چین میں کورونا کی نئی قسم سامنے آ گئی

چین کے شہر نانجبگ میں سامنے آنے والا خطرناک کورونا وائرس مزید پانچ صوبوں اور دارالحکومت بیجنگ تک پھیل گیا ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے چینی میڈیا کے حوالے سے بتایا ہے کہ ووہاں شہر میں سامنے آنے والے وائرس کے بعد چین میں یہ دوسرا نیا کورونا وائرس ہے۔

FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

نئے کورونا وائرس سے اب تک 200 افراد متاثر ہوئے ہیں، جن میں سے سات کی حالت تشویشناک ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ چین میں کورونا کا نیا وائرس بھارتی قسم ڈیلٹا وائرس سے ملتا ہے۔ یہ وائرس چین میں حال ہی میں سامنے آیا ہے جس پر قابو پانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق کورونا کی نئی قسم پانچ صوبوں میں سامنے آئی ہے اور یہ وبا دارالحکومت بیجنگ تک پھیل چکی ہے۔

چین میں کورونا کا نیا وائرس پانچ صوبوں سمیت چینگدو اور دارالحکومت بیجنگ تک پھیل چکا ہے۔

کورونا کی نئی لہر کا پہلا کیس 20 جولائی کو 90 لاکھ سے زائد آبادی والے شہر نانجنگ میں سامنے آیا ہے۔ نئے وائرس کے سامنے آنے کے پیش نظر نانجنگ ایئر پورٹ پر 11 اگست تک پروازیں معطل کردی گئی ہیں۔

تاہم اب تک معلوم نہیں ہوسکا کہ نئے کورونا وائرس سے متاثر ہوانے والے افراد نے ویکسین لگوائی تھی یا نہیں۔

خیال رہے کہ چین اب تک کورونا وبا پر قابو پانے میں بہت حد تک کامیاب ہوا ہے۔ چین نے کورونا کے پھیلاؤ پر قابو پانے کے لیے متعدد ممالک کے ساتھ اپنے بارڈرز بند کردیے ہیں۔

خیال رہے کہ چین کے دو سرکاری دوا ساز ادارے سائنوویک اور سائنوفارم اپنی ویکسین دنیا کے بائیس ممالک کو برآمد کر چکے ہیں جن میں پاکستان میکسیکو، ترکی، انڈونیشیا، ہنگری، برازیل اور ترکی جیسے ممالک شامل ہیں۔ پاکستان نے بھی سرکاری سطح پر بڑی تعداد میں یہ ویکسین لگانے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔

Advertisements
julia rana solicitors

ایشیا میں اب تک لاکھوں افراد کو سائینو ویک اور سائنوفارم کی ویکسین لگائی جاچکی ہیں۔

  • merkit.pk
  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
  • julia rana solicitors london
  • julia rana solicitors

خبریں
مکالمہ پر لگنے والی خبریں دیگر زرائع سے لی جاتی ہیں اور مکمل غیرجانبداری سے شائع کی جاتی ہیں۔ کسی خبر کی غلطی کی نشاندہی فورا ایڈیٹر سے کیجئے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply