تاریخ کا معروف ترین کردار ماتاہری دراصل کون تھی؟

پیرس (نیوز ڈیسک)ماتاہری یورپی تاریخ کا وہ پراسرار کردار ہے جس کا معمہ ایک صدی گزرنے کے بعد بھی بڑی حد تک معمہ ہی ہے۔ یورپ کی خوبصورت ترین رقاصہ اور لاکھوں دلوں کی دھڑکن کہلانے والی اس خاتون کو پہلی جنگ عظیم میں فرانس کی شکست کا ذمہ دار قرار دیا گیا، اور اس مبینہ جرم پر اسے فائرنگ سکواڈ کے سامنے کھڑا کر کے گولیوں سے اڑا دیا گیا۔
کہتے ہیں کہ ماتاہری نے اس موقع پر آنسو نہیں بہائے، نہ ہی وہ خوفزدہ تھی، بلکہ اس نے اپنی آنکھوں پر پٹی باندھنے سے بھی انکار کردیا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس نے اپنے وکیل کو الوداع کہنے کیلئے ہاتھ ہلایا اور گولیاں چلانے کیلئے تیار کھڑے فوجیوں کو بوسے کا اشارہ کیا۔ فرانسیسی تاریخ میں بدترین غدار قرار دی جانے والی اس رقاصہ کے بارے میں اب کچھ اور انکشافات سامنے آئے ہیں، جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ حقیقت وہ نہیں جو آج تک بتائی جاتی رہی ہے۔

news-1508598300-8594
’میں نے اس صحافی سے اپنی کمپین کی کوریج کی درخواست کی تو اس نے کھانے پر بلالیا، ملنے گئی تو فوراً ہی کہنے لگا کہ۔۔۔‘ خاتون نے پاکستانی میڈیا کا شرمناک چہرہ بے نقاب کردیا
دی مرر کی رپورٹ کے مطابق ماتاہری پر الزام تھا کہ اس نے پہلی جنگ عظیم کے دوران فرانس کے اہم ترین دفاعی راز جرمنی کو بیچ کر ملک سے غداری کی تھی، جس کے نتیجے میں ہزاروں فرانسیسی فوجیوں کی جانیں گئیں۔جنگ سے قبل وہ یورپ کی مشہور ترین رقاصہ تھی جس کی اداﺅں نے بڑے بڑے امراءکی تجوریاں خالی کردی تھیں، لیکن جنگ کے بعد وہ ڈبل ایجنٹ قرار پا کر موت کی حقدار ٹھہری۔ نئے انکشافات کے مطابق فرانس نے اپنی فوجی ناکامی کا داغ دھونے کے لئے ماتاہری کو قربانی کا بکرا بنایا تھا، جس کے لئے اصل حقائق کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا۔

news-1508598300-8897
ماتا کے آبائی شہر لیو وارڈن سے تعلق رکھنے والے فریز لینڈ میوزیم کے کیوٹر ہینز کروئن ویگ کا کہنا ہے ” اس میں کوئی شک نہیں کہ ماتاہری کے پرستار بے شمار تھے اور وہ انتہائی پرآسائش زندگی گزارتی تھی، لیکن اس کے بارے میں ملنے والے کچھ خطوط اس کی شہرت سے پہلے کی زندگی کا حال بتاتے ہیں۔ پہلے میں بھی یہی سمجھتا تھا کہ وہ ایک سفاک خاتون تھی جسے صرف مردوں اور دولت میں دلچسپی تھی لیکن ان خطوط سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپنی بیٹی سے بہت پیار کرتی تھی اور ہمیشہ اسے یاد کیا کرتی تھی۔ اسے زندگی کے ابتدائی دنوں میں بے پناہ مصائب کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
فرانسیسی حکام کو کسی ایسی بڑی شخصیت کی تلاش تھی جس پر 1917ءمیں ہونے والی شرمناک شکست کا الزام دھرا جا سکے۔ ماتاہری سارے یورپ میں مشہور تھی اور اس کے اعلٰی فوجی افسروں کے ساتھ مراسم بھی تھی، لہٰذا اسے قربانی کا بکرا بنانے کا فیصلہ کیا گیا، لیکن اس کے ساتھ یہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔“
ماتاہری، جس کا اصل نام مارگریٹا زیلے تھا، ہالینڈ کے ایک بزنس مین کی بیٹی تھی۔ جب وہ 13 سال کی تھی تو اس کے والد کا کاروبار ختم ہوگیا اور اس نے مارگریٹا کی والدہ کو بھی طلاق دے دی۔ اس مصیبت نے خاندان کا شیرازہ بکھیر دیا۔ مارگریٹا نے اچھی زندگی کا خواب پورا کرنے کیلئے 18 سال کی عمر میں اپنے سے دو گنا عمر کے ایک امیر افسر رڈلف جون میکلوئڈ سے شادی کرلی۔ جب کچھ عرصے بعد رڈلف نے اسے طلاق دے دی تو وہ اپنی بیٹی کو باپ کے پاس چھوڑ کر پیرس چلی گئی۔ وہاں وہ اپنی ننھی بیٹی کو اس قدر یاد کیا کرتی تھی کہ کئی بار غمگین ہوکر خودکشی کے بارے میں سوچا۔
پیرس میں ہی وہ ایک مشہور رقاصہ کے طور پر سامنے آئی۔ اس کے پرستاروں میں بڑے بڑے بزنس مین، بینکار اور فوجی افسران شامل تھے۔ جب فرانس کو جنگ میں شکست نظر آنے لگی تو حکام کی نظر ماتاہری پر پڑی کیونکہ بہت سے سینئر فوجی افسران اس کے قریبی دوست تھے۔ اگرچہ اس پر الزام عائد کیا گیا کہ اس نے جرمن حکومت کیلئے جاسوسی کی لیکن اس بات کے شواہد نہیں ہیں کہ اس نے کوئی بہت اہم راز دشمن کو دئیے۔ یہ خیال ظاہر کیا جاتا ہے کہ فرانسیسی حکام نے ہی اس کے لئے جال بچھایا اور جرمن خفیہ ایجنٹ ہونے کا دھوکا دے کر اسے 10لاکھ فرانک دے کر جاسوسی پر راضی کیا۔ رقم کے لالچ میں وہ اس جال میں پھنس گئی، لیکن اسے غدار قرار دے کر 50 ہزار فرانسیسی فوجیوں کی موت اور فرانس کی شکست کا ذمہ دار قرار دے دیا گیا۔ اس ناکردہ جرم کی پاداش میں اسے فائرنگ سکواڈ کے سامنے کھڑا کرکے گولیوں سے اڑا دیا گیا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *