ڈونلڈ ٹرمپ نے کم جانگ ان کی ملاقات کی دعوت قبول کرلی

شمالی کوریا کے سربراہ کی جانب سے جنوبی کوریا کے وفد کے ذریعے ڈونلڈ ٹرمپ کو ملاقات کا پیغام پہنچایا گیا جسے امریکی صدر نے قبول کرلیا۔

جنوبی کوریا کے سیکیورٹی ایڈوائزر چنگ ایوینگ نے اس حوالے سے امریکی حکام سے ملاقات کے بعد کہا کہ صدر ٹرمپ اور کم جانگ ان کے درمیان رواں سال مئی میں ملاقات کا امکان ہے۔

چنگ ایوینگ نے وائٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے صدر ٹرمپ کو بتایا کہ شمالی کوریا کے رہنما سے حالیہ ملاقات سود مند رہی جس میں انہوں نے وعدہ کیا کہ اب شمالی کوریا مزید کوئی میزائل نہیں بنائے گا۔

یاد رہے کہ چند روز قبل جنوبی کوریا کے ایک وفد نے شمالی کوریا کا دورہ کیا تھا جہاں دونوں ممالک کے درمیان ایک معاہدہ بھی طے پایا تاہم اس کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

امریکی محکمہ خارجہ کی پریس سیکرٹری سارہ سینڈر نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ شمالی کوریا کے سربراہ کم جانگ ان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے لئے دعوت نامہ بھیجا تھا جس پر صدر ٹرمپ نے ملاقات کی حامی بھر لی۔

سارہ سینڈر کا کہنا ہے کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات کے لئے وقت اور جگہ کا تعین بعد میں کیا جائے گا جب کہ ہم شمالی کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کر رہے ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق اس دوران شمالی کوریا پر پابندیاں اور زیادہ سے زیادہ دباؤ اسی طرح برقرار رہے گا۔

دونوں ممالک کی جانب سے گزشتہ چند ماہ سے دھمکیوں کے تبادلے کے بعد یہ پہلی پیش رفت ہے، اس سے قبل دونوں ممالک کے سربراہان کے درمیان ذاتی نوعیت کے جملوں کے تبادلے بھی ہوچکے ہیں۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ شمالی کوریا کے سربراہ کو ‘راکٹ مین’ کہہ کر مخاطب کرتے رہے ہیں جس کے جواب میں کم جانگ ان امریکی صدر کو پاگل اور سرپھرا قرار دے چکے ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *