شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار

ہمیں لفظ خوشامد کی سمجھ اس وقت تک نہیں آئی جب تک کہ ہم نے اپنی نصابی کتاب میں سرسید احمد خان کا مضون ” کتے”نہیں پڑھ لیا۔اس مضمون میں خوشامد،اس کی اقسام اور اس کے مضمرات پر کچھ اس انداز میں روشنی ڈالی گئی ہے کہ پڑھ کر طبیعت ایک طرف تو باغ باغ ہو جاتی ہے اور دوسری طرف انسان بہت کچھ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔خوشامد کی یوں تو بہت سی اقسام ہیں مگر کسی ستم ظریف نے اسے ایک اردو محاورہ میں ایسی صفائی سے یکجا کیا ہے کہ یہ محاورہ آج کے دور میں ضرب المثل کی شکل اختیار کر گیا ہے اور ضرب المثل بھی وہ کہ جسے کسی بھی فیلڈ میں آزادانہ استعمال کیا جا سکتا ہے۔خصوصا سیاسی میدان میں تو یہ محاورہ زبان زد عام ہو چکا ہے اور وہ محاورہ کچھ یوں ہے، شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار۔۔۔اس محاورہ کی تاریخ کچھ یوں ہے کی بہت ساری محاوروں کی ڈکشنریاں کنگھالنے اور اپنے گوگلے(google) کی مدد کے باوجود ہمیں اس کی کوئی تاریخ ہی نہیں ملی ایسا شاید اس لیے ہو گا کہ ہر دور میں ایسے وفاداران تھوک کے حساب سے مل جاتے ہیں کہ ہر روز نئی تاریخ رقم ہوتی ہے ۔ہمارے سیاسی منظر نامہ میں ایسے وفاداروں کی کوئی کمی نہیں۔ ابن الوقت مطلبی اور ضمیر فروش سیاستدان اس معاملہ میں سب سے آگے نظر آئیں گے، کہیں فوج پر تنقید تو کہیں کسی سیاسی جماعت پر اور کہیں تو نام نہاد روشن خیالوں اور موم بتی مافیا کی خوشنودی کے لیے پورے پاکستان پر ہی تنقید اور کہیں خوشامد کرنی ہو تو اپنی اس وفاداری کے بھرم میں وہ وہ چیزیں بھی بیان کر جاتے ہیں جو سرے سے وجود ہی نہیں رکھتی.یہ سیاستدان ہی کیا اپنے اردگرد نگاہ دوڑائیں تو بہت سارے شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار اچھلتے کودتے شور مچاتے اور اپنے بے سرے راگ الاپتے دکھائی دیں گے۔ یہ لوگ اپنی ذاتی صلاحیتوں کی بنیاد پر آگے بڑھنے کی بجائے شارٹ کٹ تلاش کرتے رہتے ہیں۔ اس شارٹ کٹ کے چکر میں خوشامد ہی وہ سیڑھی ہے جو بظاہر تو انہیں آگے لے جاتی ہے مگر ان کا یہ سفر معکوس ہوتا ہے یہ لوگ بھول جاتے ہیں کہ جن کی وفاداری میں وہ سر دھڑ کی بازی لگا رہے ہیں ان کے سامنے ان بے چاروں کی حیثیت ایک مہرے سے کم نہیں اور مہرہ بھی وہ جسے جب چاہیں جدھر چاہیں آگے بڑھا دیں اور جب چاہیں پیٹ کر کھڈے لائن لگا دیں۔ یہ شہ مات ان کے لیے نئی نہیں ہوتی پھر بھی یہ وفادار اپنی خصلت سے اس قدر مجبور ہوتے ہیں کہ ایک در بند ہونے کے بعد اپنی خفت مٹانے کے لیے نیا در تلاش کرتے رہتے ہیں۔ یہ چکر سلسلہ در سلسلہ چلتا رہتا ہے اور ان کی اپنی شخصیت مسخ ہو کر رہ جاتی ہے۔      یہ شاہ حضرات جن کی تعریف و توصیف میں زمین آسمان کے قلابے ملائے جاتے ہیں کم دلچسپ نہیں، ان لوگوں کو اپنے ذاتی امیج کا خیال اپنی جان سے بھی زیادہ پیارا ہوتا ہے یہ خود وہ زبان کیسے استعمال کر سکتے ہیں جس سے ان کی نام نہاد شان پر ذرا سی بھی آنچ آئے اور اسی امیج کو بچانے کے چکر میں یہ ان ہی وفاداروں کو آگے بڑھاتے ہیں ۔ ان وفاداران کو کھلی چھوٹ ہوتی ہے کہ جو چاہے مرضی زبان استعمال کریں ، اس طرح ایک طرف تو ان شاہ حضرات کا مطمع نظر پورا ہو جاتا ہے اور سونے پر سہاگہ ان کا امیج بھی پوری شان و شوکت کے ساتھ قائم رہتا ہے، بس اکیلے میں ان وفاداروں کو تھپکی دو اور پھر تماشہ دیکھو۔۔۔۔   اور تو اور ان وفاداروں کی زبان بڑی دلچسپ ہوتی ہے اور ان کی نکتہ آفرینیوں اور پیش بینیوں کے تو کیا ہی کہنے۔۔ بندہ سر پکڑ کر بیٹھ جاتا ہے،متاثرہ افراد بھی دم بخود رہ جاتے ہیں کہ آخریہ پوائنٹس ڈھونڈ کر کہاں سے لے آتے ہیں یہ لوگ۔۔جتنی زیادہ انہیں زبان درازی میں مہارت ہوگی اتنا ہی وفاداری میں ان کے نمبر بڑھتے جائیں گے۔ ان کی اگلی خصوصیت بلا جھجھک جھوٹ بولنا اور اس پر بے شرمی سے ڈٹ جانا ہے۔ مشہور مقولہ ہے”اتنی سچائی سے جھوٹ بولو کہ جھوٹ بھی سچ لگنے لگے” ان کی سب سے آخری اور سب سے اہم خصوصیت ان میں خوشامد کے جراثیم کا بکثرت پایا جانا ہے جو کہ موروثی ہوتے ہیں اور مرتے دم تک ان کا ساتھ نہیں چھوڑتے ،یہ خود کو بڑی توپ قسم کی چیز سمجھتے ہیں مگر چراغ تلے اندھیرے والی مثال ان پر ہی صادق آتی ہے۔اے بسا آرزو کہ خاک شد۔۔۔!

سرفراز قمر
سرفراز قمر
زندگی تو ہی بتا کتنا سفر باقی ہے.............

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *