یہ تین ہزار چوبیس کا زمانہ ہے۔ زمین کا اصل حصہ ختم ہوچکا ہے یا شاید ختم ہونے والا ہے کیوں کہ اب بھی کوئی نہ کوئی شخص جب زمین کا اصل حصہ دیکھتا ہے تو عمارتوں کی چھتوں پر دندناتے ہوئے چرچا کرتا رہتا ہے کہ میں نے مٹی دیکھی ہے۔ زمینی راستے آبادیوں کی نذر ہوگئے ہیں اس لیے عمارتوں کی چھتوں کو لوگ چلنے پھرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اگر ہنگامی صورت حال پیش آتی ہیں تو پھر ہوائی سفر اختیار کیا جاتا ہے۔ آس پاس یہ پیشن گوئیاں بھی جاری ہیں کہ عمارتیں اتنی بلند ہورہی ہیں کہ آئندہ کئی سالوں میں آسمان بھی نظروں سے اوجھل ہوجائے گا۔ زمین چوں کہ موجود نہیں ہے اس لیے پچھلے کئی دہائیوں سے سبزہ بھی کسی کو نظر نہیں آیا ہے جس کی وجہ سے سانس اکھڑنے کی بیماری پھیل رہی ہے۔ کافی عمر رسیدہ تو اس بیماری کی وجہ سے فوت ہوگئے ہیں۔
سننے میں آرہا ہے کہ زمین کی عدم موجودگی کی وجہ سے انھیں پاس کی نئی عمارتوں کی دیواروں میں چنوا دیا گیا ہے جس سے خوف و ہراس کا ماحول بھی برپا ہوگیا ہے۔کئی ہفتے پہلے ایک نو عمر لڑکی کو دیوار کے عقب میں سے بال نکلتے ہوئے نظر آئے تھے جس کو لوگوں نے سراب خیال کیا۔وہ لڑکی دماغی توازن کھو بیٹھی۔
لوگ خوب کھاتے پیتے ہیں لیکن کھاتے وقت پیشاب کا خیال ذہن میں نہیں لاتے کیوں کہ آج بھی بھوک سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چاروں طرف ایک غلیظ، بوجھل سا تعفن پھیل گیا ہے جس نے لوگوں کے اذہان دھندلا دیے ہیں۔شورٹ ٹرم میموری لوس کے مریض بڑھ رہے ہیں۔ لوگ ایک دوسرے کے اتنے قریب آگئے ہیں کہ پردہ داری کا نام و نشان مٹ گیا ہے لیکن پھر بھی کسی کا کسی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ جو چھوٹے موٹے دریا رہ گئے ہیں ان کے پانیوں کا رنگ کالا پڑ گیا ہے اور ماہیت میں اتنا گاڑھا پن آگیا ہے کہ ایک جگہ پر ٹکے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔
کائنات ایک ساکن میکانکی وجود معلوم ہوتا ہے لیکن پچھلے دو دنوں سے یہ کہا جا رہا ہے بعض لوگوں نے کچھ جھٹکےمحسوس کیے ہیں۔ آبادیوں کے درمیان میں ایک چھوٹی عمارت نے اپنی ساخت کھینچنا شروع کی ہے اور دوسری عمارتوں تک پہنچنے کی طرف بڑھ رہا۔ چارپائی میں لیٹا ہوا ایک شخص چھت کے ساتھ چپک گیا کیوں کہ چارپائی کی پائیں نمو کرتے کرتے چھت تک پہنچ گئیں۔ دیواروں میں چھید پڑتے پڑتے مسلسل پھیل رہی ہیں۔اس لیے آبادیوں کی دیواریں ایک دوسرے میں مدغم ہورہی ہیں۔ لوگ سو کر لاپتا ہوجاتے ہیں ، نیچے سے نمو کرنے والی چیزیں اسے اوپر کی طرف اٹھا دیتی ہیں یا شاید اپنے اندر جذب کرلیتی ہیں۔
آج صبح تو عجیب و غریب واقعہ پیش آیا۔ ایک شخص اپنی پرانی کرسی پر بیٹھا تھا، اچانک کرسی میں ابھار آنا شروع ہوا اور وہ شخص ابھار کی لپیٹ میں آکر وہیں پر معدوم ہوگیا۔ آس پاس کی وہ تمام عمارتیں جن میں لکڑیوں کا سامان تھا، اس کی نمو کی وجہ سے وہ عمارتیں بھر گئیں اور ان میں موجود لوگ بھی غائب ہوگئے۔ آن کی آن میں تمام آبادیاں بھر آئیں، بھرتے بھرتے آسمان کے ساتھ بغل گیر ہوئیں اور یوں ایک برقی گولہ نمودار ہوا۔ اچانک میری آنکھیں کھل گئیں۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں