پاکستانی لبرل اور ہم ہندوستانی ۔ عادل عباس(انڈیا

ہمارے عزیز پڑوسی ملک پاکستان کو شاید میں سوشل میڈیا کی وجہ سے ہی زیادہ بہتر انداز میں جان پایا ہوں۔ سوشل میڈیا سے پہلے تو اپنے پڑوسی کے بارے میں معلومات نہ ہونے کہ برابر ہی تھیں۔ پاکستان کے کرکٹ کے کھلاڑیوں کے علاوہ پاکستان کے بارے میں کچھ جانتا تھا تو وہ فقط اپنے ہندوستان کے سیاستدانوں کے منہ سے نکلے بغض سے بھرے بیانات کا ہی نچوڑ تھا۔ بہرحال یہ تو اس لیے لکھ دیا کہ وقت اور وسائل کے ساتھ میرے دل میں جو ملک پرستی کا بخار تھا وہ بھی اتر گیا اور پاکستان کے متعلق زیادہ جان بھی پایا۔

سچ پوچھیے تو معلوم ہوا کہ پاکستانی سرزمین بھی اپنے ہی ملک جیسی ہے۔ سیاستدانوں کے مکر و فریب سے بھری، ان پڑھ اور جاہل لوگوں کی زیادتی جس کی وجہ پورا نظام کرپٹ ہے۔ گنے چنے کچھ فیصد پڑھے لکھے لوگ تو ہیں مگر ان میں بھی کئی ان پڑھ سوچ کے ہی نمائندہ لگتے ہیں۔ یعنی پاکستان تو بلکل اپنے بھارت جیسا ہے۔

ہم بھارت میں ایک بڑی تعداد مگر اقلیت میں ہیں اور شاید اسی لیے اپنے مذہب کے بارے میں حساس۔ میں پاکستان میں کچھ عرصے سے مذہب بیزاری کی لہر محسوس کر رہا ہوں۔ شاید یہ لہر شدت پسند دین کے ٹھیکے داروں کے بد اعمال کا ردعمل بن کر ابھری ہے۔ ایک گروہ ہے جو اس لہر کو موج بنا رہا ہے۔ یہ گروہ پڑھا لکھا ہے، مغرب زدہ ہے اور خود کو لبرل سمجھتا ہے، جبکہ نظریاتی اور بنیادی طور پہ یہ گروہ لبرلزم سے کافی دور ہے۔ ان کو اگر دین دشمن کہا جائے تو زیادہ بہتر ہوگا، کیونکہ اس گروہ کے افراد کسی بھی موضوع پہ بھی جب بات کرتے ہیں تو ان کی بات دین پر انگلی اٹھایے بغیر ختم نہیں ہوتی. یہ تمام برے اعمال کو جمع کرکے کسی دین خاص سے تعلق رکھنے والے پہ تھوپ دیتے ہیں اور اس کے دین یا مسلک کا مذاق بناتے ہیں۔ حیرت ہے کہ یہ گروہ سیکولرازم کا بھی دم بھرتا ہے اور دوسرے سیکولر ممالک کی مثال دینے سے بھی نہیں چوکتا۔ افسوس ہوتا ہے کہ اس گروہ میں دین دشمنی کا جذبہ اتنا پروان چڑھ چکا ہے کہ ان کو کسی ایسے شخص میں خوبی یا اسکی خدمات سے نظر نہیں آتی جو مذہب پہ فخر کرتا ہو۔

شاید یہ ردعمل ہے مگر یہ کیسا ردعمل ہے؟ شدت پسندی کو مختلف ہی سہی مگر شدت پسندی سے کیسے ختم کیا جا سکتا ہے؟ اللہ کے نام پہ معصوموں کا خون بہانے والوں کا علاج اللہ کا انکار، اس کے دین کا انکار کرکے کیسے کرینگے؟ آخر یہ لوگ عورت پہ جو جبر کیا جاتا ہے اس کا علاج ان عورتوں کے اشتہار(جنہیں کپڑے ہی بوجھ لگتے ہیں) سے کیسے کرنے کی سوچ رہے ہیں؟ کیا سائنس سرف ملحدین کی ہی مرہون منت ہے؟ کیوں ان حضرات کو وہ اقوام نہیں نظر آتی جو دین کے ساتھ ترقی یافتہ ہیں؟ نہ جانے کیوں ان لوگوں کو سیکولر ممالک میں موجود خامیاں اور کالے کرتوت نظر نہیں آتے۔ کیا یہ رول ماڈل سیکولر ممالک ہی اس بڑھتی ہوئی مذہبی دہشت گردی کے ذمہ دار نہیں ہیں؟ کیا یہ سیکیولر طاقتیں ہی مختلف موقعوں پر اہل مذہب کو استعمال کر کے اپنا کام نہیں نکال چکیں؟ اور تازہ مثال “آئی ایس آئی ایس” ہے جو ان ہی کے ایجنڈے کو بڑھا رہی ہے۔ ہاں بہت سے مسلمان ان کے ہاتھوں استعمال ہو رہے ہیں مگر اس کے نتیجے میں اسلام دشمنی نہ کیجیے۔ ایسے لوگوں سے بیزار ہوں، مذہب سے نہیں۔ وہ اگر ایک انتہا پر ہیں تو آپ دوسری انتہا پہ جانے کی خواہش نہ کیجیے۔

جہالت کا مقابلہ خود جاہل بن کر نہیں کیا جاتا۔ جہالت کے اندھیروں میں روشنی کا دیپ جلائیں، مزید اندھیرا نہ پھیلائیں۔

(بھائی عادل عباس، جو سیکولرازم آپ کو ہندوستان میں تحفظ دیتا ہے، ہماری اقلیتیں بھی اسی کی متمنی ہیں۔ ایڈیٹر)

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *