ثنا قبر تہ وڑی۔۔۔۔۔ بلال حسن زئی

یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں اپنے گاؤں کے ایک اسکول میں پڑھا کرتا تھا، اسکول کیا تھا؟ گارے کی کچی دیواریں اور ان پہ بنی ٹین کی چھت، جو معمولی آندھی سے کھیتوں میں بکھر جاتی تھی، جس دن بارش ہوجاتی اگلے دن ہم اسکول کے بجائے کھیتوں کا رخ کرتے جہاں سارا دن اسکول کے پرزے تلاش کرنے میں گزر جاتا، ہم جیسے سرپھرے اس جتن میں رؤف چاچا کے مختلف پھلوں سے مزین اس باغ کی بھی خوب خبر لیتے جس کے قریب عام دنوں میں پھٹکنا بھی شدید نوعیت کا جرم ٹہرتا تھا۔

 جس دن آسمان پہ بادل منڈلاتے ہم خوشی سے پھولے نہ سماتے، کہتے ہیں گاؤں کے بادل بارش برسانے میں خاصے سخی ہوتے ہیں، بارش برسانے میں دیر نہیں کرتے، اور پھر جیسے ہی بارش سماں باندھتی تو ہماری کلاس کا ہر بچہ ایک ایسے عاشق کا روپ دھار لیتا جو اپنی معشوقہ سے بہت دور پردیس کی خاک چھان رہا ہو، اور اس کے پاس صرف یادیں ہو، جس کے سہارے وہ جی رہا ہو، اس کی فراق میں وہ صرف درد بھرے اشعار گنگناتا ہو۔ ہماری کلاس کا سب سے بڑا بچہ “کاکو” تقدیر نے جس پر کبھی بھی رحم نہیں کھائی، زندگی کے ہر امتحان میں ناکام ہونے کے بعد وہ ایک کامیاب شاعر بن گئے، اس رومانوی موسم میں اس کے درد بھرے “ٹپے” فضا ہی بدل دیتے، اور پھر جو ہی بارش کے قطرے اسکول کی چھت کوپار کرتے تو ہم کلاسوں سے نکل کر گھر کی راہ لیتے، گھر کی راہ لیتے ہوئے ہم بارش میں خوب مستیاں کرتے۔ مگر سچ یہ ہے کہ بارش کا موسم ہر بار مجھے انتہائی بور کرتا،بارش سے ہونے والی تباہی سوچ کر مجھے بارش سے سخت چڑ ہوجاتی، آسمان پہ دوڑتے بادلوں کو دیکھ کر بے چینی ہوتی، اور بادلوں کی گرچ چمک، اور اس نکلنے والی خوفناک آوازیں تو گویا میرے لئے موت بن کر آتی۔

آسمان پہ ہونے والے اس ” گڑ گڑ “کی بھیانک آواز سے صرف مجھے ہی چڑ نہیں تھی، بلکہ ہمارے پڑوسی شکورا انکل کی چھوٹی بچی” ثناء “بھی اس سے بہت خوف زدہ ہوتی تھی، اسکول سے چھٹی کے بعد میری اور” ثناء” کا پسندیدہ مشغلہ ان کے گھر کے صحن میں بیٹھ کر دیر تک مٹی کے خوبصورت گھروندے بنانا، اور پھر سرشام بڑی آپی کے بلاوے پر ایک جھٹکے سے ان کو ڈھیر کردینا تھا۔ گزرتے دنوں کے ساتھ ساتھ میری اور اس کی پسند ایک ہونے لگی،لہلہاتے کھیتوں میں رنگ برنگی نازک پھولوں کو توڑنا، اور پہاڑوں کے بیچ بہتی دلفریب آبشاروں کی مسحور کن آواز کو بیٹھ کر گھنٹوں سننا، گرمی کے موسم میں چارپائیاں چھت پر ڈال کر، دیر رات تک تارے گننا ہم دونوں کا محبوب مصروفیت ہوتی تھی۔

زندگی کے یہ دن بڑے حسین تھے،معصومیت، بے فکری اور بچپنے نے اس میں خوب رنگ بھر دیئے تھے، دکھ، درد، غم اور تکلیف کی کیفیتوں سے ھم مانوس نہیں تھے۔ وقت کا سفر روکنا اگر میرے دست اختیار میں ہوتا تو میں اسے ان خوبصورت آبشاروں کے بیچ روک دیتا، جہاں وہ میرے ساتھ گھنٹوں بیٹھا کرتی تھیں۔ گاؤں کے ان لہلہاتے کھیتوں کے بیچ روکتا جہاں وہ خوشبو سے مہکے نازک پھولوں کو اپنے نرم ہاتھوں سے توڑ کر مجھ پر نچھاور کرتیں،، مگر قدرت کے اس جاری نظام میں مداخلت سے ہم بے بس ہیں۔

ایک دن سرشام جب ہمارا گھر لوٹنے کا وقت ہوا، تو اس دوران ہمارے گاؤں کا “بوڑھا چرواہا” دوڑتے دوڑتے ہماری طرف آنے لگا ،تھکن کی وجہ سے اس کی سانسیں سینے میں پھنس چکی تھیں، روز کی طرح آج بھی ان دو شریر بکریوں نے اسے تھکا کر نڈھال کردیا تھا جو ہمیشہ دوسری بکریوں کے ریوڑ سے دور نکل جایا کرتی تھیں ، وہ آج بھی بڑی پر امید نگاہوں سے ہماری طرف دیکھ رہا تھا۔ میں نے نگاہ آسمان پہ دوڑائی، آسمان پر بے ترتیب دوڑتے بادلوں کے ارادے ٹھیک نہیں لگ رہے تھے۔ میں نے یکسر انکار کردیا، کہا اپنا کام کرو، کیا روز روز کا تماشہ لگائے رکھا ہے، جانے دو خدا کرے آج کوئی بھیڑیا انہیں بھنبھوڑے۔ مگر “ثناء” میرے انکار کے آگے اڑ گئ، اور مجھے زبردستی کھینچنے ہوئے اس مصیبت میں دھکیل دیا۔ بکریوں کے ڈھونڈنے کے اس صبر آزما عمل میں ہماری ترتیب کچھ یوں ہوتی تھی کہ وہ پہاڑ کے اوپر کی طرف چلی جاتی اور میری زمہ داری ہوتی تھی کہ پہاڑ کا کونہ کونہ چھان ماروں، پہاڑوں کی خاموشی کو توڑنے کے لئے وہ لمحہ بہ لمحہ مجھے آواز دیتی تھیں اس کی آواز فضاؤں میں جادو بن کر گونجتی ،،میں بلند آواز سے اپنی موجودگی کا احساس دلا کر اسے مطمئن کرتا،مگر آج اس کی آواز شاید فضا کو راس نہ آئی اور کچھ ہی دیر میں موسم کے تیور بدل گئے، پہاڑوں پہ ایک دم اندھیرا چھا گیا۔ دور بڑے چٹان پہ بیٹھے چرواہے کی پرچھائیاں بھی دھند میں غائب ہوگئے، اور پھر وہی ہوا جس کا مجھے ڈر تھا۔ خوب زور سے برکھا برسی اور برستی بارش کے شور میں اس کی آواز خاموش ہوگئی، میں اس گھپ اندھیرے میں دیوانہ وار اس کی خاموش ہوتی آواز کے سمت چل پڑا۔ بارش کا زور ٹوٹنے لگا، اندھیرا ہلکا ہلکا چھٹنے لگا، اور کچھ ہی دیر میں زمین پر روشنی آگئی۔ چرواہے کو اپنی جگہ نہ پا کر میرے دماغ میں خوفناک تصورات نے جگہ لینی شروع کردی اور میری سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا۔ میں نے زور زور سے چلانا شروع کردیا جسے سن کر شاید ہمارے گھر والے بھی پہنچ گئے۔ شکور انکل کو دیکھتے ہی میں ان سے لپٹ گیا، میرے زبان سے صرف اتنا لفظ نکل سکا، انکککک لللل…. ثثثث نا، اور پھر مجھے ہوش نہیں رہا۔

ایک طویل بے ہوشی کے بعد غنودگی کے عالم میں مجھے کچھ محسوس ہوا کہ میرے ارد گرد گھر والے جمع ہیں،، میری بڑی بہن کی آواز میرے کانوں سے ٹکرارہی رہی تھی، “رور!!! پاسہ را ویخ شہ، ثناء قبر تہ وڑی”۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *