ نئی دہلی میں حکومت کی رضامندی کے بغیر امریکہ کے ایک معاون کے طور پر کام کر رہے تھے۔ اس وقت بھارتی خارجہ پالیسی کے محور قومی سلامتی مشیر اجیت دوول اور سبرامنیم جے شنکر ہیں۔ عرب ممالک کو قابو میں کرنے کیلئے اجیت دوول سے کام لیا جاتا ہے۔ لگتا ہے وزارت خارجہ میں امریکہ نواز لابی کو مزید تقویت بخشنے کیلئے کواٹرا کی تقریری کی گئی ہے۔ کیونکہ نہ صرف وہ جے شنکر کے قریبی مانے جاتے ہیں ، بلکہ جب مودی نے 2014میں وزارت اعظمیٰ کا قلمدان سنبھالا، تو وہ ان کیلئے کئی ماہ تک بطور مترجم و معاون کار کے کام کرتے تھے اور ان کیلئے تقریریں لکھنے کا بھی کام کرتے تھے، جس کی وجہ سے وہ براہ راست مودی کے رابط میں رہتے تھے۔ کواٹرا کا پاکستان کے ساتھ بھی تعلق رہا ہے، وہ 1993میں پاکستان کے کراچی قونصلٹ میں بطور سفارت کار مقرر ہوئے تھے، مگر پانچ ماہ بعد ہی ان کو واپس بلایا گیا اور اسکے ایک سال بعد وزیر اعظم بے نظیر بھٹو نے اس قونصلٹ پر دہشت گردی اور تخریب کاری میں معاونت کا الزام لگا کر اس کو بند کرنے کا حکم دیا تھا۔ 1996میں جب افغانستان پر طالبان نے کنٹرول حاصل کیا، تو کواٹرا کو تاشقند میں بطور فرسٹ سیکرٹری متعین کیا گیا تھا ،مگر ان کا حالیہ کارنامہ، جس کی وجہ سے انہوں نے خارجہ سیکرٹری کی ریس میں اپنے سے سینئرساتھیوں کو پچھاڑا، وہ یہ تھا کہ 2020 میں ان کو بطور سفیر نیپال میں متعین کرنے کے بعد اس ملک میں کسی حد تک بھارت کیلئے راستہ دوبارہ ہموار ہوگیا ہے۔ نیپالی سیاست میں میں شدیدبھارت مخالف جذبات کے علاوہ کھٹمنڈومیںچین نے حالیہ عرصے میں خاصا اثر و رسوخ حاصل کیا ہے۔ کواٹرا نے بڑی حد تک نیپالی سیاست میں بھارت کو واپس مقام دلایا ہے۔جس کی وجہ سے انعام کے بطور ان کو خارجہ سیکرٹری کی کرسی عنایت کی گئی ہے۔/روزنامہ 92 نیوز

  • julia rana solicitors
  • merkit.pk
  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
  • julia rana solicitors london

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply