تلاوت خان۔۔۔۔ عارف خٹک

ھمارے گاؤں میں ایک شادی تھی اور پھر اس شادی پر ایک مجرا تھا۔ پشاور سے خوبصورت ناچنے والیاں اور بنوں سے خوبصورت ناچنے والے بلائے گئے تھے اور دونوں جنس ناچ ناچ کر مُردوں اور مردوں کا دل گرما رھے تھے۔ نوٹوں کی بارش ھورھی تھی اور چرس کی بھینی بھینی مہکار، جھنکار کیساتھ مل کر گاؤں کی فضاء کو لاس ویگاس بنانے پر تلی ھوئی تھی۔ سب حاضرین نے ڈھاٹے باندھے ھوئے تھے اور بیٹا باپ سے اور باپ بیٹے سے منہ چھپائے بیٹھا تھا۔ اور ان سب میں محفل جوان تھی بلکہ نوجوان تھی۔

محفل میں سب سے الگ تھلگ ایک چہرہ تلاوت خان کا بھی تھا، جس کے چوڑے ماتھے پر کچھ فکرمندیاں اسکو ماحول سے جدا کررھی تھی۔ ماحول سے بے نیازی نے اسےکچھ الگ قسم کا مظلوم بنا دیا تھا اور لگتا تھا جیسے شادی پہ کوئی مرثیہ گوئی کرنے آیا ہے۔ میرے چچا، خان الحاج ہدایت اللہ خان، سے تلاوت خان کی یہ بے نیازی اور مظلومیت دیکھی نہیں گئی کہ وہ مجرا کی خوشیاں بانٹنے میں یقین رکھتے تھے۔ وہ اپنی جگہ سے اٹھے اور تلاوت خان کو نوٹوں کی “گڈی” پکڑا دی کہ جا نوٹ جس پر چاھے نچھاور کر لے۔ تلاوت خان نے ایک روبوٹ کی طرح جا کر وہ سب نوٹ پانچ منٹ میں بنوں سے آئے رقاص لڑکوں پر نچھاور کرڈالے،  اور واپس اپنی جگہ پر بیٹھ کر پھر گہری سوچوں میں گم ھوگیا۔

چچا جان کی طبیعت میں بہت احساس تھا۔ آپ سے تو کبھی ناچنے والے کی تنہائی برداشت نہیں ہوتی تھی، یہ تو پھر اپنا تلاوت خان تھا۔ چچا پھر اٹھے کہ شاید کوئی ناچنے والا یا والی پسند آگئی ھے اور مِلن کی ناامیدی نے اداس کر دیا ہے۔ تو ایک لڑکی اور ایک لڑکے کو دائیں بائیں تلاوت خان کے پاس بٹھا دیا کہ بتا تیری رضا کیا ہے؟ تلاوت خان ھنس پڑا اور چچا خوش ھوے کہ چلو شکر ھے خدایا تلاوت خان کو بھی ہنسی آئی۔ کچھ دیر تلاوت خان کی من پسند حرکات کر کے لڑکا اور لڑکی جیسے ہی اٹھے اور ناچنے لگے، تلاوت خان پھر گہری سوچوں میں کھو گیا۔

اب کی بار تو چچا کو تاؤ آگیا اور کلاشنکوف کندھے سے ھاتھ میں منتقل کی اور گرج پڑے۔ یکدم سناٹا چھا گیا، سازندے ڈر گئے اور محفل رک گئی۔ بلکہ ایک بنوں سے آیا لڑکا تو غش کھا کر سیدھا میری گود میں آ گرا۔ چچا نے تلاوت خان کو مخاطب کیا “اوئے بے غیرتا، اوئے داوسہ، تیرے ساتھ کیا مسلہ ھے جو ایسی منحوس شکل بناکر اس محفل کی ماں بہن ایک کررھا ھے؟  تیری وجہ سے نہ میں لڑکوں پر توجہ دے پا رھا ھوں نہ لڑکیوں پر۔ وجہ بتا ورنہ گولی مار دوں گا”۔ 

اب تلاوت خان گویا ھوئے ” حاجی صیب، معذرت کیساتھ، کچھ سوچ رھا ھوں”۔  چچا نے پوچھا کیا سوچ رھا ھے؟ تلاوت خان نے جواب دیا کہ حاجی صاب اگر ھمارے گاؤں سے دوسرے گاؤں تک کار روانہ کردی جائے اور کچے کی شارٹ کارٹ پگڈنڈی سے میں پیدل بھاگ کر جاؤں تو دوسرے گاؤں گاڑی پہلے پہنچی گی یا میں؟

چچا نے کیا کہا، تلاوت پہ کیا بیتی اور وہ جو غش کھا کر میری گود میں گرا تھا، اس پہ کیا بیت گئی؟ یہ قصہ پھر لبھی۔ یوم آزادی، یوم دفاع گزرا ہے اور عید کی آمد ہے؛ ان حالات میں  آپ زرا غور کیجیے کہ آپ کو ہم سب کے درمیاں کتنے تلاوت خان نظر آتے ہیں؟ 

خبردار نام لینے کی ضرورت بالکل نہیں!

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *