استعمال شدہ کھلونے بچوں کیلئے نقصان دہ

تازہ تحقیق میں سامنے آیا ہے کہ استعمال شدہ کھلونوں میں سے متعدد ایسے ہیں جن کے دوبارہ استعمال سے بچوں کی صحت کو خطرہ ہو سکتا ہے کیونکہ یہ کھلونے صحت کی حفاظت سے متعلق رہنما اصولوں پر پورا نہیں اترتے۔ اس تحقیق میں سائنس دانوں نے دو سو کھلونوں کا تجربہ کیا۔ یہ کھلونے انہوں نے برطانیہ کی چند دکانوں اور نرسریوں سے جمع کئے تھے۔ ان میں انہوں نے نو نقصان دہ عناصر کی موجودگی کا ٹیسٹ کیا۔ 20 کھلونے ایسے تھے جن میں سبھی نو عناصر موجود پائے گئے۔ تاہم سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ کہنا مشکل ہے کہ ان کھلونوں سے خطرہ کتنا زیادہ یا کم ہے۔ تحقیق کار ڈاکٹر اینڈڑو ٹرنر نے بتایا کہ 70 اور 80 کی دہائی کے لیگو برکس اس معاملے میں بہت نقصان دہ نکلے۔ انہوں نے کہا کہ اس دور میں حفاظتی ہدایات کی بنیاد پر کھلونوں کو ٹیسٹ نہیں کیا جاتا تھا۔ ڈاکٹر ٹرنر اور ان کی ٹیم نے ان کھلونوں کا تجزیہ ایکس رے فلورینس ٹیکنالوجی کی مدد سے کیا۔ انہوں نے پایا کہ ان میں اینٹیمنی، بیریئم، برومین، کیڈمیئم، کرومیئم، سیسہ اور سیلینیئم جیسے خطرناک عناصر موجود تھے۔ ان کھلونوں کو جب بچے اپنے منہ میں رکھتے ہیں تو یہ کیمیکل ان کے منہ میں جاتے ہیں جن سے انہیں نقصان پہنچ سکتا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *