کفن چور ۔ عمران شاہد بھنڈر

ہم ایک ایسے سماج میں ہم رہتے ہیں، جو حقیقت میں بدعنوانوں، رشوت خوروں، ڈاکوؤں، جابروں، ظالموں، لٹیروں، دہشت گردوں، بدکاروں اور استحصالیوں کا سماج ہے۔ اس سماج میں اپنے مخصوص مفادات کے تحت کردار تشکیل دئیے جاتے ہیں، ان کے اوصاف متعین کیے جاتے ہیں، ان کرداروں سے متعلق اقدار کی منفیت اور اثباتیت کا تعین کیا جاتا ہے، ان کرداروں کو حکمران جماعتیں نام نہاد ’عظیم‘ نظریاتی دانشوروں کے خیالات کی آڑ میں مستحکم کرتی ہیں۔ مختلف اقسام کی آئیڈیالوجیز سے ان کرداروں کو برائی کا منبع و محور ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ رائے عامہ کی جہت متعین کی جاتی ہے۔ نتیجہ یہ کہ عام لوگ ان کی حقیقت کو جانے بغیر، انہیں’شے فی الذات‘‘ تصور کرتے ہوئے ان سے نفرت کرنے لگتے ہیں۔

تعلیمی اداروں، ’فلاحی ‘تنظیموں، پاگل خانوں، ہسپتالوں اور دیگر اداروں کو ان پر ظلم و دہشت مسلط کرنے کا جواز پولیس، عدالتوں اور دیگر ’’اصلاحی‘‘ اداروں کو فراہم کرنے کے لیے متحرک کیا جاتا ہے، تاکہ وہ انہیں بھیانک قرار دے کر ’برائی ‘کو ایک قدر کے طور پر متعین کرسکیں۔ اس طرح یہ کردار کچھ اس طریقے سے متشکل ہوتے ہیں کہ سماج میں بسنے والے افراد ان کرداروں کے حقیقی پس منظر میں، ان کے ظہور کے مآخذات کا تجزیہ کیے بغیر، ان کو حکمرانوں، وڈیروں اور سرمایہ داروں کی آئیڈیالوجیز کے چشموں سے دیکھنے لگتے ہیں۔تاہم ایک اہم بات کو حکمران اور ان کے وجود کو جواز فراہم کرنے والے ’دانشور‘ فراموش کردیتے ہیں کہ فلسفے اور آئیڈیالوجی کی نوعیت اور سطح خواہ کتنی ہی گہری کیوں نہ ہو،وہ ’سچائی‘ کے کتنی ہی قریب کیوں نہ لگتی ہو، ا ن کا اصل مقصد حقیقی سماجی تضادات کو مخفی رکھنا ہوتا ہے۔ان تضادات کے ظہور کوغالب آئیڈیالوجی کی نفی تصور کرنے کی بجائے ان تضادات کو ہی ایک نوع کے شر کی صورت میں پیش کرنا ہوتا ہے۔ تاہم جدلیاتی منطق اور اعلیٰ ا دب و آرٹ’ خوبصورت‘ آئیڈیالوجی اور فلسفوں میں مضمر ان خیالات کے استحصالی کردار کا انکشاف کرتے ہوئے ان سماجی تضادات و کرداروں کی حقیقت سے لوگوں کو آگاہ کرتے رہتے ہیں۔ شعر و ادب کی اس اعلیٰ روایت سے تعلق رکھنے والے لوگ سماج میں موجود شَر کا مرکز و محور گردانے جانے والے کرداروں کو جمالیاتی پیرائیوں میں منعکس کرتے ہیں اوران کی حقیقی اشکال کو سامنے لاتے ہیں۔ سماجی زندگی کو بامعنی سمجھنے والے شعرا کی ان کرداروں پر نظر پڑتے ہی، نظریاتی دانشوروں کی تمام تر سعی کے باوجود، ان کرداروں کی ایک مختلف اور بامعنی تصویر سامنے آتی ہے۔

’کفن چور‘ استحصالی سماج کا ایک ایسا ہی مظلوم و مقہور کردار ہے، جو شہزاد نیّر کی نظم کا عنوان بھی ہے اور اسی نظم میں اس کردار کے اس مخفی مگر حقیقی کردار کو عیاں کیا گیا ہے کہ جس پر سیاسی نظریات اور سماجی تصورات کی گرد پڑی ہوتی ہے۔ پاکستانی سماج کا ایک ایسا استعاراتی کردار جس کی حقیقی شناخت مسلسل ابہام کا شکار رہتی ہے۔ مذکورہ نظم میں نظریات کی معنویت کو استعاراتی معنوی زاویوں کے تحت نہ صرف عیاں کیا گیا ہے بلکہ اسے توڑکر، اس کے پس منظر میں، اس کے حقیقی مافیہاکو بھی نمایاں کیا گیا ہے۔ ’کفن چور‘ ایک ترکیبی استعارہ ہے جس نے خود پر مسلط تمام نظریاتی بندشوں کی معنویت کو خود پر منکشف کردیا ہے۔دو بامعنی الفاظ کی ترکیب کو اگرالگ الگ استعارے کی صورت میں پیش کیا جائے تو اس کی معنوی جہت بالکل مختلف ہوگی۔ مثال کے طور پر ’چور‘ سماج کا ایک منفی کردار ہے، جبکہ’ کفن‘ خواہ چور پر بھی ہو، پاکیزگی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اس نظم میں’چور‘ اور ’کفن‘ کی ترکیبی وحدت سے یہ کردار دو نوں ہی مفاہیم کو سمیٹتاہوا زندگی سے جڑی معنویت کو عیاں کرتاہے۔ سماج میں غالب اقدار کے ٹھیکیداروں کے نزدیک ’کفن چور‘ ایک قابلِ نفرت کردار ہے جبکہ مظلوم و مقہور اورستحصالی نظریات کا شکار لوگوں کے لیے ’کفن چور‘ نہ صرف ایک بامعنی استعارہ ہے بلکہ ان کی قوت کا سرچشمہ ہے، اورحقیقی اخلاقیات کا جواز ہے! مذکورہ نظم میں یہ کردار ’’شے فی الذات‘‘ نہیں ہے کہ جسے جانا نہیں جاسکتا یاجو سماج میں آزادانہ طور پر تشکیل پاتا ہے۔نہ ہی اس کی حقیقی شناخت کو ہمیشہ کے لیے آئیڈیالوجی کے غلاف میں مخفی رکھا جاسکتا ہے۔مذکورہ نظم کے پہلے دو بند غربت و افلاس کا شکار ’کفن چور‘ کے لیے زندگی کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں اور اس کی اس حالت اور کیفیت کا بیان ہیں، جنہیں استحصالی سماجی نظریات نے متعین کررکھاہے:

کچھ نہیں، گھر میں مرے کچھ بھی نہیں

کوئی کپڑا کہ حرارت کو بدن میں رکھتا

لقمہء نانِ جویں، خون کو دھکّا دیتا

من کو گرماتا سکوں، تن سے لپٹتا بستر

کچھ نہیں، کچھ بھی نہیں، کچھ بھی نہیں!

رات کو جسم سے چپکاتی ہوئی سرد ہوا

جسم کے بند مساموں میں اُترتی ٹھنڈک

سنگِ مرمر سی ہوئیں خون ترستی پوریں

ہاتھ لرزاں تھے، امیدوں نے مگر تھام لیے

پاؤں چلتے ہی رہے شہرِ خموشاں کی طرف!

دونوں بندبامعنی امیجری کو خلق کرکے مظلوم و مقہور انسان کی زندگی کے لیے ’کفن‘ کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔ یہاں استعارہ برائے استعارہ نہیں بلکہ استعارہ زندگی کی معنویت سے جڑا ہواہے۔ یہاں صرف اس معنی کی تلاش نہیں جس کی تعیین ممکن نہیں ہے، یہاں معنی کی تعیین پر زور دیا گیا ہے۔ ایک طرف موت ہے جو ’کفن‘ میں مقید ہے، دوسری طرف قریب المرگ زندگی ہے، جو ’کفن‘ کے عدم حصول سے موت میں بدل سکتی ہے۔حقیقی زندگی میں’کفن‘ موت کی علامت ہے، مگر نظم میں’ کفن‘ زندگی کا استعارہ بن کر اغلب سماجی اقدار کی نفی کرتا ہے۔ پہلے بند میں سب سے بنیادی اور اہم استعارہ یا سگنی فائر ’حرارت‘ ہے ۔ حرارت، کفن کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ لہذا کفن بھی زندگی کا استعارہ ہے۔ دونوں کا اطلاق زندگی کی معنویت کو متعین کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔اس طرح کفن اور حرارت ایک معنوی وحدت کو سمیٹے ہوئے زندگی کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔ دونوں استعارے خون کی گردش کو قائم رکھ کر زندگی یعنی سگنی فائڈ کو متعین کرتے ہیں۔ حرارت زندگی کا استعارہ ، جبکہ کفن موت کی علامت کے باجود زندگی کے لیے بامعنی ہے۔معنی کی نوعیت دلچسپ ہے، موت زندگی کے لیے بامعنی بن گئی ہے۔ آسان الفاظ میں یوں کہ کفن کے بغیر حرارت نہیں، اور اگر حرات نہیں تو زندگی نہیں! کفن اور حرارت کاباہمی ربط دونوں کو بامعنی بناتا ہوا سگنی فائڈ (زندگی) میں بدل دیتا ہے۔لہذا یہاں پر ’’کفن چور‘‘ کے لیے اس کے احساسات اور شعور کی ساخت زندگی کی مرکزیت سے جڑی ہوئی ہے۔ غربت و افلاس کے شکار انسان کے لیے ،ہمارے سماجی منظر نامے میں، یہ تعلق ’بلاجواز‘ (Arbitrary ( نہیں، سماجی زندگی سے جڑی ہوئی لازمیت کی عکاسی کرتا ہے۔ اس تعلق کی عدم تکمیل کا مطلب زندگی کا خاتمہ ہے۔ اس نظم کا جو پہلو اسے نام نہاد مابعد جدید جمالیات سے الگ کرتا ہے وہ سماج کے’ منفی کردار‘ کے لیے زندگی کی بامعنی احتیاج کا پہلوہے اور یہ احتیاج صرف’کفن‘ سے پوری ہوتی ہے، اگرچہ مفہوم منفی ہے، مگر معنوی سطح کی توسیع کا باعث ہے۔جہاں’’کفن‘‘ کا استعارہ زندگی کی معنویت سے جڑ ا ہوا ہو تو وہاں اس معنی کی حیثیت ثانوی ہوتی ہے جو ثقافتوں کی تشکیل کے عمل سے جڑا ہوا ہوتا ہے۔ثقافتیں معاشی خوشحالی کا استعارہ ہوتی ہیں۔ ان مفاہیم میں انسانی زندگی کو ’بامعنی‘ تسلیم نہ کرنے کا مطلب ’انصاف‘ سمیت کئی انسانی اقدار کی نفی کرتے ہوئے سماج میں دہشت، ظلم اور فسطائیت کے راج کو تسلیم کرنا ہے۔

نظم کے آخری بند میں موت کے کنارے پر کھڑا ہوا ’وجود‘ اپنی ضرورت کی تکمیل کے لیے منطقی دلائل کا سہارا لیتا ہے۔ پہلی تین سطور کچھ یوں ہیں:

پردۂ خاک میں لپٹے ہوئے بے جان وجود!

باعثِ ننگِ زمیں ہوں، مگر اک بات بتا

جسم مٹی ہو تو کپڑوں کی ضرورت کیا ہے؟

شاعر نے ’کفن چور‘ کی خواہش و احساس کو انتہائی گہرائی میں محسوس کرتے ہوئے ، خود کو اس کی جگہ پر لاکر، کفن چوری کرنے کا جواز تلاش کرلیا ہے۔ یہ جواز شاعرکے ذہن میں تجریدی انداز میں تشکیل نہیں پاتا بلکہ ’’کفن چور‘‘ کے لیے زندگی کی اقدار سے جڑی ہوئی ضرورت ہی اس کا محرک ہے۔ یہاں سماجی اقدار کی روایتی ترتیب بدل گئی ہے۔ ایک قدر کی لاتشکیل اور دوسری کی تشکیل کا جذبہ غالب ہے۔یہ ایک ایسا مرحلہ ہے جہاں پر عدم تعیین کا مطلب معنی کا خاتمہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں تقدیسی اقدار زندگی کی معنویت پر بھاری نہیں ہوتیں۔جو شخص موت کی آغوش میں جاچکا ہے اسے اس کفن سے کیا لینا دینا! بالخصوص اس وقت جب وہ زندہ کے لیے زندگی کا وسیلہ بن سکتاہے۔کفن الٰہیاتی آدرشوں کی تسکین کا باعث تو ہوسکتا ہے مگر خاک کو خاک میں ملنے سے نہیں روک سکتا۔

دیکھ پیوندِ زمیں ! میرے تنِ عریاں پر

داغِ افلاس کا پیوند۔۔۔۔ اجازت دے دے

مر کے مرتے ہوئے انسان کو زندہ کر دے

خلاصہ یہ کہ کفن ہو یا نہ ہو کیا فرق پڑتا ہے!یہاں ’پیوند‘ کا کردار دُہرا ہے۔ مرے ہوئے انسان کا ’کفن‘ اس ’کفن چور‘ کے لیے ’پیوندِ زمیں‘ ہے۔اگرچہ کفن کا مفہوم منفی ہے، مگر اس میں سے مثبت قدر بھی برآمد ہورہی ہے، بشرطیکہ اس سے جڑی روایتی تقدیس کو توڑ دیا جائے۔ دوسری طرف ’کفن چور‘ کی غربت و افلاس ہی ا س پر لگے ہوئے ’پیوند‘ کی مانند ہے۔ یہاں کفن کے لیے ’’پیوندِ زمیں‘‘ کی ترکیب بھی بامعنی ہے۔ پہلے ہم نے کفن اور حرارت کے مابین تعلق کو زندگی کی معنویت سے جڑتے ہوئے دیکھا تھا۔ یہاں پر کفن زمین کا پیوند ہے جبکہ افلاس زندگی پر پیوند کی مانند ہے۔ پہلے زندگی اور کفن کے مابین رشتہ سامنے آیا تھا۔ اب کفن اور افلاس کا باہمی تعلق بھی نمایاں ہوگیا ہے۔ افلاس کا شکار انسان اس’ پیوندِ زمیں‘ سے اپنی زندگی کو بچا سکتا ہے۔ کفن کو پیوند سے تشبیہ دے کر تقدیسی اقدار کی لاتشکیل کا عمل بھی دیکھنے کو ملتا ہے، لیکن معنویت کی ایک ایسی جہت نمایاں ہوتی ہے جو ہمارے سماج کے ایک بنیادی مسئلے ،یعنی افلاس و استحصال سے جڑی ہوئی ہے۔ یہاں ہم یہ دیکھ سکتے ہیں کہ ’پیوندِ زمیں‘ کا کردار زندگی کی معنویت کے لیے مثبت ہے، مگر خود افلاس کا شکار ’کفن چور‘ کے لیے اس کے افلاس کا ’پیوند‘ کیسے بامعنی اور مثبت بنتاہے ، اس کے مفہوم تک رسائی کے لیے نظم کی آخری تینوں سطور خصوصی توجہ کی متقاضی ہیں اور اس نظم کا ماحصل ہیں، ان پر توجہ مرکوز کرتے ہیں:

ایک ملبوس کمانے کی اجازت دے دے

ورنہ بھوکی ہے بہت خاک ، کہاں دیکھے گی

جسم کھا جائے گی ، پوشاک کہاں دیکھے گی!

آخری تین مصرعوں میں بروئے کار لائی گئی امیجری وسیع سطح پر معنویت کو سمیٹے ہوئے ہے۔ اس میں جن استعاروں کا اطلاق کیا گیا ہے ان میں سے مختلف مفاہیم برآمد ہوتے ہیں، وجہ اس کی یہ ہے کہ نظم کا بنیادی خیال فعال ہے، جو استحصال، ظلم، ناانصافی سے جڑا ہوا ہے اس لیے ان ’’برائیوں‘‘ سے متعلقہ اقدار کے مافیہا کا سامنے آنا لازم ہے۔ ایک تو اس میں مضمر وہ مفہوم ہے جو شاعر کی اپنی فکرو نظر سے تشکیل پارہا ہے اور دوسرا مفہوم وہ ہے جو موضوع کی وسعت کے متقاضی متعلقہ استعاروں سے تشکیل پانا لازمی تھا ، یعنی شاعر نے جن استعاروں کا اطلاق کیا ہے انہوں نے معنوی سطح کو بلند کردیا ہے۔

سب سے پہلے اس مفہوم کو دیکھتے ہیں جو پہلی ہی نظر میں برآمد ہوتا دکھائی دیتا ہے: اس کے مطابق آخری بند کے چھٹے اور ساتویں مصرعوں میں ’کفن چور‘ کی حقیقی نفسیاتی صورتحال کا بیان ملتا ہے۔ ’کفن چور‘ پیشہ ور مجرم نہیں ہے، وہ اس عمل کو لائق اعتنا بھی نہیں سمجھتا۔ وہ مرے ہوئے انسان سے مدلل انداز میں اجازت طلب کرتا ہے۔ اجازت کا مطلب کہ وہ اپنے عمل پر فخر محسوس نہیں کرتا۔ اگر ان مصرعوں میں مضمر معنویت کو یہیں تک رہنے دیں تو ’افلاس‘ اور استحصال کی وہ سطح کہ جو اس کے تخالف میں مضمر ہے اور جس میں گہری معنویت پیوست ہے، اس سے منسلک مثبت اقدار کا سامنے آنا دکھائی نہیں دیتا، جبکہ مفاہیم کا دو طرفہ کردار ’کمانے‘ کے لفظ اور خاک کے استعارے میں پنہاں ہے۔ ’کمانے‘ کو اگر اس کے اُس تفاعل کے تحت سمجھنے کی کوشش کریں جو خارجی دنیا کی حقیقت سے جڑا ہوا ہے تو ’کمانے‘ کا لفظ تھوڑا عجیب دکھائی دیتا ہے۔ کیونکہ حقیقت میں تو کفن چور قبر کو مسمار کیے بغیر کفن چور بن ہی نہیں سکتا۔ تاہم ان مصرعوں میں ’کمانے‘ کا لفظ ایک وسیع استعاراتی مفہوم سمیٹے ہوئے ہے، ایک ایسا استعارہ جو خود سے منسلک معنی و مفاہیم کے سارے تناظر کو قاری پر عیاں کردیتا ہے۔ جونہی ’’کفن چور‘‘ کی استعاراتی ماہیت پر توجہ مرکوز کی جاتی ہے تو معنی و مفاہیم کا ایک وسیع سلسلہ سامنے آنے لگتا ہے۔ ایک نظام کی تباہی اور اسی میں سے دوسرے نظام کی تخلیق کا پہلو نمایاں ہونے لگتا ہے۔

ایک یہ مفہوم برآمد ہوتا ہے کہ’ کفن چور‘ محنت و مشقت کے لیے تیار ہے، لیکن ذرائع مفقود ہیں۔ظالم و جابر سرمایہ دار، وڈیرے، جاگیردار ذرائع پیداوار پر قابض ہیں۔انہوں نے مجبور’’ کفن چور‘‘ سے زندہ رہنے کے تمام وسائل چھین لیے ہیں۔جب ’کمانے‘ کا استعارہ خارجی دنیا سے مربوط ہوکر نظم کی باطنی ساخت کا حصہ بنتا ہے تو جہاں خود محنت و مشقت کا استعارہ بن جاتا ہے تو وہاں ’خاک‘ کی اس استعاراتی جہت کو نمایاں کرتا ہے کہ جس کے تحت ’ خاک‘ خودمحنت کشوں کا استعارہ بن جاتی ہے جو اس دقیانوسی نظام کے انہدام کی جانب چل نکلتا ہے، جس نے اس کو افلاس کا شکار کررکھا ہے۔ہر استعارہ اپنے مافیہا کو تلاش کرتا ہے۔ نظم میں اقدار کی ترتیب بدل جاتی ہے اور معنی کا ایک اور جہاں آباد ہوتا ہے۔’خاک‘ یا انقلابی محنت کشوں کا تفاعل ہے کہ وہ بوسیدہ اور ظلم و استحصال کا منبع سرمایہ داری نظام کو نگل جائیں،اسے تباہ وبربادکرڈالیں ! ’ خاک‘ ہی سے تخلیق کا پہلو بھی جڑا ہوا ہے، ایک نظام کی تباہی دوسرے کی تخلیق کا باعث بنتی ہے۔’خاک‘ کا استعارہ محنت کشوں کے لیے نہیں بلکہ انقلابی محنت کشوں کے لیے انتہائی بامعنی انداز میں سامنے آتا ہے۔ ’جسم‘ سرمایہ داروں، وڈیروں اور جاگیرداروں اور اس گلے سڑے نظام کی جانب اشارہ کرتا ہے، جبکہ ’پوشاک‘ دولت و ثروت اور جاہ و جلال کی علامت ہے۔جس مثبت قدر کا ذکر اوپر کیا گیا تھا، وہ ’کفن چور‘ کے لیے اس وقت بامعنی بنتی ہوئی معنی کی سطح کو وسعت عطا کرتی ہے اور ’کفن چور‘ کے لیے خاک کے استعارے اور اس سے منسلک امیجری کے کردار کو نمایاں کرتی ہے۔ اس طرح محض استعارات کے تفاعل کی تبدیلی نظم میں مضمر اس تحدید کو توڑ دیتی ہے جو بصورتِ دیگر نظم کی معنوی سطح کی عدم توسیع کا باعث تھی۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *