دو نمبر لکھاری

دو نمبر لکھاری
احسان اللہ
لکھاریوں کی اتنی بھرمار ہے کہ پھتر اٹھاؤ نیچے سے اہل قلم نکلتا ہے ۔ پھر سوشل نیٹ ورک نے تو لکھاریوں کا کام اور بھی آسان کردیا۔ رئیل لائف میں جن کو منہ دھونے کی بھی تمیز نہیں وہ بھی سوشل میڈیا پر لکھاری بنا ہوتا ہے. یہ قصور ہماری عوام کا ہے جو جذبات میں بہہ جاتی ہے سوچ سمجھ سے کام نہیں لیتی ۔ ہماری عوام کی سب سے بڑی کمزوری جذبات ہیں۔ بس لکھنے والے نےذرا دکھتی رگ چھیڑتے ہیں،اور ہم حقائق کو ہی پس پشت ڈال کر واہ واہ کرنے لگ جاتے ہیں اور اس بات کی تائید کرتے ہوئے آگے سے آگے شئیر کرتے ہیں.
دو نمبر لکھاریوں کا گمراہ کرنے کا طریقہ واردات کچھ اس طرح سے ہوتا ہے۔ سب سے حساس موضوع کو چھیڑیں گے مثال کے طور پر مذہبی مسلکی فرقہ ورایت اب یہ پبلک کی دکھتی نبضیں ہیں. ایک صاحب کا لکھا آرٹیکل نظر سے گزرا ۔جس میں انہوں نے عوام کی توجہ حاصل کرنے کے لیے جذباتی پہلو چنا کہ ایک مسلمان چھ سال تبلیغ میں گزار کر واپس گھر آ کے اپنی ھندو بیوی اور اسکے بچے کو لعنت قرار دے کر بیوی کو طلاق دے دی۔ طلاق کی وجہ اسکا دینِ اسلام سے روشناس ہونا تھا عجب منطق جھاڑی ہے. ایسی سٹوری جس کا کہیں وقوع پذیر سرے سے ہوا ہی نہ ہو اس پر پھر ہر ایک کا دل اس ہندو عورت اور اسکے بچے کے لیے دھڑکنا اور دینِ اسلام کی تبلیغ دینے والوں کے خلاف نفرت بڑھنے کے ساتھ ساتھ غیر مسلموں کو بھی پیغام دینا کہ اسلام اور مسلم سے دور ہو۔ یہاں ہماری سوچچنے سمجھنے کی صلاحیت دم توڑ دیتی ہے۔ ہم اس پہلو پر نہیں سوچچتے کہ غیر مذہب سے نکاح کسی صورت میں تو جائز ہو سکتا ہے؟؟ اور بلا وجہ طلاق دینے والوں پر تو خدا کی لعنت ہے
ایسے دو نمبر لکھاریوں کی تحاریر پڑھنے سے ذزی شعور انسان کےخون کا دورانیہ بڑھ جاتا ہے ایسے لکھاریوں کو بت پرست عقیدے رکھنے والے ہی واہ واہ کرتے ہیں انہیں کے کلیجوں میں ٹھنڈ پڑتی ہے
ایسےلکھاری ہمیشہ مرض ہی تشخیص کرتے آئے ہیں دوا کا نہیں سوچتے ۔ لکھاری وہ ہوتا ہے جو صحیح معنوں میں معاشرے کی عکاسی کرے۔ کسی بھی مسئلے کو چھیڑے تو ساتھ اسکا آسان حل بھی تجویز کرے۔ مطلب اپنی سٹوری کا اینڈ ہیپی اینڈنگ سے کرے ۔ اس سے نفسیاتی طور پر ذہن پر اچھے اثرات مرتکب ہوتے ہیں۔ اس سے انسان کو اپنی اصلاح کرنے کا موقع بھی ملتا ہے۔

احسان اللہ خان
احسان اللہ خان
عام شہری ہوں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *