اپنے دوست مت ماریے

اپنے دوست مت ماریے
کاشف محمود

کئی برس پہلے، جب مستا نہ مرحوم عروج پر تھے، تو ایک اورفنکارسٹیج پر نمودار ہوا۔ صلاحیت کے ساتھ اس نووارد کے پاس ایک اورچیز تھی جسے آپ startegy کہہ لیں۔ دائیں بائیں فائرنگ کرنے کے بجائے یہ فنکار صرف مستانہ صاحب کو ٹارگٹ کرتا۔ یہ strategy خوب رہی اور یوں ہمارا ٹیڈی اس گمنا می سے محفوظ رہا جو زیادہ تر نئے فنکاروں کو نگل جاتی ہے۔سو آج بھی یہstrategyکامیاب ہے۔طارق ٹیڈی حضرات کی موج ہے۔ خیال اور موضوع کی ندرت سے محرومی ایک آسان رستہ غنیمت جانتی ہے۔

باقی پاگل پن کی پھلجڑی اوریا مزیدایسے چٹکلوں کا دفاع ہرگز مقصود نہیں۔ بس دل پر ہاتھ رکھ کر بتایئے، کیا جس خدشے کا اظہار ہوا تھا، خاکم بدہن، ویسا کچھ ہو جاتا، تو کیا ہوتا؟ خدانخواستہ کہیں دور دراز مقام پر بھی۔ کہئے، کیا یہ نا ممکن تھا؟ ایسے میں کھیل چلتا؟کس ماحول میں؟ بلف bluffتاش کے پتوں تک ہی قابل قبول ہے۔خدشے اور خواہش میں فرق ہوتا ہے۔

ایک پرانا لطیفہ یاد آتا ہے، جو شاید اتنا بے محل نہیں۔ایک کائو بوائے اپنے دوست کے ساتھ بار میں بیٹھا تھا۔ کائو بوائے نے باقی بیٹھے گاہکوں میں سے ایک کی طرف اشارہ کر کے دوست کو بتایا کہ یہ شخص میرا دشمن ہے۔ دوست نے پوچھا وہ کالی شرٹ والا؟ جواب ملا، نہیں۔ پھر وہ دھاری دار ہیٹ والا؟ نہیں!۔ اچھا تولازمی یہ نیلی قمیض؟ کائو بوائے نے جھنجھلا کر پستول نکالا، سات میں سے چھ لوگ مار دیے اور واحد زندہ بچنے والے کی طرف اشارہ کر کے دوست کو بتایا کہ یہ ہے وہ کمبخت!

اپنے دوست مت ماریے۔ دوست بشیر ہی نہیں، نذیر بھی ہوتے ہیں۔

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *