عقل اور مذہب , بنیادی اشکالیہ۔۔عبدالغنی

سائنس ، فلسفہ ،عقلی علوم   اور مذہب کےتعلق کے حوالے سے  مختلف رویے ہمارے سامنے آتے ہیں ۔ کچھ لوگ سمجھتے  ہیں کہ ان دونوں یعنی نقل اور عقل  میں کسی قسم کا کوئی تقابل نہیں ، دونوں کا میدان فکر الگ ہے، اس لیے ان میں سے  ایک  ،  دوسرے  کو متاثر نہیں کرتا۔ کچھ لوگ ان دونوں کو ایک ہی سکے کے دو رخ بتلاتے ہیں ، یعنی دونوں ایک دوسرے کے مؤید ہیں نہ کہ مخالف ۔ اسی طرح کچھ لوگ ان میں تقابل اور تضاد کی بات بھی کرتے ہیں اور ایک کو قبول کر تے ہوئے دوسرے کو یکسر رد کر نے کا رحجان بھی ہمیں دیکھنے کو ملتا ہے ۔ تاریخی طور پر یہ رحجانات مذہبی فکر میں کسی نہ کسی طرح ہمیں  نظر آتے ہیں ۔ دور جدید میں ان رحجانات میں سے عقلی علوم اور عقل کی بات کو مذہب کے مقابلے میں بالکلیہ رد کردینے کارحجان ہماری عمومی مذہبی فکر میں غالب نظر آتا ہے۔اس کے مقابل رحجانات عام طور پر روایتی مذہبی فکر سے ہم آہنگ ہیں  اور نہ ہی مقبول ہیں۔

بلاشبہ مذہب  ایسی الوہی سچائی ہے جس کے مقابلے میں انسانی فکر کو کسی طرح ترجیح نہیں دی جا سکتی، لیکن اس فکر پر کچھ سوال پیدا ہوتے ہیں ۔ مذہب کی تفہیم عقل پر موقوف ہے، اسی طرح ربانی نمائندے  کی پہچان  بھی انسانی عقل کے ذریعے ہی ہو سکتی ہے۔ جب عقل ہمارے لیے ان چیزوں کی پہچان اور ان  تک پہنچنے کاواحد راستہ قرار پاتی ہے  تو پھر عقل کی نفی  یا اس کو ثانوی درجہ میں کیسے رکھا جا سکتا ہے ؟  مذہب کو مذہبی نمائندوں اور اس کے پیروکاروں نے آج تک عقل ہی کی مدد سے سمجھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ متنوع عقلی رحجانات کی وجہ سے مختلف تعبیرات ہمار ے سامنے آتی ہیں ۔

جہاں مذہب کی تفہیم عقل پر موقوف ہے، وہاں اگر تاریخی طور پر اس سوال پر غور کیا جائے کہ عقلی علوم اور مذہب کے تعلق یا تقابل میں زیادہ متاثر کون ہو ا ہے  تو ہمارے سامنے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ مذہب ہر دور میں عقل اور  عقلی علوم سے متاثر ہو ا ہے ۔ مذہب نے اپنی تعبیرات  ہرزمانے اور  سماج کے لوگوں کے فہم کے مطابق پیش کر نا ضروری سمجھا ہے۔ ہر دور ، سماج اور علاقے میں مذہب میں  چھوٹی  ، بڑی تبدیلیاں رونما ہوئی  ہیں ۔ یعنی  تاریخی طور پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ عقلی علوم ، فلسفہ اور  سائنس  کے میدان میں آنے والی تبدیلیاں مذہب کی  تعبیرات  پر اثر انداز ہوتی رہی ہیں، جبکہ مذہب فلسفہ اور  سائنس پر اس طریقے سے اثر انداز نہیں ہو ا اور اس کی وجہ سے ان  میدانوں میں انسانی فکر میں کوئی خاص  تبدیلیاں رو نما نہیں ہوئیں۔ آج بھی اگر دیکھا جائے تو مذہبی لوگوں میں یہ احساس پایا جاتا ہے کہ سائنس کی وجہ سے مذہب  کی تعبیرات میں تبدیلی آرہی ہے ، لیکن کسی سائنسدان کے ذہن میں یہ تصور نہیں ہے کہ مذہب اس کی دریافتوں  پر اثر انداز ہو رہا ہے ۔ اسی بات کے حوالے سے ایک تاریخی   حقیقت ہمارے سامنے یہ بھی آتی ہے کہ  مذہبی فکر کے وہ نمائندے جو خالصتاً‌ نقل پر انحصار کے قائل رہے ہیں اور عقلی علوم کو رد کرنے کا غالب رحجان رکھتے ہیں، ان کو بھی بالآخر ضرورت محسوس ہوئی کہ مذہب کی عقلی توجیہ کی جائے  اور اس کی تعبیرات کو اس زمانے میں مقبول عمومی فہم کے مطابق پیش کیا  جائے ۔ امام ابن تیمیہؒ  اور  دیگر کچھ لوگ ایسے ہمیں نظر آتے ہیں جنہوں نے عقلی علوم کو  ردکرنے کی کوشش کی، لیکن اس کے ساتھ مذہب  اور اس کی مسلمہ تعبیرات کی عقلی تفہیم کا فریضہ بھی انجام دیا ۔ آج بھی کچھ لوگ موجودہ فکری و فلسفیانہ معیارات کے مطابق مذہب کی تفہیم پر بھر پور زور صرف کر رہے ہیں ۔

اس کے مقابلے میں بعض لوگ جو سائنس کو اسلامائز کرنے کی کوشش میں مصروف نظر آتے ہیں، وہ بھی در اصل مذہب کو ہی سائنس کی جانب لے کر جا رہے ہوتے ہیں، نہ کہ سائنس کو مذہب کی طرف لار ہے ہوتے ہیں ۔ مسلم تاریخ میں جن لوگوں نے ایسا کرنے کی کوشش کی تو نہ صرف فلسفہ و عقلی علوم کے وارثان نے ان کی خدمات کو قبول نہیں کیا بلکہ مذہب اور اس کے متعلقین نے بھی ان کی فکرکو یہ کہتے ہوئے راندہ درگاہ قرار دے دیا کہ یہ عمومی مذہبی فکر سے مطابقت نہیں رکھتی ۔

اسلام کو ہم ایسا الوہی مذہب سجھتے ہیں جو کہ جامع ، کامل اور مکمل ہے، لیکن اس دینی عقیدے کو آج کے دور میں ایک بڑے سنگین سوال کا سامنا ہے کہ جب اس کو مختلف زمانوں میں اپنی تعبیرات میں تبدیلی کر نا  پڑے اور اس کے خلاف جب کوئی عقلی شہادت آئے تو اس کو دفاعی پوزیشن میں آنا پڑے تو کیا یہ اس میں نقص کی علامت نہیں؟َ یہ تو اس بات کی علامت ہے کہ مذہب جامع، کامل و مکمل نہیں  ہے ۔ اسی طرح کاایک سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ مذہب میں کیا کوئی ایسی چیزہے جو کہ ناقابل تغیر ہو ، جس کی تعبیر و تفہیم ہر دور اور علاقے کے انسانوں کے لیے یکساں ہو ؟

ان باتوں کے جواب میں ایک بات یہ کہی جا تی ہے کہ مذہب تو  عقلی علوم  اور  سائنس کے بالکل مطا بق ہے  ،  اور اس کے نصوص ان کے خلاف نہیں ہیں ۔ ہاں، یہ ہو سکتا ہے کہ مذہب کی کوئی خاص تفہیم عقلی علوم سے مطابقت نہ رکھتی ہو ۔ دوسرے لفظوں میں یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ سائنس اور  علوم عقلیہ جس چیز پر سوال اٹھاتے ہیں، وہ مذہب نہیں بلکہ انسانوں کا ایک خاص مذہبی فہم ہے ۔ لیکن اس پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جس چیز کو سائنس کے موافق کہا جا رہا ہے، وہ بھی تو مذہبی نصوص کا ایک خاص فہم ہی ہے۔ فہم سے ماورا رکھ کر کیسے اصل مذہب اور انسانی فہم میں فرق کیا جا سکتا ہے؟

ہمارے خیال میں یہ سب سوالات ایک بنیادی سطح کی ری تھنکنگ کا تقاضا کرتے ہیں۔

عبدالغنی
عبدالغنی
ایم فل اسکالر گفٹ یونیورسٹی گوجرانوالہ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *